جہلم ویلی رورڑ پر تجارت' پاکستان تیار
کوششیں رنگ لائیں
اسلام آباد میں حتمی پات چیت کی پیش کش
مانیٹرنگ ڈسیک/سرینگرحکومت پاکستان نے خط انتظام کے آر پار تجارت شروع کرنے کے لئے حامی بھر لی ہے اور اس کے لئے حکومت ہند سے پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں حتمی بات چیت کی پیش کش کی ہے۔ اسیی بھی اطلاعات ہیں کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے جلد ہی ایک تجارتی وفد اس حوالے سے سرینگر کا دورہ کرے گا جو اس بارے میں یہاں کی چیمبر آف انڈسڑیز اور کامرس سے وابستہ ممبران سے بات کرے گا۔ غور طلب ہے کہ 11اگست کو سرینگر مظفر آباد روڑ(جہلم ویلی روڑ) کو تجارت کے لئے کھو لنے کے لئے 2لاکھ کے قریب کشمیریوں نے بارہمولہ کے چہل علاقے تک اس تاریخی تجارتی راستے پر مارچ کیا جسکے نتیجے میں مارچ کرنے والوں پر پولیس اور فوج کی فائرنگ سے حریت لیڈر شیخ عزیر سمیت 5افراد جاں بحق اور3درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
خط انتظام کے آر پار تجارت شروع کرنے کے لئے جہاں حکومت ہند نے اپنی طرف سے تمام تر تیاریاں کر لی ہیں اور اس کے لئے یکم اکتوبر کی تاریخ مقرر کر دی ہے ۔وہیں دوسری جانب حکومت پاکستان نے بھی کشمیر میں خط انتظام کے آر پار تجارت شروع کرنے سے اتفاق کر لیا ہے اور اس کے لئے معاملات طے کرنے کے لئے پاکستان کی حکومت نے اس کے لئے اسلام آباد میں بات چیت کی پیش کر دی ہے تاکہ اس معاملے پر جلد سے جلد حتمی فیصلہ کیا جا سکے ۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے سیکریڑی سلمان بشیر نے گذشتہ رات روز اسلام آباد میں پاکستان میں بھارت کے ہائی کمشنر ستیہ بھرتا پال سے اس بارے میں بات چیت کی اور پاکستانی سرکار کا ایک پیغام بھارت کی حکومت کو بھیج دیا ہے تاکہ خط انتظام اور خصوسی طور پر سرینگر مظفر آباد شاہراہ پر تجارت شروع کرنے کے لئے دونوں ممالک حتمی معاملات کو طے کر سکیں ۔ سلمان بشیر نے بتایا کہ حکومت پاکستان اس کے لئے بالکل تیار ہے تاہم سرینگر مظفر آباد شاہراہ پر تجارت شروع کرنے سے پہلے وہ اس حوالے سے حکومت ہند سے مزید بات چیت کرنا چاہتے ہیں ۔
واضح رہے حکومت ہند بار بار یہ کہہ رہی تھی کہ سرینگر مظفر آباد شاہراہ پر تجارت شروع کرنے کے لئے اس کو حکومت پاکستان کے جواب کا انتظار ہے ۔ اس دوران حکومت پاکستان کے اس اعلان کے بعد کہ اس بارے میں وہ پہلے حکومت ہندوستان سے بات کرے گا سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سرینگر مظفر آباد پر اب ٹرک سروس شروع کرنے میں محض اعلان کرنا باقی ہے ۔ یاد رہے حکومت ہند نے اس بات کا پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ یکم اکتوبر سے سرینگر مظفر آباد شاہراہ پر ٹرک سروس شروع ہو جائے گی اور اس بارے میں پاکستان کو پہلے سے ہی آگاہ کر لیا گیاہے۔ اس بارے میں اسلام آباد میں مقیم بھارت کے ہائی کمشنر ستیابھرتہ پال نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ حکومت پاکستان ہندوستان کی طرف سے یکم اکتوبر سے تجارت شروع کرنے کے اعلان کا مثبت جواب دے گی تاکہ اس رکے پڑے معاملے پر جلد از جلد عمل در آمد شروع ہو سکے ۔ دریں اثنا پاکستانی وزارت خارجہ کے سیکریڑی سلمان بشیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ایک تجارتی وفد اس حوالے سے سرینگر کا دورہ کرے گا جو اس بارے میں یہاں کی چیمبر آف انڈسڑی سے وابستہ ممبران سے بات کرے گا۔ یاد رہے رواں سال کی 21جولائی کو نئی دہلی میں ہند و پاک کے خارجی وزراء نے نئے اپنے مذاکرات میں لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت شروع کرنے کا اعلان کر دیا تھا ۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں