<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?> <rss
version="2.0"
xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
><channel><title>سرینگر کشمیر &#187; مقامی خبریں</title> <atom:link href="http://etalaat.com/category/newsfromkashmir/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" /><link>http://etalaat.com</link> <description>روزنامہ اطلاعات</description> <lastBuildDate>Wed, 10 Feb 2010 19:30:53 +0000</lastBuildDate> <generator>http://wordpress.org/?v=2.9.1</generator> <language>en</language> <sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod> <sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency> <item><title>شمالی کشمیر میں حالیہ برف باری سے تباہی</title><link>http://etalaat.com/2010/02/11/avalanch-in-north-kashmir-2/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/02/11/avalanch-in-north-kashmir-2/#comments</comments> <pubDate>Wed, 10 Feb 2010 19:30:32 +0000</pubDate> <dc:creator>Hakeem Aasif Nissar</dc:creator> <category><![CDATA[مقامی خبریں]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=1341</guid> <description><![CDATA[
سڑک رابطے منقطع،عوام کو زبردست مشکلات کا سامنا
شمالی کشمیر میں حالیہ برفباری کے دوران لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ کئی رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا ہے اور سڑک رابطے ابھی تک منقطع ہےں۔اطلاعات کے مطابق شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں حالیہ برفباری کی وجہ سے لوگوں کو زبردست تکالیف [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<p
style="text-align: right;"><p
style="text-align: right;">سڑک رابطے منقطع،عوام کو زبردست مشکلات کا سامنا</p><p
style="text-align: right;"><strong><a
href="http://etalaat.com/wp-content/uploads/2010/02/610x4.jpg"><img
class="size-full wp-image-1342 alignleft" title="India Kashmir Avalanche" src="http://etalaat.com/wp-content/uploads/2010/02/610x4.jpg" alt="" width="356" height="199" /></a></strong>شمالی کشمیر میں حالیہ برفباری کے دوران لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ کئی رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا ہے اور سڑک رابطے ابھی تک منقطع ہےں۔اطلاعات کے مطابق شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں حالیہ برفباری کی وجہ سے لوگوں کو زبردست تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ برفباری کے بعد کئی علاقوں میں راشن ، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ابھی تک کپوارہ ضلع کے بیشتر علاقے گھپ اندھیرے میں ہیں کیونکہ حالیہ برفبار ی سے کھمبے اور سپلائی لائنوں کوکافی نقصان پہنچا ہے۔ انہوںنے کہا کہ اسی طرح سڑک رابطے بھی ابھی تک منقطع ہیں اور سڑکوں سے برف نہیں ہٹائی گئی ہے جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں کو عبور و مرور کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ گاڑیوں کی آمد و رفت میں بھی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کل درگمولہ کپوارہ کے مقام پر درجنوں گاڑیاں کئی گھنٹوں تک درماندہ ہوکررہ گئیں اور ٹریفک جام کے نتیجے میں کئی گھنٹوں تک مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوںنے کہا کہ اسی طرح ضلع کے کپوارہ ، ترہگام، لولاب، لال پورہ، درگمولہ، ہندوارہ، لنگیٹ، کرالہ گنڈ، اش پورہ ، چوگل، گنڈ چوگل اور ہم پورہ پنڈت پورہ کے اندرونی سڑک رابطے بھی کٹے ہوئے ہیں جن سے ابھی تک برف نہیں ہٹائی گئی ہے جبکہ بھاری برفباری کے نتیجے میں سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا ہے اور ٹرانسپورٹ سہولیات کے حوالے سے بھی لوگوںکو مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی لوگوںنے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقہ کی تمام رابطہ سڑکوں سے برف ہٹائی جائے اور تمام علاقوں میں راشن اور دیگر بنیادی سہولیات میسر رکھے جائیں تاکہ لوگوں کو بنیادی سہولیات کیلئے سڑکوں پر نہ آنا پڑے۔ برفباری کے نتیجے میں نگری کپوارہ میں محمد یوسف ڈار ولد غلام احمد کے رہائشی مکان کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ گنڈ چوگل ہندوارہ میں بشیر احمد ملک ولد غلام رسول اور لال کپوارہ میں علی محمد بٹ ولد گلہ بٹ ، سجاد احمد بٹ ولد غلام نبی بٹ کے رہائشی مکانات کو بھی زبردست نقصان پہنچا۔ برفبار ی کے نتیجے میں اس کے علاوہ کئی دیگر رہائشی مکان اور کوٹھہاروں و گاﺅخانوں اور میوہ باغات میں بھی نقصان پہنچا ہے اور مقامی لوگوںنے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوراً سے پیشتر برفبار ی سے نقصان زدگان کو معاوضہ فراہم کیا جائے تا کہ انہیں سردی کے ان ایام میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔</p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/02/11/avalanch-in-north-kashmir-2/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>آسیہ اندرابی کے بچے خوف کا شکار</title><link>http://etalaat.com/2010/02/11/aasiya-andrabis-children-scary/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/02/11/aasiya-andrabis-children-scary/#comments</comments> <pubDate>Wed, 10 Feb 2010 19:30:53 +0000</pubDate> <dc:creator>Hakeem Aasif Nissar</dc:creator> <category><![CDATA[مقامی خبریں]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=1344</guid> <description><![CDATA[مسلسل پولیس کارروائیوں اورچھاپوں کا نتیجہ
سرینگر// دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کے گھر پر پولیس نے چھاپوں کا سلسلہ جاری رکھا ہو ا ہے جس کی وجہ سے آسیہ کے بچے خوف و ہراس کا شکار ہوگئے ہیں۔آسیہ اندرابی کے بڑے بیٹے محمد بن قاسم نے بتایاکہ گذشتہ تین روز سے ان کے گھر [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<p
style="text-align: right;"><strong>مسلسل پولیس کارروائیوں اورچھاپوں کا نتیجہ<br
/> سرینگر//<a
href="http://etalaat.com/wp-content/uploads/2010/02/children_are_scary_by_AmySaD.jpg"><img
class="size-full wp-image-1345 alignleft" title="children_are_scary" src="http://etalaat.com/wp-content/uploads/2010/02/children_are_scary_by_AmySaD.jpg" alt="" width="252" height="358" /></a> </strong>دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کے گھر پر پولیس نے چھاپوں کا سلسلہ جاری رکھا ہو ا ہے جس کی وجہ سے آسیہ کے بچے خوف و ہراس کا شکار ہوگئے ہیں۔آسیہ اندرابی کے بڑے بیٹے محمد بن قاسم نے بتایاکہ گذشتہ تین روز سے ان کے گھر پر پولیس چھاپے ڈال رہی ہے اور ان کی ماں کو تلاش کیا جارہا ہے۔انہوں نے مزید کہا ” میری ماں کسی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر ہیں اور پولیس بھی اس سے باخبر ہے تاہم اس کے باوجود مجھے اور میرے بھائی احمدکونفسیاتی دباﺅ کا شکار بنانے کیلئے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے“۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ شام کو صورہ تھانے سے وابستہ پولیس اہلکار رات ساڑھے نو بجے ان کے گھر میں داخل ہوگئے اور ان کی ماں کے بارے میں پوچھ تاچھ کی اور کل صبح ساڑے پانچ بجے پھر پولیس کی ایک پارٹی نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا ۔محمد بن قاسم نے کہا ”مجھے تو اب بچپن سے ایسے چھاپوں کی عادت پڑگئی ہے مگر میرا چھوٹا بھائی احمد گذشتہ کئی روز سے خوف کے مارے سہما ہوا ہے“۔ قابل ذکر ہے کہ دختران ملت کی سربراہ گرفتاری سے بچنے کیلئے روپوش ہوگئی ہیں اور ان کے دو بچے گھر میں اکیلے ہیں جبکہ ان کا شوہر ڈاکٹر محمد قاسم ایک طویل عرصے سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔آسیہ کا بڑا بیٹامحمد بن قاسم ایسا پہلا بچہ ہے جس نے 6ماہ کی عمر میں اپنی ماں کے ساتھ جیل میں کئی مہینے گذارے ہیں۔</p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/02/11/aasiya-andrabis-children-scary/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>پاکستان کے ساتھ بھارت کے بامعنی مذاکرات؟</title><link>http://etalaat.com/2010/02/11/kashmir-issue-talks-showyhurriyay-g/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/02/11/kashmir-issue-talks-showyhurriyay-g/#comments</comments> <pubDate>Wed, 10 Feb 2010 19:30:37 +0000</pubDate> <dc:creator>Hakeem Aasif Nissar</dc:creator> <category><![CDATA[مقامی خبریں]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=1348</guid> <description><![CDATA[حرےت سے وابستہ لےڈروںکی وسےع پےمانہ پر گرفتاری قابل مذمت :حریت گ
سرینگر// حرےت کانفرنس(گ) نے کل کہا کہ اےک طرف بھارت مسئلہ کشمےر کو حل کرنے کے خاطر پاکستان سے مذاکرات کی تےاری کر رہا ہے لےکن دوسری طرف وادی کشمےر مےں حرےت کانفرنس سے وابستہ لےڈروں اور کارکنوں کی وسےع پےمانہ پر گرفتاری کے [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<p
style="text-align: right;"><strong>حرےت سے وابستہ لےڈروںکی وسےع پےمانہ پر گرفتاری قابل مذمت :حریت گ<br
/> سرینگر// </strong><a
href="http://etalaat.com/wp-content/uploads/2010/02/syed-ali-shah-geelani-2009-11-17-7-41-51.jpg"><img
class="size-full wp-image-1349 alignleft" title="Indian Kashmir" src="http://etalaat.com/wp-content/uploads/2010/02/syed-ali-shah-geelani-2009-11-17-7-41-51.jpg" alt="" width="226" height="307" /></a>حرےت کانفرنس(گ) نے کل کہا کہ اےک طرف بھارت مسئلہ کشمےر کو حل کرنے کے خاطر پاکستان سے مذاکرات کی تےاری کر رہا ہے لےکن دوسری طرف وادی کشمےر مےں حرےت کانفرنس سے وابستہ لےڈروں اور کارکنوں کی وسےع پےمانہ پر گرفتاری کے منصوبے پر عمل ہو رہا ہے۔ حرےت کانفرنس (گ) کے مےڈےا انچارج اےڈوکےٹ زاہد علی نے اپنے اےک بےان مےں بتاےا کہ ےہ دو عملی اب ےہاں کے عوام 1947سے دےکھ رہے ہے اور اگر بھارتی حکومت واقعی مسئلہ کشمےر کے منصفانہ حل مےں سنجےدہ ہوتی تو سب سے پہلے وہ مسئلے کشمےر کی متنازعہ حےثےت تسلےم کرتے اور اس کے لئے مفاہمانہ ماحول پےدا کرنے کے خاطر تمام حرےت نظر بندوں اور محبوسےن کی رہائی کے احکامات صادر کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اس دےرےنہ مسئلے کے حتمی حل مےں ان نظر بندوں اور محبوسےن کو تعاون کی دعوت دی جاتی لےکن بھارت اس مسئلے کو حل کرنے مےں سنجےدہ نہےں ہے۔ حرےت کے مےڈےا انچارج نے بےان مےں کہا ہے کہ وادی مےں فورسز کے ہاتھوں ہو رہی انسانی حقوق کی پامالی کو بند کروانے کےلئے بھی خاطر خواہ اقدامات کئے جاتے لےکن اس کے برعکس حکومت ہند کے ذمہ داروں کی طرف سے بار بار ےہ بےانات آرہے ہے کہ کشمےر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے جو ان دعووں کی تردےد کےلئے اےک کافی ثبوت ہے کہ حکومت ہند مسئلہ کشمےر کو منصفانہ طور پر حل کرنے مےں سنجےدہ نہےں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حرےت کانفرنس بھارت کے حکمرانوں کو ےاد دلاتی ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں مےں موجود مسئلہ کشمےر کا حل جس کو بھارت نے تسلےم کےا ہے اور جموں کشمےر کے عوام کے لئے بھی قابل قبول ہے لےکن افسوس اس بات کا ہے کہ بھارتی حکمران اب اپنے ہی تجوےز و تسلےم کردہ حل سے مکر رہے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وعدے کہ جموں کشمےر کے عوام کو مستقبل کا فےصلہ کرنے کا موقعہ فراہم کےا جائےگا، کی ےاد دہانی پر حرےت سے وابستہ سےنکڑوں افراد کو پابند سلاسل کر دےا گےا اور ےہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ حرےت کانفرنس کے مےڈےا انچارج اےڈوکےٹ زاہد علی نے بےان مےں کہا ہے کہ انتقام گےری کی حد ےہ ہے کہ جےلوں مےں نظر بند لوگوں کو معقول غذائی و طبی سہولےات سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے جس سے ان کی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگبازی کے الزامات کے تحت چھوٹے بچوں اور نوجوانوں کی گرفتار ی کا اےک مذموم سلسلہ بھی شروع کےا گےا ہے اور رہائی کے عوض بقول ان کے پولےس ان سے موٹی رقومات کا مطالبہ کرتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جو نظر بند اس انتقام گےری کا شکار ہے ان مےں محمد اشرف صحرائی، جنرل موسیٰ، غلام نبی سمجھی، مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر محمد قاسم، شےخ محمد عبداللہ، محمد ےوسف ندےم، محمد ےوسف مےر، محمد رفےق گنائی، الطاف احمد خان، ننھاجی سلےم، شکےل احمد اور دےگر نظر بند شامل ہے جبکہ ڈاکٹر محمد قاسم اور مسرت عالم بٹ کو عدالتی احکامات کے باوجود بھی رہا نہےںکےا جا رہا ہے اور غلام نبی سمجھی کو رہا کرنے کے بجائے تھانہ مےں مسلسل نظر بند رکھا گےا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل موسیٰ کو آنکھوں کے ضروری آپرےشن سے جان بوجھ کر محروم رکھا جا رہا ہے اور محمد اشرف صحرائی کو مقدمہ چلائے بغےر زےر حراست رکھا گےا ہے۔ مےڈےا انچارج نے بےان مےں کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزےوں کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہو رہا ہے اور نہتے مظاہرےن پر طاقت کا بے تحاشہ استعمال کےا جا رہا ہے جبکہ رےاست کی معےشت کو اےک منصوبہ بند طرےقے پر تباہ کےا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حرےت کانفرنس بھارتی حکومت کو ےہاں کے زمےنی حقائق سمجھنے کی دعوت دےتے ہوئے اس بات پر زور دےتی ہے کہ ےہاں کے عوام کو ان کا حق حق خودارادےت بحال کرنے کے خاطر ٹھوس اقدامات اٹھائے جائےں۔اس دوران مسلم خواتےن مرکز کی سربراہ انجم زمرود حبےب نے مرحوم محمدمقبول بٹ اور علی محمد آہنگر کو خراج تحسےن پےش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں مرحوم قائدےن کے جسد خاکی بھارت کے پاس ہماری قوم کی امانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبول بٹ وطن آزادی کے خاطر تختہ دار پر لٹکائے گئے جبکہ نظر بندی کے دوران تہاڑ جےل مےں مجھے ہر وقت ےہ گمان ہوتا تھا کہ شہےد محمد مقبول بٹ ےہی کئی سپرد خاک کئے ہوئے ہے۔ انجم زمرد حبےب نے بےان مےں کہا کہ ہندوستان کے پاس ہماری امانت ہے اور ےہ امانت ہمےں سونپ دےنا حکومت ہند کی اخلاقی ذمہ داری مےں سے اےک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم محمد مقبول بٹ کی جسدخاکی تہاڑ جےل مےں اور علی محمد آہنگر ساکن اسلام آباد کی جسدخاکی وارانسی جےل مےں ہے جنہےں کشمےر لانے کی اب تک اجازت نہےں دی گئی ہے۔</p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/02/11/kashmir-issue-talks-showyhurriyay-g/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>عوام کو ہر ممکن راحت پہنچانا انتظامیہ کا فرض:فاروق عبداللہ</title><link>http://etalaat.com/2010/02/10/goverment-ought-to-provice-maximum-farooq-abdullah/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/02/10/goverment-ought-to-provice-maximum-farooq-abdullah/#comments</comments> <pubDate>Tue, 09 Feb 2010 19:30:15 +0000</pubDate> <dc:creator>Hakeem Aasif Nissar</dc:creator> <category><![CDATA[مقامی خبریں]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=1300</guid> <description><![CDATA[برف باری سے پیدا شدہ صورتحال سے نپٹنے کیلئے انتظامیہ دن رات کام کرے
سرینگر/   نےشنل کانفرنس کے صدر اور قابل تجدےد توانائی کے مرکزی وزےر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور پارٹی کے جنرل سکرےٹری اےڈوکےٹ شےخ نذےر احمد نے رےاست کے تےنوں خطوں کی ڈوےژنل انتظامےہ سے اپےل کی ہے کہ وہ شدےد برفباری اور [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<p
style="text-align: right;"><strong><br
/> </strong><strong></strong></p><p
style="text-align: right;"><strong>برف </strong><strong>باری </strong><strong>سے </strong><strong>پیدا </strong><strong>شدہ </strong><strong>صورتحال </strong><strong>سے </strong><strong>نپٹنے </strong><strong>کیلئے </strong><strong>انتظامیہ </strong><strong>دن </strong><strong>رات </strong><strong>کام </strong><strong>کرے</strong></p><p
style="text-align: right;"><strong>سرینگر/  <a
href="http://etalaat.com/wp-content/uploads/2010/02/far.jpg"><img
class="size-full wp-image-1301 alignleft" title="Farooq Abdullah" src="http://etalaat.com/wp-content/uploads/2010/02/far.jpg" alt="" width="248" height="350" /></a></strong><strong> </strong><strong><strong>نےشنل </strong><strong>کانفرنس </strong><strong>کے </strong><strong>صدر </strong><strong>اور </strong><strong>قابل </strong><strong>تجدےد </strong><strong>توانائی </strong><strong>کے </strong><strong>مرکزی </strong><strong>وزےر </strong><strong>ڈاکٹر </strong><strong>فاروق </strong><strong>عبداللہ </strong><strong>اور </strong><strong>پارٹی </strong><strong>کے </strong><strong>جنرل </strong><strong>سکرےٹری </strong><strong>اےڈوکےٹ </strong><strong>شےخ </strong><strong>نذےر </strong><strong>احمد </strong><strong>نے </strong><strong>رےاست </strong><strong>کے </strong><strong>تےنوں </strong><strong>خطوں </strong><strong>کی </strong><strong>ڈوےژنل </strong><strong>انتظامےہ </strong><strong>سے </strong><strong>اپےل </strong><strong>کی </strong><strong>ہے </strong><strong>کہ </strong><strong>وہ </strong><strong>شدےد </strong><strong>برفباری </strong><strong>اور </strong><strong>موسلادھار </strong><strong>بارشوں </strong><strong>کی </strong><strong>وجہ </strong><strong>سے </strong><strong>عوام </strong><strong>کو </strong><strong>راحت </strong><strong>پہنچانے </strong><strong>مےں </strong><strong>اپنا </strong><strong>فرض </strong><strong>نبھائےں۔اطلاعات </strong><strong>کے </strong><strong>مطابق </strong><strong>پارٹی </strong><strong>صدر </strong><strong>ڈاکٹر </strong><strong>فاروق </strong><strong>عبداللہ </strong><strong>اور </strong><strong>جنرل </strong><strong>سکرےٹری </strong><strong>شےخ </strong><strong>نذےراحمد </strong><strong>نے </strong><strong>ڈوےژنل </strong><strong>انتظامےہ </strong><strong>سے </strong><strong>کہا </strong><strong>ہے </strong><strong>کہ </strong><strong>وہ </strong><strong>برف </strong><strong>باری </strong><strong>کے </strong><strong>نتےجے </strong><strong>مےں </strong><strong>سرحدی </strong><strong>علاقوں </strong><strong>ٹنگڈار، </strong><strong>گرےز، </strong><strong>کرگل، </strong><strong>لےہہ، </strong><strong>کپوارہ، </strong><strong>بانڈی </strong><strong>پورہ، </strong><strong>لنگےٹ، </strong><strong>لولاب، </strong><strong>کنگن، </strong><strong>سونہ </strong><strong>مرگ، </strong><strong>گاندربل، </strong><strong>ٹنگمرگ، </strong><strong>شوپےان، </strong><strong>قاضی </strong><strong>گنڈ، </strong><strong>کوکرناگ، </strong><strong>ڈوڈہ، </strong><strong>کشتواڑ، </strong><strong>بدرواہ، </strong><strong>بانہال </strong><strong>اور </strong><strong>دےگر </strong><strong>علاقہ </strong><strong>جات </strong><strong>مےں </strong><strong>لوگوں </strong><strong>کوگوناگوں </strong><strong>مشکلات </strong><strong>سے </strong><strong>نکالنے </strong><strong>کےلئے </strong><strong>ہنگامی </strong><strong>بنےادوں </strong><strong>پر </strong><strong>اقدامات </strong><strong>کرےں </strong><strong>کےونکہ </strong><strong>ان </strong><strong>مشکلات </strong><strong>کا </strong><strong>ازالہ </strong><strong>کرنا </strong><strong>حکومت </strong><strong>کا </strong><strong>فرض </strong><strong>ہے۔ </strong><strong>انہوں </strong><strong>نے </strong><strong>متعلقہ </strong><strong>انتظامےہ </strong><strong>سے </strong><strong>تاکےد </strong><strong>کی </strong><strong>کہ </strong><strong>وہ </strong><strong>برف </strong><strong>سے </strong><strong>ڈھکی </strong><strong>تمام </strong><strong>سڑکوں </strong><strong>سے </strong><strong>برف </strong><strong>ہٹانے </strong><strong>کےلئے </strong><strong>اپنے </strong><strong>فےلڈ </strong><strong>سٹاف </strong><strong>کو </strong><strong>متحرک </strong><strong>کرے </strong><strong>اور </strong><strong>دن </strong><strong>رات </strong><strong>کام </strong><strong>کرکے </strong><strong>لوگوں </strong><strong>کو </strong><strong>بنےادی </strong><strong>سہولےات </strong><strong>خاص </strong><strong>کر </strong><strong>بجلی، </strong><strong>پےنے </strong><strong>کے </strong><strong>پانی </strong><strong>کی </strong><strong>معقول </strong><strong>سپلائی </strong><strong>فراہم </strong><strong>کرنے </strong><strong>کے </strong><strong>ساتھ </strong><strong>ساتھ </strong><strong>غذائی </strong><strong>اجناس </strong><strong>کا </strong><strong>وافر </strong><strong>سٹاک </strong><strong>بھی </strong><strong>سےل </strong><strong>ڈےپوئوں </strong><strong>پر </strong><strong>دستےاب </strong><strong>رکھے۔ </strong><strong>انہوں </strong><strong>نے </strong><strong>محکمہ </strong><strong>ےو </strong><strong>ای </strong><strong>ای </strong><strong>ڈی </strong><strong>اور </strong><strong>مےونسپل </strong><strong>کارپورےشن </strong><strong>سے </strong><strong>تلقےن </strong><strong>کی </strong><strong>کہ </strong><strong>وہ </strong><strong>ان </strong><strong>نشےبی </strong><strong>علاقوں </strong><strong>سے </strong><strong>پانی </strong><strong>کی </strong><strong>نکاسی </strong><strong>کو </strong><strong>ےقےنی </strong><strong>بنائے </strong><strong>جہاں </strong><strong>بارش </strong><strong>کا </strong><strong>پانی </strong><strong>جمع </strong><strong>ہوا </strong><strong>ہے۔ </strong><strong>ڈاکٹر </strong><strong>فاروق </strong><strong>عبداللہ </strong><strong>اور </strong><strong>جنرل </strong><strong>سکرےٹری </strong><strong>نے </strong><strong>قومی </strong><strong>شاہراہ </strong><strong>بند </strong><strong>ہونے </strong><strong>کے </strong><strong>پےش </strong><strong>نظر </strong><strong>حکومت </strong><strong>سے </strong><strong>اپےل </strong><strong>کی </strong><strong>کہ </strong><strong>وہ </strong><strong>اشےائے </strong><strong>خردنی </strong><strong>کا </strong><strong>وافر </strong><strong>سٹاک </strong><strong>جہازوں </strong><strong>مےں </strong><strong>لا </strong><strong>کر </strong><strong>وادی </strong><strong>، </strong><strong>لےہہ، </strong><strong>کرگل </strong><strong>اور </strong><strong>دےگر </strong><strong>بالائی </strong><strong>علاقوں </strong><strong>تک </strong><strong>پہنچانے </strong><strong>کی </strong><strong>ہر </strong><strong>ممکن </strong><strong>کوشش </strong><strong>کرے۔ </strong><strong>انہوں </strong><strong>نے </strong><strong>عوام </strong><strong>سے </strong><strong>تلقےن </strong><strong>کی </strong><strong>کہ </strong><strong>وہ </strong><strong>رےاست </strong><strong>مےں </strong><strong>امن </strong><strong>و </strong><strong>امان </strong><strong>کی </strong><strong>فضا </strong><strong>کو </strong><strong>ہر </strong><strong>قےمت </strong><strong>پر </strong><strong>قائم </strong><strong>و </strong><strong>دائم </strong><strong>رکھےں </strong><strong>تاکہ </strong><strong>لوگوں </strong><strong>کو </strong><strong>امن </strong><strong>و </strong><strong>سکون </strong><strong>کے </strong><strong>ساتھ </strong><strong>زندگی </strong><strong>گذارنے </strong><strong>مےں </strong><strong>کوئی </strong><strong>مشکلات </strong><strong>پےش </strong><strong>نہ </strong><strong>آئے۔ </strong><strong>اس </strong><strong>دوران </strong><strong>پارلےمنٹ </strong><strong>ممبران </strong><strong>شرےف </strong><strong>الدےن </strong><strong>شارق، </strong><strong>محمد </strong><strong>شفےع </strong><strong>اوڑی </strong><strong>،ڈاکٹر </strong><strong>محبوب </strong><strong>بےگ </strong><strong>اور </strong><strong>راجسبھا </strong><strong>ممبر </strong><strong>غلام </strong><strong>نبی </strong><strong>رتن </strong><strong>پوری </strong><strong>نے </strong><strong>بھی </strong><strong>ضلع </strong><strong>انتظامےہ </strong><strong>سے </strong><strong>اپےل </strong><strong>کی </strong><strong>کہ </strong><strong>وہ </strong><strong>برفباری </strong><strong>کے </strong><strong>نتےجے </strong><strong>مےں </strong><strong>لوگوں </strong><strong>کے </strong><strong>مشکلات </strong><strong>کا </strong><strong>ترجےحی </strong><strong>بنےادوں </strong><strong>پر </strong><strong>ازالہ </strong><strong>کرے۔ </strong><strong>انہوں </strong><strong>نے </strong><strong>کہا </strong><strong>کہ </strong><strong>اسی </strong><strong>طرح </strong><strong>سرےنگر </strong><strong>جموں </strong><strong>شاہراہ </strong><strong>پر </strong><strong>گاڑےوں </strong><strong>کی </strong><strong>نقل </strong><strong>و </strong><strong>حمل </strong><strong>کو </strong><strong>فوری </strong><strong>طور </strong><strong>پر </strong><strong>بحال </strong><strong>کرنے </strong><strong>کےلئے </strong><strong>موثر </strong><strong>اقدامات </strong><strong>کرے۔ </strong><strong>ادھر </strong><strong>ےوتھ </strong><strong>نےشنل </strong><strong>کانفرنس </strong><strong>کے </strong><strong>صدر </strong><strong>قےصر </strong><strong>جمشےد </strong><strong>لون </strong><strong>نے </strong><strong>ضلع </strong><strong>انتظامےہ </strong><strong>سے </strong><strong>اپےل </strong><strong>کی </strong><strong>کہ </strong><strong>ضلع </strong><strong>کپوارہ </strong><strong>مےں </strong><strong>شدےد </strong><strong>برفباری </strong><strong>اور </strong><strong>موسلہ </strong><strong>دھار </strong><strong>بارشوں </strong><strong>کی </strong><strong>وجہ </strong><strong>سے </strong><strong>جن </strong><strong>مکانات </strong><strong>کو </strong><strong>نقصان </strong><strong>پہنچا </strong><strong>ہے </strong><strong>ان </strong><strong>کی </strong><strong>باز </strong><strong>آبادکاری </strong><strong>کےلئے </strong><strong>اقدامات </strong><strong>کئے </strong><strong>جائےں۔ </strong><strong>پارٹی </strong><strong>کے </strong><strong>سےنئر </strong><strong>نائب </strong><strong>صدر </strong><strong>چودھری </strong><strong>محمد </strong><strong>رمضان، </strong><strong>وزےر </strong><strong>جنگلات </strong><strong>مےاں </strong><strong>الطاف </strong><strong>احمد، </strong><strong>امور </strong><strong>صارفےن </strong><strong>کے </strong><strong>وزےر </strong><strong>قمر </strong><strong>علی </strong><strong>آخون،ممبران </strong><strong>اسمبلی </strong><strong>ڈاکٹر </strong><strong>شےخ </strong><strong>مصطفی </strong><strong>کمال، </strong><strong>نذےر </strong><strong>احمد </strong><strong>گرےزی </strong><strong>اور </strong><strong>رےاستی </strong><strong>اسمبلی </strong><strong>کے </strong><strong>سپےکر </strong><strong>محمد </strong><strong>اکبر </strong><strong>لون </strong><strong>نے </strong><strong>بھی </strong><strong>انتظامےہ </strong><strong>سے </strong><strong>اپےل </strong><strong>کی </strong><strong>کہ </strong><strong>وہ </strong><strong>برفباری </strong><strong>کی </strong><strong>وجہ </strong><strong>سے </strong><strong>لوگوں </strong><strong>کے </strong><strong>مشکلات </strong><strong>کا </strong><strong>ترجےح </strong><strong>بنےادوں </strong><strong>پر </strong><strong>ازالہ </strong><strong>کرےں۔</strong></strong></p><p
style="text-align: right;"><strong></strong></p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/02/10/goverment-ought-to-provice-maximum-farooq-abdullah/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>مظفرآباد: جھیل کے بند ھ میں شگاف</title><link>http://etalaat.com/2010/02/10/muzaffar-abad/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/02/10/muzaffar-abad/#comments</comments> <pubDate>Tue, 09 Feb 2010 19:30:15 +0000</pubDate> <dc:creator>Hakeem Aasif Nissar</dc:creator> <category><![CDATA[مقامی خبریں]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=1303</guid> <description><![CDATA[درجنوں مکانات تیز پانی میں بہہ گئے
سرینگر// پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مظفر آباد کے ہٹیاں بالا میں بارشوں کی وجہ سے ایک جھیل کے بند میں شگاف پڑنے سے تقریباً اڑھائی درجن گھر پانی میں بہہ گئے ہیں۔ہٹیاں بالا کے اسسٹنٹ کمشنر راجہ شاہد محمود نے بتایا کہ بارشوں کی وجہ سے پیر [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<p
style="text-align: right;"><strong><br
/> </strong></p><p
style="text-align: right;"><strong>درجنوں مکانات تیز پانی میں بہہ گئے</strong></p><p
style="text-align: right;"><strong>سرینگر/</strong>/<a
href="http://etalaat.com/wp-content/uploads/2010/02/40982032_kashmir_muzaff_map203.jpg"><img
class="size-full wp-image-1304 alignleft" title="kashmir_muzaff" src="http://etalaat.com/wp-content/uploads/2010/02/40982032_kashmir_muzaff_map203.jpg" alt="" width="203" height="152" /></a> پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مظفر آباد کے ہٹیاں بالا میں بارشوں کی وجہ سے ایک جھیل کے بند میں شگاف پڑنے سے تقریباً اڑھائی درجن گھر پانی میں بہہ گئے ہیں۔ہٹیاں بالا کے اسسٹنٹ کمشنر راجہ شاہد محمود نے بتایا کہ بارشوں کی وجہ سے پیر اور منگل کی درمیانی شب کو جھیل میں پانی کی سطح بلند ہو گئی اور پانی کناروں کے اوپر سے بہنے لگا۔انھوں نے بتایا کہ اسی دوران پانی کے دباؤ کے باعث جھیل کے بند میں ایک بڑا شگاف پڑ گیا، جس کے نتیجے میں نالے میں طغیانی آ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ طغیانی کی وجہ سے ہٹیاں بالا کے اٹھائیس گھر پانی میں بہہ گئے ہیں تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ لوگ خطرے کے پیشِ نظر پہلے ہی محفوط مقامات پر منتقل ہو چکے تھے۔راجہ شاہد محمود نے بتایا کہ طغیانی سے زرعی زمین کو بھی نقصان پہنچا ہے جس کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔خیال رہے کہ اس جھیل کا پانی دریائے جہلم میں شامل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے دریا میں پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس کے باعث فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔</p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/02/10/muzaffar-abad/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>مسئلہ کشمیر: مشرف دورمیںپیش رفت پرسوال</title><link>http://etalaat.com/2010/02/10/kashmir-issue/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/02/10/kashmir-issue/#comments</comments> <pubDate>Tue, 09 Feb 2010 19:30:52 +0000</pubDate> <dc:creator>Hakeem Aasif Nissar</dc:creator> <category><![CDATA[مقامی خبریں]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=1308</guid> <description><![CDATA[خفیہ معاہدہ عمل میں لایا گیاتاہم دستخط نہیں ہوئے:قصوری
سرینگر// پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری نے اپنے ملک کے موجودہ وزیر خارجہ کے اس بیان کی شدید مخالفت کی ہے جس میں اُنہوں نے کہا ہے کہ صدر مشرف کے دور اقتدار کے دوران مسئلہ کشمیر پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی اور [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<p
style="text-align: right;">خفیہ معاہدہ عمل میں لایا گیاتاہم دستخط نہیں ہوئے:قصوری<br
/> <strong>سرینگر//</strong><a
href="http://etalaat.com/wp-content/uploads/2010/02/kashmir_map.jpg"><img
class="size-full wp-image-1309 alignleft" title="kashmir_map" src="http://etalaat.com/wp-content/uploads/2010/02/kashmir_map.jpg" alt="" width="300" height="352" /></a> پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری نے اپنے ملک کے موجودہ وزیر خارجہ کے اس بیان کی شدید مخالفت کی ہے جس میں اُنہوں نے کہا ہے کہ صدر مشرف کے دور اقتدار کے دوران مسئلہ کشمیر پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی اور یہ کہ اُس کے بارے میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ نے انکشاف کیا تھا کہ صدر مشرف کے دور میں بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو لیکر ایک خفیہ معاہدہ عمل میں لایا گیا تھا تاہم اُس پر دستخط نہیں ہوپائے تھے۔ خورشید قصوری کے مذکورہ بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستان کے موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سخت الفاظ میں کہا” ایسا کوئی بھی معاہدہ عمل میں نہیں لایا گیا تھا ،کم سے کم سرکار کے پاس اس طرح کا کوئی بھی ریکارڈ موجود نہیں ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جس معاہدے کا ذکر کیا جارہا ہے اُس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے تھے“۔صدر مشرف کے دور میں پاکستان کے وزیر خارجہ رہے خورشید محمود قصوری نے شاہ محمود قریشی کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا”صدر مشرف نے مسئلہ کشمیرسے متعلق بھارت کے ساتھ بیک چینل کے ذریعے ایک معاہدہ تیار کیا تھا اور موجودہصدر آصف علی زرداری بھی اُس معاہدے سے باخبر ہیں اور اُس کا ریکارڈ بھی صدارتی دفتر میں موجود ہے“۔انہوں نے کہا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ وزیر خارجہ کوبھارت اور پاکستان کے درمیان اہم بات چیت کے بارے میں کوئی علم نہ ہو۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا” ایسا لگتا ہے کہ وزارت خارجہ اور صدر ہا ﺅ س کے درمیان تال میل کی کمی ہے“۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ پاکستان کے سابق صدر اور سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے ایک سے زیادہ بار اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ اُنہوں نے بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو لیکر بیک چینل کے ذریعے ایک معاہدہ عمل میں لایا تھا تاہم نئی دلی میں اُس وقت کے انتخابات کے نتیجے اُس معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوسکا“۔مذکورہ انکشاف کے بعد سیاسی مبصرین میں ایک بحث چھڑ گئی اور اُس معاہدے کے بارے میں مختلف بیان بازیاں کی گئیں۔مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر بھارت کے ساتھ پہلے ہی کوئی معاہدہ طے ہوچکا ہے تو اب اُس پر عمل در آمد کرنے میں کون سی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔اس دوران ممبئی حملوں کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بات چیت کا سلسلہ معطل ہوگیا اور مبصرین کے مطابق اُس معاہدے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اب جب کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات کی بحالی متوقع ہے تو عین ممکن ہے کہ دونوں ممالک اُس معاہدے کے بارے میں بھی بات چیت کریں گے۔</p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/02/10/kashmir-issue/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>برین کے طالب علم کے قاتلوں کو معاف نہیںکیاجائے گا:رانا</title><link>http://etalaat.com/2010/02/10/davinder-ranabrain-students-killing/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/02/10/davinder-ranabrain-students-killing/#comments</comments> <pubDate>Tue, 09 Feb 2010 19:30:06 +0000</pubDate> <dc:creator>Hakeem Aasif Nissar</dc:creator> <category><![CDATA[مقامی خبریں]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=1312</guid> <description><![CDATA[سرینگر// ریاستی حکومت برین نشاط کے معصوم طالب علم کے قاتلوں کو کسی بھی صورت میں معاف نہیں کریگی اور عنقریب قاتلوں کی نشاندہی کرکے انہیں قرارواقعی سزا دی جائیگی جبکہ اقتدار پرست لوگ اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں لیکن ان کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<p
style="text-align: right;"><strong>سرینگر//</strong> ریاستی حکومت برین نشاط کے معصوم طالب علم کے قاتلوں کو کسی بھی صورت میں معاف نہیں کریگی اور عنقریب قاتلوں کی نشاندہی کرکے انہیں قرارواقعی سزا دی جائیگی جبکہ اقتدار پرست لوگ اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں لیکن ان کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے سیاسی صلاح کار دیوندرسنگھ رانا نے کل پارٹی صدر دفتر واقع نوائے صبح کمپلیکس پر پارٹی کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مقامی نیوزایجنسی کشمےر نےوز سروس نمائندے کے مطابق دےوےندر سنگھ رانا نے کہا کہ ہم سب پارٹی کے بنےادی ورکر ہےں اور پارٹی کے بدولت ہی برسر اقتدار ہےں لہٰذا ہماری ہر کوشش پارٹی کو مضبوط بنانے کے حق مےں ہے کےونکہ پارٹی مضبوط ہوگی تو حکومت مضبوط بن جاتی ہے۔ دےوےندر رانا نے کہا کہ وزےر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی مےں رےاستی حکومت مضبوطی و استحکام سے عوام کے مسائل حل کرنے مےں مصروف عمل ہے اور ہم مرحوم شےر کشمےر شےخ محمد عبداللہ ، قائدثانی ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور جنرل سکرےٹری شےخ نذےر احمد کے دکھائے ہوئے راستے پر گامزن ہےں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف بہت ساری سازشےں ہو رہی ہےں لےکن ہم مرعوب ہونے والوں مےں سے نہےں کےونکہ ہماری جماعت مضبوط ہے اور حکومت بھی پوری مضبوطی کے ساتھ عوامی مسائل کو حل کرنے مےں مصروف ہے۔ انہوں نے سکیورٹی اہلکاروں کے ذریعہ برےن نشاط مےںزاہد فاروق کی ہلاکت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ قاتل کی نشاندہی کرکے اس کو قرار واقعی سزا دلانا وزےر اعلیٰ عمر عبداللہ کی حکومت کا عہد ہے اور قاتل کو سزا دلانے تک حکومت چےن سے نہےں بےٹھے گی۔ دیوندرسنگھ رانا نے پی ڈی پی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت اقتدار چھن جانے کے بعد بوکھلاہٹ کی شکار ہوگئی ہے اور اس لئے غلط بیانات دیکر ایک بار پھر عوام کا استحصال کرنا چاہتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ مفتی محمد سعید کی سابقہ حکومت نے آخری ایام میں سب سے بڑی غلطی کے بطور ان کاغذات پر دستخط کئے جس کے نتیجے میں قریب 62نوجوانوں کو اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونا پڑا اور اس غلطی کیلئے ریاستی عوام اس جماعت کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ تاہم انہوںنے کہا کہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی میں موجودہ حکومت عوامی مسائل کو حل کرنے کیساتھ ساتھ اپنے زیرو ٹالرنس کے وعدے پر کاربند ہے اور انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث کسی بھی فورسز اہلکار کو بخشانہیں جائیگا جس کیلئے وزیر اعلیٰ وعدہ بند ہے۔</p><p
style="text-align: right;"> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/02/10/davinder-ranabrain-students-killing/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>اسلام آباد میں پنڈت خاتون کی خود سوزی</title><link>http://etalaat.com/2010/02/09/pandit-lady-and-muslim-in-aslamabad/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/02/09/pandit-lady-and-muslim-in-aslamabad/#comments</comments> <pubDate>Mon, 08 Feb 2010 19:30:51 +0000</pubDate> <dc:creator>admin</dc:creator> <category><![CDATA[مقامی خبریں]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=1274</guid> <description><![CDATA[مقامی مسلمانوں نے اسپتال پہنچاکر مثال قائم کی
سرینگر/اچھہ بل اسلام آباد میں ایک پنڈت خاتون نے گھریلو جھگڑے سے تنگ آ کر خود کو آگ لگا دی اور اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی جس کے بعد وہ صدر اسپتال سرینگر میں موت و حےات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔مذکورہ خاتون کو مقامی [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<div
id="_mcePaste"><strong>مقامی مسلمانوں نے اسپتال پہنچاکر مثال قائم کی</strong></div><div
id="_mcePaste">سرینگر/اچھہ بل اسلام آباد میں ایک پنڈت خاتون نے گھریلو جھگڑے سے تنگ آ کر خود کو آگ لگا دی اور اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی جس کے بعد وہ صدر اسپتال سرینگر میں موت و حےات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔مذکورہ خاتون کو مقامی مسلمانوں نے اسپتال پہنچاےا اور وہی اس کی دیکھ بال کر رہے ہیں ۔اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ضلع کے کھندرو اچھہ بل علاقہ میں اتوار کی شب اس وقت سنسنی پھیل گئی جب اچانک چیخ و پکار کی نسوانی آوازوں نے لوگوں کو دم بخود کر دیا ۔اس دوران جب لوگ گھروں سے باہر آئے تو یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے کہ گائوں کی رہنے والی 30سالہ خاتون تےن بچوں کی ماں ورشنہ عرف سمی زوجہ دیپ کرشن آگ کی لپٹوں میں چیخ و پکارکر رہی تھی ۔اس موقعہ پر مقامی لوگ فوری طور پر اُس کی طرف دوڑ پڑے اور کمبل کی مدد سے اس کے جسم پر لگی آگ بجھائی ۔مقامی لوگوں کے مطابق مذکورہ خاتون نے اپنے ہی گھر میں خود پر مٹی کا تےل چھڑک کر آگ لگا دی ۔اس واقعہ میں ورشنہ کے جسم کا بےشتر حصہ بری طرح سے جھلس گےا اور اسے فوری طور پر مقامی اسپتال میں داخل کیا گےا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی حالت تشویشناک پاتے ہوئے اسے صدر اسپتال سرینگر منتقل کرنے کی صلاح دی ۔معلوم ہوا ہے کہ کھندرواچھہ بل میں پنڈتوں کا یہی ایک کنبہ مقیم ہے اورجب مذکورہ خاتون جھلس کر بے ہوش ہو گئی تو مقامی مسلمانوں نے اسے اسپتال پہنچاےا ۔صدر اسپتال میں گائوں کے مسلمان ہی اس کی دیکھ بال کر رہے ہیں اور انہوں نے اس کے علاج و معالجہ کیلئے از خود رقم صرف کرنے کا فےصلہ کیا ہے ۔پولیس ذرائع نے بتاےا کہ اگر چہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مذکورہ خاتون نے کن وجوہات سے تنگ آکر اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی تاہم ابتدائی چھان بےن سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اُس کا اپنے شوہر کے ساتھ کسی معاملے کو لیکر جھگڑا چل رہا تھا اور گذشتہ روز بھی دونوں کے درمیان زبردست ان بن اور تلخ کلامی ہوئی ۔اس سلسلے میں پولیس اسٹےشن اچھہ بل میں ایف آئی آر زیر نمبر5/2010زیر دفعہ 309آر پی سی درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔البتہ اس واقعہ کے بعد گائوں میں سنسنی کا ماحول ہے اور لوگ طرح طرح کی چہ مگوئیاں کر رہے ہیں۔</div><p>اسلام آباد میں پنڈت خاتون کی خود سوزیمقامی مسلمانوں نے اسپتال پہنچاکر مثال قائم کیسرینگر/اچھہ بل اسلام آباد میں ایک پنڈت خاتون نے گھریلو جھگڑے سے تنگ آ کر خود کو آگ لگا دی اور اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی جس کے بعد وہ صدر اسپتال سرینگر میں موت و حےات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔مذکورہ خاتون کو مقامی مسلمانوں نے اسپتال پہنچاےا اور وہی اس کی دیکھ بال کر رہے ہیں ۔اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ضلع کے کھندرو اچھہ بل علاقہ میں اتوار کی شب اس وقت سنسنی پھیل گئی جب اچانک چیخ و پکار کی نسوانی آوازوں نے لوگوں کو دم بخود کر دیا ۔اس دوران جب لوگ گھروں سے باہر آئے تو یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے کہ گائوں کی رہنے والی 30سالہ خاتون تےن بچوں کی ماں ورشنہ عرف سمی زوجہ دیپ کرشن آگ کی لپٹوں میں چیخ و پکارکر رہی تھی ۔اس موقعہ پر مقامی لوگ فوری طور پر اُس کی طرف دوڑ پڑے اور کمبل کی مدد سے اس کے جسم پر لگی آگ بجھائی ۔مقامی لوگوں کے مطابق مذکورہ خاتون نے اپنے ہی گھر میں خود پر مٹی کا تےل چھڑک کر آگ لگا دی ۔اس واقعہ میں ورشنہ کے جسم کا بےشتر حصہ بری طرح سے جھلس گےا اور اسے فوری طور پر مقامی اسپتال میں داخل کیا گےا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی حالت تشویشناک پاتے ہوئے اسے صدر اسپتال سرینگر منتقل کرنے کی صلاح دی ۔معلوم ہوا ہے کہ کھندرواچھہ بل میں پنڈتوں کا یہی ایک کنبہ مقیم ہے اورجب مذکورہ خاتون جھلس کر بے ہوش ہو گئی تو مقامی مسلمانوں نے اسے اسپتال پہنچاےا ۔صدر اسپتال میں گائوں کے مسلمان ہی اس کی دیکھ بال کر رہے ہیں اور انہوں نے اس کے علاج و معالجہ کیلئے از خود رقم صرف کرنے کا فےصلہ کیا ہے ۔پولیس ذرائع نے بتاےا کہ اگر چہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مذکورہ خاتون نے کن وجوہات سے تنگ آکر اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی تاہم ابتدائی چھان بےن سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اُس کا اپنے شوہر کے ساتھ کسی معاملے کو لیکر جھگڑا چل رہا تھا اور گذشتہ روز بھی دونوں کے درمیان زبردست ان بن اور تلخ کلامی ہوئی ۔اس سلسلے میں پولیس اسٹےشن اچھہ بل میں ایف آئی آر زیر نمبر5/2010زیر دفعہ 309آر پی سی درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔البتہ اس واقعہ کے بعد گائوں میں سنسنی کا ماحول ہے اور لوگ طرح طرح کی چہ مگوئیاں کر رہے ہیں۔</p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/02/09/pandit-lady-and-muslim-in-aslamabad/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>رتناگ لولاب اکیسویں صدی میں بھی نظر اند از</title><link>http://etalaat.com/2010/02/09/ratnaag-loolab/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/02/09/ratnaag-loolab/#comments</comments> <pubDate>Mon, 08 Feb 2010 19:30:20 +0000</pubDate> <dc:creator>admin</dc:creator> <category><![CDATA[مقامی خبریں]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=1278</guid> <description><![CDATA[بنیادی سہولیات کے فقدان پرمقامی آبادی کا احتجاج
سید اعجاز بخاری
سرینگر // رتناگ لولاب کپوارہ کے لوگ اکیسویں صدی میں بھی بنیادی سہولیات سے بالکل محروم ہیں جسکے باعث رتناگ کے عوام نے حکام کیخلاف زبر دست احتجاج کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق رتناگ علاقہ تقریباً ساڑھے تین ہزار آبادی پر مستمل ہے اور گذشتہ چھہ [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<div
id="_mcePaste"><strong>بنیادی سہولیات کے فقدان پرمقامی آبادی کا احتجاج</strong></div><div
id="_mcePaste"><span
style="color: #008080;">سید اعجاز بخاری</span></div><div
id="_mcePaste">سرینگر // رتناگ لولاب کپوارہ کے لوگ اکیسویں صدی میں بھی بنیادی سہولیات سے بالکل محروم ہیں جسکے باعث رتناگ کے عوام نے حکام کیخلاف زبر دست احتجاج کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق رتناگ علاقہ تقریباً ساڑھے تین ہزار آبادی پر مستمل ہے اور گذشتہ چھہ دہا ئیوں کے دو ران کسی بھی حکومت نے وہاں مقیم لوگوں کی سہولیات کیلئے پینے کا صاف پانی اور بجلی کی سپلائی نہیں پہنچائی ہے جبکہ رتناگ علاقہ کی طرف جانے والی واحد رابطہ سڑک اور اس سے جڈا ہوا پُل پچھلے چالیس سال سے بالکل خستہ حالت میں پڑا ہے جس کی وجہ سے دس سال قبل وہاں ٹرا نسپور ٹروں نے گاڑ یوں کی نقل و حرکت بالکل بند کر دی تھی۔ ستر سالہ مقامی بزرگ محمد مقبول میر نے روز نامہ اطلاعات کو بتایا کہ اگرچہ سال 1969میں سرکار کی طرف سے وہاں عوام کوصاف پانی بہم پہنچانے کےلئے ایک واٹر سپلائی سکیم قائم کی گئی تھی مگر اس سکیم کے ذریعے آج تک پینے کا صاف پانی کبھی بھی فراہم نہیں کیا گیا اور وہاں بچھائی ہوئی پانی کی پائپیں محض زمین بوس ہوکر رہ گئی جسکے باعث وہاں مقیم لوگ اب بھی صاف پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں۔ مقامی بزرگ نے مزید کہا’’ بجلی ڈیپاٹمنٹ نے مذ کورہ علاقے میں بجلی سپلائی پہنچانے کی غرض سے سال 1975میں وہاں بجلی کھمبے اور ترسیلی لائنیں نصب کی تھی لیکن قابل غور یہ ہے کہ تب سے لیکر اب تک متعلقہ محکمے نے مذ کورہ علاقہ کیلئے بجلی ٹرا نسفار مر فراہم نہیں کیا جسکے نتیجہ میں وہاں موجود بے سود بجلی کھمبے اور ترسیلی لائنیںاب با لکل خستہ حال ہوچکے ہیں۔ مقامی بزرگ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا’’ ضلع کپوارہ کے رتناگ علاقے کو اب تک تمام حکو متوں نے اس قدر نظر انداز کیا کہ وہاں مقیم لوگوں کو بنیادی سہولیات سے بالکل محروم رکھا گیاہے اور اکیسویں صدی میں بھی جیسے رتناگ قدیم زمانے کا کوئی علاقہ لگ رہا ہے ۔ ‘‘</div><p>رتناگ لولاب اکیسویں صدی میں بھی نظر اند ازبنیادی سہولیات کے فقدان پرمقامی آبادی کا احتجاجسید اعجاز بخاریسرینگر // رتناگ لولاب کپوارہ کے لوگ اکیسویں صدی میں بھی بنیادی سہولیات سے بالکل محروم ہیں جسکے باعث رتناگ کے عوام نے حکام کیخلاف زبر دست احتجاج کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق رتناگ علاقہ تقریباً ساڑھے تین ہزار آبادی پر مستمل ہے اور گذشتہ چھہ دہا ئیوں کے دو ران کسی بھی حکومت نے وہاں مقیم لوگوں کی سہولیات کیلئے پینے کا صاف پانی اور بجلی کی سپلائی نہیں پہنچائی ہے جبکہ رتناگ علاقہ کی طرف جانے والی واحد رابطہ سڑک اور اس سے جڈا ہوا پُل پچھلے چالیس سال سے بالکل خستہ حالت میں پڑا ہے جس کی وجہ سے دس سال قبل وہاں ٹرا نسپور ٹروں نے گاڑ یوں کی نقل و حرکت بالکل بند کر دی تھی۔ ستر سالہ مقامی بزرگ محمد مقبول میر نے روز نامہ اطلاعات کو بتایا کہ اگرچہ سال 1969میں سرکار کی طرف سے وہاں عوام کوصاف پانی بہم پہنچانے کےلئے ایک واٹر سپلائی سکیم قائم کی گئی تھی مگر اس سکیم کے ذریعے آج تک پینے کا صاف پانی کبھی بھی فراہم نہیں کیا گیا اور وہاں بچھائی ہوئی پانی کی پائپیں محض زمین بوس ہوکر رہ گئی جسکے باعث وہاں مقیم لوگ اب بھی صاف پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں۔ مقامی بزرگ نے مزید کہا’’ بجلی ڈیپاٹمنٹ نے مذ کورہ علاقے میں بجلی سپلائی پہنچانے کی غرض سے سال 1975میں وہاں بجلی کھمبے اور ترسیلی لائنیں نصب کی تھی لیکن قابل غور یہ ہے کہ تب سے لیکر اب تک متعلقہ محکمے نے مذ کورہ علاقہ کیلئے بجلی ٹرا نسفار مر فراہم نہیں کیا جسکے نتیجہ میں وہاں موجود بے سود بجلی کھمبے اور ترسیلی لائنیںاب با لکل خستہ حال ہوچکے ہیں۔ مقامی بزرگ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا’’ ضلع کپوارہ کے رتناگ علاقے کو اب تک تمام حکو متوں نے اس قدر نظر انداز کیا کہ وہاں مقیم لوگوں کو بنیادی سہولیات سے بالکل محروم رکھا گیاہے اور اکیسویں صدی میں بھی جیسے رتناگ قدیم زمانے کا کوئی علاقہ لگ رہا ہے ۔ ‘‘</p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/02/09/ratnaag-loolab/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>وزیر اعلیٰ کا دورہ ،شوپیان بار ایسو سی ایشن میںاختلافات کی وجہ</title><link>http://etalaat.com/2010/02/09/cm-shopian/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/02/09/cm-shopian/#comments</comments> <pubDate>Mon, 08 Feb 2010 19:30:43 +0000</pubDate> <dc:creator>admin</dc:creator> <category><![CDATA[مقامی خبریں]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=1272</guid> <description><![CDATA[%سرینگر/ وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کا حالیہ دورہ شوپیان مقامی بار ایسو سی ایشن کی تقسیم کی وجہ بن گیا ہے اور ڈسٹرکٹ بار کے منقسم دھڑے ایک دوسرے پر سنگین الزام تراشیاں کررہے ہیں۔ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن شوپیان کے ایک دھڑے کا کہنا ہے کہ وہ شوپیان سانحہ میں ملوث عناصر کی [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<div
id="_mcePaste"><strong><a
href="http://etalaat.com/wp-content/uploads/2010/02/omer-abdullah701.jpg"><img
class="alignright size-full wp-image-1103" title="omer-abdullah701" src="http://etalaat.com/wp-content/uploads/2010/02/omer-abdullah701.jpg" alt="" width="242" height="161" /></a></strong>%سرینگر/ وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کا حالیہ دورہ شوپیان مقامی بار ایسو سی ایشن کی تقسیم کی وجہ بن گیا ہے اور ڈسٹرکٹ بار کے منقسم دھڑے ایک دوسرے پر سنگین الزام تراشیاں کررہے ہیں۔ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن شوپیان کے ایک دھڑے کا کہنا ہے کہ وہ شوپیان سانحہ میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے حق میں قانونی سطح پر سرگرم ہیں اس لئے حکومت اُن کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ دوسرے دھڑے کا کہنا ہے کہ وہی اصلی بار کی نمائندگی کررہے ہیں اور وہ علاقے کی تعمیر وترقی کے خواہاں ہیں۔شوپیان بار کے مذکورہ دھڑے کی طرف سے جاری ایک بیان میں ایڈو کیٹ ایس ایم اقبال پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے بتایا گیا ہے’’ایس ایم ا قبال شوپیان بار ایسو سی ایشن کا ترجمان نہیں ہیںاور اُن کا دیا گیا بیان قابل مذمت ہے،ایڈوکیٹ ایس ایم اقبال کئی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اُن سے تنخواہ حاصل کررہے ہیں‘‘۔ قابل ذکر ہے کہ مذکورہ بیان پر بار صدر کے دستخط نہیں ہیں۔ ایڈو کیٹ ایس ایم اقبال نے شوپیان بار ایسو سی ایشن کے ترجمان کی حیثیت سے اخبارات کے لئے جاری اپنے بیان میں اُن وکلاء کا شوپیان بار ایسو سی ایشن کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق ہونے سے انکار کیا تھا جنہوں نےجنوری کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کے دورہ شوپیان کے دوران اُن سے ملاقات کی تھی۔ شوپیان مجلس مشاورت نے وزیر اعلیٰ کے دورہ شوپیان کے خلاف احتجاجی ہڑتال کی اپیل کی تھی ۔ شوپیان سے تعلق رکھنے والے1وکلاء نے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ سے ملاقات کی اور اُنہیں بار کے مسائل سے آگاہی دلائی۔مذکورہ وکلاء کی وزیر اعلیٰ سے ملاقات پر ناراض عام لوگوں نے 5جنوری کے روز زبردست نعرے بازی کی۔ شوپیان بار ایسو سی ایشن کے ترجمان ایڈوکیٹ ایس ایم اقبال نے دوسرے روز اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرنے والے وکلاء کے بارے میں کہا تھا’’ ان جونیئر وکلاء کا شوپیان بار ایسو سی ایشن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔ مذکورہ وکلاء کی طرف سے جاری ایک تحریری بیان میں بتایا گیا ہے ’’شوپیان بار ایسو سی ایشن ایک غیر سیاسی فورم ہے جو صرف علاقہ کی ترقی کا خواہاں ہے اور یہ کہ ایڈو کیٹ ایس ایم اقبال بار ایسو سی ایشن کا ترجمان نہیںہیں‘‘۔ اپنے آپ کو شوپیان بار ایسو سی ایشن کا ترجمان کہنے والے ایڈوکیٹ غلام حسن ڈار نے بتایا’’ ایس ایم اقبال شوپیان بار میں کسی بھی عہدے پر فائز نہیں ہیںاور جب بار کی ایک ٹیم کو وزیر اعلیٰ سے ملنے کا فیصلہ لیا گیا تو اُس وقت بار صدر ایڈو کیٹ عبد المجید میر بھی میٹنگ میںموجود تھے اور وزیر اعلیٰ سے ملنے والے وکلاء میں اُن کا بیٹا بھی شامل ہے‘‘۔ ایڈوکیٹ ایس ایم اقبال نے تاہم  ایڈوکیٹ غلام حسن ڈار اور وزیر اعلیٰ سے ملنے والے وکلاء کی سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا’’ یہ وہی لوگ ہیں جو آسیہ اور نیلوفر کی عصمت دری و قتل معاملے کو سرد خانے میں ڈالنے کے لئے کام کررہے ہیں‘‘۔ ایس ایم اقبال کا کہنا تھا’’ شوپیان بار ایسو سی ایشن نے غلام حسن ڈار کو پچھلے سال بار کی بنیادی رکنیت سے خارج کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اُس کے پاس کوئی چیمبر بھی نہیں ہے‘‘۔ ایڈوکیٹ ایس ایم اقبال کے مطابق ’’حکومت بار ایسو سی ایشن شوپیان کی اُن کوششوں کو ناکام کرنا چاہتی ہے جو اُنہوں نے آسیہ اور نیلوفر کی عصمت دری و قتل سانحہ میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی سطح پر شروع کررکھی ہیں اور اس کے لئے حکومت نے شوپیان کے ہی کئی وکلاء کا استعمال کرنے کی کوشش کی ہے مگر ہم اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ مجرموں کی نشاندہی تک مجلس مشاورت کے شانہ بشانہ اپنی جد وجہد جاری رکھیں گے‘‘۔ ایڈوکیٹ ایس ایم اقبال کا کہنا تھا’’ شوپیان بار ایسو سی ایشن وزیر اعلیٰ کے وہ پانچ لاکھ روپئے لینے سے بھی انکار کرتی ہے جو عملاً وکلاء کی آواز بند کرنے کے لئے فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا‘‘۔شوپیان بار ایسو سی ایشن کے اُس بیان میں جس میں ایڈو کیٹ ایس ایم اقبال کو الزامات کا نشانہ بنایا گیا ہے، میں مزید درج ہے’’شوپیان بار ایسو سی ایشن ایک غیر سیاسی فورم ہے اور صرف علاقہ شوپیان کی ترقی کا خواہاں ہے‘‘۔ ایس ایم اقبال کا کہنا ہے کہ شوپیان بار ایسو سی ایشن دو پھاڑ نہیں ہوئی ہے بلکہ وزیر اعلیٰ سے ملنے والے وکلاء کا بار کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ شوپیان بار ایسو سی ایشن سے وابستہ سینئر وکیل ایڈوکیٹ سید اعجاز حسین نے بھی ایس ایم اقبال کے ہی ترجمان ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا’’ ایس ایم اقبال ہمارے منتخب نائب صدر اور ترجمان ہیں، شوپیان کے لوگوں نے آسیہ اور نیلوفر کیس میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے لئے بہت قربانیاں دے رکھی ہیں اور ہم اہل شوپیان کی قربانیوں کو پانچ لاکھ روپئے کے عوض رائیگاں نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ ایڈو کیٹ اعجاز حسین کا مزید کہنا تھا’’ حکومت ہر سطح پر شوپیان بار ایسو سی ایشن کو توڑنے کے درپے ہے مگر ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا‘‘۔قابل ذکر ہے کہ شوپیان بار ایسو سی ایشن سے وابستہ وکلاء کو شوپیان سانحہ سے متعلق سی بی آئی نے اپنی متنازعہ رپورٹ میں ملزم ٹھہرایا ہے اور مقامی وکلاء اس کو شوپیان سانحہ گول کرنے کی ایک مذموم کوشش سے تعبیر کرتے ہیں۔</div><p>وزیر اعلیٰ کا دورہ ،شوپیان بار ایسو سی ایشن میںاختلافات کی وجہحکومت سانحہ شوپیان کو گول کرنے کےلئے وکلاء کے اتحاد کو توڑنے کے درپے:بار%سرینگر/ وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کا حالیہ دورہ شوپیان مقامی بار ایسو سی ایشن کی تقسیم کی وجہ بن گیا ہے اور ڈسٹرکٹ بار کے منقسم دھڑے ایک دوسرے پر سنگین الزام تراشیاں کررہے ہیں۔ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن شوپیان کے ایک دھڑے کا کہنا ہے کہ وہ شوپیان سانحہ میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے حق میں قانونی سطح پر سرگرم ہیں اس لئے حکومت اُن کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ دوسرے دھڑے کا کہنا ہے کہ وہی اصلی بار کی نمائندگی کررہے ہیں اور وہ علاقے کی تعمیر وترقی کے خواہاں ہیں۔شوپیان بار کے مذکورہ دھڑے کی طرف سے جاری ایک بیان میں ایڈو کیٹ ایس ایم اقبال پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے بتایا گیا ہے’’ایس ایم ا قبال شوپیان بار ایسو سی ایشن کا ترجمان نہیں ہیںاور اُن کا دیا گیا بیان قابل مذمت ہے،ایڈوکیٹ ایس ایم اقبال کئی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اُن سے تنخواہ حاصل کررہے ہیں‘‘۔ قابل ذکر ہے کہ مذکورہ بیان پر بار صدر کے دستخط نہیں ہیں۔ ایڈو کیٹ ایس ایم اقبال نے شوپیان بار ایسو سی ایشن کے ترجمان کی حیثیت سے اخبارات کے لئے جاری اپنے بیان میں اُن وکلاء کا شوپیان بار ایسو سی ایشن کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق ہونے سے انکار کیا تھا جنہوں نےجنوری کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کے دورہ شوپیان کے دوران اُن سے ملاقات کی تھی۔ شوپیان مجلس مشاورت نے وزیر اعلیٰ کے دورہ شوپیان کے خلاف احتجاجی ہڑتال کی اپیل کی تھی ۔ شوپیان سے تعلق رکھنے والے1وکلاء نے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ سے ملاقات کی اور اُنہیں بار کے مسائل سے آگاہی دلائی۔مذکورہ وکلاء کی وزیر اعلیٰ سے ملاقات پر ناراض عام لوگوں نے 5جنوری کے روز زبردست نعرے بازی کی۔ شوپیان بار ایسو سی ایشن کے ترجمان ایڈوکیٹ ایس ایم اقبال نے دوسرے روز اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرنے والے وکلاء کے بارے میں کہا تھا’’ ان جونیئر وکلاء کا شوپیان بار ایسو سی ایشن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔ مذکورہ وکلاء کی طرف سے جاری ایک تحریری بیان میں بتایا گیا ہے ’’شوپیان بار ایسو سی ایشن ایک غیر سیاسی فورم ہے جو صرف علاقہ کی ترقی کا خواہاں ہے اور یہ کہ ایڈو کیٹ ایس ایم اقبال بار ایسو سی ایشن کا ترجمان نہیںہیں‘‘۔ اپنے آپ کو شوپیان بار ایسو سی ایشن کا ترجمان کہنے والے ایڈوکیٹ غلام حسن ڈار نے بتایا’’ ایس ایم اقبال شوپیان بار میں کسی بھی عہدے پر فائز نہیں ہیںاور جب بار کی ایک ٹیم کو وزیر اعلیٰ سے ملنے کا فیصلہ لیا گیا تو اُس وقت بار صدر ایڈو کیٹ عبد المجید میر بھی میٹنگ میںموجود تھے اور وزیر اعلیٰ سے ملنے والے وکلاء میں اُن کا بیٹا بھی شامل ہے‘‘۔ ایڈوکیٹ ایس ایم اقبال نے تاہم  ایڈوکیٹ غلام حسن ڈار اور وزیر اعلیٰ سے ملنے والے وکلاء کی سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا’’ یہ وہی لوگ ہیں جو آسیہ اور نیلوفر کی عصمت دری و قتل معاملے کو سرد خانے میں ڈالنے کے لئے کام کررہے ہیں‘‘۔ ایس ایم اقبال کا کہنا تھا’’ شوپیان بار ایسو سی ایشن نے غلام حسن ڈار کو پچھلے سال بار کی بنیادی رکنیت سے خارج کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اُس کے پاس کوئی چیمبر بھی نہیں ہے‘‘۔ ایڈوکیٹ ایس ایم اقبال کے مطابق ’’حکومت بار ایسو سی ایشن شوپیان کی اُن کوششوں کو ناکام کرنا چاہتی ہے جو اُنہوں نے آسیہ اور نیلوفر کی عصمت دری و قتل سانحہ میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی سطح پر شروع کررکھی ہیں اور اس کے لئے حکومت نے شوپیان کے ہی کئی وکلاء کا استعمال کرنے کی کوشش کی ہے مگر ہم اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ مجرموں کی نشاندہی تک مجلس مشاورت کے شانہ بشانہ اپنی جد وجہد جاری رکھیں گے‘‘۔ ایڈوکیٹ ایس ایم اقبال کا کہنا تھا’’ شوپیان بار ایسو سی ایشن وزیر اعلیٰ کے وہ پانچ لاکھ روپئے لینے سے بھی انکار کرتی ہے جو عملاً وکلاء کی آواز بند کرنے کے لئے فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا‘‘۔شوپیان بار ایسو سی ایشن کے اُس بیان میں جس میں ایڈو کیٹ ایس ایم اقبال کو الزامات کا نشانہ بنایا گیا ہے، میں مزید درج ہے’’شوپیان بار ایسو سی ایشن ایک غیر سیاسی فورم ہے اور صرف علاقہ شوپیان کی ترقی کا خواہاں ہے‘‘۔ ایس ایم اقبال کا کہنا ہے کہ شوپیان بار ایسو سی ایشن دو پھاڑ نہیں ہوئی ہے بلکہ وزیر اعلیٰ سے ملنے والے وکلاء کا بار کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ شوپیان بار ایسو سی ایشن سے وابستہ سینئر وکیل ایڈوکیٹ سید اعجاز حسین نے بھی ایس ایم اقبال کے ہی ترجمان ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا’’ ایس ایم اقبال ہمارے منتخب نائب صدر اور ترجمان ہیں، شوپیان کے لوگوں نے آسیہ اور نیلوفر کیس میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے لئے بہت قربانیاں دے رکھی ہیں اور ہم اہل شوپیان کی قربانیوں کو پانچ لاکھ روپئے کے عوض رائیگاں نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ ایڈو کیٹ اعجاز حسین کا مزید کہنا تھا’’ حکومت ہر سطح پر شوپیان بار ایسو سی ایشن کو توڑنے کے درپے ہے مگر ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا‘‘۔قابل ذکر ہے کہ شوپیان بار ایسو سی ایشن سے وابستہ وکلاء کو شوپیان سانحہ سے متعلق سی بی آئی نے اپنی متنازعہ رپورٹ میں ملزم ٹھہرایا ہے اور مقامی وکلاء اس کو شوپیان سانحہ گول کرنے کی ایک مذموم کوشش سے تعبیر کرتے ہیں۔</p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/02/09/cm-shopian/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> </channel> </rss>
<!-- This site's performance optimized by W3 Total Cache. Dramatically improve the speed and reliability of your blog!

Learn more about our WordPress Plugins: http://www.w3-edge.com/wordpress-plugins/

Minified using disk
Page Caching using disk (user agent is rejected)
Database Caching 19/29 queries in 0.025 seconds using disk

Served from: gravity.syedi.com @ 2010-09-10 17:54:03 -->