زرداری پاکستان کے بارہویں صدر منتخب | فرنٹ پیج | ہوم

زرداری پاکستان کے بارہویں صدر منتخب

فونٹ سائز Decrease font Enlarge font
 مانیٹرنگ ڈیسک/سرینگر
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ آصف علی زرداری بھاری اکثریت سے پاکستان کے بارہویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ سنیچر کو ہونے والے انتخاب میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں آصف زرداری کو 436میں سے281ووٹ ملے۔10 ووٹ مسترد ہوئے تھے ۔اس طرح صحیح قرار دیے گئے ووٹوں کی تعداد 426 تھی۔ آصف زرداری نے جیت کے بعد پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ' 'میں محترمہ بینظیر بھٹو کے وہ الفاظ دہراؤں گا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے''۔ انہوں نے چاروں صوبوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ''جب جمہوریت بولتی ہے تو سب سنتے ہیں''۔
صوبائی اسمبلیوں کے نتائج میں سے سب سے پہلے صوبہ سرحد کے نتائج سامنے آئے جہاں آصف علی زرداری کو بھاری اکثریت سے کامیابی ملی اور یہی صورت بلوچستان میں بھی رہی۔ سندھ اسمبلی میں ڈالے گئے تمام ووٹ آصف زرداری کو ملے جبکہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو اکثریت ملی۔سندھ میں ووٹنگ کے دوران کل166 ارکان میں سے تین غیر حاضر رہے، ایک رکن کا ووٹ مسترد ہوا اور باقی تمام ارکان نے زرداری کے حق میں ووٹ دیا۔ اس طرح سندھ اسمبلی میں صدارتی انتخاب کے لیے ان کے مخالفین کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔
بلوچستان میں آصف زرداری کو59، سعید الزمان صدیقی اور مشاہد حسین کو دو دو ووٹ ملے۔ صوبہ سرحد کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق 124 اراکین میں سے چار ووٹ مسترد کر دیے گئے جبکہ120 اراکین کے ووٹوں کو درست قرار دیا گیا۔
سرحد میں آصف علی زرداری کو107 اراکین کے ووٹ ملے اور صدارتی ووٹوں کے فارمولے کے مطابق ان کے صدارتی ووٹ56 بنے۔ مسلم لیگ (ن) کے سعید الزمان صدیقی کو10 اراکین نے ووٹ دیے اور فارمولے کے مطابق ان کے صدارتی ووٹ 5 گنے گئے جبکہ مسلم لیگ (ق) کو3 اراکین نے ووٹ دیے اور فارمولے کے مطابق ان کے دو صدارتی ووٹ گنے گئے۔ پنجاب میں 123 اراکین نے آصف زرداری کے حق میں ووٹ ڈالے،جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی کو 201ارکان نے ووٹ دیا جبکہ (ق) لیگ کے مشاہد حسین کو پنجاب میں36ارکان نے ووٹ دیے۔پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ پولنگ قومی اسمبلی کے ہال میں ہوئی۔ چیف الیکشن کمشنر قاضی محمد فاروق نے جو ریٹرننگ افسر بھی ہیں مقررہ وقت صبح دس بجے سے چند منٹ کی تاخیر کے بعد کارروائی شروع کی اور اراکین کو قوائد سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ عام طور پر صدارتی انتخاب میں خفیہ رائے شماری کے لیے دو بوتھ قائم کیے جاتے ہیں لیکن اس بار ماہ رمضان کی وجہ سے تین بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قواعد کے مطابق حروف تہجی کے اعتبار سے پہلے سینیٹر اور بعد میں اراکین قومی اسمبلی ووٹ ڈالتے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے مسلم لیگ (ق) کے سنیٹر عبدالغفار قریشی کا نام پکارا لیکن وہ اس وقت ایوان میں نہیں تھے اور پہلا ووٹ مسلم لیگ (ن) کے سنیٹر اقبال ظفر جھگڑا نے ڈالا۔ قائم مقام صدر محمد میاں سومرو نے، جو سینیٹ کے چیئرمین بھی ہیں، اپنا ووٹ ڈالا۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ایوان میں موجود رہے۔صدارتی انتخاب کے موقع پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے اور پارلیمان کی عمارت کے اردگرد اور اندر پولیس کے ساتھ رینجرز بھی تعینات رہے۔ شاہراہ دستور کا ایک حصہ عام ٹریفک کے لیے بند کیا گیا۔ قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیراعظم کی صدارت میں ہوا۔ جس میں پہلی بار متحدہ قومی موومنٹ بھی شریک ہوئی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی خان، جے یو آئی، آزاد اراکین اور فاٹا کے بعض اراکین بھی شریک ہوئے۔ مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ جان محمد جمالی اپنی جماعت کے اجلاس میں جانے کے بجائے پیپلز پارٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ ادھر مسلم لیگ (ق) کے فارورڈ بلاک کا علیحدہ اجلاس ہوا جس میں ریاض فتیانہ، کشمالہ طارق اور نصر اللہ بجارانی سمیت دو درجن کے قریب اراکین شریک ہوئے۔ ریاض فتیانہ نے کہا تھا کہ ان کیگروپ میں پچیس اراکین شامل ہیں اور انہوں نے آصف علی زرداری کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ان کے مطابق جب وزیراعظم پنجاب کا ہے تو صدر چھوٹے صوبے کا ہونا چاہیے اور ان کی یہ بات پارٹی کی قیادت نے نہیں مانی اس لیے وہ بھی سید مشاہد حسین کو ووٹ دینے کے بارے میں پارٹی کی بات نہیں مانتے۔ صدارتی الیکشن کے موقع پر پارلیمان کے آس پاس آصف علی زرداری کی بڑی بڑی تصاویر اور بینر لگائے گئے ہیں، جن پر انہیں پیشگی مبارکباد دی گئی ہے۔ادھر مظفر آباد میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے آصف علی زرداری کے حق میں ایک قرارداد کثرت رائے سے منظور کی ہے۔پیپلز پارٹی کے مخالف حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے اراکین نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی۔ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی پاکستان کے صدر کے انتخابی حلقے کا حصہ نہیں ہے۔ تاہم حزب مخالف اور حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد اخلاقی حمایت دینے کے لیے منظور کی گئی ہے۔
بک مارک: Add to your del.icio.us del.icio.us | Digg this story Digg

تبصرے (0 پوسٹ):

تبصرہ کریں comment

براے مہربانی کورڑ نمبر دیکھ کر لکھیں

  • email اپنے دوست کو ایمیل کریں
  • print پرنٹ کے لے
  • Plain text پلین ٹیکسٹ
ٹیگ
اس مضمون کے کوئی ٹیگ نہیں
اس مضمون کو رتٹ کریں
0
The Daily Etalaat Srinagar