گلمرگ دھماکہ | فرنٹ پیج | ہوم

گلمرگ دھماکہ

فونٹ سائز Decrease font Enlarge font

ٹنگمرگ اور گلمرگ میںیک روزہ احتجاجی ہڑتال

اطلاعات نیوز سروس/سرینگر

گلمرگ میں سیاحوں اور مرکبانوں پر گرینیڈ حملے کے خلاف ٹنگمرگ اور گلمرگ میں احتجاج کے بطورکل مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کئے اور دھماکے میں ملوث افراد کو بے نقاب کرکے انہیں عوام کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق سیاحوں پر بم دھماکے پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کل صبح سے ہی ٹنگمر گ اور گلمرگ میں مزدور یونین ،ٹنگمرگ ٹریڈرس ایسوسی ایشن اور عام لوگوں نے ٹنگمرگ میں سرینگر گلمرگ شاہراہ پر دھرنا دیا اور بم دھماکے کے خلاف نعرہ بازی کی ۔ٹنگمرگ موصولہ اطلاعات  کے مطابق کل ٹنگمرگ میں دھماکہ کے خلاف احتجاج کے طور اسکول ،کالج،بنک اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سیاحوں کی گاڑیوں کے سوا کسی گاڑی کو بھی ٹنگمرگ سے آگے جانے نہیں دیا گیا۔اسی دوران مزدور یونین ،ٹورسٹ گائیڈ ایسو سی ایشن ،تاجروں اور عام لوگوں کی ایک بڑی تعدادنے جلوس نکالا اور حملہ آوروں کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے انہیں قانون کے شکنجے میں لانے کا مطالبہ کیا۔ مطاہرین نے سیاحوں پر حملے کو ان کے پیٹ میںچھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ'' گلمرگ ان کی تجارت کا واحد ذریعہ ہے اور یہاں پر سیاح بیرون ریاست اور ملک سے آکر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں تاہم یہاں پر انہیں منظم طریقے سے گولیوں اور بموں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جسے نہ صرف سیاح خوفزدہ ہو رہے ہیں بلکہ مقامی مزدوروں کی روزی روٹی چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے'' ۔ احتجاجی ریلی میں حریت کانفرنس (ع)کے سینئر لیڈر نعیم احمد خان بھی شامل تھے۔نعیم خان نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ''حریت کانفرنس اگرچہ ایسے دھماکوں کی ہر بار مذمت کرتی آئی ہے تاہم انہیں یقین ہے کہ ان حملوں کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسیاں کار فرما ہیں''۔دریں اثناء گلمرگ میں بھی کل پورے دن دکانیں بند رہی تاہم وہاں پر بھی ٹھہرے ہوئے مسافروں کے لئے ہوٹلوں اور ہٹوں میںخاطر خواہ انتظامات کئے گئے تھے۔اسی بیچ محکمہ سیاحت نے سیاحوں کی سہولیت کے لئے ٹنگمرگ اور گلمرگ میں کنٹرول روم کھولے ہیں جو 24گھنٹے کام کر رہے ہیں۔محکمہ سیاحت کے ذرائع نے بتایا کہ محکمے نے سیاحوں کیلئے خاطر خواہ انتظامات کئے ہیں اور تمام سیاح گلمرگ میں قدرتی حسن کا بغیر کسی خوف و خطر کے لطف اٹھا رہے ہیں۔

بک مارک: Add to your del.icio.us del.icio.us | Digg this story Digg

تبصرے (0 پوسٹ):

تبصرہ کریں comment

براے مہربانی کورڑ نمبر دیکھ کر لکھیں

  • email اپنے دوست کو ایمیل کریں
  • print پرنٹ کے لے
  • Plain text پلین ٹیکسٹ
ٹیگ
اس مضمون کے کوئی ٹیگ نہیں
اس مضمون کو رتٹ کریں
0