نکسلی کشمیریوں کی تحریک آزادی میں تعاون دینے کیلئے تیار
الحاق پاکستان کا نعرہ ترک کرکے جدوجہد جاری رکھنا ہوگی : پیپلز لبریشن گوریلا آرمی
سرینگر//بھارت کے مغربی بنگال، چھتیس گڈھ اور اُڑیسہ کے شہروں میں سرگرم نگسلی جنگجوئوں نے کشمیر کو بھارت سے الگ کرنے کیلئے وادی کا رُخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اُنھوں نے علیحدگی کیلئے سرگرم کشمیری جنگجوئوں کو اُس صورت میں عملی تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی دی ہے اگر وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کے بجائے آزادی کیلئے جدوجہد کریں گے۔ نکسلی جنگجوئوں کی تنظیم پیپلز لبریشن گوریلا آرمی نے انٹرنٹ سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ تنطیم کی مرکزی کیمٹی نے اپنے تمام ممبران پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیر کی تحریک آزادی کی حمایت کریں اور وادی میں داخل ہونے کیلئے تیار ہو جائیں۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ نکسلی جنگجوئوں نے چھتیس گڈھ ،جہار کھنڈ اور اُڑیسہ کے متعدد درُ دراز علاقوں میں پہلے ہی قبضہ کر لیا ہے اور ان علاقوں کو نکسلی تسلط چھڑانا فوج کیلئے ایک بڑا چلینج بن گیا ہے۔ نکسلی جنگجوئوں نے پہلے بھی مغربی بنگال کے کئی شہروں میں داخل ہو کر ممتابنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس کی احتجاجی تحریک کو کامیاب بنانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن ریاست کی حکمران مارکسسٹ پارٹی نکسلیوں کو کچلُنے میں کامیاب ہو گئی۔ اس وقت یہ نکسلی اترا کھنڈ میں زیادہ سرگرام ہیں۔ پیپلز لبریشن گوریلا آرمی نے انٹرنٹ سے جاری کئے گئے اپنے مکتوب میں کہا ہے کہ کشمیریوں کو پاکستان سے الحاق کا نعرہ ترک کرنا ہوگا اور بھارت سے آزادی کیلئے جد وجہد جاری رکھنا ہو گی۔ اس صورت میں لبریشن آرمی اُن کے شانہ بہ شانہ بھارت کے خلاف جنگ میں شامل ہوگی۔ واضح رہے کہ 1960 کی دہائی کے وسطہ میں نکسلی جنگجوئوں نے چھاروُ مجامدارکی قیادت میںبنگلہ دیشی گوریلائوں کی حمایت کی تھی اور 1971 میں بنگلہ دیشی عوام کو مکمل تعاون دینے کی یقین دہانی دی تھی۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں