نوجوان کی ہلاکت کیخلاف احتجاجی مظاہرے اورجھڑپیں،25افراد زخمی | فرنٹ پیج | ہوم

نوجوان کی ہلاکت کیخلاف احتجاجی مظاہرے اورجھڑپیں،25افراد زخمی

فونٹ سائز Decrease font Enlarge font

پائین شہر کے متعدد علاقوں میں غیراعلانیہ کرفیو نافذ، حالات ہنوز کشیدہ

اطلاعات نیوز سروس   سرینگر
نوہٹہ میں پولیس فائرنگ سے ایک نوجوان کی ہلاکت کے خلاف کل شہر کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور اشک آور گولے داغے۔جھڑپوں میں پولیس اور سی آر پی ایف کے 10اہلکاروں سمیت 25سے زائد افراد زخمی ہوئے ،12گاڑیوں کو نقصان پہنچایاگیا جبکہ کئی علاقوں میں سی آر پی ایف اہلکاروں نے رہائشی مکانوں کی توڑ پھوڑ کی اور لوگوں کو بلاجواز مار اپیٹا۔
 سنیچر کو شہر کے نوہٹہ علاقے میں پولیس کی گولی کی زد میں آکر جاوید اقبال بٹ نامی سومو ڈرائیور کی ہلاکت کے بعد پورے شہر میں زبردست کشیدگی پھیل گئی۔ اس صورتحال کے پیش نظر کل علی الصبح پائین شہر میں مکمل ہڑتال کے دوران بیشترسول لائنز علاقوں میں بھی پولیس اور سی آر پی ایف کی اس قدر بھاری تعداد تعینات کی گئی کہ پورا شہر فورسز کی چھاونی کا منظر پیش کررہاتھا۔ کئی علاقوں میں بغیر اعلان کرفیو نافذ رہا اور لوگوں کو گھروں سے باہرآنے کی اجازت نہیں دی گئی تاہم پولیس کے مطابق شہر کے کسی بھی علاقے میں کل کرفیو نافذ نہیں رہا البتہ احتیاط کے بطور دفعہ 144نافذ کردیاگیا۔ حفاظت کے یہ سخت انتظامات شہر میں ممکنہ مظاہروں اور تشدد کو روکنے کیلئے کئے گئے تھے۔ تاہم اس کے باوجود کل صبح نوہٹہ میں مشتعل نوجوانوں نے پولیس اور سی آر پی ایف پر پتھرائو کیا جس کے جواب میں پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ تاہم بعد میں مقامی نوجوانوں کو ایک پرامن جلوس نکالنے کی اجازت دی گئی جس میں شامل ہزاروں لوگوں نے دن بھر کئی علاقوں کا مارچ کیا۔ ادھر راجوری کدل کے علاقے میں مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں مظاہرین کو منتشرکرنے کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیاگیا۔ اسی دوران مائسمہ میں بھی نوجوانوں کی ٹولیاں سڑکوں پر نکل آئیں اور ٹائر جلانے کے بعدپولیس پر سنگباری کی۔ مائسمہ، مدینہ چوک، گائو کدل، نئی سڑک ، بسنت باغ، ککر بازار، کرالہ کھڈ، زانپہ کدل، گذربل اور دیگرملحقہ علاقوں میں بھی کل دن بھر مشتعل نوجوانوں اور پولیس کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے دوران مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے ان پر لاٹھیاں برسائی گئیں اور اشک آور گیس کے درجنوں گولے داغے گئے۔بٹہ مالو اور خانیار میں بھی تشدد پر آمادہ بھیڑ کو قابو کرنے کیلئے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور ٹائر گیس کے گولے پھینکے۔ ادھر کاکہ سرائے کے نزدیک بعد دوپہر دو بجے مظاہرین نے پولیس اور سی آر پی ایف پر سنگباری کی اور جوابی کارروائی کے نتیجے میں سی آر پی ایف اہلکار مغل محلہ داناواری چھتہ بل علاقے میں داخل ہوئے۔ فورسز اہلکار اس قدرحواس باختہ تھے کہ انہوں نے رہائشی مکانوں کے کھڑکی دروازوں کی زبردست توڑ پھوڑ کی اور لوگوں کی شدید مارپیٹ کرکے خوف وہراس پھیلایا۔اس دوران اولڈ چھانہ پورہ میں بھی مظاہرین اور پولیس کے مابین وقفے وقفے سے زبردست جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے مظاہرین کو بھگانے کیلئے آنسو گیس کے گولے داغے۔ مختلف علاقوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں کئی پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔پولیس ترجمان کے حوالے سے مقامی خبررساں ادارے کے این ایس کا کہنا ہے کہ پائین شہر میں سنگباری کی چند واردات کو چھوڑ کر وادی کشمیر کے حالات مجموعی طور پر پرامن رہے ۔ ترجمان نے بتایا کہ کئی جگہوں پر نوعمر لڑکوں نے گاڑیوں پر پتھرائو کیا جس کے نتیجے میں 12گاڑیوں گو نقصان پہنچا جبکہ جھڑپوں میں سی آر پی ایف اور پولیس کے 10اہلکار زخمی ہوئے۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں سخت حفاظتی انتظامات اور فورسز کی بھاری تعداد میں موجودگی کے سبب انتہائی کشیدگی کا ماحول رہا۔

بک مارک: Add to your del.icio.us del.icio.us | Digg this story Digg

تبصرے (0 پوسٹ):

تبصرہ کریں comment

براے مہربانی کورڑ نمبر دیکھ کر لکھیں

  • email اپنے دوست کو ایمیل کریں
  • print پرنٹ کے لے
  • Plain text پلین ٹیکسٹ
ٹیگ
اس مضمون کے کوئی ٹیگ نہیں
اس مضمون کو رتٹ کریں
0
The Daily Etalaat Srinagar