مرکزی ٹیم نے کمان پوسٹ کا دورہ کیا
آر پار تجارت کیلئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا جائیزہ لیا
اطلاعات نیوزسروس/سرینگرسرینگر مظفر آباد شاہرا کے ذریعے تجارت کی شروعات اور سلام آباد اوڑی میں آر پار کی تجارت کیلئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا جائیزہ لینے کے لئے کل مرکزی وزارت داخلہ ، امور خارجہ اور خزانہ کے سینئر افسران کی ایک ٹیم نے کمان پوسٹ اور سلام آباد اوڑی میں تعمیر ہونے والے لینڈ کسٹمز اسٹیشن کا دورہ کیا ۔ غور طلب ہے اس سے پہلے 2ستمبر کواس سلسلے میںنئی دلی میں ایک جائزہ میٹنگ منعقد ہوئی تھی۔
اس ٹیم میں میں وزارت خارجہ کے جوائینٹ سیکرٹری راگون ، وزارت داخلہ کے جوائینٹ سیکرٹری ایس سکندن ، کسٹمز کے کمیشنر پورتی اور جموں و کشمیر کسٹمز کے کمشنر ایس دیویندر سنگھ شامل تھے ۔ ریاستی انتظامیہ کے سینئر افسران کی ٹیم کی سربراہی چیف سیکرٹری ایس ایس کپور کر رہے تھے ۔ اس ٹیم میں ڈائریکٹر جنرل پولیس مسٹر کلدیپ کھڈا ، پرنسپل سیکرٹری ہوم انل گوسوامی ، ڈی جی پی سی آئی ڈی اشوک بھان ، ڈویژنل کمشنر کشمیر مسعود سامون ، کمشنر سیکرٹری انڈسٹریز اینڈ کامرس ڈاکٹر پون کوتوال اور چیف انجینئر بیکن برگیڈئیر اے کے بھوٹانی شامل تھے جو مرکزی ٹیم کے ہمراہ تھے ۔
مرکزی ٹیم نے سلام آباد اوڑی میں آر پار ڈیوٹی فری تجارت کیلئے کسٹم کلیرنس ، گڈس وئیر ہاوس ، گاڑیوں کی پارکنگ اور لینڈ کسٹمز سٹیشن کی تعمیر کا تفصیلی معائنہ کیا ۔سرکاری ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''جولائی 2008 میں مرکزی ٹیم کے دورے کے بعد اب تک ان سہولیات کی تعمیر کے کام میں کافی پیش رفت حاصل کی گئی ہے'' ۔چیف سیکرٹری نے ان تعمیراتی کاموں کی ذمہ دار ایجنسیوں اور ڈپٹی کمشنر بارہمولہ کو ہدایت دی کہ ٹرک ٹرمنل اور دیگر سیول کاموں کو اس ماہ کے آخر تک مکمل کیا جائے ۔
ٹیم نے موجودہ جگہ کے نزدیک آئیندہ ایک بین الاقوامی معیار کا لینڈ کسٹمز سٹیشن تعمیر کرنے کیلئے حاصل کی جا رہی اراضی کا بھی معائینہ کیا۔ بیان کے مطابق مرکزی ٹیم نے سلام آباد اوڑی میں آر پار کی تجارت کیلئے بہم کی جا رہی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ یہ مرکزی ٹیم 7 ستمبر کو چکاں دا باغ پونچھ کا بھی دورہ کر رہی ہے ۔ جہاں پونچھ راولہ کوٹ سڑک پر مستقبل قریب میں ایسا ہی ایک لینڈ کسٹمز اسٹیشن تعمیر کیا جا رہا ہے ۔اوڑی کا دورہ مکمل کرنے کے بعد مرکزی ٹیم نے بعد دوپہر راج بھون سرینگر میں گورنر این این ووہرا کے ساتھ میٹنگ کی اور انہیں اپنے دورے کے بارے میں آگاہ کیا ۔گورنر نے سلام آباد اوڑی میں آر پار کی تجارت جو کہ اگلے ماہ کسی بھی وقت پاکستان کے ساتھ بنیادی لوازمات پورا کرنے کے بعد شروع کی جا سکتی ہے کیلئے باقی ماندہ کام اس ماہ کے آخر تک مکمل کرنے کی ہدایت دی ۔ مرکزی ٹیم نے سلام آباد اور چکاں دا باغ میں بنیادی ڈھانچے مقررہ وقت کے اندر تعمیر کرنے کیلئے ریاستی حکومت کو تمام ممکنہ مدد دینے کی یقین دہانی کرائی ۔
واضح رہے ٹھیک تین سال قبل جب بھارت اور پاکستان کے اُس وقت کے خارجہ سیکریٹریوں نے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران سرینگر مظفرآباد روڑ کو تجارتی مواصد کے لئے کھولنے پر رضامندی ظاہر کی تو اُسے صرف تجارتی حلقوں نے ہی سراہا مگر آج مذکورہ روڑ کھولے جانے کے حق میں وادی کے عام و خاص شامل ہیں۔ اور تو اور لوگوں نے اس کے حق میں11اگست سے یکم جولائی تک ایک زبردست تحریک بھی چلائی جس کے دوران معروف حریت لیڈر شیخ عبدالعزیز سمیت متعدد شہری جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔ مذکورہ عوامی تحریک جموں کے ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں وادی کی ناکہ بندی کے بعد معرض وجود میں آگئی اور آج بھی وادی بھر کے عوام سرینگر مظفر آباد روڑ تجارتی مقاصد کے لئے کھولے جانے کے حق میں ہیں ۔سرینگر مظفر آباد روڑ کے ذریعے کشمیر کا رابطہ چین۔پاکستان۔افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ ہوتا ہے اور سب سے بڑھکر یہ کہ مذکورہ روڑ پر سردیوں میں برف باری نہیں ہوتی ہے اور یوں اسکے سرینگر جموں شاہراہ کی طرح آئے دنوں بند ہونے کے امکانات کافی کم ہیں۔ یاد رہے کہ چار سال قبل 7اپریل2005کواس تاریخی روڑ کو مسافربسوں کے لئے کھولا گیا تھا۔تب اس اقدام کو ایک اہم اعتماد سازی کا اقدام کہا گیا تھا تاہم بعد میں اس پر سفر کرنے والوں کو پیچیدہ قسم کی قانونی کارروائیوں سے گذارے جانے کی بنا پر اس کے ساتھ عام لوگوں کی دلچسپی تقریباً ختم ہوگئی۔(مشمولات شاہ عباس)
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں