سبزیوں کی پیداوار مزید بڑھانے کیلئے کئی اقدامات اٹھائے گئے
تکنالوجی مشن کے تحت کسانوں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی
شاہد علی /سرینگر
اس سال قوی امکانات کے تحت وادی میں سبزیوں کی پیداوار 9لاکھ میٹرک ٹن تک جاسکتی ہے اور اس سلسلے میں سرکاری ذرائع نے بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھBuy Back Policyاختیار کرنے کا ارادہ کیاہے تاکہ سبزیوں کی کاشت اور بازار کو مزید وسعت دی جاسکے۔وادی سے 150کروڑ روپے تک سبزیوں کی برآمد بھارت کی دوسری ریاستوں کو جارہی ہے اور امسال اس کا حجم 175کروڑ روپے کی حد پار کرنے کی استطاعت رکھتا ہے۔سال گزشتہ میں 7لاکھ میٹرک ٹن سبزیوں کی پیداوار ہوئی جسکی قدر 700کروڑ روپے بنتی ہیں جس میں قریب 1.25لاکھ میٹرک ٹن سبزیاں برآمد کی جاتی ہے۔
ان اعدادوشمار کا حوالہ زرعی پیداوار کے پرنسپل سیکرٹری ایس سونالی کمار نے نارکرا بڈگام میں سبزیوں کی نرسریز کا معائینہ کرتے وقت کیا ۔
اس ضمن میں انہوں نے کہا ہے کہ ضلع بڈگام سبزیوں کی پیداورا میں تیزی سے ابھر کر سامنے آرہا ہے ۔سبزیاں اگانے والے کسانوں کے مطالبات کے پیش نظر انہوں نے سبزیاں اگانے والوں کیلئے ایک سو پالی گرین ہاوسز Polygreen Houses))منظور کئے۔اس ضمن میں انہوں نے افسران کوہدایت دی ہے کہ وہ سبزیاں اور پھولوں کی پیداوار کرنے والوں کو متعدد سہولیات بہم پہنچائے تاکہ کسانوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہوں۔انہوں نے تکنالوجی مشن کے تحت کسانوں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی دی ۔ا س ضمن میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ نیشنل انشورنس کمپنی سے رابطہ کرکے سبزیوں کی فصل کو انشورنس اسکیموں میں شامل کیاجائے تاکہ کسانوں کو نامساعد ااور خراب موسم کے دوران ہونے والے نقصان کا معاوضہ دیا جاسکے۔انہوں نے Buy Back Policyجس کے تحت بین الاقوامی کمپنیوں سے اس قسم کے متعدد جدید زرعی سہولیات حاصل کی جائے گی تاکہ سبزیوں کی پیداور اور کاشت کو وادی میں مزید مستحکم بنایا جاسکے ۔
وادی کے کئی فروٹ گروورس اور دوسری زرعی ایسو سی شنوں نے اس کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک سرکاری سطح پر زراعت کے مختلف شعبوں کو فروغ نہیں دیا جائے گا تب تک کسانوں اور زراعت سے وابستہ تاجروں کو کوئی خاطرخواہ فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا جس کا بلاواسطہ اثر یہاں بنیادی ضرورتوں پرمرتب ہوجاتا ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ یہ صرف کسا نوں کی محنت کا نتیجہ ہے کہ سبزیوں کی پیداوار میں اس قدر اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ پیداوار کی اس سطح کو برقرار رکھنے اور ترقی دینے کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر زراعت کو فروغ دینا چاہئے اور ہر ممکن جدید سہولت دستیاب رکھنی چاہئے ۔



del.icio.us
Digg
تبصرے (0 پوسٹ):
تبصرہ کریں