تھید ہارون میں خونخوار ریچھ کی دہشت
مقامی آبادی کا وائلڈ لائف محکمے پرریچھ کو پکڑنے میں ناکامی کا الزام
پرویز احمد سرینگر
تھید ہارون میں خونخوار ریچھ کی دہشت کی وجہ لوگوں کا گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہوگیا ہے۔ مقامی لوگوں نے محکمہ والڈ لائف پر الزام عاید کیا ہے کہ محکمہ ریچھ کو قابو کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوا ہے جبکہ محکمے کے علیٰ افسران کا کہنا ہے کہ وہ ریچھ کو قا بو کرنے کیلئے ہر ممکنہ کوشش کررہے ہیں۔ تھید ہارون میں ادھم مچانے والے خوانخوار ریچھ کے بارے میں بات کرتے ہوئے تھید ہارون کے رہنے ولے فاروق احمد نے کہا''ریچھ کے لگاتار حملوں میں میں ایک شخص کو اپنی جان گنوا دینی پڑی پر پھر بھی محکمہ اس کو قابو کرنے مین کوئی واضح دلچسپی نہیں دیکھا رہا ہے ''۔ فاروق نے مزید بتایا کہ مذکورہ محکمے کے اہلکاروں نے ان جگہوں پنجڑوں کو نصب کیا ہے جہاں سے ریچھ کا گزر نہیں ہوتا''۔ اس سلسلے میںداچھی گام نیشنل پارک کے رینچ افیسر طیوب شاہ کا کہنا ہے کہ'' ریچھ نے اگرچہ کچھ دن بعد کھیتوں میں کام کرنے والے لوگوں پر حملہ کرکے چار کو زخمی کردیا اور جس میں ایک کی موت واقع ہوئی تاہم محکمے نے ریچھ کو پکڑنے کیلئے جگہ جگہ پنجڑے نصب کئے ہیں اور بندوقیں لیکر جنگل کی طرف خصوصی ٹیموں کو روانہ کیا گیا ہے جو ریچھ کو بیہوش کرنے کی کوشش کرئینگے''۔ انہوں نے مزید بتایا کہ محکمے نے ایسی جگہوں پر پنجڑے نصب کئے ہیں جہاں سے ریچھ کے پائوں کے نشان پائے گئے ہیں اور محکمے کے پاس جتنے بھی پنجڑے تھے وہ تھید ہارون میں نصب کئے گئے ہیں ۔ تھید بارجی علاقے میں ریچھ کی موجودگی کے ضمن میں بات کرتے ہوئے والڈ لائف وارڈن راشد نقاش کا کہنا ہے کہ ''اس موسم میں میوجات ،سبزیاں اور دیگر فصلیں تیار ہوتی ہیں جسکے چلتے ریچھ لگاتار اس موسم جنگلی جانور کھیوں میں حملے کرتے ہیں''۔ انہوں نے کہا کہ محکمے نے ریچھ کو پکڑنے کیلئے خوصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو دن رات ریچھ کو پکڑنے کی کوشش کررہے ہیں تاہم اب تک ان کوکوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ روز قبل ریچھ کے پہلے حملے کے دوران لوگوں نے ریچھ کا تعاقب کیا تھا مگر تین منٹ کے اندر ریچھ نے حملہ کرکے چار افراد کو زخمی کیا جن میں ایک 70سالہ بزرگ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بساجبکہ دیگر تین زخمی افراد کو زخمی حالت میں اہسپتال میں داخل کیا گیا ۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں