روزنامہ اطلاعات سرینگر كشمیر: منموہن کی سرکار رہے گی یانہیں منموہن کی سرکار رہے گی یانہیں ================================================================================ feroz ahmad on 2008 , 21 July فیصلہ آج ہوگا مانیٹرنگ ڈیسک/سرینگر ہندوستان کی پارلیمنٹ میں کل وزیراعظم منموہن سنگھ کے ایک مختصر بیان کے ساتھ اعتماد کی تحریک پر بحث شروع ہوگئی ہے۔اور آج کسی بھی وقت ترقی پسند اتحاد حکومت کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔سیاسی مبصر ین کا کہنا ہے کہ اس اعتماد کے ووٹ کو لیکر حکومت کا مستقبل غیر یقینی ہے۔اعتماد کی یہ تحریک بظاہر معمولی فرق سے منظور یا مسترد ہونے کی توقع ہے۔ اس مرحلے پر یہ کہنا مشکل ہے کہ منموہن سنگھ کی حکومت بچ سکے گی یا نہیں۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کل لوک سبھا کا خصوصی اجلاس شروع ہوتے ہی ایک سطر کی قرارداد پڑھی جس میں کہا گیا ہے کہ' ' یہ ایوان اس حکومت پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔'' امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے پر کانگریس کی سربراہی میں قائم مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کے درمیان اختلافات سے پیدا ہونے والی صورت حال میں کانگریس حکومت نے اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے ایوان میں اعتماد کی یہ تحریک پیش کی ہے۔ اعتماد کی اس تحریک پر دو دنوں میں کم از کم بارہ گھنٹے تک بحث ہوگی۔ یہ بحث مقررہ وقت سے تجاوز بھی کرسکتی ہے۔ بحث کے اختتام پر ووٹنگ آج کسی بھی وقت ہوگی۔لوک سبھا یعنی ایوان زیریں کے خصوصی اجلاس میں اپنی حکومت کے لیے اعتماد کی قرارداد پیش کرتے ہوئے کل منموہن سنگھ نے کہا' 'یہ افسوس کی بات ہے کہ یہ خصوصی اجلاس ایک ایسے وقت میں طلب کرنا پڑا ہے جب حکومت کی ساری توجہ معیشت کو بہتر کرنے، مہنگائی پر قابو پانے اور کسانوں کے حالات بہتر کرنے پر مرکوز تھی۔''وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے چار برس دو مہینے پورے کرلیے ہیں اور یہ ان کی اتحادی جماعتوں کی مکمل حمایت کے سبب ہی ممکن ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت اپنے چار برس کی کارکردگی کی بنیاد پر اعتماد کا ووٹ حاصل کرلے گی۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے حزب اختلاف کے رہمنا ایل کے اڈوانی نے کہا کہ'' اعتماد کی تحریک سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے لیے خود حکومت ذمہ دار ہے''۔انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ سے بہتر تعلقات یا جوہری معاہدے کے مخالف نہیں ہیں لیکن بی جے پی کوئی ایسا معاہدہ قبول نہیں کرے گی جس میں بقول ان کے ہندوستان 'جونئیر پارٹنر' ہو۔ حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت گرانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ بائیں محاذ اور اس کی بعض ہمنوا جماعتیں اترپردیش کی وزیر اعلی مایاوتی کو متبادل وزیر اعظم کے طور پر پیش کررہی ہیں۔ مایاوتی گزشتہ سنیچر سے اپنی سیکٹریٹریٹ کے تمام اعلی اہلکاروں اور صلاح کاروں کے ساتھ دلی میں مقیم ہیں۔گزشتہ دو دنوں سے جوڑ توڑ کی ساری سیاست کا محور ان کی رہائش گاہ رہی ہے۔ دراصل حکومت گرانے کی ساری کوشش بائیں محاذ اور مایاوتی کے گروپ کی جانب سے ہورہی ہیں۔ بی جے پی اس کوشش میں محض تماشائی ہے۔ بی جے پی کے لیے مایاوتی کا بڑھتا ہوا سیاسی اثر نیک فال نہیں ہے۔ لیکن اگر حکومت گرتی ہے تو مخالف جماعتیں مایاوتی کی قیادت میں نئی حکومت بنانے کی کوشش ضرور کریں گی۔ اور اس امکان نے بی جے پی کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ شاید ان ہی حالات سے بچنے کے لیے بی جے پی اب یہ کہنے لگی ہے کہ وہ حکومت گرانا نہیں چاہتی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ''حکومت سیاسی اور اخلاقی طور پر پہلے ہی شکست کھا چکی ہے۔'' اعتماد کی تحریک کے یہ دو دن حکومت کے لیے ہی نہیں حزب اختلاف کے لیے بھی کافی بھاری ہیں۔