اِتنظامیہ کی جانب داری | اداریہ | ہوم

اِتنظامیہ کی جانب داری

فونٹ سائز Decrease font Enlarge font

شرائن بورڈ کومحکمہ جنگلات کی 800کنال اراضی کی منتقلی کیخلاف وادی میںشدید رد عمل کے نتیجے میں اس حوالے سے جاری کئے گئے احکامات کی منسوخی کے بعد جموں میں دو ماہ تک چلائی گئی طویل ایجی ٹیشن کے دوران ریاستی انتظامیہ کے اعلیٰ افسروں نے جو رول ادا کیا ہے اسے کسی بھی صورت میںمثبت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ خاص طور صوبہ جموں سے تعلق رکھنے والے افسروں کا کردار نہ صرف مشکوک بلکہ منفی رہا۔ این این ووہرا کی ریاست کے گورنر کی حیثیت سے تقرری چونکہ اسی پُر آشوب دور میں ہوئی اور وہ صورت حال سے پوری طرح باخبر نہیں تھے، نہ ہی انہیں وادی اور جموں کے زمینی حقائق کی پوری واقفیت تھی اس لئے انہیں انتظامیہ کے ان ڈان نما افسروں نے گمراہ کرنے کی پوری کوشش کی اور اپنی من مانی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ صورت حال قابو سے باہر ہوگئی اور اسے قابو میںکرنے کی خاطر مرکزی حکومت کو مداخلت کرنا پڑی۔ یہ بات اب بالکل ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ جموں سے تعلق رکھنے والے چند افسر امر ناتھ سنگھرش سمیتی کو اپنے مشوروں سے بھی نوازتے رہے اور امن وقانون کی صورت حال کے حوالے سے سخت اقدامات اُٹھانے میںرکاوٹیں بھی ڈالتے رہے۔
وادی کی صورت حال سے نمٹنے کیلئے جو حکمت عملی اپنائی گئی وہ جموں سے بالکل الگ بلکہ اُلٹ تھی۔ یہاں طاقت کا بے تحاشا استعمال کیا گیا اور فورسز اور پولیس کو کھلی چھوٹ دے دی گئی۔اس بات کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا کہ وادی کے عوام پر اسکے کیا اثرات ہونگے اور بے پناہ ظلم و ستم اور جبر و قہر ڈھانے سے لوگوں کے دلوں میں بھارت، گورنر انتظامیہ اور فورسز و پولیس کے خلاف نفرت میںاضافہ تو نہیں ہوگا۔
کشمیریوں کو الگ تھلگ کرنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور یہ کام ریاستی انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے فرقہ پرست ذہنیت کے مالک افسر بڑی چالاکی اور راز داری سے کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ لوگ کیا از خودایسا کررہے ہیں یا کسی کی شبہ اور ہدایت پر کررہے ہیں اس سلسلے میں کچھ کہنا مشکل ہے لیکن ایک بات طبے لے کہ ان کے ان اقدامات سے وادی کے لوگوں کے دلوں میں جموں کے تئیں جو شکائتیں اور خدشات حالیہ مہینوںمیںپیدا ہوئے ہیں وہ تقویت پائیں گے اور جموں اور کشمیر کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا ہوجائیگی جسے پاٹنا مشکل ہی نہیں ناممکن بن جائیگا۔
رکھشا بندھن اور جنم اشٹمی کے تہواروں پر جموں سے تعلق رکھنے والے تقریباً سبھی ملازمین کو جموں جانے کی سہولیات فراہم کی گئیں جسکے نتیجے میں دفاتر خاص کر سیکریٹریٹ میں اُلو بولتے نظر آرہے تھے اور پورا سرکاری کام کاج ٹھپ ہوکر رہ گیا تھا۔ اتنا عرصہ گذرجانے کے بعد بھی ابھی تک سو فیصد ملازمین کی واپسی نہیںہوئی ہے۔ ان ملازمین کی جموں میں موجودگی کا سنگھرش سمیتی نے پورا فائدہ اُٹھایا اور بڑی بے شرمی سے بار بار یہ بات دہرائی گئی کہ ان ملازمین کو وادی سے بھاگنے پر مجبور کیا گیا ہے ۔ اسکے بعد ایک قدم آگے بڑھ کر یہ کہا گیا کہ ان کی زندگی وادی میںمحفوظ نہیں اس لئے اب یہ واپس نہیں جائیں گے۔ اس سلسلے کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ سرکار کی طرف سے اس حوالے سے جموں کے لوگوں کو اصل حقیقت سے روشناس کرنے کی کوئی کوشش نہیںکی گئی بلکہ مجرمانہ خاموشی اختیار کی گئی جس کی وجہ سے سچائی جھوٹ کے پردوں کے پیچھے چھپ کر رہ گئی۔
یہ انکشاف یقینا چونکا دینے والے ہیں کہ جموں میں رہ رہے سرکار کے ان لاڈلے ملازمین کیلئے یہاں سے فائلیں بھجوائی جارہی ہیں تاکہ وہ ان پر کاروائی کرسکیں۔ اسکے علاوہ کچھ محکموں کے متعلق بھی یہ شکایتیں موصول ہورہی ہیں کہ وہ صوبہ جموںسے تعلق رکھنے والے ملازمین کی ناز برداری کرتے ہوئے انہیںدفتری ریکارڈ کے ساتھ جموں منتقل کرنے کی سہولیات فراہم کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں پلوشن کنٹرول بورڈ قابل ذکر ہے۔ جہاں بغیر کسی حکم نامے کے پہلے کشمیری پنڈت ملازمین کو جموںمنتقل کردیا گیا اور اسکے بعد چھ سو کے قریب فائلیں بھی روانہ کردی گئی ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان میںسے بیشتر فائیلوں کا تعلق کشمیر سے ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ این این ووہرا ذاتی دلچسپی لیکر صورت حال کا جائزہ لیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ جموں سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو دربار مو سے بہت پہلے جموں منتقل کرنے کے پیچھے کیا مقاصد کار فرما ہیں۔ اس عمل سے کشمیر سے تعلق رکھنے والے ملازمین کیلئے جموں جانے کی راہیں مسدود کرنے کی سازش تو نہیں رچی جارہی ہے تاکہ جموں اور کشمیر کے درمیان شک و شبہ اور خدشات کی خلیج اس قدر وسیع ہوکہ ایک دوسرے سے علاحدگی کی راہ ہموار ہوسکے…!

بک مارک: Add to your del.icio.us del.icio.us | Digg this story Digg

تبصرے (0 پوسٹ):

تبصرہ کریں comment

براے مہربانی کورڑ نمبر دیکھ کر لکھیں

  • email اپنے دوست کو ایمیل کریں
  • print پرنٹ کے لے
  • Plain text پلین ٹیکسٹ
ٹیگ
اس مضمون کے کوئی ٹیگ نہیں
اس مضمون کو رتٹ کریں
0
The Daily Etalaat Srinagar