اسلام آباد میں سی آر پی ایف کی کارروائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے | فرنٹ پیج | ہوم

اسلام آباد میں سی آر پی ایف کی کارروائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے

فونٹ سائز Decrease font Enlarge font

 قصبہ میں اخوانی بندوق برداروں نے دوبارہ اپنی سرگرمیاں شروع کردی

شوکت رحمان ڈاروایجنسی/ سرینگر
 گذشتہ جمعہ اسلام آباد قصبہ میں سی آر پی ایف اہلکاروں کی جانب سے احتجاجی ریلی پر لاٹھی چارج کے بعد علاقے سے جارہی سینکڑوں گاڑیوں اور مکانات کی توڑ پھوڑ کے خلاف کل علاقے بھر کے لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے جن کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے طاقت کا استعمال کیاجبکہ لوگوں نے  قصبہ میں اخوانی بندوق برداروں کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں کل صبح دس بجے کے قریب اسلام آباد کے لالچوک، ریشی بازار، چینی چوک،ملکھ ناگ اور حضرت بل کے لوگوں نے سی آر پی ایف کی جانب سے جمعہ کو تباہ کی گئی گاڑیوں کو یہاں لال چوک میں جمع کیا اور سی آر پی ایف کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا جس کی وجہ سے علاقے میں ہڑتال ہوگئی اور تمام کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوگئی جس کے بعد سی آر پی ایف اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے اور لوگوں کے گھروں میں گھس کر وہاں موجود افراد کی سخت مارپیٹ کی جس سے 7افراد زخمی ہوگئے جن کو بعد میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ دھرنے پر بیٹھے لوگ سی آر پی ایف کے خلاف کارروائی کرنے کے علاوہ لوگوں کو لاکھوںروپے کے نقصان کا معاوضہ دینے کی مانگ کر رہے تھے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ سی آر پی ایف اہلکاروں نے 5تاریخ کو نماز جمہ کے بعدہوئی پر امن ریلی پر لاٹھیاں برسانے کے علاوہ علاقے سے آتی جاتی تمام گاڑیوں کو روک کر ان کے شیشے توڑ دئے اور اس کے بعد گھروں میں بھی گھس کر بھاری توڑ پھوڑ کی ۔ لوگوں نے ضلع حکام پر بھی الزام عائد کیا کہ ڈی سی اسلام آباد نے لوگوںکوا توار کو ڈی سی آفس آنے کو کہا تھا تاکہ اس معاملے پر کارروائی کی جائے لیکن بعد میں انہوں نے متاثرین سے ملنے کی زحمت گنوارا نہیں کی جس کی وجہ سے یہ قدم اٹھانا پڑا۔دھرنے پر بیٹھے ایک شخص بلال احمد نے بتایا ''ہم نے جمعہ کو نماز کے بعد جامع مسجد سے لالچوک تک ایک پر امن احتجاجی ریلی نکالی لیکن سی آر پی ایف اہلکاروں نے پہلے ہم پر جم کر لاٹھیاں برسائیں اور پھر جب ریلی ختم ہوئی تو ان اہلکاروں نے یہاں سے گزر رہی سینکڑوں گاڑیوں کے شیشے توڑ دئے ساتھ ہی مقامی گھروں میں بھی گھس کر توڑ پھوڑ کی ''۔ اس صورتحال کی وجہ سے شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کئی گھنٹوں تک معطل رہی اور پولیس کی مداخلت کے باوجود احتجاج جاری رکھاگیا۔ بعد میں اسسٹنٹ کمشنر ریونیواسلام آباد بشیراحمد خان وہاں پہنچے اور مظاہرین کو اس بات کا یقین دلایا کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات رونما نہیں ہونگے۔مذکورہ آفیسر نے احتجاجی مظاہرین کے ساتھ یہ وعدہ بھی کیا کہ گاڑیوں کو ہوئے نقصان کا جائزہ لینے کیلئے تحصیلدار کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کا ممبرایس ایچ او بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نقصان کا جائزہ لینے کے بعد گاڑیوں کے مالکان کو معقول معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے شاہراہ سے گاڑیوں کو ہٹالیا اور وہ پرامن طور پر منتشر ہوئے۔ دریں اثناء اسلام آباد کے مقامی لوگوں نے مقامی نیوز ایجنسی کے این ایس کوبتایا کہ قصبہ میں اخوانی بندوق برداروں نے دوبارہ اپنی سرگرمیاں شروع کردی ہیں جو ہر آنے جانے والے کا شناختی کارڈ چھین کر اسے کیمپ پر آنے کیلئے مجبور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو کیمپوں پر لے جا کر لہولہان کیاجاتا ہے اور ان کی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ معمول بن گیا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق پولیس اور فوج ان اخوانیوں کی پشت پناہی کرنے سے انکار کررہی ہے لیکن اخوانیوں نے قصبہ میں خوف وہراس کا بازار گر م کررکھاہے۔

بک مارک: Add to your del.icio.us del.icio.us | Digg this story Digg

تبصرے (0 پوسٹ):

تبصرہ کریں comment

براے مہربانی کورڑ نمبر دیکھ کر لکھیں

  • email اپنے دوست کو ایمیل کریں
  • print پرنٹ کے لے
  • Plain text پلین ٹیکسٹ
ٹیگ
اس مضمون کے کوئی ٹیگ نہیں
اس مضمون کو رتٹ کریں
0
The Daily Etalaat Srinagar