روزنامہ اطلاعات سرینگر كشمیر: گلمرگ میں دھماکہ:سیاح سمیت دوہلاک ،7زخمی گلمرگ میں دھماکہ:سیاح سمیت دوہلاک ،7زخمی ================================================================================ feroz ahmad on 2008 , 21 July آزادی پسند اور ہند نواز حلقوں نے مزمت کی سرینگر// شہرہ آفا ق سیاحتی مقام گلمرگ میں اتوار کی چہل پہل کے دوران کل اس وقت خوف و دہشت کا سماں طاری ہوا جب سیاحوں اور مرکبانوں کی بھاری بھیڑ میں ایک پُر اسرار گرینیڈ دھماکے میں اتر پردیش کا ایک نوجوان سیاح اور13سالہ کمسن مرکبان ہلاک اور7افراد زخمی ہوئے جن میں 3غیر ریاستی ،3مقامی سیلانی اور ایک مرکبان بھی شامل ہے۔یہ دھماکہ شام 5بجکر5منٹ پر ٹیلی فون ایکسچینج گلمرگ کے نزدیک اس جگہ پر ہوا جہاں سیاحوں اور مرکبانوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔عینی شاہدین کے مطابق سیاح گھوڑوں پر گلمرگ کی سیر کرنے کے بعد مرکبانوں کی مزدوری ادا کر رہے تھے کہ اسی دوران نامعلوم سمت سے ایک گرینیڈ داغا گیا جو سیاحوں اور مرکبانوں کے جم غفیر کے بیچوں بیچ گر کر ایک خوفناک دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔اس موقعہ پر وہاں افرا تفری پھیل گئی اور چیخ و پکار اور آہ و زاری سے پورے گلمرگ میں اتھل پتھل اور سنسنی پھیل گئی۔عینی شاہدین کے مطابق اس جگہ یا آ س پاس میں دھماکے کے وقت پولیس یا سیکورٹی فورسز کا کوئی اہلکار یا گاڑی موجود نہیں تھی بلکہ گرینیڈ جان بوجھ کر سیاحوں اور مرکبانوں پر پھینکا گیا۔ اس دھماکے میں 36سالہ اشوک کمار ولد رام شنکر ساکنہ دیوی پاٹن منڈل ضلع گونڈا اتر پردیش نامی سیاح موقعہ پر ہی دم توڑ بیٹھا جبکہ گرینیڈ کے آہنی ریزوں کی زد میں آکر اس کے3ساتھی اور5مقامی شہری مضروب ہوئے۔زخمیوں میں جوگندر سنگھ ولد سونی دیال ،جگدمبا سونی ولد سانی دیال سونی اور پرکھیر تیواری ولد کپل دیو تیواری ساکنان دیوی پاٹن منڈل گونڈا یو پی ،2مرکبان 13سالہ محمد یوسف چوہان ولد جلال الدین ساکنہ ستر سرن بابا ریشی اور پرویز احمد ولد محمد مقبول ساکنہ چندوسہ بارہمولہ کے علاوہ 3مقامی سیلانی بشیر احمد ولد محمد صادق،طاہرہ دختر محمد خلیل اور ارشاد احمد صوفی ولد محمد شفیع ساکنان سوپور شامل ہیں۔زخمیوں کو فوری طور پر سب ڈسٹرکٹ اسپتال ٹنگمرگ میں داخل کیا گیا جہاں کمسن مرکبان محمد یوسف کی حالت تشویشناک پاتے ہوئے اسے صدر اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا۔اسپتال میں کچھ دیر تک موت و حیات کی کشمکش میں محمد یوسف زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا ۔دھماکے میں ہلاک ہونے والے غیر ریاستی سیاح کے ایک ساتھی اور واقعہ کے عینی شاہد شیو ناتھ رستوگی نے مقامی خبر رساں ادارے کے این ایس کو بتایا کہ وہ 9دیگر ساتھیوں کے ہمراہ بالہ تل کے راستے امر ناتھ یاترا سے واپسی کے بعد سنیچرکی صبح سرینگر پہنچے جہاں سے وہ آج گلمرگ کی سیر پر آئے تھے۔انہوںنے کہا''دن بھر گلمرگ کی خوبصورت وادیوں کی سیر کرنے کے بعد سب بہت خوش تھے اور اب ہم سرینگر لوٹنے کی تیاری کر رہے تھے ،اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے ساتھ گرد و غبار اڑ گئی اور ہر طرف جیسے اندھیرا چھا گیا''۔ شیو ناتھ رستوگی اور اس کے ساتھی زار و قطار روتے ہوئے اپنے ساتھی کی موت پر ماتم کر رہے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ جب دھماکہ ہوا تو کبھی گیس سلینڈر پھٹنے اور کبھی ٹائر پھٹنے کی بات کی گئی لیکن جب انہوںنے اشوک کمار کو خون میں لت پت دیکھا تو ان کے ہوش اڑ گئے۔''اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ یہاں ایسا ہو گا تو ہم کبھی نہیں آتے''۔زخمیوں میں شامل جگدمبا سونی نے کہا''سب ٹھیک ٹھاک تھا،اچانک دھماکہ ہوا پھر کچھ پتہ نہیں چلا''۔انہوںنے کہا'' کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ گرینیڈ کس نے اور کہاں سے پھینکا؟میں زخمی ہونے کے بعد بیہوش ہوا اور خود کو اسپتال میں پایا''۔دھماکے کے فوراً بعد گلمرگ میں موجود مقامی ،غیر ریاستی اور غیر ملکی سیاح آناً فاناً وہاں سے بھاگ گئے اور پورے گلمرگ میں سناٹا چھا گیا۔حالانکہ اس سے قبل اتوار ہونے کی وجہ سے خوشگوار موسم کے سبب صبح سے ہی گلمرگ میں مقامی اور غیر مقامی سیاحوں کی بھاری بھیڑ جمع رہی۔اس دھماکے کے بعد سیاحت سے وابستہ مزدوروں،مرکبانوں اور ٹورسٹ گائیڈوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ٹنگمرگ گلمرگ مزدور یونین اور ٹورسٹ گائیڈ ایسوسی ایشن کے صدر غلام محمد لون نے بتایا کہ یہ حملہ گلمرگ میں سیاحت سے وابستہ40ہزار افراد کی روزی روٹی پر حملے کے مترادف ہے۔انہوںنے کہا کہ تمام مزدور اور مرکبان اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس کے خلاف منظم احتجاج بھی کیا جائے گا۔انہوںنے کہا''سیاح ہمارے مہمان ہی نہیں بلکہ ہماری روزی روٹی کا ذریعہ بھی ہیں،ان پر حملہ ہمارے اہل و عیال پر حملہ ہے''۔دریں اثناء گ حریت نے گلمرگ میں سیاحوں اور مرکبانوں پر ہوئے گرینیڈ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔حریت ترجمان ایاز اکبر نے بتایا کہ یہ ایک غیر انسانی حرکت ہے جس کی کوئی جوازیت نہیں ہوسکتی۔ترجمان کا کہنا تھا کہ سیاح ہمارے مہمان ہیں اور دنیا کا کوئی بھی مذہب یا قانون معصوم شہریوں کو کسی بھی قسم کا کوئی بھی نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔انہوںنے کہا کہ اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہئے۔اس دوران پیپلز کانفرنس کے چیرمین سجاد غنی لون اور جموں کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ غلام حسن میر نے بھی سیاحوں پر حملے کو بہیمانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔