فاروق عبداللہ کا چیلنج
حریت لیڈر اہل ہیں تو پہلے اپنا نمائندہ کردار ثابت کریں
اطلاعات نیوز سروس سرینگرنیشنل کانفرنس کے سرپرست ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے آج حریت لیڈران کو چلینج کیا کہ اگر وہ مسئلہ حل کرنے کے اہل ہیں تو سب سے پہلے اپنا نمائندہ کردار ثابت کرکے دکھائیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سابق مخلوط سرکار نے ریاست جموں کشمیر میں امن کا جنازہ نکال دیا اور جاتے جاتے اس سرکار نے ریاست میں آگ لگا دی۔
حضرتبل میں آج ایک چنائوریلی کے دوران فاروق عبد اللہ نے کہا کہ ہماری پارٹی نے لوگوں کو جذباتی نعروں سے نہیں بہکایا جو کہا کرکے دکھایا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ریاستی عوام کو یہ کبھی نہیں کہا کہ آپ انتظا ر کرو ہم آسامان سے تارے لا کر آپ کے ہاتھوں میں رکھیں گے کیونکہ ہم دن میں خواب دیکھنے کے عادی نہیں۔حریت لیڈران پر وار کرتے ہوئے ڈاکٹرفاروق عبد اللہ نے کہا کہ ''یہ لوگ مسئلہ کشمیر کی رٹ لگائے بیٹھے ہیں اور میں انہیں چلینج کرتا ہوں کہ اگر وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے اہل ہیں تو پہلے اپنا نمائندہ کردار ثابت کریں''۔انہو ںنے الزام عائد کیا کہ یہ لوگ مسئلہ کشمیر کی آڑ میں عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔پی ڈی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا کہ اس پارٹی نے لوگوں کو دن میں خواب دکھائے اور لوگوں کو ایسے خواب دکھانے شروع کئے جو یہ پارٹی کبھی پورا نہیں کر سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس نے 1996میں تباہ شدہ ریاست کی تعمیر نو کیلئے جان ہتھیلی پر رکھ کر حکومت کی اور اس کا مقصد صرف اور صرف تباہ شدہ ریاستی ڈھانچے کو از سر نو تعمیرکرنا تھا ۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ میرے پیٹھ پر ایک عوامی سرکار تھی اور میرے وزراء اور ممبران اسمبلی نے نامساعد حالات میں ریاست کی تعمیر کی بنیاد ڈالی۔کانگریس اور پی ڈی پی کی مخلوط سرکار نے ریاست میں امن و امان کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا اور یہ اسی پارٹی کی دین ہے کہ آج ریاستی عوام موجودہ حالات سے جھوج رہے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی حالات 1996جیسے ہیں اور بقول ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کے 2002سے کافی بد تر ہیں۔پارٹی سر پرست کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس جماعت کا بنیادی مدعا مسئلہ کشمیر کا حل ہے اور اس پارٹی نے اس حوالے سے کافی قربانیاں دی ہیں۔انہوںنے کہا کہ بر صغیر سمیت جنوبی ایشیاء میں قیام امن کے لئے کشمیر مسئلے کا مقررہ وقت کے اندر حل کرنا انتہائی ضروری ہے اور اس سلسلہ میں ریاست جموں کشمیر کے آر پار کے عوام بشمول گلگت ،بلتستان کی رائے لینا ضروری ہے۔انہوںنے کہا کہ ڈل ہماری پہچان ہے ،ڈل زندہ رہا تو سرینگر زندہ ہے۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں