امن عمل دبائو کا شکار: بھارت
پاک بھارت جامع مذاکرات کا پانچواں دور مکمل
مانیٹرنگ ڈیسک/سرینگر
نئی دہلی //بھارت نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ امن کا عمل دباؤ کا شکار ہے۔ بھارت نے صگف الفاظ میں کہا کہ کابل میں بھارتی سفارتخانے پر حملے میں پاکستان میں موجود عناصر ملوث ہیں۔
نئی دہلی میں پاک بھارت مذاکرات کے پانچویں دور کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو میں بھارتی سیکریٹری خارجہ شیو شنکر مینن نے کہا
'' مذاکرات ایسے وقت میں ہورہے جب بھارت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات مشکلات سے دوچار ہیں''۔ انھوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے واقعات نے مذاکرات کا ماحول بھی متاثر کیا ہے۔ اس نتار میں انھوں نے کابل دھماکے' کشمیر میںخط انتظام پر دراندازی کے واقعات کا ذکر کیا۔
شیو شنکر مینن کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کے پاس ایسی معلومات ہیں کہ کابل میں بھارتی سفارتخانے پر حملے میں پاکستانی عناصر ملوث ہیں۔ اس سے قبل مذاکرات میں دونوں ملکوں کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر اعتماد سازی کے لئے اقدامات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ملکوں نے مظفر آباد۔ سری نگر اور راولا کوٹ۔ پونچھ بس سروس پر بھی بات چیت کی جبکہ انسداددہشت گردی اور سیکیورٹی سے متعلق اموربھی زیر بحث آئے۔ مذاکرات پاکستانی وفد کی سربراہی سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر نے کی۔ مذاکرات میں نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر شاہد ملک اور اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر ستیا برتا پال کے علاوہ بھارتی وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے
غور طلب ہے کہا کہ اس بات چیت سے پہلے بھی ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن پر دراندازی اور شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور حال میں افغانستان میں ہندوستان کے سفارتخانے پر حملے کے لیے ہندوستان نے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا۔ پاکستان نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی تھی لیکن ان واقعات سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں کچھ تلخی ضرور پیدا ہوئی ہے۔یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہورئی جب ہندوستان کی حکومت پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ حکومت کی ساری توجہ پارلیمنٹ میں بحث اور حکومت بچانے پر مرکوز ہے۔



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں