کارڈنیشن کمیٹی کا مزاحمتی پروگرام
آج مکمل ہڑتال،6اکتوبر لالچوک چلو، حق خودارادیت کیلئے جدجہد پر اتفاق
شاہ عباس سرینگرکارڈی نیشن کمیٹی نے کل آئندہ ایک ماہ کے مزاحمتی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے آج یعنی 8ستمبر کو مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ کمیٹی نے 6اکتوبر کو 'لالچوک چلو'کی کال دی ہے۔احتجاجی پروگرام کے مطابق 20ستمبرکو بھی مکمل ہڑتال ہو گی جبکہ جمعتہ الوداع کو چھوڑ کر ہر جمعے کو دوپہرساڑھے12بجے کے بعد ہڑتال کی جائے گی اور نماز جمعہ سے نماز عصر تک پر امن احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔ کارڈنیشن کمیٹی کے مطابق کمیٹی کے ممبران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ موجودہ جد وجہد کا مقصد صرف اور صرف حق خود ارادیت کا حصول ہے اور باقی تمام معاملات ثانوی حیثیت کے حامل ہیں۔کارڈنیشن کمیٹی کے مطابق کل کی میٹنگ میں میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کو بھی شامل ہونا تھا تاہم وہ اپنی مسلسل نظر بندی کی وجہ سے ایسا نہ کرسکے ۔
کل حیدر پورہ میںکارڈی نیشن کمیٹی کا ایک اجلاس گ حریت کے چیرمین سید علی گیلانی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں سید گیلانی کے علاوہ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم ،لبریشن فرنٹ کے وائس چیرمین بشیر احمد بٹ،شوکت احمد بخشی،ع حریت کے فضل الحق قریشی اور ڈاکٹر غلام محمد حبی ،جمعیت اہلحدیث کے مولانا شوکت احمد شاہ ، ،لبریشن فرنٹ راجباغ کے محمد سلیم ننھا جی کے علاوہ تاجر اور ملازم تنظیموں کے نمائندوںنے شرکت کی۔اجلاس کے بعد نامہ نگاروں کو آئندہ ایک ماہ کیلئے احتجاجی پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے سید علی گیلانی نے کہا '' 8ستمبر سوموار کو نئی دلی میں جموں کشمیر کے اسمبلی انتخابات سے متعلق منعقد ہونے والی میٹنگ ،نوہٹہ میں پولیس کے ہاتھوں ایک نوجوان کی بلا جواز ہلاکت اور وادی بھر میں پولیس اور فورسز کی طرف سے گرفتاریوں کے بے تحاشہ سلسلے اور ظلم و تشدد کے خلاف احتجاج کے بطور ہمہ گیر ہڑتال کی جائے گی''۔انہوں نے نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی،کیمونسٹ پارٹی اور کانگریس سمیت تمام ہند نواز سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ انتخابی عمل میں شامل نہ ہوں۔ انہوں نے سرکاری ملازمین سے بھی اپیل کی کہ وہ انتخابات کی عمل آوری کا حصہ نہ بنیں۔ سید علی گیلانی کے مطابق پونچھ ،راجوری، کشتواڑ اور ڈوڈہ کے عوام بھی موجودہ تحریک میںبرابرکے شریک ہیں اور یہ کہ مذکورہ تحریک وادی تک ہی محدود نہیںہے۔
انہوںنے کہا کہ 9تا11،13تا17،21تا25اور27ستمبر سے2اکتوبر تک کوئی ہڑتال نہیں ہو گی اور ان دنوں لوگ معمول کے مطابق اپنا کاروبار کریں گے اور گاڑیوں کی آمد و رفت بھی جاری رہے گی۔سید گیلانی نے کہا '' جمعہ 12اور19ستمبر کو ساڑھے12بجے تمام دکانیں اور کاروباری ادارے بند ہونگے اور گاڑیوں کی آمد و رفت بھی معطل رہے گی اور ان دنوں نماز جمعہ کے بعد نماز عصر تک پر امن احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے گا'۔ان کا کہنا تھا کہ 20ستمبر کو بھی مکمل ہڑتال کی جائے گی جبکہ21ستمبر کو اتوار کے باوجود معمول کا کاروبار بحال رہنے کے ساتھ ساتھ اسکولوں کی انتظامیہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اسکول کھلے رکھیں تاکہ طلبا و طالبات کو ہوئے نقصان کی کسی حد تک تلافی ہوسکے۔ انہوں نے بتایا کہ اتوار کے روز سرکاری طور چھٹی رہتی ہے مگر اس روز سرکاری چھٹی کے برعکس سول نافرمانی کی راہ اپناتے ہوئے تمام سرکاری و نیم سرکاری ادارے معمول کا کام کریں گے۔ انہوںنے مزید کہا کہ 13سے17ستمبر تک انٹرنس امتحانات منعقد ہونے والے ہیں اور اسی وجہ سے ان دنوں کوئی ہڑتال نہیں ہو گی جبکہ 18ستمبر کو تمام ضلع صدر مقامات پر صبح سے شام تک پُر امن احتجاجی مظاہرے ہوں گے ۔واضح رہے اس روز یوم بدر ہوگااور اسی حوالے سے مذکورہ دن منایا جائے گا۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ 26ستمبر جمعتہ الوداع کو کوئی ہڑتال نہیں ہو گی تاہم اس روز وہ خود درگاہ حضرتبل جبکہ میر واعظ عمر فاروق جامع مسجد سرینگر اور لبریشن فرنٹ کے چیر مین محمد یاسین ملک چرار شریف میں نماز جمعہ ادا کرکے عوام سے خطاب کریں گے۔انہوںنے کہا کہ عید الفطر کی تیاریوں کے پیش نظر 27ستمبر سے2اکتوبر تک بھی کوئی ہڑتال نہیں ہو گی۔انہوںنے کہا ''5 اگست کو کارڈی نیشن کمیٹی کی طرف سے25اگست کو ''لالچوک چلو'' کی جو کال دی گئی تھی ،وہ بر قرار ہے اور کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اب6اکتوبر کو ''لالچوک چلو''پروگرام کو عملی جامہ پہنایا جائے گا''۔ یاد رہے کہ مذکورہ کال دینے کے فوراً بعد آزادی پسند لیڈروں اور کارکنوں کے خلاف پولیس کی طرف سے کریک ڈاون کا آغاہوگیا تھا جس کے تحت اب تک شبیر شاہ،محمد اشرف صحرائی، آسیہ اندرابی ، مسرت عالم بٹ اورمعراج الدین کلوال سمیت درجنوں حریت کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سید علی گیلانی نے کہاا کہ6اکتوبر روز سوموار تمام جموں کشمیر کے لوگ سرینگر پہنچ کر لالچوک میں پر امن احتجاجی دھرنے میں شرکت کریں گے۔دریں اثناء کارڈی نیشن کمیٹی کی کل کی میٹنگ میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی کے ارکان کیلئے ایک ضابطہ اخلاق وضع کیا جائیگا اور ترجمان اعلیٰ کا تعین بھی عمل میں لایا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کو اس بات کا مکمل اختیار دیا گیا ہے کہ یہ تینوں قائدین آپسی مشاورت کے بعد ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کے علاوہ کارڈی نیشن کمیٹی کے ترجمان اعلیٰ کی تقرری بھی عمل میں لائیں گے۔
سید علی گیلانی کا کہنا تھا کہ موجودہ مزاحمتی تحریک اس وقت تک پر امن طور جاری رکھی جائے گی جب تک نہ بھارت ریاستی عوام کو اُنکے جمہوری حق کے استعمال کا موقعہ دے۔ انوں نے نوجوانوں سے اپیل کہ وہ نہ خود مشتعل ہوںاور نہ فورسز کو اشتعال دیں۔ انہوں نے ''رگڑا،رگڑا'' نعرے پر پابندی عاید کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے نعروں کی بقول اُنکے جد و جہد آزادی کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں ہے۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں