شیطانی سلطنت
مکرمی تسلیم
آئے دن حکومت کے طرف سے ترقیاتی کاموں کا اور وادی کو سیاحتی نقشے پر لانے کیلئے شدو مد سے کام ہونے کا ڈنڈھورا پیٹا جاتا ہے۔ ٹولپ گارڈن اور کنونشن کمپلیکس اور گاف کورسوں کے تعمیر پر کروڑوں روپیہ صرف کرنے کا پروپگنڈا کیا جاتا ہے۔ مگرحالات کا جائزہ لینے کیلئے اگر وادی کا سرسری طور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ریاست ایک شیطانی سلطنت کا نظارہ پیش کرتی ہے۔ اگر ہم ٹورسٹ سنٹر سے لالچوک تک اور وہاں سے مولانا آزاد روڑ سے ہوتے ہوئے بابہ ڈیمب سے گذر کر سیدے احمد نگر تک جائیں تو سڑک کے دونوں طرف گند، غلاظت اور آوارہ کتوں کے ریوڑ دکھائی دیں گے۔ غلاظت کے ڈھیر ہسپتالوں' سکولوں یا مسجدوں کے آس پاس دکھائی دیں گے۔ میونسپلٹی کے کرم چاری کہیں بھی دکھائی نہیں دیںگے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایڈمنسٹریشن مکمل طور مفلوج ہوچکی ہے اور ٹائی فائیڈ بیماری کا شکار ہوچکی ہے۔ شاید ڈاکٹروں نے انسانوں سے نہ ملنے کا مشورہ دیا ہے۔ معلوم نہیں کہ یہاں کوئی حکومت ہے بھی یا نہیں ۔ آوارہ کتوں کو ٹھکانے لگانے کے بجائے ان کو گاڑیوں میں لاد کر دور گائوں میں چھوڑتے ہیں جس وجہ سے کافی تشویش ناک صورت حال بن گئی ہے۔براہ کرم اپنے اخبارکی وساطت سے حکومت کی توجہ اس طرف دلائیں' مشکور ہوں گا۔
خیر اندیش :
غلام محمد وانی کیگام گاندربل
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں