گریز میں 10افرادبرف میں زندہ دفن
3فوجیوں کی لاشیں برآمد' 3مزدوروں سمیت 7ہنوز لاپتہ
اطلاعات نیوز سروس سرینگر19نومبر
بانڈی پورہ کے گریز سیکٹر میں خط انتظام پر برفانی تودوں کی زد میں آکر میجر اور ایک لیفٹنٹ سمیت فوج کے7اہلکار اور ان کے ساتھ کام کر رہے 3مقامی مزدور برف کے نیچے زندہ دفن ہو گئے ۔اس ناگہانی آفت کا شکار ہونے والے کسی بھی شخص کے زندہ بچنے کی کوئی امید نہیں ہے' تاہم آخری اطلاعات ملنے تک صرف3فوجی اہلکاروں کی لاشیں بر آمد کی جا چکی ہیں جبکہ بچائوکارروائیاں جنگی بنیادوں پر جاری ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق خط انتظام کے مژھل اور گریز سیکٹر کے درمیان میں واقع درہ حاجی بل کے نوشہرہ ناڑ میں بگتور پکٹ کے نزدیک منگلوار18نومبر کی شب دو گھنٹوں کے وقفے میں برفانی تودے گرنے کے دو الگ الگ واقعات پیش آئے ۔فوجی ذرائع نے بتایا کہ پہلا واقعہ اس وقت پیش آیا جب علاقہ میں تعینات 8بہار ریجمنٹ کے ساتھ کام کرنے والے 3مقامی پورٹر برفانی طوفان میں پھنس گئے اور ایک تودے کی زد میں آکر زندہ دب گئے ۔اس واقعے کی خبر ملتے ہی 7فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک پارٹی میجر اجے اپریتی کی قیادت میں جائے واردات کی طرف روانہ ہوئی اور قریب دو گھنٹوں کے بعد وہاں پہنچ کرجب انہوں نے برف تلے دبنے والے مزدوروں کو تلاش کرنا شروع کیا تو اسی دوران ایک اور برفانی تودہ ان پر گر آیا اور وہ بھی برف میں زندہ دفن ہو گئے ۔ذرائع نے بتایا کہ جب فوجی پکٹ کا اس پارٹی کے ساتھ رابطہ منقطع ہو گیا تو ان کی تلاش میں ایک اور فوجی پارٹی کو روانہ کیا گیا جس نے اعلیٰ افسران کو دوسرے حادثے کی اطلاع دی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جائے واردات پراس وقت قریب 15فٹ برف موجود ہے جس کی وجہ سے برف کی بھاری مقدار میں دبنے والے فوجی اہلکاروں اور پورٹروں کو تلاش کرنے میں دقتیں پیش آ رہی ہیں۔ منگلوار کی شب اندھیرا ہونے کے بعد بچائو کارروائی معطل کی گئی اور آج صبح فوجی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے دوبارہ فوجی اہلکاروں اور مزدوروں کو تلاش کرنے کا کام شروع کیا ۔ کافی جدوجہد کے بعد اب تک صرف3فوجی اہلکاروں کی لاشیں بر آمد کی جا چکی ہیں جن میں سے دو کی شناخت لانس نائیک سائبا باسکو اور سپاہی چندر کمار کے بطور ہوئی ہے ۔ان دونوں کی لاشیں کل شام ہی بر آمد ہوئی تھیں جبکہ ایک اور اہلکار کی لاش آج بعد دوپہر برف کے نیچے سے نکالی گئی جس کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی ہے۔اس حادثے کا شکار ہونے والے دیگر فوجی اہلکاروں میں لیفٹنٹ امیت کمار ،نائیک کشور دھنگ ،نائیک امرت لال اور نائیک بوکھان ارکون شامل ہیں جبکہ برفانی تودہ گرنے کے پہلے حادثے میں برف تلے دبنے والے پورٹروں کے نام ممتاز چیچی ولد شیر دل ،مٹھو ولد عبدالرحمان ساکنان دوبن گوجر پتی بانڈی پورہ اور عبدالرشید چیچی ولد متولی ساکن پزل پورہ بانڈی پورہ کے بطور معلوم ہوئے ہیں ۔ ان مزدوروں کے رشتہ داروں نے ان کے اچانک گمشدہ ہونے کے بارے میں پولیس میں بھی رپورٹ درج کرائی ہے جبکہ جائے واردات پر بچائو کارروائی جنگی بنیادوں پر جاری ہے جس میں پولیس اور مقامی لوگ بھی فوج کی معاونت کر رہے ہیں ۔ان حادثوں کو 24گھنٹوں سے زیادہ وقت گذر چکا ہے اور اب برف تلے دبنے والے کسی بھی شخص کے زندہ بچنے کی کوئی امید نہیں ہے ۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں