نیا چلینج : جموں کے ساتھ امتیاز! | اداریہ | ہوم

نیا چلینج : جموں کے ساتھ امتیاز!

فونٹ سائز Decrease font Enlarge font

حالیہ شورش کے دوران پہلی بار نئی دہلی کے انگریزی اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں پر کشمیر کے حوالے سے کافی بحث و مباحث دیکھنے کو مِلا۔ جموں میںسنگھرش سمیتی کے فرقہ پرست اور پر تشدد حالات کو مدّ نظر رکھ کر اِن مباحث میںجہاں امر ناتھ یاترا شرائن بورڈ کی زمین پر مختلف زاویوں سے مختلف افراد اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کرتے رہے ہیں وہیں پر ایک دوسرے موضوع کو بھی بار بار اچھالا جاتا تھا۔ وہ یہ کہ جموں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔ اکثر ٹیلی ویژن اینکر اپنے تعارفی کلمات میںکہتے تھے کہ مسئلہ صرف سنگھرش سمیتی کا ہی نہیں ہے بلکہ اس عوامی جذبہ کے پیچھے اصل میں جموں کے ساتھ ہورہی نا انصافیاں بھی شامل ہیں۔ سمیتی کے لیلہ کشن شرما نے کئی بار یہ بات دہرائی کہ جموں کے ساتھ کشمیر کی حکومت امتیازی سلوک کرتی رہی ہے۔
ایک پروگرام میں فاروق عبداللہ نے کبھی کہا کہ چونکہ جموں کیساتھ علاقائی سطح پر سرکار اور نوکریوں میںامتیازی سلوک روا رکھا گیاہے اس لئے جموں کے لوگ اس پر بھی خائف ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بلراج پوری نے اپنے کئی مضامین میںسارا زور بیان اس بات پر صرف کیا ہے کہ جموں والے دہائیوں سے علاقائی خود مختاری مانگتے رہے ہیں جو انہیں آج تک نہیںدی گئی اس لئے انکے ساتھ علاقائی اور صوبائی سطح پر امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے۔ یہ انہی نا انصافیوں کا نتیجہ ہے کہ لوگ اس بار شرائن بورڈ کی زمین کے متعلق سے میدان میں اترے ہیں۔ بلراج پوری نے یہ بھی لکھا ہے کہ انہوں نے 1952میں شیخ عبداللہ اور جواہر لال نہرو کو بار بار یہ بات سمجھائی اور ان سے یقین دہائی بھی حاصل کی کہ جموں کو صوبائی خود مختاری دی جائے تاکہ ان پر کشمیر راج کے امتیازات کا خاتمہ ہو۔ دراصل لیلہ کشن شرما سے بلراج پوری تک سارے لوگ جموں کے مسلمانوں کے خلاف انسانیت سوزجرائم اورپونچھ، راجوری، ڈوڈہ اور وادی کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی کے سنگین جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوششیں کرتے رہے ہیںہمارے سیاست دانوں ، صحافیوں اور دانشوروں کیلئے ایک چلینج بن چکا ہے۔ وہ یہ بات ثابت کریں کہ جموں کے فرقہ پرست محض جھوٹ اور افتراء سے کام لے رہے ہیں۔ بد قسمتی سے نئی دہلی کا میڈیا کافی حد تک بے خبری اور کچھ کشمیر دشمنی کی وجہ سے جموں صوبہ کے ساتھ امتیازات کا راگ الاپ رہا ہے۔
جموں کے ساتھ صوبائی امتیاز کو ایک نئی سیاسی آئیڈیو لوجی بنایاجارہا ہے۔ بادی النظر میںاس بات میںکوئی حرج نہیں کہ اگر کوئی اس طرح کی بحث حقائق اور دلائل کے ساتھ کرے۔ لیکن حقائق اور دلائل یہ بات ثابت نہیںکرتے ہیں۔ خطرناک بات یہ ہے کہ جموں صوبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کو ایک بنیاد بناکر کشمیر میں ظلم و زیادتیوں کیلئے ایک جوازیت دی جارہی ہے۔ دوسرے الفاظ میںیہ کشمیر کے عوام کے خلاف ایک نظریاتی جنگ ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ اس وقت بیوروکریسی میں صوبہ جموں غالب ہے۔ KASمیں صوبہ جموں سے تعلق رکھنے والے ایک مخصوص فرقہ کے افراد کا غلبہ ہوتا جارہا ہے۔ ایک ماہر کے بقول آئندہ تین سالوں میں بہت سارے مسلمان بیورو کریٹ ریٹائر ہورہے ہیں اور نئی پود جموں سے لائی جارہی ہے یوں KASاصل میں JASبنتا جارہا ہے۔ گذشتہ بیس سال کے نا مساعد حالات کا بہانہ بناکر ترقیاتی رقوم اور صنعتی ترقی کے مدوں کی رقومات کا Liores shareجموںکو دیا گیا۔ بیس سال پہلے جموں کشمیر تین کوچوں پرمشتمل تھا آج وہ ایک بڑاشہر بن چکا ہے۔ ہمیںجموں کی ترقی کے بارے میںکوئی اعتراض نہیں ہے لیکن جموں کیساتھ امتیاز محض بہتا ن اور جھوٹ ہے۔ کشمیر کے دانشوروں اور صحافیوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ حقائق اور اعداد و شمار کے ساتھ اس جھوٹ کا پول کھول دیں۔ ساتھ ہی ہمیں بار بار یہ سوال بھی اُٹھانا چاہئے کہ کس جموں کی بات کررہے ہیں؟ صوبہ جموں کے دس میںسے چھ اضلاع میںمسلمان اکثریت میںہیں۔ یہی مسلم اکثریتی ضلع، پونچھ، ڈوڈہ، راجوری، ریاسی، رام بن کشتواڑ اصل میںپسماندہ ہیں۔ ساری رقومات ادھم پورہ ،جموں، کٹھوعہ اور سانبہ پر صرف ہوتی رہی ہیں۔ اصل میں ہندو اکثریتی جموںنے مسلم اکثریت جموں خطہ کے ساتھ گذشتہ ساٹھ سالوں سے امتیازی سلوک کررکھا ہے۔موجودہ پرتنائو اور تنازعہ والے حالات میںجس انداز سے جموں کو ''مظلوم'' ثابت کرنے کی کوششیں جاری ہیں اس سے صاف نظر آتا ہے کہ کشمیر میں سخت گیر اور ظلم کو بڑھاوا دینے والے اقدامات کیلئے راہ ہموار کی جارہی ہے۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ کشمیر کے سیاست دان ، صحافی اور دانشور اس بہتان تراشی کی مہم کا حقائق اور دلائل سے جواب دیں۔

بک مارک: Add to your del.icio.us del.icio.us | Digg this story Digg

تبصرے (0 پوسٹ):

تبصرہ کریں comment

براے مہربانی کورڑ نمبر دیکھ کر لکھیں

  • email اپنے دوست کو ایمیل کریں
  • print پرنٹ کے لے
  • Plain text پلین ٹیکسٹ
ٹیگ
اس مضمون کے کوئی ٹیگ نہیں
اس مضمون کو رتٹ کریں
0
The Daily Etalaat Srinagar