نو ہٹہ میں نوجوان پولیس کی گولی کا شکار
کارڈنیشن کمیٹی کی کال پر وادی میں ہمہ گیر ہڑتال
عادل نقشی ایجنسیز سرینگرکارڈی نیشن کمیٹی کی کال پر ہمہ گیر کشمیر بند کے دوران سرینگر کے نوہٹہ علاقے میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا اورٹیر گیس کے گولے پھینکے کے علاوہ فائرنگ کی جسکے نتیجے میں جاوید احمد نامی ایک نوجوان موقعے پر ہی جاں بحق ہو گیا اور دیگر 4افراد زخمی ہو ئے ۔ ہڑتال کے نتیجے میں پوری وادی میں تعلیمی اور کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔ اس دورانسی حریت لیڈران سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق کے علاوہ لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک کو کل بھی اپنی رہائش گاہوں میں پولیس نے نظر بند رکھا۔
جناچہ کل کارڈنیشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کے سبب اگر چہ مجموعی طور پو پوری وادی میں مکمل ہڑتال رہی تاہم پائین شہر کے نوہٹہ علاقے میں میںکچھ نوجوانوں کی جانب سے مقامی پولیس اسٹیشن پر پتھراو ہوا ۔عینی شاہد ین کے مطابق ''اگر چہ پتھر او معمولی طرز کا تھا تاہم پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغنے کے بجائے سیدھے بندوق کے دھانے کھول کر ہوا میں فائرنگ کی''۔ جسکے بعد پولیس کی ایک بھاری جمعیت نے ایس ایچ او نوہٹہ کے سربراہی میں نوہٹہ چوک کا رخ کیا جہاں پر انہوں نے ابتداء میں اگرچہ عام لوگوںپر دنڈے اور لاٹھیاں برسا کر اپنی بربریت کا مظاہرہ کیا تاہم عین شاہدین کے مطابق ایس ایچ او کا غصہ اس سے تھمتا ہوا تظرنہ آیا۔ اتنے میںجاوید احمد کسی چھوٹے بچہ کوگود میں لے کر نوہٹہ چوک کے پاس ہی اپنے گھر سے باہر آرہا تھا ۔ عینی شاہدین کے مطابق ابھی جاوید احمد نے ایک ہی قدم دروازے سے باہر نکالا تھا کہ ایس ایچ او نوہٹہ طاریق احمد نے جوکہ اس جگہ سے تتھوڑی دوری پر کھڑا تھا نے اس پر ربڑ کی گولی چلادی جو کہ جاوید کے قلب میں لگ گئی ۔جاوید کے والد عبدلحمید کے مطابق ''اگر چہ ہم دوسرے لوگوں کی مدد سے جاوید کو ایس ایچ ایم ایس اسپتال لیجانے میں کامیاب ہوگئے تاہم وہاں پر ڈاکٹر وں نے اسے مردہ قرا دیا''۔
جاوید کی موت کی خبر پھیلتے ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگ نوہٹہ چوک میں جمع ہوکر زبردست احتجا جی مظاہرے کرنے لگے اور بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کرتے رہے۔اسکے علاوہ مظاہرین نے جموں وکشمیر پولیس خصوصاً ایس ایچ او نوہٹہ کے خلاف جم کر نعرے بازی کی ۔ بعد میں جاویدکی نعش کو ہزاروںلوگ ایک جلوس کی صورت میں عید گاہ لے گئے'جہاں پر اسکا نماز جنازہ پڑھا گیا ۔جنازے میں شامل توہٹہ کے رہنے والے ایک بزرگ عبدالرحیم نے بتایا'' میں جاویدکو بچپن سے جانتا تھا۔ جاوید نے کم عمر میں ہی گھر کی ذمہ داری اپنے کاندھوں لی ''۔انہوں نے مزید کہا'' میں پورے بھروسے کے ساتھ کہتاہوں کہ جاویدکسی بھی طرح پتھراو میں
شامل نہیں تھا ۔لیکن مقامی ایس ایچ او نے اپناغصہ نکالتے ہوئے بلاجواز اس پر گولی چلاکر اسے ہلاک کردیا اور اس گھر کے ایک واحد سہارے کوچھین لیا''۔جنازے میں شامل جاوید کے والد عبدالمجید نے اشک بار آنکھوں سے بتایا''جاید کو آج سہ پہر چار بجے کے قریب سواوری لیکر جموں روانہ ہونا تھا ۔جاوید جو کہ روزے سے تھا ابھی مسجد سے نماز ادا کرکے گھر واپس لوٹا تھا کہ اسکے3سالہ چچیرے بھائی نے اسے مٹھائی لانے کی ضد کی جسکے بعد جاید نے مجھ سے دس روپیہ مانگے 'شاید اسکے پاس چھٹا نہیں تھا اور اس بچے کو لیکر بازار کی طرف نکلا ''۔عبدالمجید نے مزید کہا''ابھی جاوید گھر سے ہی باہر نکلاتھا کہ ہم نے گولی چلنے کی آواز سنی اور اسکے بعد جاوید کی ایک درد بری چینخ نکلی۔ اسکو سنتے ہی ہم نے ڈوڑے ہوئے ددروازے کا رخ کیا اور دیکھا کہ جاوید خون میں لت پت پڑا ہے'' ۔اس سلسلے میں جب اطلاعات نے نے ایس ایچ اور نوہٹہ طاریق احمد سے رابطہ کہا تو انہوں نہ کہا''نوہٹہ میں کافی پتھرائوا ہورہا تھا جسکے سبب ہم نے ربڑ کی گولیاں چلائیں''۔ یہ پوچھنے پر کہ لوگوں کا الزام ہے کہ آپ نے غصہ میں آکر بلا جواز جاوید پر گولی چلائی ' انہوں نے کہا''۔پھر جو لوگ کہتے ہیں ویسا ہی ہوا ہو گا۔
زونل پولیس ہیڈکوارٹر سرینگر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں پولیس ترجمان نے کہا کہ'' لوگوں کے ہجوم نے پولیس اسٹیشن نوہٹہ کی طرف ایک پیٹرول بم پھینکا جو عمارت کے باہر پھٹا ۔ اس کے بعد ہجوم نے پولیس اور سی آر پی ایف پر پتھراؤ کیا اور پولیس نے ٹئیر گیس شیلز اور ربڑ گولیاں داغیں جس کی وجہ سے دو افراد زخمی ہوئے جنہیں ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سرینگر منتقل کیا گیا ۔ جہاں جاوید احمد بٹ ولد عبدلمجید بٹ نامی شخص ساکنہ نوہٹہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا ۔ جبکہ دوسرا جہانگیر احمد ولد جاوید احمد ساکنہ خانیار جس کو ٹانگ میں زخم لگے کا علاج چل رہا ہے''۔
دریں اثناء کل دیر رات موصولہ ایک اطلاع کے مطابق نوہٹہ کا ہی ایک کمسن طالبعلم محمد اقبال ولد عبداللہ ساکنہ مخدوم صاحب جس کی عمر 11سال بتائی جاتی ہے سر پر ٹیر گیس شیل لگنے کی وجہ سے زخمی ہوا جسے صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں داخل کیا گیا ۔ تاہم ڈاکٹروں نے اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی ہے۔ اس دوران چوٹہ بازار، کاکہ سرائے میں اور رام باغ میں بھی مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔ کارڈی نیشن کمیٹی کے احتجاجی پروگرام کے تحت سنیچرکو دی گئی ہڑتالی کال پر شہر سرینگر اور وادی کے دیگر تمام اضلاع وقصبہ جات میں دکانیں ، کاروباری ادارے ، اسکول اور سرکاری دفاتر مکمل طور پر بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدورفت بھی کلی طور پر ٹھپ رہی۔ مختلف اضلاع سے فراہم ہوئی اطلاعات کے مطابق ہڑتالی کال کے پیش نظر تمام ضلع اور تحصیل صدر مقامات پر حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے تھے اور سڑکوں اور بازاروں میں دوران شب ہی پولیس اور سی آر پی ایف کے دستے تعینات کئے گئے تھے۔ادھرچوٹہ بازار، کاکہ سرائے اور رام باغ کے علاقوں میں بھی بعد دوپہر نوجوانوں نے سڑکوں پر ٹائر جلائے اور پولیس وسی آر پی ایف پر پتھرائو کیا۔ تاہم ان علاقوں میں تشدد کی کوئی بڑی واردات رونما نہیں ہوئی۔ دریں اثناء حریت کانفنرس کے دونوں دھڑوں کے سربراہان سید علی شاہ گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق کے علاوہ لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک نے نوہٹہ میں مظاہرین پر پولیس کاروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں