اوڑی حادثہ
مزید 3لاشیںجہلم سے برآمد'17ہنوز لاپتہ
پرویز احمد سرینگر18نومبر
پرن پیلا اوڑی میں کام کررہے بچائو دستے نے آج مقامی لوگوں کی مدد سے دریاء جہلم سے مزید تین مزدوروں کی لاشیں برآمد کرلی ہیںاور اسطرح اتوار کو پل ٹوٹ جانے کے واقع میں مرنے والوں کی تعداد سات ہوگئی ہے جبکہ مزید 17مزدور ابھی بھی لاپتا ہے جن کے بارے میں حکام کو خدشہ ہے کہ انکی لاشیں دریاء جہلم کے تیز بہائو سے سے سرحد کے اس پار چلی گئیں ہیں۔
اتوار 16نومبر کو پرن پیلا اوڑی میں ایک زیر تعمیر پل ٹوٹ جانے کے واقع میں لاپتہ 24مزدوروں میں سے بچائو دستے نے آج مزید تین مزدوروں کی لاشیں دریائے جہلم سے بر آمد کرلیں' جن میں ایک کی شناخت عبدالطیف ولد علی محمد ساکنہ پرن پیلا اوڑی جبکہ دوسرے کی شناخت رنجن سنگھ ساکنہ محبت گنج بہار کے طور پر ہوئی ہے : تاہم تیسرے مزدور کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔
تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل شمالی کشمیر عبدالغنی میر نے کہا'' ہمیں امید نہیں کہ اب کوئی بھی مزدور پانی میں زندہ بچا ہوگا تاہم لاشوں کا پتہ لگانے کیلئے بچائو کارروائی جاری ہے۔'' انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ دریاء جہلم میں پانی کے تیز بہائو سے مزدوروں کی لاشیں سرحد پار چلی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک بچائو دستے نے سات لاشیں بر آمد کرلی ہیں جن میں چار اتوار کو اور تین لاشوں کو آج دریاء سے برآمد کرلیا گیا ہے جبکہ باقی مزدوروں کی لاشوں کو برآمد کرلے کیلئے بچائو کارروائی جاری ہے ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام مزدوروں کی لاشیں جلد برآمد کرلی جائیںگی۔واضح رہے کہ 16انومبر بروز اتوار تقریباًساڑھے نو بجے پرن پیلا پل جو کرپرن پیلا کو بردی گائو ںسے جوڑتا ہے تجرباتی مراحل پر ہی ڈھ گیا تھا جسکے نتیجے میں 24مزدور دریاء جہلم میں بہہ گئے۔ پرن پیلا پل پر تین سال قبل کام شروع کیا گیا تھا اور بارہ کروڑ روپے کی لاگت سے بنائے گئے اس پل کی لوڈ ٹسٹنگ ہورہی تھی۔ ادھر اس مہینے کی 14 تاریخ کو بکروال چیک پوسٹ کے نزدیک ایک28سالہ پوٹر محمد لطیف بجرد ساکنہ درنگ کی موت برفیلے طوفان میں پھنسے کی وجہ سے ہوگئی۔ بی ایس ایف کی68ویں بٹالین کے اہلکاروں نے کل ایک لعش پولیس سیٹشن ٹنگمرگ کے حوالے کردی جبکہ پولیس نے 174سی آرپی سی کے تحت کیس درج کیا ہے۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں