جب فورسز نے نوہٹہ کے غریب کنبہ کاواحدسہاراچھین لیا
شازیہ کا ڈاکٹر بننے کاخواب ٹوٹ گیا، افراد خانہ فاقہ کشی کے دہانے پر
پرویز احمد // سرینگرآٹھ سال کی شازیہ کا ڈاکٹر بننے کا خواب اس وقت ٹوٹ گیا جب اس کا باپ فیروز احمد راہ 23جون کی شام سرینگر کے نوہٹہ علاقے میں مظاہرین پر سی آر پی ایف کی فائیرنگ سے اس وقت جان بحق ہوگیا جب وہ اپنے روز مرہ کام سے فارغ ہو کرگھر کی طرف لوٹ رہا تھا ۔ عین اسی وقت وہاں شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی کے خلاف احتجاج ہورہا تھا کہ اچانک ایک گلی سے سی آر پی ایف اہلکاروں نے بلا اشتعال فائیرنگ کر کے فیروز کو جان بحق کردیا اور اس طرح فیروز شرائن بورڈ کے خلاف ہوئے عوامی مظاہروں میں جان بحق ہونے والا پہلا نوجوان بن گیا۔ فیروز احمد راہ اگرچہ پیشے سے ایک کنڈکٹر تھا مگر وہ اپنے چھوٹے عیال کیلئے کمائی کا واحد زریعہ بھی تھا۔ فیروز کی موت کے بعد نہ صرف مصیبتوں نے اس کے گھر کو گھیرا بلکہ مصیبت میں کام آنے والے رشتہ دار وں نے بھی اب ان سے ناتا توڑ دیا ہے۔ فیروز احمد راہ کی بیوی یاسمینہ نے پرنم آنکھوں سے اپنے گھر کا حال بیان کرتے ہوئے کہا'' فیروز کے جنازے کے دن اگرچہ کئی حریت لیڈران اور رشتہ داروں نے ہماری مدد کرنے کا وعدہ کیا مگر آج تک کسی نے ہماری کوئی مدد نہیں کی ہے جس کی وجہ سے ہم فاقہ کشی پر مجبور ہے''۔ یاسیمنہ نے مزید بتایا کہ اگرچہ فیروز کے مرنے کے بعد حریت لیڈران میرواعظ عمر فاروق ، سید علی شاہ گیلانی، یاسین ملک اور دیگر اشخاص نے ہمارے گھر آکر ہمیں مالی مدد دینے کا وعدہ بھی کیا مگراب تک کسی تنظیم کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملی۔ یاسیمنہ نے مزید بتایا کہ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے صدر یاسین ملک نے ہمیں 25ہزار روپے دینے کا علان بھی کیا مگر ہم نے وہ پیسے اسلئے نہیں لئے کیونکہ میرے گھر کو ایسے مدد کی ضرورت ہے جو دیر تک جاری رہ سکے تاکہ میں اپنے عیال کی پرورش اچھے طریقے سے کر سکوں۔ یاسمینہ کے مطابق ریاستی سرکار کی طرف سے کئی پولیس اہلکاروں نے سرکاری نوکری اور مالی امداد دینے کی بات کہی مگر اب تک پولیس حکام کی طرف سے بھی کوئی اقدام نہیں اٹھایاگیا۔ یاسمینہ کے مطابق میکے اور سسرال کے تمام رشتہ داروں نے ہمیں مالی مدد کرنے کے خدشات کی وجہ سے ہمارے گھر ہی آنا چھوڑ دیا ہے تاہم پڑوسیوں کی مدد سے گھر میں مشکل سے کھانا بن پاتا ہے ۔ یاسمینہ نے روتے بلکتے ہوئے کہا کہ گھر کے مالی حالات پہلے سے ہی بہت خراب تھے مگر اس کے بائوجود فیروز مجھے کبھی بھی گھر کے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتاتھا مگر رشتہ دراروں کی کنارہ کشی کی سبب اب مجھے بازار کا ہر کوئی کام خود کرنا پڑتا ہے ۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں