سرینگر سیوریج پروجیکٹ
تکمیل کیلئے مارچ 2009ڈیدلائن مقرر
ڈل بچائو مہم
اطلاعات نیوز سروس/سرینگر
ریاست کے گورنر این این ووہرا نے سرینگر شہر کیلئے ڈرنیج اور سیوریج پروجیکٹ کو مکمل کرنے کیلئے مارچ2009 کی ڈیڈ لائین مقرر کی ہے ۔ ساتھ ہی گورنر نے ا س سکیم پر کام دِن رات جاری رکھنے کیلئے ایک ٹاسک فورس قائم کرنے کی بھی تاکید کی۔
کل صُبح یہاں ڈل۔ نگین کو بچانے اور اس سلسلے میں منیجمنٹ پلان کا جائیزہ لیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ'' ایک ہی چھت تلے تمام سہولیات فراہم کرنے سے اس پروجیکٹ کو چالو رکھنے میں حائل دشواریوں کو دُور کرنے میں کافی مدد ملے گی'' ۔انہوں نے کہا کہ وادی میں کام کرنے کے محدود موسم کی وجہ سے یہ معاملہ اور زیادہ سنجیدگی اختیار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2 شفٹوں میں اس کام کو ہاتھ میں لینے سے وقت اور دیگر امورات کی بچت ہو گی۔
ووہرا نے ان کاموں کو تیزی سے مکمل کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بدولت ان پروجیکٹوں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے میں بھی کافی مدد ملے گی۔گورنر نے کہا کہ اس مقصد کیلئے ایک ماسٹر پلان مرتب کیا جائے تا کہ تمام کام مقررہ وقت میں ہی مکمل کئے جا سکیں۔
شہرۂ آفاق جھیل ڈل کے سکڑنے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گورنر نے اس عظیم جھیل کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ایک عام مہم شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس میں غیر سرکاری ادارے ، سِول سماج، دیگر گرؤپ، طُلباء اور عام لوگوں کی شرکت کو یقینی بنایا جانا چاہئے تا کہ ڈل کے تحفظ کیلئے ایک موثر حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔ گورنر نے کہاج'' جھیل ڈل کشمیر کی روح ہے''۔گورنر نے اس جھیل کو بچانے کیلئے نوجوانوں پر اپنی اُمید کا اظہار اور خیال ظاہر کیا کہ اس مشہور اور شاندار آبگاہ کی عظمتِ رفتہ کو بحال کرنے کیلئے وہ بڑے پیمانے پر آگے آئیں ۔ اس کے علاوہ گورنر نے رضا کارانہ تنظیموں اور میڈیا کے ذریعے عوام میں بیداری لانے کیلئے بھی تاکید کی۔
ووہرا نے محسوس کیا کہ اس عظیم جھیل کو بچانے سے نہ صرف سیاحتی صنعت کو بڑے پیمانے پر عروج حاصل ہو گا بلکہ ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنے کے عالمی نظریے کو بھی کافی تقویت ملے گی۔گورنر نے جھیل میں مِٹّی اور گھاس کے داخلے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرنے کے علاوہ جھیل میں پالیتھین اور پلاسٹک مادہ کی موجودگی پر بھی اپنے دُکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس گھاس پھوس اور مِٹّی کو باہر نکالنے کیلئے ایک سائنسی نظام کو کام میں لگانا ہو گا۔ انہوں نے شہری خلاف ورزیوں پر روک لگانے کیلئے ایک قانون جلدی سے وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو اپنے فرائض انجام دینے کیلئے ایک متواتر مہم شروع کرنے سے بھی اس جھیل کو چار چاند لگانے میں کافی آسائش دستیاب ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ جھیل ڈل کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے جو پروگرام شروع کئے گئے ہیں اُن کی خلاف ورزی کرنے والے لوگوں کے خلاف سخت تادیبی کروائی کی جائے۔
گورنر نے جھیل کو صاف کرنے کیلئے مطلوبہ مشینری حاصل کرنے کیلئے ایک کوارڈی نیشن کمیٹی کا قیام عمل میں لانے کی تجویز پیش کی۔گور نرنے اس مشہور جھیل کی تازہ ترین صورتحال جاننے کیلئے سیٹلائیٹ امیجنگ کی بھی اہمیت ظاہر کی۔میٹنگ میں اور باتوں کے علاوہ جھیل کے تحفظ کیلئے ایک منیجمنٹ منصوبہ وضع کرنے اور اس سلسلے میں ری سیٹلمنٹ اور رہیبلی ٹیشن پلان کا بھی جائیزہ لیا لیا۔ میٹنگ کو بتایا گیا کہ کنزرویشن اور منیجمنٹ پلان کے تحت اس جھیل کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کیلئے 298.79 کروڑ روپے مختص رکھے گئے ہیں اور ان رقومات میں سے اس سال جون کے آخر تک تقریباً150 کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔میٹنگ میںدیگر اصحاب کے علاوہ چیف سیکرٹری ایس ایس کپور، پرنسپل سیکرٹری پلاننگ مادھو لال، گورنر کے پرنسپل سیکرٹری بی بی ویاس،کمشنر سیکرٹری مکانات و شہری ترقی محترمہ نسیمہ لنکر، ڈویثرنل کمشنر کشمیر مسعود سامون، آئی جی پی کشمیر رینج ایس ایم سہائے، وائس چئیر مین ایل اے ڈبلیو ڈی اے عرفان یٰسین، ڈپٹی کمشنر بڈگام محمد رفیع، چیف انجنئیر یو ای ای ڈی ملہوترہ، کمشنر سرینگر میونسپل کارپوریشن شوکت علی بھی موجود تھے۔



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں