دال میں کالا | فرنٹ پیج | ہوم

دال میں کالا

فونٹ سائز Decrease font Enlarge font

ووٹنگ کے شرح تناسب میں پراسرارتبدیلی

نمائندہ خصوصی   سرینگر
ریاست میں 17نومبر کو منعقد ہوئی پہلے مرحلے کی پولنگ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کئے گئے اعدادوشمار اور شرح فیصد میں بڑے پیمانے پر ہوئی تبدیلی نے الیکشن کی اعتباریت کو مشکوک بنادیا ہے۔پولنگ کے روز ابتدا میں 52 فیصد پولنگ ہونے کا اعلان کیا گیا لیکن بعد میں اس شرح فیصد میں 17 فیصد کا اضافہ کرکے شرح رائے دہندگی کو 69فیصدی دکھایا گیا۔  بانڈی پورہ حلقہ ٔانتخاب میں ابتدا میں سے سب سے کم یعنی 42فیصد ووٹنگ ہونے کا اعلان بذات خود چیف الیکٹورل افیسر بی آر شرما نے کیا لیکن اگلے روز اس میں 15.24فیصد کا اضافہ کرکے حتمی شرح 57.24فیصد دکھائی گئی۔ اسی طرح سوناواری حلقہ انتخاب میں 52فیصد ووٹنگ ہونے کا اعلان کیا گیا لیکن یہ شرح تناسب بھی پراسرار طور 59.64فیصد تک بڑھایا گیا۔ الیکشن معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح فیصد میں ایک یا دو فیصد کمی بیشی ہونا اگرچہ خارج ازامکان نہیں ہوتا تاہم دس یا پندرہ فیصدی اضافہ ہونا نہ صرف روایات کے برعکس ہے بلکہ پراسرار بھی ہے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع نے تاہم بتایا کہ شرح رائے دہندگی میں اجافہ ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے اور پہلے مرحلے میں ان حلقوں میں ووٹنگ ہوئی جو دوردراز ہیں اور موسم کی ناسازگاری کے باعث پولنگ کے روز ہی مکمل تفصیلات بہم ہونا ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔ ان کے مطابق پریذائڈنگ آفیسروں کی ڈائریاںچیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر میںاعداد وشمار پہنچنے میں تاخیر کی وجہ سے شرح فیصد میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ایک خاص بات یہ ہے کہ گریز حلقہ انتخاب کے بارے میں جو شرح تناسب پہلے بتائی گئی وہ پہلے روز 74فی صد  بتائی گئی جبکہ  بعد میں وہاں کی حتمی شرح فی  صد کو 73.59دکھایا گیا۔ اگر الیکشن کمیشن کی تاویلات پر اعتبار کیا جائے تو دشوار گذاراور خراب موسم سے دوچار گریز علاقے کے  پہلے دئے گئے اور حتمی بیان کئے گئے اعدوشمار میں نمایاں فرق ہونا چاہئے تھا۔ اس کے علاوہ کچھ ماہرین کی رائے اگرچہ وونٹگ کے دن  رائے دیہندگان کی لمبی قطاریں نظر آئیں لیکن  وادی کے بانڈی پورہ اور سوناواری حلقہ انتخاب میں  پہلے بیان کئے گئے اعدادوشمار اور حتمی شرح فی صد میں بھاری فرق قابل اعتراض  اور پر اسرار ہے۔ ان ماہرین کی رائے ہے کہ صرف وادی  کے اسمبلی حلقوں میں حتمی شرح فی صد میں کافی اضافہ دکھایا گیا ہے جبکہ باقی علاقوں یعنی لیہہ' کرگل اور پونچھ میں ابتدائی اور حتمی شرح فی صد میں کوئی نمایا فرق نہیں دکھا گیا ہے۔   
بک مارک: Add to your del.icio.us del.icio.us | Digg this story Digg

تبصرے (0 پوسٹ):

تبصرہ کریں comment

براے مہربانی کورڑ نمبر دیکھ کر لکھیں

  • email اپنے دوست کو ایمیل کریں
  • print پرنٹ کے لے
  • Plain text پلین ٹیکسٹ
ٹیگ
اس مضمون کے کوئی ٹیگ نہیں
اس مضمون کو رتٹ کریں
0
The Daily Etalaat Srinagar