ووٹنگ کے بعد بھی پولنگ مراکز پر فورسز کا قبضہ | مقامی خبریں | ہوم

ووٹنگ کے بعد بھی پولنگ مراکز پر فورسز کا قبضہ

فونٹ سائز Decrease font Enlarge font

 سکولوں میں فورسز کی موجودگی سے امتحانات متاثر،محکمہ تعلیم اور انتظامیہ پر غفلت کا الزام، طلباء ناراض

سرینگر//  پہلے انتخابی مرحلے کے سلسلے میں 17نومبر کو بانڈی پورہ ضلعے کے انتخابی حلقوں گریز، بانڈی پورہ اور سوناواری میں قائم پولنگ مراکز میں تعینات فورسز ابھی تک انہی مقامات پر موجود ہیں جس کی وجہ سے کل یعنی 18نومبر کو منعقد ہونے والے بورڈ امتحانات کے امیدواروں کو شدید ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مقامات پر امتحانی امیدواروں نے انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ہیں۔ مقامی خبررساں ادارے یو این ایس کے مطابق بانڈی پورہ اور سوناواری کے مختلف امتحانی سنٹروں سے امتحانی امیدوار وں اور ان کے والدین سمیت اسکولی انتظامیہ نے فون کرکے بتایا کہ اگرچہ انتخابی عمل کا پہلا مرحلہ 17نومبر کی شام کو ہی اختتام پزیر ہواتھا اور پروگرام کے مطابق پولنگ مراکز پر تعینات فورسز اور دیگر عملے کو یہ مراکز خالی کرنے تھے لیکن 18نومبر کو بھی ان پولنگ مراکز کو خالی نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں کل 18نومبر کو بورڈ امتحانات کے انعقاد میں زبردست پریشانیاں لاحق ہوگئیں۔ بانڈی پورہ حلقہ انتخاب کے بونہ کوٹ، پزل پورہ، قوئیل مقام سمیت دیگر مقامات سے امتحانی امیدواروں نے خبررساں ادارے کوبتایا ہے کہ انتخابی مراکز میں موجود فورسز اہلکاروں کی بھاری جمعیت سے انہیں سخت ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بنہ کوٹ بانڈی پورہ سے عادل احمد نامی نویںجماعت کے ایک امیدوار نے بتایا کہ ان کے اسکول میں فورسز اہلکاروں کی موجودگی کی وجہ سے انہیں ذہنی طور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور شورشرابے کے ماحول میں امتحانات کا انعقاد انتہائی پریشان کن ثابت ہوا۔ عادل نے کہا کہ ان کے ساتھ کئی مقامی لڑکیاں بھی امتحان میں شرکت کررہی ہیں اور موجودہ ماحول میں انہیں بھی سخت کوفت اٹھانی پڑی ہے۔ قوئیل مقام ، پزل پورہ اور ارگام کے امتحانی مراکز میں شریک امتحانی امیدواروں نے بھی اسی قسم کی شکایات کی ہیں۔ دریں اثناء طلباء طالبات کے والدین نے محکمہ تعلیم اور ضلع انتظامیہ پر اس معاملے میں غفلت شعاری کا الزام عائد کرتے ہوئے امتحانی مراکز سے فورسز کے فوری انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔ پزل پورہ کے غلام رسول نامی ایک شخص نے یو این ایس کو بتایا کہ فورسز کی موجودگی میں امتحانات منعقدکرانا سراسر غلط ہے کیونکہ اس وجہ سے طلباء و طلبات کو درپیش ذہنی کوفت ان کے مستقبل پر منفی اثرات ڈل سکتا ہے۔ جس کی ساری ذمہ داری بورڈ حکام اور ضلع انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ اس سلسلے میں خبررساں ادارے نے چیف ایجوکیشن آفیسر بانڈی پورہ سے رابطہ قائم کیا تو ان کا کہنا تھا '' آج منعقد ہونے والے بورڈ امتحانات مجموعی طور سے عمدہ طریقے سے انجام پائے تاہم اگر کہیں سے فورسز کی موجودگی کے باعث امیدواروں کو مشکلات پیش آنے کی شکایات موصول ہوئیں تو ضلع انتظامیہ کے ساتھ معاملہ اٹھاکر اس کا فوری حل نکالا جائے گا''۔ سی ای او بانڈی پورہ کا کہنا تھا کہ امتحانی مراکز میں فورسز کی موجودگی سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں تاہم انہیں امید ہے کہ اب اسکولوں کو خالی کرایا جائے گا تاکہ طلباء کے امتحانی نتائج اس وجہ سے متاثر نہ ہوسکیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بانڈی پورہ حلقہ انتخاب میں قائم 114پولنگ مراکز میں سے 101مراکز سرکاری اسکولوں میں قائم کئے گئے تھے جن میں سے بیشتر بورڈ امتحانات کے لئے بھی مقرر کئے گئے ہیں۔
بک مارک: Add to your del.icio.us del.icio.us | Digg this story Digg

تبصرے (0 پوسٹ):

تبصرہ کریں comment

براے مہربانی کورڑ نمبر دیکھ کر لکھیں

  • email اپنے دوست کو ایمیل کریں
  • print پرنٹ کے لے
  • Plain text پلین ٹیکسٹ
ٹیگ
اس مضمون کے کوئی ٹیگ نہیں
اس مضمون کو رتٹ کریں
0
The Daily Etalaat Srinagar