ہند نواز بول پڑے | فرنٹ پیج | ہوم

ہند نواز بول پڑے

فونٹ سائز Decrease font Enlarge font

الیکشن کو کشمیر حل سے جوڑناحریت کی غلطی تھی :  این سی

عوام بائیکاٹ کی سیاست جان گئے : پی ڈی پی

اطلاعات نیوز سروس  سر ینگر
18نومبر

نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ نے آج کہا کہ الیکشن کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ جوڑ کر حریت والوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے اور لوگوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ الیکشن کو مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ جوڑنے کے حق میں نہیں ہیں۔ جبکہ  پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ''عوام جان گئے ہیں کہ بائیکاٹ سے اس جماعت کو فائدہ ہوگا جو ماضی میں بھی ان کیلئے مشکلات کا باعث بنی اور مستقبل میںبھی اس جماعت سے راحت کی امید نہیں کی جا سکتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ عوام بھاری تعداد میں ووٹ ڈالنے نکل آگئے ۔
نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ نے پہلے مرحلے کی پولنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا '' اگر چہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس قدر بھاری ووٹنگ ہونے کا گماں نہیں کیا جا سکتا تھا تاہم لوگوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ جمہوری عمل کے ساتھ ہیں اور مسئلہ کشمیر کو الیکشن کے ساتھ جوڑنے کے حق میں نہیں ہیں'' ۔  عمر کا کہنا تھا'' میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ الیکشن کا مسئلہ کشمیر کے حل سے کوئی واسط نہیں ہے بلکہ یہ انتظامی معاملات چلانے اور لوگوں کے روزمرہ کے مسائل حل کرنے کیلئے ایک عمل ہے جس میں لوگوں کی شرکت یقینی رہتی ہے ''۔ انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اپنی جگہ ہے اور اس پر الیکشن سے کوئی اثر نہیں پڑیگا اور لوگوں نے بھی نیشنل کانفرنس کے موقف کی تائید کی ہے ۔ پارٹی صدر نے حریت کانفرنس کی بائیکاٹ کال کے حوالے سے کہا ہے کہ حریت کانفرنس والوں نے آٹھ ماہ قبل ہی کہا تھا کہ الیکشن سے مسئلہ کشمیر پر کوئی اثر نہیں ہوگا لیکن ان لوگوں نے بائیکاٹ کال دیکر بعد میں الیکشن کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ مشروط کرکے بہت بڑی غلطی کی اور لوگوں نے ان کی غلطی کو سر عام اچھال دیا ۔عمر عبداللہ نے کہا کہ حریت لیڈران کو اب یہ ثبوت مل گیا ہے کہ ریاستی عوام مسئلہ کشمیر کو الیکشن کے ساتھ جوڑنا نہیں چاہتے ہیں اور اب وہ یا تو حریت والوں سے اس کی سرٹفکیٹ لینا چاہتے ہیں یا پھر انہیں سرٹفکیٹ دینا چاہتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا ''حریت والوں کو مسئلہ کشمیر الیکشن کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہے تھا کیونکہ لوگ جمہوری عمل سے خود کو دور نہیں رکھ پاتے ہیں''۔حریت لیڈران کی طرف سے ووٹنگ کے اعداد و شمار کو فرضی قرار دینے سے متعلق عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ کہیں سے بھی کسی زیادتی کی کوئی اطلاع نہیں آئی تاہم کئی مقامات پر غنڈہ گردی کی شکایات ملی ہیں لیکن پھر بھی لوگ خود ہی ووٹ ڈالنے کیلئے نکلے ہیں ۔انتخابات کے اگلے دور میں گاندربل میں ووٹنگ کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ اگلے تین روز سے وہ گاندربل میں خیمہ زن رہیں گے کیونکہ گاندربل کے عوام کو ان کے ساتھ کچھ شکایات تھیں جنہیں دور کیا گیا ہے ۔ دوسری جانب پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ عوام کی بڑی تعداد میں پولنگ میں شرکت نے یہ صاف کر دیا ہے کہ لوگ یہ جان گئے ہیں کہ ایک اچھی جماعت نہ صرف لوگوں کی بہتر ترجمانی کرسکتی ہے بلکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں پیش رفت کرنے میں اہم رول ادا کر سکتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے کے انتخابات کے دوران اس بات کا اعتراف ہو اہے کہ بانڈی پورہ اور سونہ واری میں جب لوگوں کو یہ لگا کہ ایک مخصوص جماعت کے ورکر اپنے حق میں مہم کر رہے ہیں تو لوگوں نے ہی ان کو روکا اور وہاں دوسری جماعت کے انتخابی امیدوار کو تعاون دیا ۔ پی ڈی پی صدر نے بائیکاٹ نظر انداز کرنے کے عوام کے موقف پر کہا کہ'' علیحدگی پسندوں نے بائیکاٹ کی کال دی تھی وہ اپنی جگہ لیکن عوام اب کسی مخصوص جماعت کو خود پر مسلط نہیں کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی وہ ایسی جماعت کو آگے لانا چاہتے ہیںجو کہ ان کے ماضی کیلئے دردناک عذاب سے کم نہیں تھی اور اب مستقبل میں بھی ان سے کسی نیک کام کی امید نہیں کی جا سکتی ہے ''۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ لوگوں کے اندر ایک احساس جا گ رہا ہے کہ اگر حکومت اچھی ہاتھوں میں ہوتو وہ بہتر انتظامیہ کے ساتھ ساتھ تنازعہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں بھی ایک موثر کردار ادا کر سکتی ہے ۔انھوں نے مزید کہا '' الیکشن کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ نہ جوڑا ٹھیک نہیں 'کیونکہ پی ڈی پی نے اپنے دور اقتدار میں پہلے ہی کشمیر مسئلے پر پیش ر فت کو یقینی بنانے کیلئے اپنا رول ادا کیا ہے اور اسی پارٹی کی بدولت کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک پل بن گیا۔ جس کی وجہ سے آر پار اعتماد سازی کے اقدامات اٹھائے گئے اور آج کنٹرول لائن کے آر پار نہ صرف لوگ آتے جاتے ہیں بلکہ ٹرکیں بھی چلتی ہیں ''۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کا یہاں کے زمینی حالات کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور عوامی سرکار کو اس تنازعے کو حل کرنے میں بہتر طور پر رول ادا کرے گی ۔ محبوبہ مفتی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ لوگ جمہوری عمل سے الگ نہیں رہ سکتے ہیں اور لوگ جان چکے ہیں کہ بائیکاٹ ان کے لئے فائدہ مند نہیں بلکہ نقصان دہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ جوق در جوق ووٹ ڈالنے کیلئے نکل آئے ۔انہوںنے کہا کہ لوگ یہ بھی جان گئے ہیں کہ بائیکاٹ کرکے کسی ایسی جماعت کے ہاتھوں میں اقتدار نہیں سونپا جا سکتا ہے جو مسئلہ کشمیر کے حل میں تعطل کو توڑ نے کی ہمت نہیں رکھتی ہو بلکہ ایسے ہاتھوں میں دیں جو اس تعطل کو ختم کرنے میں اپنا موثر رول ادا کر سکیں ۔(کے این ایس)
بک مارک: Add to your del.icio.us del.icio.us | Digg this story Digg

تبصرے (0 پوسٹ):

تبصرہ کریں comment

براے مہربانی کورڑ نمبر دیکھ کر لکھیں

  • email اپنے دوست کو ایمیل کریں
  • print پرنٹ کے لے
  • Plain text پلین ٹیکسٹ
ٹیگ
اس مضمون کے کوئی ٹیگ نہیں
اس مضمون کو رتٹ کریں
0
The Daily Etalaat Srinagar