دعوے اور حقائق | اداریہ | ہوم

دعوے اور حقائق

فونٹ سائز Decrease font Enlarge font

 جموں میں صورتحال کی بہتری کے حوالے سے سرکار کے بلند بانگ دعوئوں کے باوجود زمینی حقائق کچھ اور کہانی پیش کررہے ہیں اور سرکاری دعوے سراب ثابت ہورہے ہیں۔ سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک بحال کرنے کے تعلق سے ریاست کے چیف سیکریٹری نے سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران یقین دہانیاں کرائیں اور دعویٰ کیا کہ سرینگر سے لکھن پور تک مال بردار ٹرک فوج کی حفاظت میں چلیںگے اور میوہ لے جانے والے ٹرکوں کیلئے مناسب سیکورٹی فراہم کی جائیگی۔ اس دوران سرکار کی طرف سے جو بیان اخبارات کیلئے جاری کیا گیا۔ اس میں عوام کو یہ خوش خبری سنائی گئی کہ سرینگر سے لکھن پور تک پھیلی ہوئی شاہراہ پر حفاظتی بندوبست کی نگرانی خود گورنر کررہے ہیں اور فورسز کی کڑی نگرانی میںکشمیر سے ہندوستان کی مختلف منڈیوں کیلئے میوے سے بھرے ٹرک روانہ کردیئے گئے ہیں جبکہ وادی کیلئے اشیائے ضروریہ اور پیٹرولیم مصنوعات سے لدے ٹرک سرینگر کی جانب رواں دواں ہیں ۔شاہراہ پر ٹریفک مکمل طور بحال کردیا گیا ہے اور جموں سے روانہ ہوئے چار سو ٹرک کسی بھی وقت سرینگر پہنچ سکتے ہیں۔ اسی طرح میوئوں سے لدے ایک سو چھبیس ٹرک وادی سے جموںکی طرف روانہ کردیئے گئے۔ سرکاری بیان کے مطابق ریاست کے گورنر سرینگر لکھن پور شاہراہ کو ہر قیمت پر کھلا رکھنے اور اس پر حفاظت کے ساتھ گاڑیوں اور ٹرکوں کی آمد و رفت کو یقینی بنانے میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں اور حفاظتی اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ، پیٹرولیم مصنوعات اور میوے سے بھرے ٹرکوں کی آمدورفت شروع ہوگئی ہے اور اگلے چند روز میں لوگوں کی تمام مشکلات حل ہوجائیںگی۔
    ریاست کے چیف سیکریٹری کی طرف سے پریس کانفرنس میںکی گئی یقین دہانی اور سرکار کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں درج دعوے حقیقت کی کسوٹی پر بالکل نہیں اُترتے اور حقائق سرکاری دعوئوں کے بالکل اُلٹ نظر آرہے ہیں۔ چیف سیکریٹری کی یقین دہانیوں اور اعلانات کے باوجود ادھمپور سے میوہ سے لدے ٹرکوں کو واپس سرینگر بھیج دینے کی اطلاعات ہیں۔ ادہمپور میں پولیس اور فورسز کے آشیر واد سے ہندو بلوائیوں نے کشمیری ٹرک ڈرائیورں کو زندہ جلانے کی کوشش کی۔ مال سے لدے ٹرک ادھمپور میںچھوڑ کر زخمی حالت سرینگر پہنچے ڈرائیورں پر جو کچھ بیتی ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیںکہ گورنر لاکھ کوشش کریں۔ سخت ہدایات جاری کریں، ذاتی طور نگرانی کی باتیں کریں۔ سننے اور عمل کرنے والا کوئی نہیں۔ صوبہ جموں کی پولیس جو بانہال سے لکھن پور تک امن وقانون کی ذمہ دار اور لوگوں کی محافظ کہلاتی ہے خود سر ہوچکی ہے۔ سرکاری احکامات کو حقارت کی نظروں سے دیکھتی ہے اور ہندو بلوائیوں کی معاون و مدد گار ہونے میں فخر محسوس کررہی ہے۔ جموں شہر ہو یا لکھن پور ، کٹھوعہ، سانبہ، ہیرا نگر، بشناہ، پونچھ، راجوری، ڈوڈہ، بھدرواہ یا اور کوئی علاقہ یا پھر لکھن پور سے بانہال تک پھیلی ہوئی شاہراہ 'پولیس نے ہرمقام پر لوگوں کی حفاظت کے بجائے فسادیوں کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کو اپنے فرائض میں شامل رکھا۔ تشدد کو بڑھاوا دینے میں پیش پیش رہی اور ہندو بلوائیوں کی انسانیت سوز کاروائیوں میںمعاونت کرنے کا بھی کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔
    ادہمپور سے جان بچاکر آنے والے ڈرائیوروں کے مطابق سرینگر کی طرف آرہے ٹرک کانوائے میںشامل کشمیر سے تعلق رکھنے والے تیرہ ڈرائیوروں کو پولیس نے ہی الگ کر کے ایک طرف لے جاکر کھڑا کردیا اور پھر ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں ان پر جان لیوا حملوں، شدید مارپیٹ اور زندہ جلانے کی کوششوں کا تماشہ دیکھتی رہی۔ ان میں تین ڈرائیور تو بری طرح سے زخمی ہونے کے بعد ٹرک چھوڑ کر فرار ہونے کے بعد کسی طرح سرینگر پہنچنے میںکامیاب ہوگئے جبکہ باقی ڈرائیوروں کے بارے میں وہ کچھ بھی بتانے سے قاصر ہیں۔ سانبہ اور ہیرانگر میں میوے سے لدے سات ٹرکوں کو ہندو بلوائیوں نے رات کے وقت لوٹ لیا اور ڈرائیوروں کی شدید مارپیٹ کی۔ ڈرائیوروں نے ہیرا نگر پولیس سٹیشن میں رپورٹ درج کرانی چاہی تو پولیس نے ان سنی کردی اور ڈرائیوروں کو نامراد لوٹنا پڑا۔
    ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ بانہال سے لکھن پور تک پھیلی ہوئی شاہراہ پرمال بردار ٹرکوں اور گاڑیوں کی آمد و رفت دن رات جاری رہتی ہے اور یہ تب ہی ممکن ہوتا ہے جب انہیںروکنے یاٹوکنے والا کوئی نہیںہوتا۔ صورتحال تبدیل ہوچکی ہے اور انتہا پسند ہندو شاہراہ پر ٹریفک میںخلل ڈالنے کا برملا اعلان کرچکے ہیں۔ پولیس ان کی پشت پناہی کررہی ہے۔ یعنی انہیںلوٹ مار، ٹوڑ پھوڑ اور مار دھاڑ کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ ایسے میں ڈرائیوروں خاص کر کشمیر سے تعلق رکھنے والے ڈرائیوروں جنکے ساتھ ہندو انتہا پسندوں کو خدا واسطے کا بیرہے کیلئے اس شاہراہ پر ٹرک لے کر چلنا مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آتا ہے۔ اور اس سلسلے میں محض یقین دہانیاں اور بیانات جاری کرنا دل بہلانے کی کوششوں کے مترادف ہے۔ جب تک جموں پولیس کو جواب دہ بناکر فرائض کا احساس نہیں دلایا جاتا اور بلوائیوں کے ساتھ اسکا اور فورسزکا دوستانہ رویہ تبدیل نہیں ہوتا 'صورتحال میں بہتری کی امید رکھنا ایک ایسا خواب ہے جسکی کوئی تعبیر نہیں۔

بک مارک: Add to your del.icio.us del.icio.us | Digg this story Digg

تبصرے (0 پوسٹ):

تبصرہ کریں comment

براے مہربانی کورڑ نمبر دیکھ کر لکھیں

  • email اپنے دوست کو ایمیل کریں
  • print پرنٹ کے لے
  • Plain text پلین ٹیکسٹ
ٹیگ
اس مضمون کے کوئی ٹیگ نہیں
اس مضمون کو رتٹ کریں
0
The Daily Etalaat Srinagar