فتح کدل میں خاکروب پر فورسز نے گولیاں برسائیں
پرویز احمد
سرینگر// سرینگر کے فتح کدل علاقے میں کل صبح اس وقت کہرام مچ گیا جب کرفیو ڈیوٹی پر تعینات سی آر پی ایف اہلکاروںنے بلااشتعال فائرنگ کرکے ایک خاکروب کواس وقت زخمی کردیا جب وہ اس علاقے کی صفائی کرنے کے بعد واپس گھر کی طرف جارہا تھا۔ غلام محمد شیخ والد عبدلرحمان شیخ ساکن بانڈی پورہ حال فتح کدل سرینگر نے دو دن قبل ریاستی سرکار کے اس حکم نامے کہ وادی میں کوڈا کرکٹ کو ہٹانے کی غرض سے میونسپل سے وابستہ تمام خاکروب ڈیوٹی پر حاضر ہوجائیںپر عمل کرتے ہوئے اپنا کام شروع کیا لیکن سی آر پی ایف اہلکاروں نے ریاستی سرکار کے حکم نامے کو نظر انداز کرتے ہوئے کل صبح فتح کل میں مذکورہ خاکروب کے سینے پر گولی چلا کر اسے شدید زخمی کردیا جسے بعد میں علاج کیلئے سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے خطرے سے باہر قرار دیا ۔ سی آر پی ایف اہلکاروں کی گولی سے زخمی ہوئے غلام قادر شیخ نے واقعے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے'روزنامہ اطلاعات کو کہا'' کل صبح جب میں نے فتح کدل میں سی آ ر پی ایف اہلکاروں کو اپنا شناختی کارڈ دیکھاکر علاقے کی صفائی کی اجازت مانگی تو انہوں نے شناختی کارڈ دیکھ کر مجھے اجازت دے دی لیکن تقریباً11بجے جب میں اپنے کام سے فارغ ہوکر گھر کی طرح جارہا تھا تو سی آر پی ایف اہلکاروں نے مجھے بلاجواز نشانہ بناکر گولی چلادی''۔ مذکورہ خاکروب نے مزید بتایا کہ اسے بیہوشی کی حالت میں لوگوں نے ایس ایم ایس ایچ اہسپتال پہنچایاجہاں ڈاکٹروں نے اس کے سینے سے گولی نکال دی۔ خاکروب پر گولی چلانے کے اس واقعے کی مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے فتح کدل کے رہنے والے ایک عینی شاہد بلال احمد شاہ نے بتایا ''سی آر پی ایف اہلکاروں نے غلام قادر پر اس وقت بلا اشتعال گولیاں چلائی جب وہ علاقے کی صفائی کرنے کے بعد واپس گھر جارہا تھا''۔ بلال کا مزید کہنا تھا کہ فتح کدل میں تعینات سی آر پی ایف علاقے میں دہشت پھیلانے کی غرض سے بلااشتعال لوگوں پر فائرنگ اور نوجوانوں کی پٹائی کرتے ہیں۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں