روزنامہ اطلاعات سرینگر كشمیر: زمین منتقلی احتجاج کے دوران فورسز کا دوسرا شکار زمین منتقلی احتجاج کے دوران فورسز کا دوسرا شکار ================================================================================ izhar haq on 2008 , 08 September پیشے سے ڈرائیور سمیر 3روز تک یاتریوں کی خدمت کرتا رہا پرویز احمد // سرینگر گھر میں اپنے باپ کا ہاتھ بٹانے کیلئے تعلیم ترک کرنے والے سمیر احمد بٹلو شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی کیخلاف ہوئے عوامی احتجاج میں اس وقت جاںبحق ہوگیا جب سی آر پی اہلکاروں نے مبینہ طور پر اسکے سر میں گولی مار دی۔پیشے سے ڈرائیور سمیر احمد امرناتھ یاتریوں کے سا تھ پہلگام میں تین دن تک کام کے بعد 24جو ن کی شام گھر واپس آیا تھا اور 25جون کو ذالڈگر میں سڑک پار کرتے ہوئے سی آر پی ایف اہلکاروں نے مبینہ طور پراسکے سر پر گولی مار دی جسے وہ موقعے پر ہی دم توڑ بیٹھا۔ سمیر اپنے پیچھے ماں باپ کے علاوہ ایک بہن اور پندرہ سالہ بھائی کو چھوڑ گیا۔سمیر کی ماں اور چھوٹی بہن اس وقت گھر میں بیٹھی تھی جب پڑوسیوں نے انہیں یہ خبر دی کہ سمیر زخمی ہوگیا ہے اور وہ چیختی چلاتی سمیر کو ڈھونڈنے نکلی مگر سمیر کو صورہ اسپتال منتقل کیا گیاتھا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔ سمیر احمد بٹلو فتح کدل میں دو کمروں کے ایک خست حال مکان میں رہائش پزیر تھا۔ بھائی بہن کوا علیٰ تعلیم دلانے کے شوق نے اسے تعلیم چھوڑ دینے پر مجبور کیا تھا مگر اپنے خواب کو پورا کئے بغیر سمیر اس فانی دنیا سے رخصت ہوگیا اور وہ شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی میں جاں بحق ہونے والا دوسرا نوجوان بن گیا ۔سمیر کی ماں شہزادہ نے پر نم آنکھوں سے اپنے گھر کا حال بیان کرتے ہوئے کہا'' سمیر نے اپنے بھائی اور بہن کی پڑھائی کیلئے خود تعلیم ادھور ی چھوڑ ی تھی اورروزانہ کی اجرت پر سو مو گاڑی چلارہا تھا ''۔ شہزادہ نے مزید بتایا کی سمیر 25جون کوذالڈگر اپنے چچا کے پاس گیا تھا جہاں وہ تقریباً دو گھنٹوں تک بیٹھا رہا۔ سمیرکی ماں کے مطابق سمیر کے ذالڈگر میں قیام کے دوران وہاں مظاہرین اور سی آر پی ایف اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھی تاہم مظاہرے ختم ہونے کے بعد سمیر نے جوں ہی اپنے چچا کے گھر سے قدم باہر رکھا تو سی آر پی ایف اہلکاروں نے مبینہ طور پر سمیر کو نشانہ بناکر اسے گولی مار دی جو سمیر کے سر کو جالگی جس سے وہ موقعے پر ہی جاںبحق ہوگیا تھا۔ سمیر کی موت کے بعد نہ صرف اسکے چھوٹے بھائی بہن کے تعلیم چھوٹ جانے کا خطرہ لاحق ہے بلکہ اس کے ماں باپ نے اپنے بڑھاپے کا سہار ا بھی کھو دیا ہے۔ سمیر کے باپ غلام محمد بٹلو کے مطابق اگرچہ سمیر کی موت کے بعد حریت قائدین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ اور دیگر ہمارے گھر تعزیت کیلئے آئے مگر انکی کوئی مالی مدد نہیں کی گئی اور نہ ہی اب تک ریاستی حکومت کی طرف سے کوئی مدد کی بات کی گئی ہے تاہم پولیس محکمے کی طرف سے کچھ اہلکار آئے تھے مگر اب تک اس حوالے سے بھی کچھ معلوم نہ ہوسکا۔واضح رہے پی ڈی پی اور این سی ہلاک شدگان کیلئے مسلسل معاوضے کا مطالبہ کرتے آئے ہیںلیکن ابھی تک عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔ریاست کی گورنر انتظامیہ نے بھی گزشتہ مہینوں کے دوران جموں اور کشمیر میں متاثر ہوئے افراد کو معاوضہ فراہم کرانے کیلئے ایک ٹیم کا اعلان کیا ہے جو اس سلسلے میں جائزہ لے رہی ہے تاہم بعض عوامی حلقوں اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔