ہند امریکہ جوہری معاہدے کو NSG کی منظوری
مانیٹرنگ ڈیسک/سرینگر
متنازعہ ہند امریکہ جوہری معاہدے کو جوہری سازو سامان فراہم کرنے والے ممالک کے گروپ (این ایس جی) نے اپنی منظوری دے دی ہے۔اس طرح ہندوستان پر ایک لمبے عرصے سے جاری جوہری سازوسامان کی تجارت پر عائد پابندی ختم ہو جائے گی۔ ہندوستان پر یہ پابندی 1974 میں کیے گئے جوہری دھماکے کے بعد عائد کی گئی تھی۔ ہند امریکہ سویلین جوہری معاہدے کے لیے این ایس جی ممالک سے منظوری حاصل کرنا ایک اہم اور مشکل مرحلہ تھا۔ اس منظوری کے بعد اب اس معاہدے کو اپنے آخری مرحلے کے لیے امریکی کانگریس میں پیش ہونا ہے۔ بین الاقوامی اور اندرونی سطح پر اس معاہدے کو کئی مشکلات سے گزرنا پڑا تھا۔سنیچر کو وینا میں 45 ممالک کے سہ روزہ اجلاس میں عام رائے سے اس معاہدے کے تحت امریکہ کی جانب سے ہندوستان کو توانائی کے لیے جوہری ٹیکنالوجی فروخت کرنے کے معاہدے کو منظور کر لیا گیا۔ حالانکہ یہ اجلاس دو روز کے لیے مقرر کیا گیا تھا لیکن بعض ممالک نے ہندوستان کی جانب سے جوہری عدم توسیع یعنی این پی ٹی کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے پر اعتراض ظاہر کیا تھا۔ ان ممالک میں نیدرلینڈ، آسٹریا، ناروے، سوٹزرلینڈ، آئر لینڈ اور چین شامل تھے۔ بعض ممالک کی جانب سے اعتراض کے بعد ہندوستان کے وزیرر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ ہندوستان کسی بھی قسم کی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی کو حساس جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرے گا۔واضح رہے کہ اس معاہدے کے این ایس جی سے منظوری کو بارے میں ہندوستان پر امید تھا کیوں کہ این ایس جی میں منظوری کا سارا دارو مدار امریکہ پر تھا اور امریکہ نے اس معاہدے کو منظوری دلانے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔ اس معاہدے کی این ایس جی میں منظوری کو ملکی میڈیا ایک تاریخ ساز فتح کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں