اوڑی سول اور سلال پن بجلی پروجیکٹ کو ریاست کے حوالے کئے جانے کا پی ڈی پی کا مطالبہ
سرینگر// پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے مرکزی پرجیکٹوں میں ریاست کو دلی کی طرف سے جموں وکشمیر کی اقتصادی ترقی کیلئے قائم کئے گئے ورکنگ گروپوں کی سفارشات کے مطابق حصہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بانہال میں پارٹی ورکروں کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی لیڈروںمحمد دلاور میر، پیر محمد حسین اور بشارت بخاری نے پارٹی کی اس مانگ کو دہرایا کہ اوڑی سول اور 450میگاواٹ صلاحیت والے سلال پن بجلی پراجیکٹ کو ریاستی سرکار کے حوالے کیا جائے اور 1020میگاواٹ صلاحیت والے برسار بجلی پراجیکٹ کی تعمیر نیشنل ہایڈروالیکٹرک پاور کا پوریشن کے بجائے ریاست جموں کشمیر کی سرکار کو سونپی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی طرف سے قائم کئے اقتصادی ترقی کیلئے ورکنگ گروپ کی سفارشات کے تحت ریاست میں توانائی کے بحران سے نمٹنے کیلئے 390میگاواٹ صلاحیت والے سلال بجلی پروجیکٹ کو ریاستی حکومت کی تحویل میں دینے کی سفارش کی گئی ہے ۔ پی ڈی پی لیڈروں نے مرکزی منصوبوں میںریاست کا حصہ بڑھانے کی سفارش بھی کی ہے اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا مطالبہ کہ مرکزی پراجیکٹوں میں ریاست کا حصہ 12فیصد سے بڑھا کر 50فیصد کرنا ان سفارشات سے عین مطابقت رکھتا ہے جس سے کہ ریاست کو سندھ طاس آبی معاہدے سے ہوئے نقصان کی تلافی ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ دلی سرکار اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے درمیان ہوئے معاہدے کی وجہ سے ہی ریاست میں توانائی کا بحران ہے ۔ا نہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے سے ریاست کو جو نقصان ہورہا ہے اسکی تلافی کرنے کیلئے دلی سرکار کو چاہئے کہ وہ ریاست میں توانائی کی مانگ کو پورا کرنے کیلئے مرکزی پراجیکٹوں جموں کشمیر کو 50فیصد حصہ دے ۔ پی ڈی پی لیڈروں نے کہا کہ وزیر اعظم کے مجوزہ دورے ریاست کے دوران اگرا س سلسلے میں اہم اقدامات کئے جائیں تو وہ ریاست کے لوگوں کیلئے خوش آئیند ہونگے۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں