سرنکوٹ میں این سی اورکانگرس میںسیدھی ٹکّر | مقامی خبریں | ہوم

سرنکوٹ میں این سی اورکانگرس میںسیدھی ٹکّر

فونٹ سائز Decrease font Enlarge font

میر شاہد سلیمسرنکوٹ(پونچھ)
سرحدی ضلع پونچھ کے سرنکوٹ انتخابی حلقہ میں جہاں انتخابات کے پہلے مر حلے میں اس ماہ کی 17تاریخ کو ووٹ ڈالے جانے ہیںانتخابی مہم اپنے شباب پر پہنچ چکی ہے اس انتخابی حلقے میں رائے دہندگان کی کل تعداد 84567ہے جن میں43336مرد اور 41231خواتین رائے دہندگان شامل ہیں۔ اگرچہ اس انتخابی حلقے میں دو آزاد امیدواروں سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے وابسطہ 11امید وار انتخابی میدان میں ہیں تاہم یہاں اصل مقابلہ پردیش کانگرس کمیٹی کے سابق صدر اور سرنکوٹ انتخابی حلقے سے چھ بار ایم ایل اے رہ چکے چوہدری محمد اسلم اور نیشنل کانفرنس کے امید وار پیر مشتاق بخاری کے درمیان ہو گا۔نیشنل کانفرس کے پیر مشتاق بخاری نے 1996اور 2002کے انتخابات میں اپنے دیرینہ حریف چوہدری محمد اسلم کو شکست دے کر اس انتخابی  حلقے کی نمائندگی کی ہے۔تاہم 1996کے9000ووٹوں کے مقابلے میں 2002میں پیر مشتاق بخاری نے چوہدری اسلم سے صرف 2000 وٹوں کے فرق سے جیت حاصل کی تھی۔اس انتخابی حلقے میں اگرچہ نیشنل کانفرنس اور کانگرس کے امیدواروں کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے ۔ لیکن نیشنل کانفرنس کے امید وار مشتاق بخاری کے چچا  زاد بھائی ڈاکٹر ممتاز بخاری کا پی ڈی پی کے مینڈیٹ پر الیکشن لڑنے سے نیشنل کانفرس کو کافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ چوہدری محمد اسلم نے پہلی مرتبہ اس انتخابی حلقہ سے 1967میں اس وقت کامیابی حاصل کی تھی جب مینڈھر سرنکوٹ ایک ہی انتخابی حلقے پر مشتمل تھا۔پانچ برس بعد 1972میں دوبارہ انہوں نے مینڈھر سرنکوٹ انتخابی حلقے نمائندگی کی۔ چوہدری محمد اسلم نے 1975 میں  الگ سے سرنکوٹ انتخابی حلقے کے قیام کے بعد اگلے کئی سالوں تک اپنی جیت کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے,1975,1977,1983,اور 1987میں بھی ریاستی قانون ساز اسمبلی میں اس انتخابی حلقے کی نمائندگی کی۔البتہ ریاست میں تحریک مزاحمت شروع ہونے کے بعد جب 1996میں انتخابات کا انعقاد کیا گیا تو چوہدری محمد اسلم اپنے مدِ مقابل نیشنل کانفرنس کے امید وار پیر مشتاق بخاری سے لگ بھگ 9000ووٹوں سے ہار گئے۔ اور اس کے بعد 2002 کے انتخابات میں دوبارہ چوہدری محمد اسلم سرنکوٹ انتخابی نشت نیشنل کانفرنس کے پیر مشتاق بخاری کے ہاتھوں ہار گئے۔چوہدری اسلم 1987میں کانگرس اور نیشنل کانفرس اتحاد والی سرکاری میں کابینہ درجے کے وزیر رہنے کے علاوہ کئی برس پردیش کانگرس کمیٹی کے صد رسمیت کئی اہم عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔چوہدری کو 2004میں دو سال کے لئے راجیہ سبھا کا ممبر نامزد کیا گیا تھا ۔دوسری جانب 1996اور 2002میں سرنکوٹ سے انتخاب جیتنے والے پیر مشتاق بخاری سابق نیشل کانفرس سرکار میں کئی محکموں کے وزیر مملکت رہ چکے ہیں۔سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ میں جہاں ذات پات کی سیاست کا کافی چلن ہے امید واروں کی جیت ہار کا انحصار اس بات پر بھی رہتا ہے کہ وہ کسی قبیلے یا برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔اور پہلے کی طرح اب کی با ربھی گوجر پہاڑی کے نام پر رائے دہند گان کی ایک بری تعداد تقسیم کا شکار ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔سرنکوٹ انتخابی حلقہ میںاگرچہ دونوں امید وار ذات بات کی سیاست کرنے سے انکار کر رہے ہیں تاہم مشاہدین کے مطابق اس وقت پورے پیر پنچال خطے میں عام رائے دہندگان کی گوجر  اورپہاڑی کے نام پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔اور سرنکوٹ کا اسمبلی حلقہ بھی اس تقسیم سے کسی بھی طرح مستثنیٰ نہیں ۔نیشنل کانفرس کے لیڈر سرنکوٹ میںپہاڑی ووٹران کو یہ کہہ کر اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر ایک بار  اس انتخابی حلقہ سے گوجر امید وار چناؤ جیت گیا تو یہ نشست ہمیشہ کے لئے گوجر قبیلے کے لئے مختص کر دی جائے گی۔اور پھر کبھی بھی کوئی غیر گوجر امید وار اس حلقہ سے الیکشن لڑنے کے اہل نہیں رہے گا۔اس طرح کی افواہوں کے پیش نظر حلقہ کے تمام غیر گوجر رائے دہندگان کو متحد کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ذرایع کے مطابق سرنکوٹ انتخابی حلقے میں 35فیصد ووٹران کا تعلق گوجر قبیلے سے ہے جبکہ 65فیصد رائے دہندگان دوسری ذات برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔نیشنل کانفرنس کے امید وار کانگرسی سٹالوارٹ کوتیسری مرتبہ شکست دینے کے لئے ہر طرح کے جتن کر رہے ہیں تا ہم جانکار وں کے مطابق پیر مشتاق بخاری کے بھائی اور پی ڈی پی کے امید وار ڈاکٹر ممتاز بخاری نے نیشنل کانفرنس کے لئے یہ لڑائی قدرے مشکل بنا دی ہے۔
بک مارک: Add to your del.icio.us del.icio.us | Digg this story Digg

تبصرے (0 پوسٹ):

تبصرہ کریں comment

براے مہربانی کورڑ نمبر دیکھ کر لکھیں

  • email اپنے دوست کو ایمیل کریں
  • print پرنٹ کے لے
  • Plain text پلین ٹیکسٹ
ٹیگ
اس مضمون کے کوئی ٹیگ نہیں
اس مضمون کو رتٹ کریں
0
The Daily Etalaat Srinagar