اسپتالوں میں پڑے سینکڑوں زخمیوں کا کوئی پرسان حال نہیں
کئی زخمی معذورجبکہ چار کے اعضاء ڈاکٹروں کوکاٹنے پڑے
پر ویز احمد// سرینگر
کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی اور جموی مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے خلاف وادی میںجاری عوامی مظاہروں پر پولیس اور سی آر پی ایف کی فائرنگ میں شدید زخمی ہوئے افراد میں سے چار کے اعضاء ڈاکٹروں کو کاٹ دینے پڑے۔
حریت قائدین کی طرف سے دی گئی کال ''مظفرآباد چلو'' پر لبیک کہتے ہوئے جب لوگ جلوسوں کی صورت میں سڑکوں پر آئے تو جگہ جگہ پولیس اور سی آر پی ایف کی طرف سے کی گئی فائرنگ میں جہاں کئی افراد زخمی ہوئے وہیں اس میں کچھ نوجوانوں کو پولیس اور سی آر پی ایف کی جارحانہ کارروائی میں ہمیشہ کیلئے اپنے بیش قیمتی اعضاء کھو دینے پڑے اوراس وقت مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں پولیس اور سی آرپی ایف کی فائرنگ سے زخمی ہوئے افراد کا علاج کرنے والے ڈاکٹر نعیم احمد نے کہا'' پولیس اور سی آر پی ایف کی فائرنگ سے شیدید زخمی ہوئے 20افراد جو اس وارڈ میں داخل ہیں میں سے چارکے اعضاء کاٹ دئے گئے ہیںجس میں فیروز احمد میر والد بشیر احمد میر ساکنہ مندر باغ کی پوری ٹانگ کاٹ دینی پڑی اوراسی طرح سجاد احمد شیخ ولد حمیداللہ شیخ ساکنہ اسٹینگو بانڈی پورہ کے گھٹنے پر گولی لگی تھی جس کی وجہ سے اس کی نسوں کو نقصان پہچا تھا مگرمریض کو مزید نقصان سے بچانے کیلئے ڈاکٹروں کو اس کا پیر کاٹ دینا پڑا جبکہ فردوس احمد میر ولد بشیر احمد میر ساکنہ بڈگام کے ہاتھ کی دو انگلیاں کاٹ دینے پڑی ۔ انہوں نے کہا کہ گولیوں سے ان افراد کو کافی گہرے زخم آئے تھے جس کی وجہ سے ہم ان کے اعضاء بچا نہیں سکے اور اس طرح ان افرادنے زندگی بھر کیلئے اپنے قیمتی اجزا کھودئے ہیں'' ۔صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں زیر علاج سجاد احمد شیخ نے اپنے زخمی ہونے کے واقع کے بارے اطلاعات سے بات کرتے ہوئے کہا'' بانڈی پورہ کی مین سڑک پر پولیس نے مظفرآباد چلو پروگرام میںلوگوں کو شامل ہونے سے روکنے کیلئے سڑک پر کانٹے دار تار نصب کیا تھا اور کہاگیا کہ اگر ہم نے وہ حد پار کی تو گولیاں برسائی جائینگی۔'' سجاد نے مزید کہاکہ جب میں نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ کانٹے دار تار کو ہٹانے کی کوشش کی تو وہاں موجود سی آر پی ایف اہلکاروںنے مجھ اور میرے دیگر ساتھیوں پر اندھادھند گولیاں چلائی جس میں تین افراد جان بحق جبکہ دیگر 3افراد زخمی ہوئے۔ صورہ اسپتال میں داخل فردوس احمد میر نے اطلاعات کو ہاتھ کی انگلیاں کھونے کی دلدوز واقع سناتے ہوئے کہا'' میں سکول لگاتار بند ہونے کی وجہ سے پراوئئیویٹ ٹیوشن پر جارہا تھا کہ اچانک پولیس نے مظاہرین پر دعویٰ بول دیا اور مجھے دبوچ لیا اور میرے ہاتھ پر بندوق بھٹوںسے وار کیا اور میری دو انگلیا توڑ دی ۔فردوس نے پرنم آنکھوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ اپنے ہاتھوں سے لکھنے کے قابل نہیں رہاہے کیونکہ فوج کی بربرریت نے اس کے ہاتھ کی نسوں کو کافی حد تک نقصان پہچایا ہے''۔ ادھر کل صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں زیر علاج کپواڑہ کے عاقب گلزار ولد غلام محمد شیخ ساکنہ کورہ کی ٹانگ کاٹ دینی پڑی جبکہ ڈاکٹروں نے اس کی حالت کو نازک قراردیا ہے جس کے چلتے کل کپواڑہ میں لوگوں کی بھاری تعداد نے مظاہرے کئے جن کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور گولیاں چلائیں۔ واضح رہے پولیس اور سی آر پی ایف کی بلااشتعال فائرنگ سے سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں جو ابھی بھی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن کا پرسان حال کوئی نہیں۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں