متاثرین کیلئے زندگی کی جنگ اب شروع ہوگئی | مقامی خبریں | ہوم

متاثرین کیلئے زندگی کی جنگ اب شروع ہوگئی

فونٹ سائز Decrease font Enlarge font
پرویز احمد// سرینگر
وادی میں 24اگست کی رات کو نافذکئے گئے کرفیو کی وجہ سے جہاںعام لوگ گوناگوں مشکلات  اور مصائب کا شکار ہوئے وہیں جموں میں ہندو فرقہ پرست بلوائیوں کے حملوں میں اور وادی میں پولیس ، فوج اور سی آر پی ایف کے وحشیانہ ٹارچر سے زخمی ہوئے لوگوںکے افراد خانہ کی حالت زیادہ ہی ابتر رہی۔ہندو بلوائیوں کے حملے میں مارے گئے کشمیری ڈرائیور لطیف احمد وانی ساکن پانتہ چھوک حال بمنہ کے اہل خانہ کی حالت کسمپرسی اس سلسلے میںبطور مثال پیش کی جاسکتی ہے۔ لطیف وانی کی بیوہ کو خدشات لاحق ہوگئے ہیں کہ انکے تین کمسن بچوں کا تعلیمی مستقبل تاریکی کی جانب گامزن ہوگیا ہے کیونکہ تاحال کسی سرکاری یا غیر سرکاری ایجنسی نے انکی مالی معاونت نہیں کی ہے۔،حالانکہ لطیف کی لاش سرینگر پہنچنے کو موقعے پر کئی لیڈروں نے انہیں مالی امداد کی یقین دہانی کی تھی۔
شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی کے آرڈر کی منسوخی کے بعد ہندو فرقہ پرستوں کی جانب سے کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی کے دوران جموں میں زخمی ہوئے کئی کشمیری نوجوان سخت ترین کرفیو  کے دوران علاج و معالجہ میسر نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار ہوگئے۔کئی زخمیوں کو بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے انفیکشن کا سامنہ کرنا پڑرہا ہے اور ڈاکٹروں نے اس بناء پر ان کے اعضاء کاٹ دینے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ ادھر ہندو بلوائیوں کے حملے میں ہلاک ہوئے کشمیری ڈرائیورلطیف وانی کے اہل خانہ مستقبل کے حوالے سے اندیشوں کا شکار ہوگئے ہیں کیونکہ انہیں ابھی تک کوئی امداد بہم نہیں ہوئی ہے۔ لطیف کی بیوہ حمیدہ   نے پرنم ا نکھوں سے اپنے گھر کا حال بیان کرتے ہوئے اطلاعات کو بتایا '' لطیف کے جنازے کے دن اگرچہ حریت کانفرس کے نعیم خان نے میرے تین سالہ بیٹے عاقب کوایک ہزار روپے دئے مگر اس کے بعد آج تک کسی نے کوئی مدد نہیں کی''۔ حمیدہ نے مزید بتایا کہ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے میرے بچوں کی تعلیم کا خرچہ اٹھانے کا واعدہ کیا تھا مگر آج تک کوئی مدد نہیں کی گئی اور سکول کی فیس نہ ہونے کی وجہ اس کی دو کمسن بیٹیوں کو تعلیم سے محروم ہو نے کا خدشہ لاحق ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسیہ اندرابی کو گرفتار کرکے دوسال کیلئے بند کردیا گیا ہے ، اسلئے وہ جس امید پر فی الحال جی رہی تھیں وہ بھی ٹوٹ گئی ہے۔ حمیدہ نے مزید بتایا کہ کرفیو کے دوران فاقہ کشی پر مجبور ہونے کے بعد مجھے میرے ایک قریبی رشتہ دار نے سہارا دیاجو مجھے اور میرے تین کمسن بچوں کو دو وقت کا کھانہ کھلاتا ہے۔ لطیف کی بیوی کا کہنا ہے کہ وہ کسی پربوجھ نہیں بناچاہتی ہے مگر کمائی کا کوئی ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔لطیف کی 9سالہ بیٹی شازیہ نے  بتایا کہ وہ ہر روز سکول جایا کرتے تھی کیونکہ اسے ڈاکٹر بنے کا شوق تھا مگر باپ کی موت کے بعد اس نے سکول جانا چھوڑ دیا ہے شازیہ نے مزید کہا کہ میرے لئے میرے باپ کے قاتلوں کو سزا دینے کی اہمیت زیادہ ہے اور اگر میرے پاس کوئی سہارا ہوتا تو میں اپنے باپ کے قاتلو ں کو سزا دینے کیلئے دنیا کی کسی بھی عدالت  میں جاتی۔واضح رہے کہ لطیف احمد وانی پیشے سے ٹرک ڈرائیور تھا جو ماہانہ تین ہزار روپے کی اجرت پر ٹرک چلایا کرتا تھا اور چھ اگست کو پولیس کی یقین دہانی کے بعد جموں کی طرف روانہ ہوگیا تھا جہاں اکھنور میں ہندو بلوائیوں کے حملے میں وہ شدید زخمی ہوگیا تھا جسکے دو ہفتے بعد انہوں نے دلی کے اپولو ہسپتال میں دم توڑ دیا تھا۔
بک مارک: Add to your del.icio.us del.icio.us | Digg this story Digg

تبصرے (0 پوسٹ):

تبصرہ کریں comment

براے مہربانی کورڑ نمبر دیکھ کر لکھیں

  • email اپنے دوست کو ایمیل کریں
  • print پرنٹ کے لے
  • Plain text پلین ٹیکسٹ
ٹیگ
اس مضمون کے کوئی ٹیگ نہیں
اس مضمون کو رتٹ کریں
0
The Daily Etalaat Srinagar