کشمیر پولیس!
کشمیر پولیس کا پرامن مظاہرین کیخلاف طاقت کا بے تحاشا استعمال عوام کیلئے باعث تشویش بن گیا ہے۔ اسکی کئی وجوہات ہوسکتی ہے تربیت میںکمی، انسانی جان کی قدرو قیمت سے واقف نہ ہونا، افسروں کی طرف سے دی گئی کھلی چھوٹ یا پھر صبر و تحمل کا فقدان۔ جہاں تک تربیت میں کسی قسم کی کمی رہ جانے کا تعلق ہے تو اسکا امکان بہت ہی کم ہے اور پھر جموں اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکاروں کی تربیت الگ الگ بھی نہیں ہوتی۔ افسروں کی طرف سے کھلی چھوٹ کوئی انوکھی بات نہیں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ ہاں انسانی جان کی قدرو قیمت سے نا واقفیت ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے اور جو لوگ انسانی جانوں کے زیاں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے یا اس سلسلے میں انہیں کوئی افسوس نہیں ہوتا وہ خود بھی انسان کہلانے کے مستحق نہیںہوسکتے۔ جہاں تک صبر و تحمل یا بردباری کا تعلق ہے اس بارے میںکہا جاسکتا ہے کہ کشمیر پولیس کے اہلکاروں میںاسکی رمق بھی دیکھنے کو نہیںملتی۔ مظاہروں کے دوران چھوٹے بچوں کو جانوروں کی طرح گھسیٹنے ، انہیں مادر زاد ننگا کرنے اور بے تحاشاہ پیٹنے کے واقعات اس بات کے گواہ ہیں کہ کشمیر پولیس کے اہلکار ہمدردی کے جذبات سے بھی عاری ہیں اور صبر وتحمل اور برداشت جیسے الفاظ سے بھی غیر مانوس ہیں۔ کشمیر پولیس کے افسر حالانکہ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ پر امن مظاہروں پر انہیں کوئی اعتراض نہیں اور یہ عوام کا حق ہے لیکن درجن بھر بچے بھی کہیں نعرہ بازی کرتے نظر آئیں تو انکی سانس پھول جاتی ہے، غصہ ساتویں آسمان پر چڑھ جاتا ہے اوربچوں پر اس طرح ٹوٹ پڑتے ہیں جسطرح میدان جنگ میں ٹینکوں اور توپوں سے لیس سپاہی اپنے دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ لاٹھیاں اس طرح برساتے ہیں کہ زدمیں آئے انسان کی ہڈی پسلی ایک ہوجائے اور وہ عمر بھر کیلئے ناکارہ بن کر رہ جائے۔ کئی بار تو جان بوجھ کر سر پر بھی وار کیا جاتا ہے تاکہ بچنے کے امکانات کم ہی رہ جائیں۔ اشک آورگولوں کی تو برسات کر کے بھی ان کا جی نہیں بھرتا۔ حالانکہ بیس تیس لوگوں کی بھیڑ کو تتر بتر کرنے؛ کیلئے ٹیئر گیس کا ایک شل بھی کافی ہوتا ہے لیکن جب تک یہ لوگ درجن بھر گولے نہیں پھینکتے انہیں چین نہیں آتا۔ یہی پیمانہ گولیوں کے استعمال کے حوالے سے بھی زیر نظر رکھا جاتا ہے۔
طاقت کے استعمال کے تعلق سے پولیس کیلئے الگ الگ طریق کار مقرر ہے۔ پر امن مظاہرین کو منتشر کرنا ہوتو ایک آدھ ٹیر گیس شل کا استعمال کیا جاسکتا ہے اور اسے احتیاط کے ساتھ سڑک پر پھینکنا لازمی ہوتا ہے تاکہ کوئی شخص اسکی زد میں نہ آسکے۔ کشمیر پولیس ٹیر گیس شلوں کو بے تحاشا پھینکنے پر آتی ہے تو اس بات کا کوئی خیال نہیںرکھتی کہ شل کہاں جاکے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھروں کے اندر بیٹھے ہوہئے لوگوں کو بھی شل لگے ہیں اور بے گناہ راہ چلتے لوگ بھی شل لگنے سے جان بحق ہوئے ہیں۔ چنانچہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیںرہتی کہ ٹیر گیس شل پھینکنے والے پولیس کے اہلکار یا تو غیر تربیت یافتہ ہیں یا پھر انہیں انسانوں کو قتل کرنیکی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ لاٹھی چارج کے حوالے سے بھی یہی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے حالانکہ لاٹھی چارج کا مقصد ہجوم کو ڈرانا ہوتاہے نہ کہ انہیںاسقدر زد کوب کرنا کہ جان کے لالے پڑ جائیں جبکہ گولی کا استعمال ناگزیر حالات میںکیا جاتا ہے ۔ کشمیر پولیس حالانکہ قانون کی محافظ کہلاتی ہے لیکن خود کو قانون سے بالا تر سمجھتی ہے اور انسانی جانوں سے کھلواڑ کا تو جیسے اسے چسکہ پڑ گیا ہے۔ چند آدمی بھی کہیں ایک ساتھ کھڑے نظر آئیں تو اسے الرجی ہوتی ہے اور وہ لاٹھیوں اور ٹیر گیس شلوں کے بے تحاشا استعمال کرنے کیلئے اُتاولی نظر آتی ہے۔
یہ صورتحال کشمیریوں کیلئے نا قابل برداشت بنتی جارہی ہے جبکہ کشمیر پولیس کے ہاتھوں معصوم، نہتے اور بے گناہ شہریوں کا قتل اس کی شبیہ کو مسخ کرنے کا باعث بن رہا ہے اور اس فورس کے تئیں عوام کے دلوں میںنفرت کے جذبات بڑھتے جارہے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کشمیر پولیس کے اہلکار اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ ان لوگوں سے انکا قریبی تعلق ہے جنکے خلاف وہ طاقت کا بے تحاشا استعمال کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیںجانے دیتے۔ چند عورتیںپینے کے پانی کی عدم فراہمی پر احتجاج کریں اور ان کو سمجھا بجھا کر گھروں کو لوٹنے کیلئے آمادہ کرنے کے بجائے انکے ساتھ ہاتھا پائی کی جائے تو پولیس اہلکاروںکی عقل پر ماتم کرنے کے سوا اور کیا کیاجاسکتا ہے۔ مائسمہ کے نوجوان کے سینے کو نشانہ بنانا اور ٹیر گیس شل داغ کر اسے قتل کرنا کشمیر پولیس کی بربریت کی تازہ مثال ہے۔جموں پولیس نے بھی اگر یہی طرز عمل اختیار کیا ہوتا تو وہاں آج تک سینکڑوں افراد قتل ہوگئے ہوتے ۔کشمیر پولیس اگر صبر وتحمل اور برداشت کا سبق جموں پولیس سے سیکھ لے تو شاید اسکے ہاتھ معصوموںکے خون سے رنگنے سے بچ جائیں گے ۔
اس مضمون کو رتٹ کریں



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں