انتخابی عمل کے بجائے ہیلنگ ٹچ کی ضرورت : پی ڈی پی
انتظامیہ کو عوامی جذبات کا احترام کرنے کی صلاح ، سخت اقدامات کے بھیانک نتائج نکلیں گے
منوہر لالگامی
پی ڈی پی نے انتخابات کے حوالے سے بلائی گئی ایک اہم میٹینگ میںموجودہ حالات کوانتخابات کے لئے غیر موزوں قراردیتے ہوئے سرکار کو مشورہ دیا ہے کہ ریاست میں حالات کو معمول پر لانے کے لئے حکومت کو پی ڈی پی کی سال 2002کی ہیلنگ ٹچ پالیسی اختیار کرنی چاہئے ۔ کل یہاں پارٹی صدر محبوبہ مفتی کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں پارٹی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس وقت انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ لوگوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اعتماد سازی کے اقدامات کرے تاکہ لوگ ناکہ بندی اور کچلاو کے خوف سے باہر نکل آئیں۔ اپنے بیان میں پارٹی نے کہا ہے کہ ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ اخوانیوں اور ایس او جی اہلکاروں کو لوگوں کو ڈرانے اور دھمکانے کے کام پر لگایا گیا ہے ۔ پارٹی نے کہا ہے کہ بزور بازو اور سخت اقدامات سے اگر حالات پر قابو پانے کی کوشش کی گئی تو اسکے خطر ناک نتائج نکل سکتے ہیں اور عوام میں احساس محرومی میں مذید اضافہ ہوسکتا ہے جو بقول پارٹی امن کی کوششوں کے لئے ایک بڑا دھچکہ ثابت ہوگا۔
پارٹی نے تمام نظر بندوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مظاہروں کے دوران متاثرہوئے افراد کے حق میں ایکس گریشیا ریلیف منظورکیاجائے۔انتخابات کے حوالہ سے پارٹی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر اس وقت ریاست کو انتخابات کی طرف دھکیلا گیا تو ریاست میں محرومی اور ناامیدی کی قائم فضا اور ابتر ہوجائے گی ۔پی ڈی پی کی ہیلنگ ٹچ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے انہو ں نے کہا ہے کہ سال ٢٠٠٢ میں پی ڈی ُی نے جس ہیلنگ ٹچ پالیسی کو اپنایا تھا اس کے بدولت ریاست میں ایک آزادانہ ماحول قائم ہوا اور ریاست میں پہلی بار ٹکراو کی سیاست کے بجائے افہام و تفہیم کا ماحول وجود میں آگیا۔میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پی ڈی ُپی کی پالیسیوں کی وجہ سے ہی سرحدوں پر جنگ بندی ممکن ہوسکی اور ریاست کے عوام جو سرحدوں کے ساتھ رہ رہے ہیں کو برسوں کے بعد راحت نصیب ہوئی۔
پارٹی نے اس بات پر اسرار کیا کہ انتخابات کے عمل کو شروع کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ مثلہ کشمیر کے داخلی اورخارجی پہلووں کی طرف توجہ دی جائے اور وزیر اعظم کے بنائے ورکینگ گروپوں کی سفارشات پر عمل در آمد جلد سے جلد شروع کیا جائے ۔ پارٹی نے مانگ کی ہے کہ خط انتظام کے آر پار تجارت شروع کی جائے ،فورسزکی تعداد میں کمی کے علاوہ آرمڈ فورسز سپیشل پاوس ایکٹ کانفاذ فوری طور واپس لیاجائے ۔ادھر جموں کے حالات سے فائدہ اٹھانے کی غرض سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں انتخابات جلد از جلد کرائے جائیں۔ پارٹی کے لیڈر ارون جیٹلی کے مطابق ان کی پارٹی کا کسی اور پارٹی سے کوئی نظریاتی میل نہ ہونے کی وجہ سے وہ کسی بھی پارٹی کے ساتھ انتخابی اشتراک نہیں کریں گے ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق بی جے پی کو یہ لگتا ہے کہ جموں میں امر ناتھ شرائن بوڑ کے حوالہ سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں وہ اسکا فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ آج تک پارٹی ریاست کے انتخابات میں کسی خاص کار کردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائی ہے۔مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں وادی اور جموں میں انتخابی عمل شروع کرنے کے لئے سازگار ماحول نہیں ہے ۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں