روزنامہ اطلاعات سرینگر كشمیر: ناربل دھماکے کی' تحقیقات'،فوجی اسٹائل میں ناربل دھماکے کی' تحقیقات'،فوجی اسٹائل میں ================================================================================ feroz ahmad on 2008 , 21 July نوجوانوں پر عتاب، آبادی کی ناک میں دم امتیازخان/سرینگر نار بل میں سنیچر کو بارودی سرنگ کے دھماکے کے بعد فورسز نے سینکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور 60کے قریب افراد زخمی ہیں جبکہ نارہ بل کراسنگ پر واقع دکانوں اور ٹھیلوں کو تہس نہس کیا گیا۔آس پاس کے دیہات میں بھی فورسز کی گشت ، گھر گھر تلاشیاں ،چھاپوں اور جامہ تلاشیوں کا سلسلہ جار ی ہے جس سے پورے علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول قائم ہوا ہے ۔یاد رہے کہ نار بل کراسنگ پر سنیچر کو بارودی سرنگ کادھماکہ پیش آیا تھا جس میں 10 فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 25زخمی ہو گئے تھے۔ناربل ،سوزیٹھ ،لاوے پورہ اور چک کاؤسہ کے لوگوں نے اطلاعات کو بتایا کہ فورسز نے دھماکے کے بعد علاقے میں عام لوگوں کا چلنا پھرنا دو بھر کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ 22آر آر اور پولیس ٹاسک فورس نے دھماکے کے بعد لوگوں کو دکانوں سے اتار کر بغیر پوچھے مارا پیٹا ۔انہوں نے مزید کہا کہ فورسز نے گھروں میں جا کر عورتوں بچوں اوربوڑھوں کو ہراساں کیا۔جبکہ ایک سو کے قریب نوجوانوں کو گرفتار کر لیا جن کو بعد میں نیم مردہ حالت میںرہا کیا گیا ۔لاوے پورہ کے ایک شہری اختر حسین نے بتایا'' فورسز نے مجھے اپنی دوکان سے پکڑ کر ناربل کیمپ پہنچا دیا اور دھماکے میں ہوئے نقصان کا نزلہ پوری طرح مجھ پر ڈنڈوں کے ذریعے اتار دیا''۔اختر نے مزید کہا کہ بعد میں فورسز نے اسے نیم مردہ حالت میں رہا کر دیا ۔چک کاؤسہ کے ایک شہری جاوید احمد پٹھان نے بتایا'' ٹاسک فورسز اور فوج نے مجھے ناربل کراسنگ پر تلاشی کے بہانے روک لیا اور تقریباً 20منٹ پٹائی کرنے کے بعد ایک نالی میں دھکیل دیا جس سے میرے کپڑے پانی اور کیچڑ سے بھر گئے اور اسی حالت میں رہا کیا''۔ناربل سوزیٹھ ،چک کاؤسہ کے لوگوں نے بتایا کہ دھماکہ کے بعد رات کو فورسز نے رہا شدہ جنگجوئوں کی تلاش شروع کر دی اور رات کے دوران ہی گرفتار کر لیا اور ناربل کیمپ پہنچا دیا جہاں انہیں شدید ازیتیں پہنچائی گئیں۔ناربل کے غلام محمد نے بتایا''رہا شدہ جنگجوئوں کو بعد ازاں اتوار کو نیم مردہ حالت میں رہا کیا گیا''۔ سوزیٹھ کے شہری غلام علی کا کہنا تھا کہ ان کے گائوں میں تقریباً 60سے زائد افراد انٹرا گیشن کی وجہ سے زخمی پڑے ہیں۔ ایک نوجوان جو رات بھر ناربل انٹراگیشن سینٹر میں زیرعتاب تھا ،نے بتایا کہ فورسز ان سے ان جنگجوئوں کا پتہ پوچھ رہے تھے جنہوں نے ناربل دھماکہ انجام دیا ۔مقامی لوگوں کے مطابق کراسنگ پر بھوٹے بیچنے والوں کو کیمپ پر حاضر ہونے کیلئے کہا گیا اور یہی صورت حال دوسرے دوکانداروں کی بھی ہے۔کیمپ پر حاضر نہ ہونے کی صورت میں انہیں دھمکی دی گئی کہ'نہیں پہنچے تو سزا کیلئے تیار رہنا'۔ایس ایچ او ماگام نے اس سلسلے میں بتایا''فورسز کی طرف سے لوگوں کو ہراساں کرنا ایک الزام ہے''۔انہوں نے مزید کہا کہ فورسز اپنے طریقے سے اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں ۔