سیاسی قیدیوں کی جلد رہائی کا مطالبہ، احتجاج کے دوران جاں بحق اور زخمی ہوئے افراد کیلئے معاوضے کا مطالبہ
سرینگر// نیشنل کانفرنس نے ریاستی سرکار اور امرناتھ سنگھرش سمیتی کے مابین طے پانے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے تمام سیاسی قیدیوں کو بغیر تاخیر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔پارٹی نے حالیہ احتجاجی لہر کے دوران جاں بحق اور زخمی ہونے والوںکے ساتھ ساتھ نقصان سے دوچار ہونے والے تاجروں اور میوہ اگانے والوں کو بھی معقول معاوضہ فراہم کرنے کی مانگ کی ہے ۔ نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈران کا ایک ہنگامی اجلاس کل سرینگر میں منعقد ہوا جس کی صدارت پارٹی کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کی ۔اجلاس میں ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال پر غور و خوض کرنے کے بعد اس اقرار نامے کا خیر مقدم کیا گیا جو ریاستی سرکار اور امرناتھ سنگھرش سمیتی کے درمیان طے پایا ہے ۔ اجلاس میں یہ محسوس کیا گیا کہ اقرار نامے میں جانبین کے احساسات اور اندیشوں کا ٹھیک لحاظ رکھا گیا ہے ،امید ہے کہ ریاستی عوام صحیح تناظر میں اس کو جانچیں گے کیونکہ یہ معاہدہ مفاد خصوصی رکھنے والے لوگوں کیلئے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا ۔اجلاس میں ریاست میں امن اور ہم آہنگی کی فضاء قائم کرنے کیلئے حکومت سے چند اقدامات فوری طور پر اٹھانے کی مانگ کی گئی ۔ان اقدامات میں تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کے علاوہ گڑ بڑ کے دوران رجسٹر ہوئے تمام کیسوں کی نظر ثانی اور ان لوگوں کی رہائی خاص طور پر شامل ہے جو کسی سنگین معاملے میں ملوث نہ ہوں ۔اجلاس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ جو لوگ نا مساعد حالات میں اپنی جانیں گنوابیٹھے ہیںیا زخمی ہوئے ہیں ،ان کے لواحقین اور کنبوں کو خاطر خواہ معاوضہ دیا جاناچاہئے ۔نیز مسلسل کرفیو کی وجہ سے عام لوگوں کو بسیار اور نا قابل بیان پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لہٰذا حکومت سے پر زور مطالبہ کیا گیا کہ کرفیو کی پابندیوں کو فوراً اٹھا لیا جائے کیونکہ رمضان المبارک کے آغاز کی وجہ سے یہ امر اور بھی ضروری بن گیا ہے ۔اجلاس میںعوام سے استدعا کی گئی کہ وہ لوگوں کی پریشانیوں کو دور کرنے کے سلسلے میں اپنا تعاون پیش کریں ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ ریاست کی تاجر برادری جس میں میوہ اگانے والے اور بیوپاری دونوں شامل ہیں ،کو ان کے نقصانات کیلئے خاطر خواہ معاوضہ فراہم کیا جائے ۔اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ ریاست میں اشیائے ضروریہ خاص طور پر غذائی اجناس کی سخت قلت پیدا ہو گئی ہے ،اسپتالوں میں ادویات کی عدم دستیابی کی شکایات بھی آرہی ہیں،لہٰذا حکومت کو فوراً اس شکایت کا ازالہ کرنا چاہئے اور اس سلسلے میں ہر ممکن اقدامات اٹھانے چاہئے ۔اجلاس میں ریاست جموں وکشمیر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے درمیان تجارت شروع کرنے کے مطالبے کا پھر اعادہ کیا گیا اور اس ضمن میں وزیر اعظم ہند ڈ اکٹر من موہن سنگھ سے درخواست کی گئی کہ ریاست سے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کا ایک وفد مظفر آباد روانہ کیا جائے جو وہاں دونوں حصوں کے درمیان مزید وقت ضائع کئے بغیر تجارت شروع کرنے کے طریقہ کار سے متعلق تبادلہ خیال کرے۔
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں