جموں مسلمانوں کو حج ہاؤس کا تحفہ
عازمین کے الوداع پر تکبیر کے نعرے بلند
جان محمد/جموں1947ئ کے قتل و غارت سے گذرا اور ماضی کی سرکاروں کی جانب سے نظر اندازکیاگیا جموی مسلمان اب اپنی موجودگی ظاہرکرنے کے قابل ہوگیا ہے ۔ جموں کی مسلم اقلیتی آبادی کیلئے حکومت نے عید گاہ جموں اور اب حج ہائوس کی تعمیر مکمل کر کے، بہترین تحائف دئے ہیں۔سرینگرمیں حج ہائوس کی تعمیرکے بعد جموں میں بھی حج ہائوس کا قیام جموی مسلمانوں کیلئے ایک حسین خواب شرمندۂ تعمیر ہونے کے مترادف ہے۔آج جب کڑے حفاظتی انتظامات کے بیچ جموں ریلوے سٹیشن کے قریب نئے تعمیر کئے گئے عالیشان حج ہائوس سے سٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی2بسوں کے ذریعے 160عازمین حج پرمشتمل پہلاقافلہ سرینگر کیلئے روانہ ہوا تو مقامی مسلمانوں کیلئے یہ ایک تاریخی اقدام تھا۔ یہ قافلہ سرینگر پہنچ کر براہ راست جدہ کیلئے روانہ ہوگا۔ جولائی اور اگست کے تلخ تجربات سے گذرے جموں شہر جہاں صرف اور صرف 'بم بم بولے' کے نعرے گونجتے تھے بدھوارکی صبح نمازِ فجر کے فوراً بعد ریلوے ہیڈ پربنے حج ہائوس میں سینکڑوں کی تعداد میں مسلمانوں کیا مجمع اور'اللہ اکبر' کے نعروں سے جموں شہرکانقشہ تبدیل ہوا نظر آرہا تھا۔
ڈپٹی کمشنر جموں مندیپ کے بھنڈاری نے عازمین حج کے اس پہلے قافلے کو روانہ کیا ان کے ہمراہ سپیشل آفیسر اوقاف عارف اللہ ،ایڈمنسٹریٹر اوقاف اسلامیہ جموں عبدالستار،ایس ایس پی سٹی نارتھ مبشر لطیفی اور دیگر حکام موجود تھے۔جموں کے حج ہائوس سے عازمین کا روانہ ہونے والایہ پہلاجتھہ تھا کیونکہ حج ہائوس کی تعمیر کا کام لگ بھگ18سال سے زائد عرصہ قبل شروع کیاگیا تھا تاہم2002میں مفاد عامہ کی ایک عرضی دائر کئے جانے کے بعد اس کی تعمیر کو روک دیاگیا تھا ۔مسلسل قانونی پیچیدگیوں میں اُلجھی حج ہائوس جموں کی تعمیر کا سلسلہ 2003میں دوبارہ شروع ہوا اور محدود مدت میں اس کی تعمیر مکمل کی گئی۔ 34کمروں والی اس کثیر منزلہ عمارت میں300عازمین کو ٹھہرانے کی گنجائش ہے ۔حج ہائوس میں34کمروں کے علاو ہ ایک بڑا ہال اور 10دکانیں بھی ہیں ۔
بدھوار کوروانہ ہونے والے پہلے قافلے میں جموں اور راجوری کے عازمین نے سفر محدود کی جانب قدم بڑھائے۔ان میں63عازمین جموں ضلع سے جبکہ97راجوری ضلع سے تھے۔ سرحدی ضلع راجوری کے عازمین نے حج ہائوس میں قیام کیا اوراس کے علاوہ جموں کے دوردرازدیہات سے آنے والے عازمین نے بھی حج ہائوس میں قیام کیا جہاں اوقاف اسلامیہ جموں کی جانب سے بہتر انتظامات کئے گئے تھے ۔قیام و طعام کے عمدہ انتظامات کی عازمین اور اُن کے رشتہ داروںنے زبردست سراہنا کی ہے۔ ہدایت اللہ نامی ایک نوجوان جو اپنے رشتہ داروں کوالوداع کہنے آیا تھانے'اطلاعات'کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ عازمین حج کیلئے حج ہائوس تیار کرلیاگیا ہے اور یہ جموں کے مسلمانوں کیلئے بہت بڑاتحفہ ہے۔اُنہوںنے بتایاکہ جموں میں عید الفطر کے موقعہ پر جموی مسلمانوں کو عیدگاہ کی صورت میں ایک بہترین تحفہ ملا اور اب عازمین حج کیلئے حج ہائوس اس سے بھی بہترین تحفے کی صورت میں سمجھاجاسکتا ہے۔ہدایت اللہ نے بتایا کہ اس سے قبل عازمین حج کو ہوٹلوں میں ٹھہرایاجاتاتھا اوروہاں عازمین کو پاکی سے متعلق شک و شبہات رہتے تھے اور اکثر عازمین اپنے رشتہ داروں کے ہاں قیام کرنابہترسمجھتے تھے تاہم اب سرکار کی جانب سے صرف اور صرف اسی مقصد کیلئے بنائی گئی اس کثیر منزلہ عمارت نے عازمین حج کے تمام مسائل کو حل کر دیا ہے۔
اپنے قریبی رشتہ داروں کو رخصت کرنے آئے یوسف علی نامی ایک محکمہ مال کے ملازم نے بتایا کہ اوقاف اسلامیہ جموں کی جانب سے قابل سراہنا اقدامات اُٹھائے گئے ہیں اور اب یہاں عازمین کو تمام تر سہولیات دستیاب کرائی گئی ہیں۔محمد حنیف ملک جو اپنے والدین کو سفر محمود پرروانہ کرنے یہاں آئے تھے 'کہتے ہیں' ضلع اور اوقاف انتظامیہ کی جانب سے بہتر انتظامات کئے گئے ہیں اور حج ہائوس ایک دلکش تحفہ ہے جسے جموی مسلمان اپنے لئے باعث مسرت اور باعث فخر سمجھتے ہیں ۔ایک اورنوجوان زاہد نے بتایا کہ ریلوے سٹیشن کے قریب اکثر ماتا ویشنو دیوی کے یاتروںکارّش دیکھنے کوملتا تھا لیکن آج یہاں حج ہائوس میں آئے عازمین اور ان کے رشتہ داروں کی وجہ سے صورتحال میں زبردست تبدیلی دیکھنے کوملتی ہے اور جموی مسلمان بھی جموں میں اب اپنی موجودگی ظاہرکرنے کے قابل ہوگیا ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جموں میں جولائی اور اگست میں امرناتھ شرائین بورڈ اراضی کے سلسلے میں پیدا شدہ تنازع کے دوران کئی بھگواتنظیموں کے لیڈران نے دھمکی دی تھی کہ وہ جموں سے عازمین حج کو روانہ نہیں ہونے دیں گے، دھمکیاں چونکہ وقتی طور کی زبانی جمع خرچیاں تھیں اور عوام کو بھڑکانے کے حربے تھے تاہم آج عازمین حج کی روانگی کے موقعہ پر کسی بھی قسم کی کوئی خلل اندازی نہیں کی گئی۔ ایس پی سٹی مبشر لطیفی نے 'اطلاعات'کو بتایا ''حج ہائوس کے چاروں اطراف فینسنگ کی گئی ہے ،سیکورٹی معاملات میں کسی قسم کی ڈھیل یا کوتاہی نہیں برتی گئی ہے ، عازمین حج کیلئے بھرپور سیکورٹی انتظامات کئے گئے ہیں''۔مبشرلطیفی نے مزید کہا کہ عازمین حج و حج ہائوس کی حفاظت کے فرائض جموں پولیس ہی نبھارہی ہے ۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں