کشمیر ایران دوم | روبرو | ہوم

کشمیر ایران دوم

فونٹ سائز Decrease font Enlarge font
image حضرت آیة اللہ آقای شیخ مہدی انصاری

حضرت آیة اللہ آقای شیخ مہدی انصاری ایران کے ایک نامور عالم، مؤلف، مصنف اور مبلغ ہیں۔ آپ ایران میں حضرت آیة اللہ العظمی آقا ناصر مکارم شیرازی ، مرجع جہان اسلام کے نمائندہ اور ان کے دفتر کے مسئول بھی ہیں۔ آقا انصاری اس وقت کشمیر میں علماء اور اسلامی حوزوں کے دیدار کیلئے آئے ہوئے ہیں۔ اسی تناظر میں اطلاعات کے سید ارشد موسوی نے ان کے ساتھ ایک مفصل گفتگوکی جس میں ان کی زندگی کے مختلف گوشوں سے متعلق استفسارات کئے گئے۔ قارئین کے دلچسپی کے لئے انٹرویو کے اہم اقتباسات شائع کئے جارہے ہیں ۔



 جناب آپ اپنا  تعارف دیں۔
میرانام شیخ مہدی انصاری ہے ، ایران میں ایک مشہور خاندان ، اشعری سے تعلق رکھتا ہوں۔ یہ وہی خاندان ہے کہ جو امیرالمومنین  کے طرفداروں میں سے تھا۔ اس خاندان کا اصلی وطن یمن تھا، بعد میں وہاں سے مدینہ اور پھر حضرت علی  کے زمانے سے ایران اور باقی ملکوں میں اسکے اعضاء منتشر ہوتے گئے اور میں خوشحال ہوں کہ اسی خاندان کی ایک کڑی آج کشمیر میں بھی ہے جو لوگوں کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ آج بھی اس خاندان سے تعلق رکھنے والے منبر، خطاب ، تبلیغ، وعظ و نصحیت اور مجالس حسینی کے برپا کرنے میں مشغول ہے ۔ میں آج سے ٦٠ سال قبل نجف اشرف عراق میں پیدا ہوا۔ میرے والد آیة ۔۔۔ شہید احمد انصاری ہیں کہ جنہیں عراق کی اس زمانے کی بعثی حکومت نے وہاں ٨٥ سے زائد عظیم علماء کے ساتھ شہید کردیا ۔ عصری تعلیم نجف اشرف میں حاصل کی، پھر حوزہ میں قدم رکھا اور مقد ماتی اور متوسط دردس نجف میں ہی حاصل کئے۔ اسکے بعد تہران آکر اپنی تعلیم کو جاری رکھا ، پھر قم جاکر عظیم استادوں جیسے آیة اللہ العظمی آقا گلپائگانی ، آیة ۔۔۔العظمی آقا مکارم شیرازی اور آیة ۔۔۔جعفر سبحانی اور علم رجال ، درایة ، اصول ، اخلاق وغیرہ میں مشاہیر سے کسب فیض کیا۔
میں نے اِس وقت ایک ریسرچ سنٹر قائم کررکھا ہے جس میں تحقیقی کتابیں اور Theises وغیرہ لکھی جاتی ہیں ۔ میں نے مختلف موضوعات میں ٣٠ سے زائد کتابیں عربی و فارسی زبان میں تحریر کی ہیں ، تبلیغی سلسلے میں کئی ممالک جن میں چین، روس ، افریقہ یورپ ، مڈل ایسٹ اور عرب ممالک کا دورہ کیا ہے۔ اور آج پہلی بار ہندوستان اور کشمیر آیا ہوں تاکہ یہاں کے علما سے ملاقات کروں اور حوز وں کا دیدار کرسکوںنیز یہاں کے لوگوں سے آشنائی حاصل کروں۔
آپ کا سفر کس نوعیت کا ہے، یعنی آپ سیاسی یا مذہبی امور کے سلسلے میں وارد کشمیرہوئے ہیں؟
 اسلام میں ہر فرد پر لازم ہے کہ اہل سیرو سفر اور اہل تحقیق و فکر و نظر ہو۔ اسلام میں تاکید کی گئی ہے کہ ہر ملت ، اسکی اقدار، کلچر ، رہن سہن سے مطلع ہو، تمام قوموں سے آشنا ہو ہر ملت اپنے وجود ایک دانشگاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہاں کے لوگ ، حوزہ ، افکار سب کچھ خود اپنی جگہ ایک کتاب ہے، اسکا جاننا ضروری ہے۔
بر صغیر کہ جس میں مختلف تہذیبوں ، زبانوں اور افکار کے لوگ رہتے ہیں سے اگر نا آشنا رہیں تو سمجھ لیجئے کہ انسان ایک عظیم سرمائے سے محروم رہ جائے گا ، میں تو یہی کہوں گا کہ علما اسلام کو چاہیے کہ اس ملک کا سفر کریں، ان سرسبز خطوں کا سفر کریں ، لوگوں سے آشنائی حاصل کریں اور پھر کلچر کے لحاظ سے ردوبدل کریں، کیونکہ اقتصاد کی طرح علم و فکر اور تہذیب کا تعامل بھی ضروری ہے۔اور یہ چیز یں سوائے تبادل نظر ، گفتگو اور رد وبدل کے ممکن نہیں ہے۔ میری نظر میں کشمیر کو اسلئے ایران صغیر کہا جاتا ہے کیونکہ ایک تو آقا سید علی ہمدانی یہاں دو سو علماء کے ساتھ تشریف لائے اور ان کے آنے سے ان دوملکوں میں ایک اشتراک پیدا ہوگیا کیونکہ یہاں کے بعد میر ہمدانی تاجکستان وغیرہ گئے گویا انہوں نے کشمیر کوپلیٹ فارم کے طور پر قرار دیا تھا۔ اگر چہ انہیں مرد خانقا ہی کہا جاتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ انہوں نے اسی شکل میں اسلام ناب محمدی ۖ کو گوں تک پہنچایا اور پھیلا یا جیسا کہ ان کی کتابوں سے پتہ چلتا ہے وہ صرف مرد خانقاہی نہیں تھے بلکہ ایک عظیم عالم، مفکر اور دانشور تھے۔دوسری چیز اقتصادی لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ شاہراہ قرا قرم جو چین سے گزرتی ہے کشمیر ان تمام ملکوں کو ملانے میں اہم رول ادا کرتا ہے اور یہیں سے ایران کا کلچر ایرانیوں کے ذریعہ دین اسلام کی ترویج باقی مالک میں ہوئی، اس سلسلے میں جغرافیہ دان ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔ میں نے چین میں دیکھا کہ وہاں شہر شیانگ میں ٤٠٠ ایرانی خاندان رہتے ہیں اور ان کی بول چال کلچر سب کچھ ایرانی ہے۔ اسکے علاوہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ یہاں کی کتابت بھی فارسی و عربی کی طرح ہے۔ اس بناء پربھی ا سے ایران صغیر کہتے ہیں ۔ بہر حال میں یہاں پر مذہبی امور کے سلسلے علماء ، فضلاء ، مدرسین ، حوذہ ھای علمیہ کی زیارت کرنے آیا ہوں۔

 اگرچہ آپ نے فرمایا کہ آپ سیاسی دور ے پر نہیں آئے ہیں لیکن پھر بھی یہ پوچھنا چاہیں گے کہ آپ کی نظر میں کشمیر کے مسئلے کی کیا اہمیت ہے اسکے علاوہ آپ کاکشمیر کے لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟
 اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ حکام کو جاننا چاہیے کہ یہ انقلاب ضعفاء اور مظلومین کی مدد کے لیے اور مستکبرین کو خاک مذلت پر بٹھانے کے لیے بپا کیا گیا ہے۔ امام خمینی نے یہ انقلاب صرف اسلئے برپاکیاتا کہ اسلام کے دشمنوں کو شکست دی جائے۔ وہ بھی ان حالات میں کہ جب دشمن چاروں طرف سے گھیرا کئے ہوئے تھے، ایک طرف سے سویت یونین تو دوسری طرف سے امریکہ کے طرفدار، امام خمینینے ان حالات میں یہ انقلاب برپا کیا تاکہ اسلام سربلند ہو، مظلوم قومیں کھڑی ہوسکیں اور مستکبر و مستبدقوتیں ذلیل ورسوا ہوجائیں۔ ہماری حکومت کو چاہیے کہ اس ملت کشمیر جو ایران کو دل سے چاہتی ہے کی طرف توجہ کرے اور آئندہ اسے اپنے لائحہ عمل میں جگہ دے ١٩٩٠ میں رفسنجانی صاحب نے کشمیر کی طرف اچھی خاصی توجہ کی ، اس سلسلے میں ہم ان کی تمجید و تقدیس کرتے ہیں لیکن موجودہ حکومت کو بھی اس قوم کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور کشمیر کے ایجنڈے کو اپنے پروگراموں میں سرفہرست رکھنا چاہیے۔کیونکہ ایران اور ایران دوم(صغیر) کا آپس میں رشتہ جڑا ہوا ہے اور یہ ہر گز کٹ نہیں سکتا۔
کشمیر کے لوگوں کا کہا کہنا ، ان کی فطرت پاک و پاکیزہ ، مہمان نواز نہایت ہی خوش اخلاق ہیں ، اسلام کے دلدادہ ہیں ، میں ان کا نہایت ہی مشکور ہوں خاصکر حسینی مجالس میں میں نے ان کے اندر جو حسینی جذبہ دیکھا وہ قابل تحسین ہے اور دنیا کی کسی بھی قوم میں اس طرح کا شوق و جذبہ دیکھنے کو نہیں ملتا خاص کر وہ قوم کہ جس نے صرف امام حسین  کا نام سنا ہے اور بس لیکن امام  کے ایسے عاشق دیکھنے کو کہاں ملتے ہیں۔ اس اسلام دوست قوم کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔
ہاں ایک بات جو مجھے پہلے کہنی چاہیے تھی حضرت آیة العظمیٰ مکارم شیرازی نے یہاں کے علماء اور قوم کو سلام بھیجا ہے۔ ان کے ساتھ علامہ افتخار حسین انصاری نے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی اور انہیں کشمیر آنے کی دعوت دی۔ آقا مکارم شیرازی صاحب نے بھی فرمایا کہ میں کوشش کروں گا کہ اس خوبصورت اور سرسبز خطے اور یہاں کے رہنے والے متدین لوگوں کا دیدار کروں

ہماری دانشگاہ میں فارسی زبان کا علیٰحدہ ڈیپارٹمنٹ ہے، فارسی زبان کے تعلق سے یہاں کی یونیورسٹی میں کافی کام ہوا ہے۔ ایران کی طرف سے اس کام میں خاصا تعاون نہیں دیاگیا، صرف ایک بار کتابوں کی نمائش منعقد کی گئی ۔ اگر چہ یہاں کی یونیورسٹی ایرانی سفارت کو اپنے پروگراموں میں دعوت دیتی رہتی ہے لیکن  شخصیات ، نظریات اور علم و دانش کا تبادلہ نہیں ہورہا ہے؟
میرے لئے فخر کی بات ہے کہ ڈاکٹر امجد صاحب جو قم ایران میں گلپا ئیگانی ہسپتال کے چیرمین تھے، نے کافی اصرار کیا کہ کشمیر کا سفر کریں، کچھ مدت پہلے علامہ افتخار حسین انصاری صاحب جو ہمارے ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں نے بھی مجھے کشمیر میں آکر حالات ، یہاں کے لوگوں اور یہاں کے کلچر کا مطالعہ کرنے کی عوت دی اور خدا نے مجھے توفیق دی کہ میںیہاں آگیا۔ میری نظر میں یہ صحیح ہے کہ ہم لوگوں کو فرھنگ و کلچر کا ردوبدل کرنا چاہیے۔ یہاں کے دانشوروں کو وہاں لیا جانا چاہیے اور وہاں کی مفکر شخصیات کو بھی یہاں آنا چاہیے۔ اور میں مانتا ہوں کہ یہ کمزوری ہمارے ایجوکیشن ڈیپارٹنمنٹ ، سازمان فرہنگ وار تباطات اور دوسرے متعلقہ اداروں میں ہے اور میں جاکر ان اداروں پر زوردوں گا کہ یہاں پر فرہنگی تبادلہ وغیرہ کے لئے اقدام کریں۔ اسکے علاوہ ہر ایرانی ہر دلخواہ کام کرے ہم اسے جمہوریہ اسلامی ایران کی طرف منسوب نہیں کرسکتے بلکہ ہر غلط کام بالآخر غلط ہے۔جیسا کہ آپ نے اپنے سوال میں کہا کہ بعض لوگ ایران کی سے آتے ہیں لیکن ان کے افعال ایران اسلامی کے شایان شان نہیں ہوتے، بالکل یہ غلط بات۔
بہر حال میں خوش ہوں کہ اپنے ہی خاندان کے عضو کو یہاں پر دیکھتا ہوں، میں نے مولانا افتخار حسین انصاری صاحب کی سیاسی اور معنوی منزلت کا جو مشاہدہ کیا، اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے نام کو سن کر انسان یہی کہہ سکتا ہے کہ وہ ایک عام سے مولوی ہیں لیکن جب ان کے مقام کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا جائے تو ان کی واقعی منزلت ، ان کی فعالیت، تلاش و کوشش معلوم ہوتی ہے۔

کیا آپ نے کشمیر میں سیاسی، ثقافتی اور مذہبی شخصیات سے ملاقات کی؟
سیاسی تو نہیں البتہ علماء سے ملاقات کی، اسلامی حوزوں کا دیدار کیا، طلاب سے ملا اور یہاں کی تقافت سے وابستہ شخصیات اور دانشگاہوں کے اساتذہ سے بھی ملاقات کی۔
 
آپ کشمیری قوم  کیلئے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
میں نے اپنے نظریات کو تو پہلے ہی بیان کردیا، پھر بھی میں کچھ کہنا چاہوں گا۔سب سے پہلے علماء سے میری درخواست ہے کہ اس ملت کو جو مغرب کے اثر سے کافی دور ہے کی مضبوطی اور فلاح وبہبود کیلئے قدم اٹھائیں اور اسے غیروں کے اثر سے بچائیںمحکم ومضبوط طریقے سے اس قوم کی ناؤ سنبھالیں، حوزوں کی حفاظت کریں، اسلام و مسلمین بلکہ دوسرے ادیان کے درمیان بھی وحدت وجود میں لائیں۔
اپنی امت مسلمہ کیلئے میرا پیغام یہی ہے کہ کہ آج کے دور میں صرف وہی قوم زندہ ہے جو جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی کے فن سے آراستہ ہو اور ساتھ ہی دین اسلام اور اس کے اصولوں پہ اعتقاد رکھتی ہو، جس قوم میں یہ دو عنصر نہ پائے جائیں وہ زندہ نہیں رہ سکتیں۔رسول اکرم ۖ کے زمانے میں امت مسلمہ میں یہی دو خصوصیات پائی جاتی تھیں لہذا انہوں نے ترقی کی اور دین و دنیا میں سرخرو ہوئے۔
آپ کا بہت بہت شکریہ۔اس کے ساتھ ہی میں جناب مولانا افتخار حسین انصاری صاحب سے عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ نے آقا مہدی انصاری صاحب کو جن مقاصد کیلئے یہاں دعوت دی تھی، آپ کی نظر میں کیا وہ اہداف ومقاصد پورے ہوئے؟
مولانا افتخار انصاری : موسوی صاحب! شکریہ،میں آقا شیخ مہدی انصاری صاحب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہماری دعوت قبول فرمائی اور یہاں آئے، ہم نے ان کیلئے ہر سہولت کو فراہم رکھا اور جہاں انہوں نے جانا مناسب سمجھا، ہم نے ان کیلئے راہ ہموار کی۔ وہ علمائ،مختلف شخصیات اور حوزوں کا دیدار کرنے گئے۔ میں علمی شخصیات کو دوست رکھتا ہوں،آقا مہدی کی طرح ہر روشنفکر اور دوراندیش کو دعوت کرنا چاہتا ہوں ، سبھی جانتے ہیں کہ ہم اس امت مسلمہ کا جزو لا ینفک ہیں اور ایسے صالح علماء اور دانشوروںسے امید ہے کہ ہماری رہنمائی کرتے رہیں گے اور آئندہ بھی تشریف لاتے رہیں گے۔





بک مارک: Add to your del.icio.us del.icio.us | Digg this story Digg

تبصرے (0 پوسٹ):

تبصرہ کریں comment

براے مہربانی کورڑ نمبر دیکھ کر لکھیں

  • email اپنے دوست کو ایمیل کریں
  • print پرنٹ کے لے
  • Plain text پلین ٹیکسٹ
ٹیگ
اس مضمون کے کوئی ٹیگ نہیں
اس مضمون کو رتٹ کریں
3.00
The Daily Etalaat Srinagar