حزب کمانڈر سمیت3'جنگجو'جاں بحق
گاندر بل جھڑپ فرضی ہے:مقامی لوگوں کے مظاہرے
شوکت رحمان ڈار سرینگر
ہندوارہ اور گاندربل میں جنگجوؤں اور فورسز کے مابین دو الگ الگ تصادم آرائیوں میں ایک عسکری کمانڈر سمیت تین جنگجو جاںبحق ہوئے جن کے پاس سے فورسز نے ہتھیار برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیاہے ۔ تاہم گاندربل تصادم کو مقامی لوگوں نے فرضی قرار دیا اور سابق وزیر جنگلات نے بھی لوگوں کی تائید کرتے ہوئے اس واقعے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔پیٹھ وڈر بالا ہندوارہ میں فوج کی 21آر آر ،پولیس اور جنگجوؤں کے درمیان ایک جھڑپ میں حزب المجاہدین کاایک بٹالین کمانڈر عبدالاحد میر عرف ہارون ولدمحمد مقبول میر ساکنہ پیٹھ وڈر راجوار ہندوارہ جاں بحق ہوا ۔ پولیس نے اس کے پاس سے ایک اے کے سینتالیس رائیفل ، تین میگزین، دو گرینیڈ،اور گولیوں کے پندرہ راؤنڈ برآمد کئے ہیں ۔
ادھرناگہ بل گاندربل میں ہوئی مبینہ جھڑپ میں فوج کی 5 آر آربٹالین اور پولیس نے عسکری تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ دو
جنگجو ؤں کو جاں بحق کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔اور تصادم کے مقام سے دو اے کے سینتالیس رائیفلز ،دس میگزین،دو گرینیڈ،اور گولیوں کے 98راونڈ برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے ۔ جاں بحق ہوئے جنگجوؤں کے نام سید عابد حسین عرف آکاش ولدمختار احمدساکنہ ناروال پنجاب پاکستان اورمحمد صغیر شاہ عرف گرائین ولد غلام حسن شاہ ساکنہ صوبہ سرحد پاکستان بتائے جارہے ہیں ۔پولیس بیان کے مطابق یہ جھڑپ اتوا ر شام کو 8بجے کے قریب شروع ہوئی اور سوموار صبح صادق کو ختم ہوئی ۔
مقامی لوگ تاہم پولیس کے بیان کو سراسر جھٹلا رہے ہیں ۔انہوں نے اس تصادم کو فرضی قرار دیتے ہوئے فورسز کے خلاف زبردست مظاہرے کئے اور پورے علاقے میں ہڑتال کی گئی ۔ مظاہرین حراستی ہلاکتوں کے خلاف اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کر رہے تھے ۔مشتعل مظاہرین میں سے ایک نے اس واقعے کو فورسز کی سازش سے تعبیر کرتے ہوئے کہا '' فوج نے شام کو ہی ان دو معصوم نوجوانوں کو ناگہ بل بازار کے قریب گولیوں کا شکار بنایا ،بعد میں انہیں رنگل گرڈ سٹیشن کے پاس ایک دیوار کے ساتھ رکھ کر دوبارہ ان پر گولیاں برسائیں اور پھر اس سازش کو ایک تصادم جتلانے کے لئے رات بھر گولیاں چلائی گئیں''۔ سابق وزیر جنگلات اور پی ڈی پی لیڈر قاضی افضل نے بھی اس معاملے میںایک غیر جانبدارانہ جانچ کرنے کی حکومت سے اپیل کی ہے ۔اطلاعات کے ساتھ بات کرتے ہوئے قاضی محمد افضل نے بتایا کہ اس جھڑپ کو لیکر لوگ بہت پریشان ہیں اور وہ اسے فرضی مانتے ہیں ۔انہوں نے کہا ''لوگوں کی آواز میری آواز ہے اورمیری رائے لوگوں کی رائے سے مختلف نہیں ہے ''۔انہوں نے مزید کہا '' گاندربل ہی میں کسی سوچی سمجھی سازش کے تحت ایسے واقعات کرائے جاتے ہیں کیوں کہ پچھلے برس بھی جب یہاں سابق ایس پی ہنس راج پریہار تھا تو اس وقت بھی یہاں معصوم لوگوں کو قتل کرکے دفن کیا گیا ''۔انہوں نے ایسے واقعات کی بڑے پیمانے پر جانچ کرانے کی مانگ کی۔ا دھر اس پورے معاملے پر بات کرتے ہوئے ایس پی گاندربل رزاق خان نے اطلاعات کو بتایا کہ کل شام انہوں نے گو لیاں چلنے کی آوازیں سنیں اور جوں ہی وہ اس جانب بڑھے تو وہاں پہنچ کر انہوں نے کچھ نہیں پایا ۔ایس پی رزاق نے مزید کہا ''اس کے بعد پانچ آر آراور پولیس نے مشترکہ طور علاقے کو گھیرے میں لے لیا جس کے دوران نزدیک ہی جھاڑیوں میں سے دوجنگجوؤں نے فورسز پر گولیاں چلائیں اور جوابی کارروائی میں ان کو ہلاک کیا گیا ''۔ تاہم زونل پولیس ہیڈ کوارٹرز سے مبینہ جھڑپ کے بارے جاری تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں جنگجوؤں کی موجود گی کی اطلاع ملنے پر گاندربل پولیس نے ناگہ بل دریند گاؤں کو گھیرے میں لے لیا جس کے بعدوہاں چھپے عسکریت پسندوں اور پولیس کے مابین تصادم آرائی ہوئی جس میں دو جنگجوؤں کو مارا گیا۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ بعد ازاں فوج نے بھی آپریشن میں شرکت کی۔ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جان بحق کئے گئے جنگجو سرینگر
آ رہی یاترا کانوائی پر حملہ کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے۔
ایس پی رزاق نے کہا کہ ان دونوں کے پاس سے ملے شناختی کارڈوں سے یہ پتہ چلا کہ یہ دونوں سوپور کے باشندے ہیں لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سوپور کے نہیں ہیں ۔واضح رہے کہ پولیس نے پہلے ان کا تعلق سوپور سے بتایا اور بعد میں ایک اور پریس بیان میں ان کا تعلق پاکستان سے بتایا گیا ۔



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں