پہلا مرحلہ :ووٹ برسے، لاٹھیاں بھی
شاہ عباس، اظہار علی
گورنر انتظامیہ اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کو جہاں مجموعی طور انتخابات کے پہلے مرحلے میں 55 فیصد ووٹنگ سے اطمینان ملا ہے وہاں بانڈی پورہ ، نائد کھے، اندرکوٹ اور صدر کوٹ میں ہوئے الیکشن مخالف مظاہروں اوروادی کے دیگر علاقوں میں کرفیو جیسی صورتحال نافذ ہونے سے علیحدگی پسندوں کی الیکشن بائیکاٹ مہم بھی غیر مؤثر ثابت نہیں ہوسکی۔گزشتہ بیس برسوں میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ وادی میں ہوئے الیکشن کے دوران جنگجوؤںکی طرف سے کوئی گولی نہیں چلی۔ پتھراؤ ، ٹیئرگیس شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کے اکا دکا واقعات کے باوجود وادی کے تین اسمبلی حلقوں میں ہوئی پولیگ کے دوران کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ انتخابات کے پہلے مرحلے کے تحت بانڈی پورہ ،لیہہ ،کرگل اور پونچھ کی 10اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ مجموعی طور پر پر امن حالات میں اختتام پذیر ہوا تاہم مین بازار بانڈی پورہ میں پر تشدد جھڑپوں کے دوران پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے پھینکے جس کے نتیجے میں ایک معمر خاتون اور پولیس کے4اہلکاروں سمیت14افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک انسانی حقوق کارکن سمیت4افراد کو گرفتار کیا گیا۔اس موقعے پر مظاہرین آزادیا، اسلام اور الیکشن کے خلاف نعرے بلند کررہے تھے۔ ادھر بارہمولہ میں بھی شام دیر گئے پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔ حلقہ انتخاب بانڈی پورہ اور سوناواری میں لوگوں نے اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا اوربالترتیب 19اور22اُمیدواروں کامقدر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بند ہوگیا۔حلقہ انتخاب بانڈی پورہ کے پولنگ مرکز نمبر65Fمیں سندری نامی ایک خاتون نے اپنا ووٹ ڈال کر 'اطلاعات' کو بتایا''میں ووٹ ڈال کراطمینان محسوس کررہی ہوں''۔ پولنگ مرکزنمبر89B پرآصفہ نامی ایک دسویں جماعت کی طالبہ ووٹ ڈالنے کے لئے آئی تھی تاہم اُس کے نام کا ووٹ پہلے ہی ڈالا گیا تھاجس پر اُسے بے حد افسوس ہوا اور اُس نے احتجاج بھی کیا۔ مذکورہ مرکز پر735رائے دہندگان رجسٹر تھے اور صبح دس بجکر چالیس منٹ تک یہاں161ووٹ ڈالے گئے تھے۔پولنگ مرکز نمبر63Dمیں702رائے دہندگان رجسٹر تھے اور یہاں ووٹنگ شروع ہونے کے پہلے تین گھنٹوں کے دوران 135رائے دہندگان نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔قاضی پورہ میں قائم پولنگ مرکز نمبر28پر لوگوںکا نظم و ضبط دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ یہاں کے رائے دہندگان میں پیر وجوان شامل تھے جو سلیقے کے ساتھ قطاروں میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔یہاں موجود حبیب اللہ صوفی نامی ووٹر نے بتایا''ووٹ ڈالنے سے ہمارا مقصد روٹی ،کپڑا اور مکان کا حصول ہے''۔محمد سلطان نامی ووٹر کا کہنا تھا''ووٹ ڈالنے کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم نے اپنی آزادی کا مطالبہ ترک کیا ہے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روز مرہ کی ضروریات پوری ہوں''۔وٹہ پورہ میں قائم مرکز نمبر30پر خواتین کا جوش و خروش اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاںبارہ بجکر چالیس منٹ تک153خواتین نے ووٹ ڈالے تھے جبکہ اسی وقت تک کل108مرد ووٹران نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔مذکورہ مرکز پر نگہت نامی ایک پولنگ ایجنٹ بھی تھی ۔ نگہت نے 'اطلاعات' کو بتایا''میں آرمی سکول میں اُستانی کے طور پر کام کررہی ہوں۔ آزاد اُمیدوارحبیب اللہ کی نمائندگی کرنیوالی نگہت مذکورہ اُمیدوار کی پوتی ہیں۔پولنگ مرکز نمبر16کی کیمہ بانڈی پورہ میں دن کے دو بجے تک50فیصد لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔یہاں کل 691 رائے دہندگان رجسٹر تھے جن میں 2بجے بعد دوپہر تک350لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔پولنگ مرکز نمبر9Aآلوسہ میں بھی ڈیڑھ بجے تک50فیصد لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیاتھا۔یہاںکل652ووٹران رجسٹر تھے جن میں ڈیڑھ بجے تک330ووٹران نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔ارن میں قائم مرکز نمبر79Bکا بھی یہی حال تھا ۔ یہاں اڑھائی بجے تک رجسٹر914ووٹوں میں سے488نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔سدر کوٹ بالا میں اسوقت دلچسپ مناظر دیکھنے کو ملے جب مقامی اسکول کے احاطے میں نوجوانوں کی ایک ٹولی آزادی کے حق میں مظاہرے کرنے لگے۔ الیکشن کا جو یار ہے، غدار ہے، غدار ہے اور ہم کیا چاہتے، آزادی کے نعروں کے بیچ ان نوجوانوں کے جذباتی نعرے پولیس اور سی آر پی ایف کے اہلکاردیکھ رہے تھے کیونکہ وہاں میڈیا کارکن کافی تعداد میں موجود تھے۔اس دوران درجنوں معمر اشخاص بھی کسی رکاوٹ کے بغیر ووٹ دال رہے تھے۔
پولیس اور فورسز نے سمبل کے اندرکوٹ گاؤں میں اسوقت درجنوں گولیاں ہوا میں چلائیں جباحتجاج پر آمادہ نوجوانوں کے ایک گروہ نے منتشر ہونے سے انکار کیا۔ یہ نوجوان الزام عائد کررہے تھے انکے نام ووتر لسٹ میں پر اسرار طور غائب کردئے گئے ہیں۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے نیشنل کانفرنس کے ایک کارکن بلال کچھے کو گرفتار کیا اور اسکی تحویل سے ایک گرینینڈ اور نقدی برآمد ہونے کے باوجود اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ایک خاتون فریدہ بانو نے اطلاعات ٹیم کو بتایا کہ الیکشن کارڈ ہاتھوں میں ہونے کے باوجود انہیں ووٹ ڈالنے سے روکا گیا ۔''تین ہزار ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے غائب کردئے ہیں اور ہمیں جمہوری حق کی ادائیگی سے روکا جارہا ہے''، انہوں نے روہانسی آواز میں کہا۔ ابراہم ڈار نامی ایک اور شخص نے بتایا کہ انہوں نے یہ معاملہ مقامی تحصیلدار کی نوٹس میں بھی لایا لیکن انہوں نے مسئلہ حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ پریذائڈنگ آفیسر فردوس احمد نے اعتراف کیا کہ احتجاج کرنے والے نوجوانون کے نام ووٹر لسٹ میں موجود نہیں ہیں اسلئے وہ انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
حلقہ انتخاب بانڈی پورہ میں آزاد اُمید وار کی حیثیت سے چنائو میں حصہ لے رہے محمد اسماعیل بٹ (آشنا) نے الزام عاید کیاکہ بہلی پورہ،منگنی پوہ اور گرورہ میں قائم پولنگ مراکز پر عثمان مجید کے حق میں فوج اور اخوانی ووٹ ڈال رہے ہیں۔ مذکورہ الزام کی تردید کرتے ہوئے عثمان مجید نے'اطلاعات' کو بتایا''اگر یہ الزام صحیح ثابت ہوا تو میں انتخابی مقابلے سے ہی نکل جانے کو تیار ہوں''۔انہوں نے علیحدگی پسندوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا''لوگوں نے آج ثابت کردیا کہ بائیکاٹ والے نان ایشو چلارہے ہیں، وہ خود عیش کررہے ہیں اور لوگوں کو بائیکاٹ کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں''۔ دریں اثنا پی ڈی ایف کے اُمید وارمحمد عبد اللہ وانی نے بھی'اطلاعات' سے بات کرتے ہوئے الزام عاید کیا کہ ''بانڈی پورہ کے دور دراز علاقوں میں تمام اخوانی جمع ہوکرخود عثمان مجید کے حق میں ووٹ ڈال رہے ہیں''۔ انہوں نے مزید کہا '' بانڈی پورہ کے لوگ عثمان مجید اور نظام الدین بٹ نامی دو اخوانیوں کے چنگل میں پھنس گئے ہیں اور وہ بات تک کرنے سے گھبراتے ہیں، میں لوگوں کا یہی ڈر نکالنے کے لئے الیکشن میدان میں کودا ہوں'' ۔سوناواری حلقہ انتخاب کے آزاد امیدوار عابد حسین انصاری نے بتایا کہ کئی جگہوں پرووٹروں کے نام فہرستوں سے غائب تھے اور پراسرار طور یہ اقدام مخصوص علاقوں میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کئی بوتھوںپر ووٹنگ مشینیں خراب تھیں جبکہ بعض مراکز پر ووٹنگ کا سلسلہ دیر سے شروع کیا گیا اور وقت سے پہلے ووٹنگ مشینیں بند کی گئیں۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں