نواکدل میں بھیانک آگ
11مکان ، ایک کارخانہ اور ایک گاڑی خاکستر،لاکھوں روپے مالیت کی املاک تباہ، درجنوں کنبے بے گھر
پرویز احمدسرینگر// نواکدل سرینگر میں کل آگ کی ایک خوفناک واردات میں گیارہ مکان ،ایک کارخانہ اور ایک گاڑی نظر آتش ہوگئی جسے تقریباًایک کروڈ روپے سے زیادہ مالیت کی قیمتی املاک تباہ ہو گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق نوا کدل سرینگر میں کل 12بجکر50منٹ پر ایک رہائشی مکان سے اچانک آگ نمودار ہوئی جس نے آناً فاناً پھیل کر دیگر مکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔اس موقعے پر علاقے میں افرا تفری مچ گئی اور لوگ مکانوں سے مال و اسباب محفوظ مقامات کی طرف منتقل کرنے لگے۔عینی شاہدین کے مطابق آگ اس قدر بھیانک تھی کہ اس کے شعلے دور دور سے نظر آ رہے تھے اور اسی دوران جب رہائشی مکانوں میں موجود رسوئی گیس سلینڈر دھماکوں سے پھٹنے لگے تو وسیع علاقے میں سنسنی پھیل گئی اور آگ کی شدت میں بھی زبردست اضافہ ہوا۔آگ کی خبر ملتے ہیں محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کی 10گاڑیوں اور درجنوں اہلکاروں کو بچائو کارروائی کے کام پر لگا دیا گیا جبکہ مقامی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی رضاکارانہ طور پر آگ کو بجھانے میں مدد کی ۔محکمہ کے اہلکاروں نے کئی گھنٹوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پا لیا ۔ آگ کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے محکمہ فائر سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز محمد اکبر نے کہا'' نواکدل میں گزشتہ رات آگ کی ایک واردات میں ایک کروڑ سات لاکھ مالیت کے قیمتی املاک جل کر خاکستر ہوگئے جس میں گیارہ مکان ، ایک کارخانہ اور ایک سنٹرو گاڑی جل کر خاکستر ہوگئی''۔ انہوں نے کہا کہ مکانات کے بیچ فائر گیپ نہ ہونے کی وجہ سے آگ نے کافی خطرناک رخ اختیار کرلیا تھا جس بجھانے کیلئے عملے کو کافی مشقت کرناپڑی ۔ انہوں نے کہا کہ آگ کی اس واردات میں 80لاکھ روپے کی جائیداد اور 27لاکھ روپے کی دیگر قیمتی اشیاء جل کر تباہ ہوگئیں۔ آگ کی اس خوفناک واردات کے ایک عینی شاہد فیاض احمد نے کہا ''آگ رات کے بارہ بجے محمد صدیق سوداگر کے گھر سے اچانک نمودار ہوئی جس نے بہت جلد دیگر مکانات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھااور اسطرح آگ نے بہت جلد خوفناک رخ اختیار کرلیا تھا''۔مقامی خبررساں ادارے کے این ایس کے مطابق اس واردات میں جن لوگوں کی جائیداد جل کر خاکستر ہوئی ان میں غلام نبی بٹ ولد محمدصدیق،غلام محمد میر ولد عبدالعزیز ،امتیاز احمد نجار ولد عمر نجار ،غلام نبی نجار ولد عمر نجار ،غلام محمد شالہ ولد غلام قادر ،غلام قادر لون ولد غلام محمد ،محمد یوسف متو ولد عبدالسلام ،محمد صدیق شوراولد محمد اسماعیل،محمد اسماعیل ،غلام نبی اور نور محمد پسران محمد سلطان آہنگر شامل ہیں ۔اس واقعے میں کریانہ ،کاسمیٹک ، ریڈی میڈملبوسات اور ایک لوہار کی دکانیں جل کر خاکستر ہوئی ۔خاکستر ہونے والے رہائشی مکانات میں ایک درجن سے زائد کنبے رہائش پذیر تھے جو اس واردات کے بعد مکمل طور پر بے گھر ہو گئے ہیں ۔اس سلسلے میں پولیس نے کیس رجسٹر کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہے۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں