مزاحمتی تحریک کے پیش نظر اسمبلی انتخابات کا انعقاد مشکل
ہندنواز سیاسی تنظیمیں انتخابات کو مؤخر کرنے کی حامی،8ستمبر کودلی میں حتمی فیصلہ ہوگا
سرینگر// عوامی تحریک اور وادی میں پیدا شدہ حالات کے پیش نظر ہندنوازسیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گئی ہیں اور دلی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی مجوزہ میٹنگ میںریاست میں آئندہ انتخابات کو فی الوقت موخر کرنے کی تجویز پیش کی جا رہی ہے۔مقامی خبررساں ادارے کشمیر نیوز سروس کو معلوم ہوا ہے کہ شرائن بورڈ تنازعے کے بعد اقتصادی ناکہ بندی کے رد عمل میں ریاست جموں کشمیر میں جو صورتحال پیدا ہوگئی ہے، اس نے مین اسٹریم جماعتوں کیلئے سرگرمیاں جاری رکھنا محال کر دیا ہے اور 2ماہ قبل انتخابات کے حوالے سے ہندنواز جماعتوں نے جو سرگرمیاں شروع کی تھیں ،وہ مزاحمتی تحریک کے دوران دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔اس صورتحال کے پیش نظر وادی میں 3بڑی سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس،پی ڈی پی اور کانگریس کی طرف سے عوامی جلسوں ،ریلیوں اور اجتماعات کا سلسلہ قریب قریب ختم ہو چکا ہے اور اب ان پارٹیوں کے لیڈران محض اپنی رہائشی گاہوں تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔خبررساں ادارے کے مطابق کئی لیڈر موجودہ صورتحال میں ریاست سے باہر ہی قیام پذیر رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں اور اس سلسلے میں سابق وزراء اعلیٰ غلام نبی آزاد ،مفتی محمد سعید اور ڈاکٹر فاروق عبد اﷲ ریاست سے باہر ہیں۔اس کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبد اﷲ اور سابق نائب وزیر اعلیٰ مظفر حسین بیگ بھی ریاست سے باہر ہی مقیم ہیں۔ عوامی مظاہروں کو دیکھتے ہوئے ان تمام سیاسی جماعتوںنے فی الوقت پوری طر ح سے اپنی سرگرمیاں بند کر دی ہیں کیونکہ ان جماعتوں کے ورکروں نے قیادت پر صاف طور پر واضح کر دیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان کیلئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا کسی بھی طرح ممکن نہیں اور نا ہی اس نازک مرحلے پر کسی بھی جگہ مین اسٹریم لیڈر ان کے جلسوں کو خطرے سے خالی ہونے کی ضمانت فراہم کی جا سکتی ہے۔پارٹی ورکروں اور عہدیداروں کی طرف سے فراہم کردہ رائے کے علاوہ سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے دئے گئے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے وادی کی تمام مین اسٹریم سیاسی جماعتوںنے انتخابات کو موخر کرانا سود مند قرار دیا ہے اور اس سلسلہ میں 8ستمبر کو دلی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے منعقد کی جانے والی میٹنگ میں یہ تجویز پیش کی جا رہی ہے۔کے این ایس کے مطابق پی ڈی پی فی الوقت کسی بھی طرح انتخابات کیلئے تیار نہیں اور کانگریس پارٹی بھی اس بات کے حق میں نظر نہیں آرہی کہ موجودہ صورتحال میں ریاست کے انتخابات سے اس سے کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبد اﷲ،پارٹی سرپرست ڈاکٹر فاروق عبداﷲ کی اس رائے سے اختلاف کر رہے ہیںکہ ریاست میں موجودہ صورتحال میں انتخابات پارٹی کیلئے فائدہ مند ہوں گے۔نیشنل کانفرنس ذرائع کے حوالے سے خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ پارٹی صدر عمر عبد اﷲ اس بات کے حق میں ہیں کہ عوامی موڈ کو مد نظر رکھکر فی الوقت انتخابات میں حصہ لینا پارٹی کیلئے فائدہ مند نہیں ہو گا کیونکہ عوام پوری طرح سے جذباتی ہو گئی ہے اور اقتصادی ناکہ بندی نے ان کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دلی میں منعقد ہونے والی انتخابات سے متعلق میٹنگ انتہائی اہمیت کی حامل ہو گی اور اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ ریاست کی ہند نواز سیاسی جماعتوں کی طرف سے انتخابات موخر کرنے کی تجویز کو قبول کیا جائے اور حالات معمول پر آنے کے بعد ہی انتخابی عمل شروع کیا جائے۔ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فورسز ایجنسیوں نے بھی اسی طرح کی ایک رپورٹ دلی حکومت کو پیش کر دی ہے جس میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں عوامی مزاحمت کے پیش نظر انتخابات عمل میں لانا کسی چلینج سے کم نہیں ہو گا۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں