کارڈینیشن کمیٹی کی کارڈینیشن؟ | اداریہ | ہوم

کارڈینیشن کمیٹی کی کارڈینیشن؟

فونٹ سائز Decrease font Enlarge font

ڈاکٹرمحمدظفر
ریاست میں پچھلے کئی ہفتوں سے ہورہی سیاسی اتھل پتھل کی وجہ سے یہاں کے ذی شعور طبقے میں ہی نہیںبلکہ یہاں کے سادہ لوح عوام میں بھی سیاسی معاملوں پرغور وخوض کرنے میں سنجیدگی کا پہلو برتری حاصل کر رہا ہے۔اس کا احساس حال ہی میںوادی میں دوائی کی تجارت سے وابستہ انجمنوں کی طرف سے جموں کے ادویہ ڈیپوؤںسے دوائی نہ خریدنے کے فیصلے سے بھی ہوتا ہے۔ سمتی حکومت معاہدے کے استقرارکے بعد وادی کے مسلمانوں میں عدم تحفظ اورعدم اعتماد کا احساس اور بھی گہرا ہوتاجا رہا ہے۔
سمیتی حکومت معاہدے میں جہاں کئی خدشات مضمر ہیں وہیں اس میں چند ایسے واضح اختلافات بھی موجود ہیں جو اس معاہدے کے حوالے سے بھارت کے معروف کالم نگاراورقانون دان اے جی نورانی کے تحفظات کی نہ صرف تائید کرتے ہیں بلکہ اس معاہدے کوقانونی طور پر ناقص اوربے لگام تعبیرات اورتاویلات کیلئے کمزور بھی بنا دیتے ہیں۔مثلاً معاہدے میںزمین کے ''روایتی'' اور''مخصوص'' استعمال کے درمیان واضح اختلاف پایا جاتا ہے جسکی وضاحت لازمی ہے۔معاہدے کے مطابق بورڈ زمین کوصرف''یاترا کے دوران استعمال کرے گا''لیکن اس کے بعدہی اس عرصے کی تحدیدکرنے کے بجائے زمین کو '' وقت وقت پر بورڈ کی ضروریات کے مطابق استعمال ''کرنے کی اجازت دی گئی ہے جو اس معاہدے کو متنازعہ ہی نہیں بلکہ کشمیریوں کیلئے ایک دستاویزِانتباہ بھی بنا دیتا ہے۔اس معاہدے کے فوراً بعد اے جی نورانی کی طرف سے اس حوالے سے منظر عام پر آئے خدشات نے اس معاہدہ کو مزید مشکوک بنادیاہے۔ظاہرہے کہ اس صورتحال میں کارڈینیشن کمیٹی کی ذمہ داریوں میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ ہر ذی شعورکشمیری پر اس سوچ کا غلبہ پختہ ہو رہا ہے کہ شاید کارڈینیشن کمیٹی اس معاملہ کو صحیح جہت میں لینے کی اہل نہیں یا یہ کمیٹی معاملہ کی سنگینی کو بھانپنے میں سنجیدگی سے کام نہیں لے رہی ہے اور 90کی دہائی کے چند غیرمؤثر فارمولازیعنی ہڑتالوں اور''چلو ''پروگراموں کے ذریعے لوگوں کوکشیدہ خاطرکر رہی ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ زمین تنازعہ کے دوران نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبد اللہ نے بار باراپنے بیانات میںمتذکرہ زمین پر'' پِری فیبری کیٹڈ'' رہائش اوربیت الخلاء تعمیر کرانے کی مخالفت کی تھی اورسابقہ آرڈر میںاس کی جگہ ''عارضی''رہائش وغیرہ لکھنے کی پرزوروکالت کی تھی مگر مذکورہ معاہدے میں ''پِری فیبری کیٹڈ'' کا لفظ برقرار ہے اور اس معاہدے کو این سی ہی کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے سب سے پہلے تسلیم بھی کیاہے۔اسی طرح اس مسئلے کو حوالے سے پی ڈی پی بھی حریت کے سلوگنوںکو ہائی جیک کرتے کرتے اب غیر مؤثر ثابت ہوئی ہے اور عوامی حلقوں میں اپنی کشش کھو بیٹھی ہے۔اس لئے مذکورہ معاملے میں عوام کااعتماد قطعاً یہاں کی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کوحاصل نہیںہوسکتا بلکہ اس مسئلے میں عوام کارڈینیشن کمیٹی کواپنا تعاون دے رہا ہے جو اس مسئلہ کے علاوہ وادی کی اقتصادی ناکہ بندی سے پیداشدہ صورتحال اوردوسرے بنیادی مسائل کو بخوبی حل کرنے کیلئے وضع کی گئی تھی ۔مگر چند روز سے جس طرح اس کمیٹی میں کارڈینیشن کا فقدان کھل کرسامنے آرہاہے اس کومد نظر رکھ کریہی کہا جاسکتا ہے کہ کشمیریوں کی قیادت اب بھی بالغ نظر نہیں ہے۔عوام عوام ہے اورقربانیوں سے کبھی بھی دریغ نہیں کرتااسلئے کارڈینیشن کمیٹی کے ذمہ داروں کو سمجھ لینا چاہئے کہ بھانت بھانت کی بولیاں بول کر وہ اس کمیٹی کو بھی حریت کی طرح اپنی بے جابرتری ثابت کرنے کا اکھاڑا نہ بنائیں۔یاد رہے کہ اکثر حریت قائدین کوزندگی نوشرائن بورڈ مسئلے سے ملی ہے اور اس حساس مسئلے میں کسی بھی قسم کی لچک دکھانے پر لوگ ان کو پھر طاق نسیاں کے سپرد کر سکتے ہیں۔
 کارڈینیشن کمیٹی کے اراکین کو عوام کی پر خلوص قربانیوں کا احساس کرتے ہوئے ایک دوسرے سے مقتبس ہونا چاہئے تب جاکر کمیٹی کا کوئی قدم مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ اگرچہ کل حریت(گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے  حریت (ع)کے زیر اثر کارڈینیشن کمیٹی کی طرف سے مشتہر پروگرام کی تائید کرکے دم توڑتی اس کمیٹی کے اندر نئی روح پھونک دی ہے تاہم اس طرح کے وقتی مراہم زیادہ دیر تک ناسور کو پھیلنے سے روک نہیں پاتے اوراگر فوری طور پر کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایاگیا تو اس ناسور کا زہر اس'' جسد وحدت'' کومزید مضمحل بنادیگا اوراس وقت ایسے وقتی مراہم کسی بھی قسم کا فائدہ نہیں دے سکیںگے۔
''اگر اللہ چاہتا تم سب کو ایک ہی گروہ بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے ہدایت دیتا ہے،یقینا تم جو کچھ کر رہے ہو اس کے بارے میں بازپرس کی جانے والی ہے۔''(القرآن:١٦:٩٣)

بک مارک: Add to your del.icio.us del.icio.us | Digg this story Digg

تبصرے (0 پوسٹ):

تبصرہ کریں comment

براے مہربانی کورڑ نمبر دیکھ کر لکھیں

  • email اپنے دوست کو ایمیل کریں
  • print پرنٹ کے لے
  • Plain text پلین ٹیکسٹ
ٹیگ
اس مضمون کے کوئی ٹیگ نہیں
اس مضمون کو رتٹ کریں
0
The Daily Etalaat Srinagar