<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?> <rss
version="2.0"
xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
><channel><title>سرینگر کشمیر &#187; مضامین</title> <atom:link href="http://etalaat.com/category/articles/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" /><link>http://etalaat.com</link> <description>روزنامہ اطلاعات</description> <lastBuildDate>Wed, 10 Feb 2010 19:30:53 +0000</lastBuildDate> <generator>http://wordpress.org/?v=2.9.1</generator> <language>en</language> <sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod> <sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency> <item><title>عارف سے شیرازہ تک</title><link>http://etalaat.com/2010/01/30/aarif-se-sheraaz-tak/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/01/30/aarif-se-sheraaz-tak/#comments</comments> <pubDate>Sat, 30 Jan 2010 06:30:15 +0000</pubDate> <dc:creator>admin</dc:creator> <category><![CDATA[مضامین]]></category> <category><![CDATA[aarif se shiraaz]]></category> <category><![CDATA[nadvi]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=862</guid> <description><![CDATA[الطاف حسین ندوی
سال ۹۰۰۲؁ کو اگر’’ سانحات اور حادثات ‘‘کا سال قرار دیا جائے تو بے جا نہیں ہوگا ۔نیلوفر اور آسیہ کی مظلومانہ موت کو سنگ دل سے سنگ دل انسان بھی فراموش نہیں کر سکتا ہے ۔کشمیر میں یہ ’’جمہوری وسیکولر ہندوستان اورگاندھی جی کے عدم تشدد والے بھارت‘‘ کے ہاتھوں آخری قتل [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<p
style="text-align: right;">الطاف حسین ندوی<br
/> سال ۹۰۰۲؁ کو اگر’’ سانحات اور حادثات ‘‘کا سال قرار دیا جائے تو بے جا نہیں ہوگا ۔نیلوفر اور آسیہ کی مظلومانہ موت کو سنگ دل سے سنگ دل انسان بھی فراموش نہیں کر سکتا ہے ۔کشمیر میں یہ ’’جمہوری وسیکولر ہندوستان اورگاندھی جی کے عدم تشدد والے بھارت‘‘ کے ہاتھوں آخری قتل تو نہیں تھا البتہ ریاستی حکام سے لیکر دہلی کے ’’گاندھی جی کے وارثوں‘‘ تک سبھی نے مل کر جس بے شرمی کے ساتھ اس کیس کودبانے کی کوشش کی وہ انسانیت کے قاتلوں کے ماتھے پر نہ مٹنے والاوہ کلنک ہے جس سے دیکھ کر ’’آسیہ اور نیلوفر کے وارثین‘‘انھیں دور سے ہی پہچان لیں گے ۔ادھر آسیہ اور نیلوفر کا یہ قتل ہمیں رُلا ہی رہا تھا کہ کلر پلوامہ کے دوسالہ معصوم عارف کو اپنے باپ کی گودمیں کسی نا معلوم بندوق بردار نے والد سمیت قتل کردیا اور عارف کے بعد شیرازہ ساکنہ کلر نامی ایک جواں سال لڑکی کوبھی نا معلوم بندوق برداروں نے گولی مار کر جاں بحق کر دیا ۔عارف کی خبر جوں ہی اخبارات میں چھپی تو دوسرے ہی روز مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم ،وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور تمام دوسرے حکومتی ذمہ داراں کے یہ بیانات سامنے آنا شروع ہوگئے کہ حریت کانفرنس کے ہنگامہ پسند لوگ اس بہیمانہ قتل پر خاموش کیوں ہو گئے ؟ان کا ایک آدھ مزمتی بیان اخبارات میں کیوں نہیں چھپا۔۔۔۔۔۔؟؟؟</p><blockquote><p>ادھر آسیہ اور نیلوفر کا یہ قتل ہمیں رُلا ہی رہا تھا کہ کلر پلوامہ کے دوسالہ معصوم عارف کو اپنے باپ کی گودمیں کسی نا معلوم بندوق بردار نے والد سمیت قتل کردیا اور عارف کے بعد شیرازہ ساکنہ کلر نامی ایک جواں سال لڑکی کوبھی نا معلوم بندوق برداروں نے گولی مار کر جاں بحق کر دیا</p></blockquote><p
style="text-align: right;">_	پہلے اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ ’’نامعلوم بندوق بردار ‘‘کون لوگ ہیں ۔عسکریت پسند یا سیکورٹی فورسز اور پولیس؟یہ خود ایک معمہ ہے جو گذشتہ بیس برس سے کسی بھی طرح حل نہیں ہو پاتا ہے ۔البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب حکومت نامعلوم بندوق بردار کا لفظ استعمال کرتی ہے تواس سے عسکریت پسند مراد ہوتے ہیں ۔گو حکومت کے نزدیک ہر وہ کاروائی جو نامعلوم بندوق بردار انجام دے رہے ہیں کشمیر کے عسکریت پسندوں کا فعل ہو تا ہے ۔جہاں تک ہمیں یاد ہے چھٹی سنگھ پورا مٹن میں ۶۳ سکھوں کا قتل عام ہونے کے بعد حکومت نے اس کی ذمہ داری بھی ’’نامعلوم بندوق برداروں‘‘پر عائد کی تھی ۔چدمبرم جی اور عمر صاحب کو یاد ہو کہ نہ ہو اس قتل عام کے بعد ’’فوج‘‘ نے چند عام شہریوں کو گرفتار کرکے ایک فرضی مقابلے میں ابدی نیند سُلا دیا۔۔۔اور جب معاملہ عدالت میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک ڈرامہ تھا جس سے فوج نے تیار کیا تھا۔ عدالت نے ان اہلکاروں کی نشاندہی بھی کی تھی مگر اس کے باوجود ان کے خلاف ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔اسی طرح وند ہامہ ،گاؤکدل ،حبہ کدل ،ہندواڑہ اور سوپور کے علاوہ یہی  کچھ کئی قصبات اور دیہاتوں میں بھی دہرایا گیا اور ہر ایسے موقعہ پر حکومت نے نامعلوم کہہ کرشک کی سوئی عسکریت پسندوں کے جانب موڈدی ۔پھر بات یہاں تک پہنچی کہ عوام کو حکومتی بیانات پر سے اعتماد ہی اُٹھ گیا اور سانحہ شوپیان نے رہی سہی کسر نکال کر رکھدی ۔<br
/> اب اس کا ایک اور پہلو لے لیجئے کہ کیا عسکریت پسند اس میں مکمل طور پر پاک وصاف ہیں ؟نہیں ایسا نہیں ہے،اس طر ح کا دعویٰ کرنا آپ اپنا مذاق اُڑانے کے مترادف ہوگا ۔عسکریت پسندفرشتے نہیں ہیں ان سے غلطیاں ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں البتہ یہ ایک ایسی غیر منظم فوج ہے جن کی فی الحال کہیںبھی جواب دہی نہیں ہے۔نہ ہی ان کے غلط کاموں کو کوئی اچھی نگاہ سے دیکھتا ہے اور نہ ہی ان کے غلط کاموںکو درست کہنے کی کوئی شرعی یا اخلاقی دلیل موجود ہے ۔پی چدمبرم جی اور عمر عبداللہ کا ان کاروایئوں کو حریت کے ساتھ جوڑنے کا کیا جواز ہے ۔اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جس طرح سانحہ شوپیان پروادی میں ہمہ گیر احتجاج کیا گیا اسی طرح حریت کو عارف اور شیرازہ کے<br
/> قتل پر کرنا چاہئے تھا تو ہمیں اس پر آپ کے ساتھ اتفاق ہے مگر یہ بھی تو بتائے کہ چھٹی سنگھ پورا سے لیکر شوپیان تک جو ایک ملک کی باضابط فوج نے کیا اس کاعلاج اور تدارک کیا ہے ؟؟؟<br
/> بحیثیت عوام ہم ’’اٹوٹ انگ والے کشمیر ‘‘میں رہ رہی ’’جمہوری اور عدم تشدد والے ملک کی سیکولر فوج اور پولیس‘‘کے بارے میں یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس کا کیا علاج ہے جو ان کے ہاتھوں ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے ؟اور تمام تر ’’امن وزیروٹالرینس ‘‘کے دعوؤں کے باوجود جاری ہے ؟جناب والا یہاں انسان مر رہے ہیں اور روز مر رہے ہیں کیا انھیں بچانے کے بجائے اس پر ’’میڈیا ڈبیٹ‘‘میں حریت کو زچ کرنے سے یہ لوگ بچ جائیں گے؟؟؟حالانکہ جو لوگ دو بندوقوں کی ٹکر میں مر رہے ہیں انھیں نہ آپ سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی حریت سے ؟؟؟عارف جیسا پھول اورشیرازہ جیسی معصوم کلی ہمارے ہی ویران گلشن کے پژمردہ پھول ہیں ۔انھیں جس نے بھی قتل کیا دنیا کی کسی بھی لغت میں اس کی حوصلۂ افزائی کے لیے الفا ظ ملنا مشکل ہے مگر یہ بحث اور لایعنی ڈبیٹ کب تک جاری رہے گا ؟ کیا تب تک جب تک ہم سب مارے جائیں؟مسئلہ یہ نہیں کہ کشمیرمیں کون کس کو مار رہا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ مارنے والے کے ہاتھ کب اور کس طرح رک جائیں گے ؟وہ کب تک دو سالہ عارف اور اسی سالہ محمد اکرم کو قتل کرتے رہیں گے ؟بحثیت عوام کشمیریوں کو ایک اجتماعی المیہ کا سامنا ہے ۔وہ اس المیہ کی کوکھ سے پیدا ہو رہے مسائل کے برعکس اصل مسئلے کا حل چاہتے ہیں تاکہ بار بار عارف اور شیرازہ کا خون کشمیر کی مظلوم قوم کو نہ رُلا دیں!اور آپ کا آپسمیں ایک دوسرے کو طعنے دینے اور زچ کرنے سے یہ عمل نہیں رُکے گا ۔<br
/> جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ حریت کانفرنس نے اس پر احتجاج نہیں کیا غلط اور بے بنیاد الزام ہے حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں نے اس واقعہ کی شدید مزمت کی ۔۔۔ہاں یہ بات درست ہے کہ ان کا اسٹیٹمنٹ تین روز بعد آیا یہاں تک کہ آپ نے اپنے ترکش کے سارے تیر حریت پر برسانے میں ذرا برابر تساہل نہیں برتا ۔یہ طریقہ کارحریت کی منفی سیاست کا آیئنہ دار ہے حریت اگر بااصول افراد کی جماعتیں ہیں انھیں چاہئے کہ اپنے انسانی اور اسلامی اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے ان کی پاسداری کریں چاہئے ان کی زد میںاپنے آئیں یا غیر ۔۔۔وہ اصول ہی لایعنی ہیں جن میں ’’میں اور تو‘‘یا ’’اپنا اور غیر‘‘ کا تصور موجود ہو ۔اسلام اس کی اجازت تو درکنار اس سے انتہائی ظلم قرار دیتا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں ’’فاطمہ ‘‘نام کی ایک عورت نے چوری کی اس عورت کا تعلق ایک امیر گھرانے سے تھا بعض مسلمانوں نے بھی اس سلسلے میں سرکار ؐکی خدمت میں (شرعی سزا)ہاتھ کاٹے جانے کے برعکس کوئی اور سزا دینے کی درخواست پیش کی ،حضورؐنے انتہائی شدت کے ساتھ اس سے رد فرماتے ہوئے صحابہ ؓ کو اس سے مستقبل میں بچے رہنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی یہ بھی یاد دلایا کہ گذشتہ قومیںاسی تفریق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب کی شکار ہوئیں۔وہ لوگ احکام الٰہی کے نفاذ میںبھی امیر اور غریب کا فرق کرتے تھے ۔ حریت کانفرنس کے زعماؤں کو اس جانب اپنی توجہ مبذول کرتے ہوئے یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ان کے ایک ایک عمل اور ایک ایک قول کو لوگ بہت ہی غور و فکر اور توجہ کے ساتھ سنتے ہیں ۔مانا کہ عارف اور شیرازہ کے معاملے میں تساہل کسی اور کارن سے ہوا ،یہ بھی مانا کہ آپ کے ’’میڈیاصلاح کاروں‘‘کو اس کی اطلاع بہت دیر سے ملی ہوگی مگر کیا کوئی غیر اس سے قبول کرے گا ۔زیادتی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ہو یا فوج اور پولیس کے ہاتھوں ہر حال میں زیادتی ہی ہو گی اس میں  فرق کرنے کی کوئی ضرورت نہیں سوائے اس کے کہ جو چیز ظاہراََ زیادتی نظر آئے بعد میں تحقیقات سے معلوم ہو کہ وہ عین انصاف ہے الگ بات ہے مگر فہم عمومی میں ظلم ظلم ہی ہے اور ہمیں بھی ہر دو صورتوں کے ظلم کو ظلم ہی کہنا چاہئے ۔<br
/> <span
style="color: #808080;"><strong> مضمون نگار کی آراء سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے</strong></span></p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/01/30/aarif-se-sheraaz-tak/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>گرفتاری سے رہائی تک</title><link>http://etalaat.com/2010/01/28/altaf-hussain-nadvi-etalaat/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/01/28/altaf-hussain-nadvi-etalaat/#comments</comments> <pubDate>Thu, 28 Jan 2010 18:04:44 +0000</pubDate> <dc:creator>admin</dc:creator> <category><![CDATA[مضامین]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=843</guid> <description><![CDATA[
13جنوری  2010بروز بدھ ساڑھے پانچ بجے کے قریب میں گھر سے نماز مغرب کی ادائیگی کے لیے نکلا تو میں نے دور سے دوپولیس والوں کوگاؤں کے نمبردار عبدالرشید میر کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے دیکھا چند لمحوں کے بعد نمبردار عبدالرشید تیزی کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے میری طرف آیا اور مجھ سے کہا’’تھانہ [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<p
style="text-align: right;"> 13جنوری  2010بروز بدھ ساڑھے پانچ بجے کے قریب میں گھر سے نماز مغرب کی ادائیگی کے لیے نکلا تو میں نے دور سے دوپولیس والوں کوگاؤں کے نمبردار عبدالرشید میر کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے دیکھا چند لمحوں کے بعد نمبردار عبدالرشید تیزی کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے میری طرف آیا اور مجھ سے کہا’’تھانہ سری گفوارہ کی پولیس آپ کو ڈھونڈ رہی ہے‘‘۔میں نمبردار کی معیت میں ان لوگوں کے پاس پہنچا تو میں نے ان میں سے ایک ثناء اللہ نامی حوالدار کو دور سے ہی پہچانا ۔علیک سلیک کے بعد وہ بڑی لجاجت کے ساتھ مجھ سے کہنے لگا’’ ایس ،ایچ ،اُو صاحب آپ کو بلا رہے ہیں لہذا آپ ہمارے ساتھ چلیں ‘‘۔یہاں سے کوئی دوسو میٹر دوری پر ان لوگوں نے بکتر بند گاڑی کھڑی کررکھی تھی جس میں ان لوگوں نے مجھے سوار کرتے ہی گاڑی بہت ہی تیز رفتاری کے ساتھ سلر میں واقع آر آر کیمپ کی طرف دوڑا دی ۔حوالدارکیمپ میںچندلمحوں تک کھڑے کھڑے کسی کے ساتھ باتیں کرکے فوراََ واپس آیا اور پھر ہم سبھی اسی گاڑی سے سر ی گفوارہ روانہ ہوگئے۔بیس منٹ بعد ہم لوگ سری گفو وارہ ایس اُوجی کیمپ پہنچے جہاں سے سیدھے مجھے سب انسپکٹر درجیت کے کمرے میں پہنچا دیا گیا ۔وہاں سوالات کالمبا سلسلہ شروع ہو گیا جن میں اکثر سوالات کاتعلق ماضی سے تھا ۔ڈیڑھ گھنٹے کے اس سوال و جواب سے فراغت حاصل کر کے ایس اُوجی والوں نے مجھے سری گفوارہ تھانے پہنچا دیا جہاں مجھے منشی کے کمرے میں ایک گھنٹے تک بٹھایا گیا۔ یہاں بیٹھے لوگوں کے چہرے خاصے خشم آلود تھے ۔یہاں میرے ساتھ نمبردار عبدالرشید میر کے علاوہ میرے ماموزاد بھائی ساگر فیاض بھی موجودتھے۔ اسی بیچ ساگر بیت الخلاء گیا تو منشی نے اس سے انتہائی درشت لہجے میں سخت ڈانٹ پلائی ۔ نمبر دارعبدالرشید میر گرفتار تو نہیں تھا مگر اس سے میری ہمدردی جتانے کے نتیجے میں مصیبت میں مبتلا ہونا پڑا۔</p><p
style="text-align: right;">%             یہاں پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ ساگر کو مجھ سے پہلے ہی گرفتار کیا گیا تھا اور اسے کیمپ پر پہنچاتے ہی لاتوں اور گھونسوں سے نوازا گیا تھا۔میں نے ایس اُوجی والوں سے اپنی گرفتاری کی وجہ پوچھی تو مجھے بتا یا گیاکہ میرے گھر کئی روز پہلے کوئی دو آدمی آئے ہوئے تھے ۔میں نے گذشتہ دس روز میں آئے ہوئے سارے مہمانوں کی تفصیل بتا دی مگر وہ لوگ کسی بھی طرح مطمعٔن نہیں ہوئے ۔ساگر کے بارے میں وہ بتا رہے تھے کہ اس کے ساتھ کوئی دو لڑکے تھے جنہیں یہ سری گفوارہ سے اڑلچھ لے گیا ہے اس لئے یہ ان دونوں نوجوانوں کی تفصیلات بتا دے، حالانکہ ساگر کے بقول وہ کسی بھی لڑکے کے ساتھ اڑلچھ نہیں گیا تھا۔رہائی سے قبل ایس ،ایچ،او سری گفوارہ نے ساگر سے کہا کہ’’ آپکو آئی بی والے ڈھونڈ رہے ہیں‘‘۔ میں خود اس سلسلے میں حیران ہوں کہ آئی بی کا نام کیوں لیا گیا حالانکہ بعد میں آئی بی والے کہیں بھی نظر نہیں آئے ۔پولیس افسر درجیت نے مجھ سے کئی مرتبہ پوچھا کہ میرا ملی ٹینسی کے ساتھ کیا اور کیسا تعلق رہا ہے اور میری موجودہ سر گرمیاں کیا ہیں ؟یہاں طویل انتظار اور پوچھ تاچھ کے بعد یہ لوگ مجھے ایس ایچ اُو سری گفوارہ کے پاس لے گئے جہاں ایس ایچ او نے مجھ سے کوئی بات کئے بغیر پہلے ایک الگ کمرے میں ساگر اور اس کے بعد نمبردار عبدالرشید کو بلاکر میری سر گرمیوں کے بارے میں تفصیلات پوچھیں ۔پولیس چاہتی تھی کہ کسی طرح ان دونوںکو میرے خلاف کوئی من گھڑٹ بیان دینے پر مجبور کیاجائے تاکہ اُن کے ہاتھ مجھے ملزم بنانے کا بہانہ لگ جائے ۔ساگر اور عبدالرشید کے بعد ایس ایچ او نے مجھے بلایا۔ میں ان کے کمرے میں داخل ہوا تو سوالات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا ۔﻿<br
/> یہاں بھی مجھ سے ان دو نوجوانوں کے بارے میں پوچھا گیا جو میرے گھر آئے ہی نہیں تھے ۔میں نے ایس ایچ او صاحب سے پوچھا’’ یہ کون لوگ تھے جو آپ کے بقول میرے گھر آئے تھے‘‘۔ انہوں نے میرے اس سوال کا جواب تو نہیں دیا، البتہ وہ لگاتار مجھے اپنی بے بنیاد باتیں قبول کرنے پر راضی کرانے کی کوشش کرتے رہے ۔اُدھر ادھر کی باتوں کے بعد ایس ایچ او صاحب نے براہ راست میر ی موجودہ صحافیانہ اورمبلغانہ سرگرمیوں کے بارے میں استفسار ات شروع کر دئے ۔میں نے انہیں’ الف‘ سے لیکر ’ی‘ تک ساری تفصیلات بتا دیں کہ اچانک ’’پاڈن‘‘واقعہ پر سوالات و جوابات کا طویل سلسلہ شروع ہوگیا ۔اس لئے کہ میڈیا نے اسے ’سیکس اسکینڈل ‘قرار دیا تھا اور ایس ایچ اُو کے عبدالرشید ایتو نامی ملزم کے ساتھ مبینہ تعلقات کو ہی’خبر ‘ بنایا تھا جبکہ ایس ایچ او سری گفوارہ اس حوالے سے ایک الگ داستان بیان کرتے ہیں اور وہ میڈیا رپورٹنگ کے بعض حصوں سے اتفاق نہیں رکھتے ہیں۔ سب سے زیادہ غصہ انھیں روزنامہ اطلاعات کی اس خبر پر تھا کہ’’ عبدالرشید ایتو کے ساتھ ان کے خصوصی تعلقات ہیں ‘‘۔انہوں نے مجھ سے کہا’’ یہ خبر آپ نے ہی اطلاعات کو دی ہے‘‘۔ حالانکہ وہ خود ہی کہہ رہے تھے’’ میں نے روز نامہ اطلاعات کے آفس فون کر کے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ یہ اطلاع اُنہیں کس نے دی تھی‘‘ ۔ایس ایچ اُو سری گفوارہ کے بقول دفتر اطلاعات سے انھیں بتا دیا گیا’’ یہ خبر اطلاعات کو ایک خبر رساں ادارے کی طرف سے ملی ہے‘‘ ۔میں نے ایس ایچ اُوسے پوچھا’’روزنامہ اطلاعات سے آپ کو یہ تفصیلات کس نے بتادیں‘‘۔  اُنہوں نے جواب میںکسی’سید نثار‘ کا نام لیا۔ رہائی کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ سید نثار نام کا کوئی بھی شخص روزنامہ اطلاعات سے وابستہ نہیں ہے۔<br
/> ایس ایچ اُو صاحب میری ساری روداد سننے کے بعد بھی مطمعئن نہیں ہو ئے کہ یہ خبر میڈیا کو میرے علاوہ کسی اور نے نہیں دی ہوگی بلکہ اپنے خاص ’’افسرانہ انداز‘‘ میں یہ خبر دینے اور چھاپنے والے حضرات کے نام ایسی ایسی فحش اور گندھی گندھی گالیاں دیدیں کہ مجھ جیسے عام کالم نگار کے لیے بھی یہ صورتحال بہت ہی شرمناک اور خوفناک تھی ۔مجھے حیرت اس بات سے ہورہی تھی کہ ایک پولیس کا آفیسر کس مُنہ سے ایک روزنامہ سے وابستہ پیشہ وروں کے خلاف اتنی گندھی زبان استعمال کررہا تھا۔<br
/> بے بسی کے اس عالم میں مجھے وہ سب کچھ سننا پڑاجو عام حالات میں میرے لئے برداشت کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے ۔روزنامہ اطلاعات سے وابستہ لوگوں کے نام ان گالیوں سے میری روح تڑپ اٹھی، مگر میں کیا کر سکتا تھا، ایک عام بے بس کشمیری کی طرح، سوائے صبر کے ۔مجھے ایس ایچ او صاحب کے رویئے سے اس بات کابخوبی اندازہ ہوگیا کہ اُنہیں پختہ یقین ہوچکا ہے کہ ’’پاڈن ‘‘ کی خبر میں نے میڈیا کو دی ہے اور اسی لئے وہ میرے سامنے خبر دینے والے کو گندھی گالیاں دے کر دل کی بڑاس نکال رہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ انھیں معاف فرمائے ۔</p><p
style="text-align: right;">3            پاڈن نامی چھوٹی سی بستی میرے گاؤں سلر سے کوئی دو کلو میٹر کی دوری پر واقعہ ہے ۔یہ گاؤں بہت ہی چھوٹا ہے ۔یہاں کے لوگوں نے3 دسمبر  2009 کو غلام محمد ڈار المعروف غلام شوداکے گھر میں دری گنڈ کے عبدالرشید ایتو اور سری گفوارہ کے طارق احمد وازہ کو مشکوک حالت میں پکڑ لیا تھا ۔جس روز یہ واقعہ پیش آیا اسی روزایک صحافی بشیر نادمؔ صاحب جو  ہفت روز شیشناگ کے ایڈیٹر انچیف ہیں اور سری گفوارہ ہی کے رہنے والے ہیں، صبح سویرے میرے گھر پہنچے اوراُنہوں نے سر ی گفوارہ سے آکر مجھے اس واقعہ کی خبر دی۔ ہم دونوں ’’پاڈن‘‘ نامی گاؤں کی طرف روانہ ہوگئے جہاں لوگوں کے جم غفیر نے ہمیں گھیر لیا ۔اپنے علاقے کے لوگ مجھے ایک دینی مبلغ کی حیثیت سے ہی زیادہ جانتے ہیں ۔پاڈن کے عوام نے ہمارے سامنے بہت ہی شدید غم وغصے کا اظہار کیا۔ میں نے ان سے کہا کہ ’’ہماری ساری قوم دین سے غافل ہے اور آج کا واقعہ اسی کا نتیجہ ہے،دین ہی تمام بے حیایئوں اور بے شرمیوں سے ایک آدمی کو دور رکھتا ہے‘‘۔ میں نے مزید بتایا’’ہم ہر حادثے کے بعدصرف پچھتاوے پر اکتفا کرتے ہیں۔ ان برائیوں کے روک تھام کے لیے راستے تلاش کرنے کے بجائے ہم اس کی ساری ذمہ داری پولیس اور حکومت پر عائد کرتے ہیں جب کہ حکومت اور پولیس قانونی طور پر اس لعنت کو روکنے میں بے بس ہیں ۔اور تو اور حکومت کے تمام ادارے ان خباثتوں کو فروغ دینے میں ’’غیر محسوس رول‘‘ نبھا رہے ہیں ۔حکومت اور پولیس سے اس حوالے سے کوئی امید رکھنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہوگا ۔اس کا تدارک بس دین سے جُڑ جانے میں مضمر ہے اور اگر ہم آج یا کل کے انتظار میں رہے تو اس کے بتدریج فروغ پانے کے امکانا ت زیادہ موجود ہیں‘‘ ۔<br
/> پاڈن کے عوام نے جو تفصیلات ہمیں بتائیں وہ میںمن وعن انہی کی زبانی پیش کروں گا ۔عوام کا کہنا تھا کہ2دسمبر کی رات کے قریباََ دس بجے رشید ایتو ، طارق اورایک تیس سالہ لڑکی گاڑی سے اُترے اور غلام ڈارکے گھر میں داخل ہو گئے۔غلام ڈار ایک ’’گویا‘‘ہے اور اپنے گاؤں سے باہر بھی گانا گانے جاتا رہتا ہے۔رشید وغیرہ کے گھر میں داخل ہونے کے بعد وہاںسے گانے بجانے کی آوازیں آئیں۔ ہمسایوں کو یہاں انجانے لوگوں کے آنے جانے سے پہلے ہی ان محفلوں پر شک ہورہاتھا ۔لوگوں کے بقول نصف شب کے قریب انہیںمکان کی کھڑکیوں میں جھانکنے سے پتہ چلا کہ ایک کمرے میں دو شخص ایک لڑکی کے ساتھ زبردستی منہ کالا کر  نے کی کوشش کررہے ہیں کہ اسی بیچ اُنہیںاندر سے لڑکی کے چیخنے چلانے کی آوازیں سنائی دیں۔ وہ جمع ہو گئے اور مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر چیخنے چلانے اور دروازہ کھٹکھٹانے کے باوجود بھی دروازہ نہیں کھولا گیا ۔لوگ مشتعل ہو گئے اور انہوں نے مکان پر سنگ باری شروع کر دی۔لوگ زبردستی مکان کے اندر داخل ہو گئے جہاں انھوں نے لڑکی اور غلام ڈار کو غائب پایا ۔مجھے چند روز قبل واقعہ کے چشم دید گواہ نذیر احمد بٹ اور منظور احمد ڈار ساکنہ پاڈن کی زبانی یہ بھی معلوم ہوا کہ پاڈن کے قریب ترین بستی بٹہ پورہ کے غنی ماگرے کے مطابق ’’لڑکی‘‘ بھاگتے ہوئے اس کے گھر پہنچی جس کے جسم پر ستر کے کپڑوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔اسلام آبادکے وکلاء کے مطابق لڑکی کی عمر کوئی پندرہ سے لیکر سولہ سال تک ہو گی ۔عوام کا کہنا تھا ’’ہم نے پولیس کو نہیں بلایا بلکہ پولیس خود ہی یہاں پہنچی اور ان کا شک ہے کہ پولیس کو واقع کی اطلاع غلام ڈار نے دی تھی‘‘ ۔خیر پولیس کے آنے کے بعد ایس ایچ او سر ی گفوارہ یہاں پہنچے ،عوام کے بقول ان کے ساتھ ایس ٹی ایف کے علاوہ سی آر پی ایف اہلکار بھی تھے ۔ایس ایچ او نے عوام سے رشید ایتواور طارق کو پولیس کے سپرد کرنے کے لیے کہا ۔عوام نے جذبات میں آکر ایسا کرنے سے انکار کردیا اور الزام عائد کیا کہ پولیس ان مجرموں کی پردہ پوشی کرتی ہے ۔کافی لے دے کے بعد عوام نے رشید وغیرہ کو پولیس کے حوالے کر دیا ۔اس طرح پولیس رشید وغیرہ کو اپنے ساتھ لے گئی جس کے بعد وہ لوگ اٹھارہ روز تک پولیس حراست میں رہنے کے بعد حال ہی میں عدالتی ضمانت پر رہا ہوگئے ۔غلام ڈار تادم تحریر لاپتہ ہے اور پولیس اس کو پکڑنے میں ابھی تک ناکام ہے ۔<br
/> اسی روز گاؤں کے لوگ یہاں سے کوئی ایک ڈیڑھ کلومیٹر کی دوری پر پہلگام بجبہاڈہ روڈ پر نکل آئے اور سڑک کو آنے<br
/> جانے کے لیے بند کر دیا تھا۔ جب ہم نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نے بہ یک زبان کہہ دیا’’ ہمارا تجربہ ہے کہ پولیس ان سیاہ کاریوں میں ملوث مجرمین کو چھوٹ دیدیتی ہے ،ہمارے احتجاج کا مقصد یہ ہے کہ کوئی حکومتی ذمہ دار آکر ہمیں یقین دلائے کہ ان مجرمین کو عبرتناک سزا ملے گی تو ہم اپنا احتجاج ختم کردیں گے‘‘ ۔عوام نے ہم سے یہ بھی کہا’’ ہم نے چند مقامی مین اسٹریم سیاستدانوں کو فون کر کے تمام تر حالات سے باخبر کیا مگر وہ بھی اس واقعہ پر خاموش ہی بیٹھے ہیں‘‘۔لوگ ان سیاستدانوں کی خاموشی پر خاصی برہم دکھائی دے رہے تھے۔ انھوں نے شکایت کی کہ ایس ایچ اُونے انھیں ضلع کمشنر اسلام آباد کے پاس جانے سے بھی روک دیا تاکہ حکامِ بالاان حالات و واقعات سے بے خبر رہیں ۔ایس ایچ او نے مجھے گرفتار کرنے کے بعد بتا یا ’’وہ لو گ ضلع کمشنر صاحب کے پاس گئے اور ہم نے انھیں بالکل نہیںروکا البتہ وہاں سے انھیں ایس پی صاحب کے پاس بھیجا گیا اور وہاں سے بلاآخر انھیں میرے ہی پاس آنا پڑا، اس لئے کہ کیس میرے ہی پاس تھا‘‘ ۔<br
/> پاڈن کے عوام نے اس سے جڑے ہوئے ایک اور واقعہ کے بارے میں ہمیں بتا دیا کہ اس سے پہلے ایک اور معاملے میں غلام ڈار ساکنہ پاڈن 29نومبر 2009کوایک لڑکی کو اپنے ساتھ لیکرڈاکٹر کے پاس گیا۔ واپسی پر لڑکی نے غلام ڈار کی بد کرداری کی شکایت گاؤں والوں کے پاس جاکر کی، گاؤں والوں نے لڑکی کی روداد سننے کے بعد غلام ڈار کو تلاش کرنا شروع کر دیا مگر غلام ڈار جبار چوپان کے گھر میں چھپا بیٹھااور وہیں سے اس نے عبد الرشید ایتو ساکنہ دری گنڈ کو فون کر کے بتا دیا کہ اُسے لوگوںسے خطرہ ہے لہذاوہ اسکوبچانے کی کوئی صورت نکالے۔عوام کے بقول اس کے ایک گھنٹے بعد یہاں ایس ،ایچ ،او سری گفوارہ پہنچے اور انھوں نے مسئلہ کی سنگینی کااحساس کئے بغیر رفع دفع کر کے معاملہ ختم کرادیا ۔اس پر ایس ،ایچ، او سری گفوارہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے جو کچھ بھی کیا عوام ہی کے کہنے پر کیا اور دوسرے واقعے کے بعد عوام نے دوسری ہی کہانی شروع کردی جو بالکل من گھڑت ہے۔<br
/> عوام پولیس اور ایس،ایچ،اوسے اسی بات پر ناراض تھی کہ انھوں نے غلام ڈار کو با ربارقانونی گرفت میں لانے کے برعکس ’’تمامتر حالات وواقعات‘‘ کو بہت ہی معمولی سمجھ کر اس سے ’’جری‘‘ بنا دیا حتیٰ کہ اب وہ دوسروں کی بہو بیٹیوں کی عزت کو نیلام کر نے کے لیے اپنے ہی گھر کو ایک اڈے کے طور پر استعمال کرنے لگا تھا ۔عوام کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان مشکوک حالات سے پولیس کو بار بار باخبر کیا مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی ۔دوران گرفتاری مجھ سے ایس ،ایچ،او نے خود بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا’’پاڈن کے لوگ میرے پاس آئے اور یقیناََ انھوں نے غلام ڈار کی شکایت کی مگر میں نے بھی انھیں باربار کہا کہ اس کے متعلق آپ کو جو شکایت ہے اس سے لکھ کر لاو، ٔ ان لوگوں نے ایسا نہیں کیا ج سکی وجہ سے میں کوئی قانونی کارروائی نہیں کر سکا‘‘ ۔<br
/> جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کیا ایس،ایچ،او اور عبدالرشید ایتو کے درمیان کوئی ’’خصوصی تعلقات‘‘تھے کہ نہیں ؟؟؟عوام میں اس بات کے چرچے اس وقت شروع ہوگئے جب حال ہی میں رشید ایتو نے اپنی بیٹی کی شادی کے موقعہ پر بڑے ہی عالیشان قسم کی دعوت کا اہتمام کیا تھا اور اس میں کافی سیاسی اثرورسوخ والے لوگ شامل ہو گئے تھے ۔ایس ،ایچ،او سری گفوارہ کا کہنا تھا ’’ میں نے اس کے گھر دعوت میں شمولیت ضرور کی مگر میں دوروز بعد وہاں گیا جب کہ روزنامہ اطلاعات میں خبر یہ چھپی تھی کہ میں مہمانوں کی آؤبھگت کر رہا تھا‘‘۔<br
/> ایس ،ایچ ،او صاحب جب بھی اس بات کا تذکرہ کرتے تھے تو میڈیا کو خبر دینے والے اور روزنامہ اطلاعات سے وابستہ عملے کی خوب خبر لیتے تھے ۔رشید ایتو کی بیٹی کی شادی میں’’فضول خرچی‘‘کی وجہ سے علاقے کے عوام میں نفرت پیدا ہو گئی تھی۔ اس حوالے سے افواہوں کا بازار اب تک گرم ہے۔اس کے ساتھ پولیس کے سمبندھ پہلے سے ہی مشکوک تھے کہ پاڈن واقعہ نے معاملے پر سے پردہ اُٹھا دیا ۔ایس ،ایچ ،او سری گفوارہ اس بات کو تسلیم  ہی نہیں کرتے ہیں کہ اس کے تھانے کے ساتھ کوئی تعلق ہے ،جبکہ لوگ اب تک اپنی رائے پر بضد ہیں۔ایس ایچ او کا کہناہے’’ میرا اس سے کوئی تعارف ہی نہیں تھا کہ اچانک ایک روز یہ شخص دعوتی کارڈ لیکر آیا اور اس نے مجھے مدعو کیا، چونکہ مذہب اسلام میں دعوت رد کرنا منع ہے اس لئے ہمیں اس کے گھر تین روز بعد مجبوراََ جانا پڑا‘‘ ۔<br
/> ایس ،ایچ ،او سر ی گفوارہ کا کہنا تھا’’ میں نے قانونی طور پر ملزمین عبدالرشید ایتو وغیرہ کےکیس بناتے وقت اس بات کا خیال رکھا تھا کہ اس طرح کی فھژ سرگرمیوں سے ہمارے سماج پر انتہائی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں‘‘۔چونکہ ملزمین کی ضمانتہوگئی ہے اس لئے لوگوں کواس بات پر حیرانگی ہے کہ عدالت نے اُنہیں اتنی جلدی رہا کیوں کر دیا ۔اس واقعہ کو علاقے کے لوگ بہت ہی شک کی نگا ہ سے دیکھ رہے ہیں ۔ عوامی حلقے ’’سبینہ سیکس اسکینڈل‘‘کی مثال پیش کرتے ہوئے پولیس کے دعوؤں کو من گھڑت قرار دیتے ہیں ۔اب یہ معاملہ پولیس کے ہاتھوں سے نکل کر عدالت کے ہاتھوں میں آچکا ہے جہاں قانونی کارروئی کا سارا دارومدار سری گفوارہ پولیس اسٹیشن کے تحقیقاتی موادپر ہی ہوگا ۔<br
/> میرا آج کا یہ موضوع گرفتاری کے اسباب سے ہٹ کر ’’پاڈن واقعہ‘‘ کی طرف مڑ چکا ہے اس لئے کہ گرفتاری سے رہائی تک میں نے پولیس بالخصوص ایس ،ایچ ،او سری گفوارہ پر اس واقعہ کی رپورٹنگ کا بھوت سوار پایا۔ اسی وجہ سے میں نے اس واقعہ کی سرسری تفصیلات سے قارئین کرام کو باخبر کرنا چاہا تاکہ وہ حقیقت سامنے آجائے جس پر کئی وجوہ سے اب تک پردہ پڑا ہوا تھا ۔اس واقعہ سے جڑے بعض حصوں کو میں نے جان بوجھ کر حذف کردیا اس لئے کہ ان کا تعلق اس ’’ذات‘‘ سے ہے جو اس واقعہ کی اہم کردار ہے ۔ان تفاصیل سے ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔رسوائی سے بھرپور ایک داستان ہے جس سے میڈیا میں لانا اور بھی رسوائی ہے، کاش ہماری مائیں اور بہنیں ہمیں بار بار رسوا نہ کرتیں ؟؟؟میری معلومات کی حد تک حقیقت یہ ہے کہ یہ رضامندی کے برعکس جبر کا معاملہ تھا مگر ہمیں ایسے حالات نے گھیر لیا ہے کہ بے دینی اور بے غیرتی کے مہلک جراثیم نے ہمارے اندر کی انسانیت کو ختم کردیا ہے ۔کنن پوشہ پورہ کپوارہ میں جن بہنوں کو ظالموں نے نشانہ بنایا ،دو دہا ئیاں گذر جانے کے باوجود وہ اپنے مقدر پر نالاں ہیں۔ یہ وہ وجوہات ہیں جو والدین کو خاموش ہو جانے پر مجبور کردیتے ہیں ۔۔۔۔اور یہاں بھی میں کچھ اور لکھنے سے قاصر ہوں ۔۔۔۔۔<br
/> مجھے اس سے قبل بھی کئی مرتبہ گرفتارکیا جاچکا ہے 9مئی 1996؁ سے لیکر جنوری000تک میں بالترتیب ملنگ پور پلوامہ کے برگیڈ ہیڈ کوارٹر،بادامی باغ ،وکٹرفورس اونتی پور،برگیڈہیڈکوارٹر کھنہ بل،جے آئی سی پلوامہ واسلام آباد،ہری نواس،کٹھوعہ سب جیل،ہیرا نگر سب جیل،کوٹ بلوال اورسری نگر سینٹرل جیل میں قریباََ ساڑھے تین برس تک بند رہا ہوں ۔اس وقت پولیس اور فوج نے عسکریت کی کہانی تیار کرکے مجھے حراست میں رکھا جو بعد میں عدالتی کارروائی کے وقت ایک من گھڑت کہانی ثابت ہوئی ۔آج کی مختصر اور ماضی کی طویل قید میں مجھے کافی مماثلت دکھائی دے رہی ہے ۔کشمیر میں کل بھی حق کہنا اور لکھنا جرم تھا اور آج بھی جرم ہے ۔یہ ایجنسیوں کا اپنا طریقہ ہے اور ان طریقوں سے وہ قلمکاروں اور علماء کو ایک خاص ڈگر پر چلنے کے لیے مجبور کررہے ہیں۔ مگر میں ایسے مواقع پر مرعوبیت کو علمی اور قلمی خیانت کا ناقابل معافی جرم سمجھتا ہوں ۔اپنی جیل زندگیوں میں، میں نے جو سیکھا ،کوئی مدرسہ اور کوئی یونیورسٹی مجھے اس سے آشنا نہ کر سکی ۔جیل کی زندگی ایک آزمائش ہوتی ہے جہاں انسان نہ چاہنے کے باوجود بہت کچھ سیکھ جاتا ہے ۔عقل و شعور کی پختگی ،علم و عمل میں ہم آہنگی اور سب سے بڑھکر مقصد زندگی کے تعین میں ایک نادر اور نایاب موقعہ ہاتھ آجاتا ہے ۔اس دوران آدمی کو ذہن و ضمیر کی قیمت بھی بہت آسانی کے ساتھ مہیا ہو جاتی ہے ۔آدمی کا دام بھی بہت بڑھ جاتا ہے ۔اگر اللہ کی تائید شامل حال نہ ہواور عقل کا پہرہ دارغفلت کا شکار نہ ہو جائے تو آدمی کسی کام کا نہیں رہتا ہے، اپنا سب کچھ بیچ ڈالتا ہے996؁ سے لیکر 2000 تک کی اس طویل جیل زندگی میں کیا کیا دیکھا اور کیا کیا سنا ایک الگ کہانی ہے جس سے اگر تحریری شکل دیدی جائے تو کئی ضخیم جلدوں کی کتاب تیار ہو جائے گی۔</p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/01/28/altaf-hussain-nadvi-etalaat/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>اختلاف، تحقیق اور قلم</title><link>http://etalaat.com/2010/01/27/pen-gainst/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/01/27/pen-gainst/#comments</comments> <pubDate>Wed, 27 Jan 2010 15:52:39 +0000</pubDate> <dc:creator>admin</dc:creator> <category><![CDATA[مضامین]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=629</guid> <description><![CDATA[پرویز حکیم ریاض حسین
اختلاف صدیوں سے انسان کے ساتھ ساتھ چلتا آرہاہے۔اختلاف چا ہئے۔ اپنوں یا پرائیوں سے ہونے کے بے شمار وجوہات ہیں۔ مسلمانوں میں اختلاف کی وجہ صرف اور صرف تعلیمی فقدان ہے اختلاف ہماری زندگی کا ایک ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔ ہمارا کو نسا ادارہ ہے جہاں اختلاف اور جھگڑانہیں ہے [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<p><strong>پرویز حکیم ریاض حسین</strong></p><p>اختلاف صدیوں سے انسان کے ساتھ ساتھ چلتا آرہاہے۔اختلاف چا ہئے۔ اپنوں یا پرائیوں سے ہونے کے بے شمار وجوہات ہیں۔ مسلمانوں میں اختلاف کی وجہ صرف اور صرف تعلیمی فقدان ہے اختلاف ہماری زندگی کا ایک ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔ ہمارا کو نسا ادارہ ہے جہاں اختلاف اور جھگڑانہیں ہے ۔ اختلاف کی وجہ سے ہم بے وزن اور بے وقار ہو گئے ہیں۔جسکایہ نتیجہ نکل رہا ہے کہ ہم ہر شعبے میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ ایک گروپ دوسرے گروپ کو کمزور کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ جو چیز اچھی لگے وہ کریں۔ اپنے خیالات دوسروں پر زبردستی نہ ٹھونسیں ۔ اسی اختلاف کی وجہ سے مسلمان اس وقت بُری حالت میںہیں۔  ہر چیز سے اختلاف، آیسی اختلاف،دوسری قوموں سے اختلاف، خلیفوں پر اختلاف، اماموں پر اختلاف، رونے پر اختلاف، داڑھی پر اختلاف،یا پیجامہ پر اختلاف، ہندوں سے اختلاف،عیسائیوں سے اختلاف ، مرزائیوں سے اختلاف ، فضول باتو ں پر اختلاف،غرض ساری دنیا سے اختلاف ۔جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اسمیں شدت پیدا ہو رہی ہے۔ اختلاف کادائرہ سمٹنے کے بجائے وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ شعیہ سنی میں اختلاف۔ دو نوں فریق اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں دونوں کی جڑیں گہری ہیں ۔ دونوں کے پاس پیسے ہیں۔ کوئی بھی فریق شکست تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ کوئی اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اسمیں خا ص رول نیم خام علمائے دین بھی ادا کررہے ہیں۔ جو اس اختلاف کو ہوا دے رہے ہیں۔ سب کے پنے اپنے مفادات ہیں۔ کچھ ماضی کی تلخیوں کا بدلہ لے رہے ہیں۔ جذبہ خیر خواہی کا تقاضہ تھا کہ دونوں طرف کے لوگ اتحاد و اتفاق کی شرط کے ساتھ وفاداری کو مشروط کرتے ۔ کسی جماعت یا قوم کی تباہی کا سب سے بڑا سبب نزاع و اختلاف ہے۔ اختلاف کی وجہ سے بزدلی پیدا ہوتی ہے پستیاں مقدر بن جاتی ہیں کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ ۔ یہ خدا صاحب کا ذاتی مسئلہ ہے۔ وہ خاموش اور نہ جانے کہاں بیٹھا ہے۔ یہ کمزور انسان ڈنڈ ا ہاتھ میں لئے سب پہ اپنی سوچ کی باتیں ٹھونسا چاہتا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے لئے جو اچھا سمجھتا ہے دوسروں کے لئے بھی اچھا سمجھے اور اسی حساب سے سوچے اور عمل کرے۔ اچھے سے اچھے طریقہ کو اپنانے کے لئے مطالعہ کرے ، تلاش کر ے اور تحقیق کرے۔ تحقیق صاف بتائے گی۔ کہ اچھا کیا ہے اور بُرائی کس میں ہے تحقیق سے ہی اولیا، انبیا، رشی منی، سائنسدان، فلا سفر وغیرہ و غیرہ پیدا ہوئے۔ تحقیق کے معنی اصلیت کی جانکاری  حاصل کرنے کی سعی ہے۔ قدرت کے بیش بہا اور بیش قسمت خزانے ایسے ہیں جو آنکھوں سے اب تک اوجھل ہیں۔ روز اول سے انسان قدرت کے راز جاننے کی جستجو میں ہے۔ آسمان کی شکل وصورت کا راز ، سمندر کی گہرائی ہو ، زمین کے اندر کیا ہے یا پہاڑوں میں کونسے راز دفن ہیں ۔ تحقیق  کی بدولت ہی ان چیزوں سے انسان آہستہ آہستہ پردہ اُٹھا سکتا ہے۔ کائینات میں ایک سے بڑھ کر ایک راز ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مریض پر بھی زندگی کے آثار ہو سکتے ہیں۔ مسلمان بھی ان ساری باتوں پر کمند ڈال سکتے ہیں۔ یہ کسی کی ذاتی جاگیر نہیں۔ کائینات کے گوشوں کو بے نقاب کر سکتے ہیں۔ اگر مسلمان ترقی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں تحقیق کے میدان میں اپنے قدم مظبوتی سے جما لینے چاہئیں ۔ رنگ ونسل سےبالا تر ہو کر لکبیر کا فقیر بننے کے بجائے کوششیں کی جائے کہ وقت کا درست استعمال ہو۔ اسطرح دین اسلام کی عمارت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو سکتی ہے اور بلند سے بلند ہو تی چلے جائے گی۔ آج تمام عالم کے مسلمان پر یشان اور بکھرے ہیں۔ آج مذہب کو ہی نفرتوں کی آما جگاہ بنا یا گیا ہے۔<br
/> } جس دن سے انسان عقل وشعور کی وادی میں پہلا قدم رکھتا ہے اُسی دن سے وہ دماغ میں ڈھیرہ جمائے سوالات اور اُلجھنوں کو سلجھانے کی تک دو میں مصروف ہو جاتا ہے اور پھر انکشاف کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ بہت کچھ دریافت ہونے کے باوجود ابھی بھی بے شمار راز انسانی عقل وآنکھ سے پوشیدہ ہیں۔ بہت سی باتوں کو سمجھنا ہے اورسمجھانا ہے۔ اہل پورپ نے تحقیق کا سلسلہ جاری رکھا اوراس تحقیق نے ان کو کہاں سے کہاں پہنچایا ۔ انسانی عقل حیران ہے اور زبان لفظوں کے لئے پریشان ہے کہ یہ دنیا کتنی عجیب و غریب ہے  اور اندر کتنے راز چھپائے بیٹھی ہے کوئی بھی نہیں جانتا اس تحقیق کا اختتام کب ہو گا؟<br
/> ۔ آج کا عقل مند اور علم دوست انسان یہ مانتا ہے کہ تحقیق سے نئی دنیا مل سکتی ہے۔ وہ افراد جو صدیوں سے ایک ہی خول میں مقید ہیں انہوں نے اپنی سوچ پر پردہ بٹھارکھا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے۔ اپنے سوچوں اور خیالات کو سیدھے راستے کا راہی بنائو اور انسانیت کی بقاکی خدمت کرو ۔ تحقیق ہی در اصل سمت کا تعین کرتی ہے۔ اور حقایق سامنے لاتی ہے۔ تحقیق سے نئی دنیا مل سکتی ہے۔ لیکن تحقیق کیلئے علم کا ہو نا ضروری ہے۔علم کو محض اعلےٰ ڈگریوں کے حصول کا ذریعہ بنانے کے بجائے اصلاح اور وسعت ذہن کا ذریعہ بنایا جائے ۔ ہمارے آباو اجداد خاص الخاص مخلوق نہ تھے بلکہ ہماری طرح عام آدمی تھے اُنہی کہ وجہ سے آجکل سہولتیں میسر ہیں۔ ٹی وی۔ ریڈیو، بجلی ، پنکھے ، گھڑیاں جہاز راکٹ ، عینک ، فرج، لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ، موبائیل وغیرہ وغیرہ اُنہیں کی دین ہے ۔ لیکن تحقیق کیلئے علم کا ہونا شرط ہے<br
/> اگر آپ نے تحقیق کی تو قلم کی مدد سے اسکو تخلیق کرو۔ زیادہ تر لوگ اس بات کو ذہن نشین کر لیتے ہیں کہ لکھنے کا عمل یعنی تخلیقی عمل صرف کسی اچھے اور بڑے مصنف کا ہی کام ہے یا پھر صحافت سے جڑے لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ یہ سوچ غلط ہے۔ ہر شخص اپنی ایک فکر، ایک تصور ، ایک نظریہ رکھتا ہے۔ اُسکے نظریات و خیالات سے کسی کو اختلاف ہو سکتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم قلم کے ذریعہ اُن کو دوسروں تک لیجائیں ۔ اگر تنقید ہو تو کوئی پروا ہ نہیں۔ تنقید کے بغیر تخلیق بے ترتیب جنگل کے مانند ہوتی ہے۔ لکھنے سے یا تخلیق سے دوسرے لوگوں کو فائدہ بھی ہوسکتا ہے۔ اکژ ایسا ہوتا ہے کہ ہم فرصت کے لمحات میں ہوتے ہیں ۔اپنے دائرہ عمل سے تھوڑ سا بوجھل ہو جاتے ہیں ۔ لیکن کچھ کرنا بھی چاہتے ہیں تو ایسے لمحات میں سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ کاغذ اور قلم اٹھائیں اور اپنے تجربات اور احساسات کوصفحہ قرطاس پر اتاریں ۔ قلم تلوار کا کام کرتی ہے یعنی قلم میں وہ طاقت ہے جو نسلوں کے ذہنوں کو تبدیل کر سکتی ہے۔ قلم کا زور انقلاب بر پا کرتا ہے۔ انقلاب کسی بھی قسم کا ہو سکتا ہے اگر انسان فرسودہ سوچوں کا مالک ہو تو قلم اُسکو فرسودہ خیلات سے باہر نکال کر آنے والی نسلوں پر رحم کے دروازے کھول دیگی۔ انسا ن کو چاہئے کہ وہ بغیر کسی ڈر ، بغیر کسی خوف کے قلم گھماتا جائے اور کچھ نہ کچھ تخلیق کرتا جائے تاکہ تحقیق کے دروازوں کے پیچھے کیا چھپا ہے اسکی جانکاری اس کو ملے</p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/01/27/pen-gainst/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>کربلا ایک مکمل درسگاہ</title><link>http://etalaat.com/2010/01/27/karbala-darsgah/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/01/27/karbala-darsgah/#comments</comments> <pubDate>Wed, 27 Jan 2010 15:56:15 +0000</pubDate> <dc:creator>admin</dc:creator> <category><![CDATA[مضامین]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=631</guid> <description><![CDATA[ غلام علی پمپوش
سونیم پٹن
جہاں انسانیت کے ہر شعبہ کی اصلاح کا سبق ملتا ہے۔ تاریخ کا یہ واقعہ کتنا قابل توجہ ہے کہ حرکا لشکر شدت تشنگی کا شکار تھا اور جانوروں کی طرح انسانوں کی زبانیں بھی دہن سے باہر نکلی ہوئی تھی۔ امام حسین ؑ کو حرکا اردہ بھی معلوم تھا [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<p><strong> غلام علی پمپوش</strong></p><p><span
style="color: #808080;"> سونیم پٹن</span><br
/> جہاں انسانیت کے ہر شعبہ کی اصلاح کا سبق ملتا ہے۔ تاریخ کا یہ واقعہ کتنا قابل توجہ ہے کہ حرکا لشکر شدت تشنگی کا شکار تھا اور جانوروں کی طرح انسانوں کی زبانیں بھی دہن سے باہر نکلی ہوئی تھی۔ امام حسین ؑ کو حرکا اردہ بھی معلوم تھا اور اس کے لشکر کی نفسیات کا بھی مکمل علم تھا لیکن آپ نے اس رسالہ کو سیراب کرنے کا حکم دیدیا اور اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ مستقبل میں اپنے بچوں کیلئے پانی کا کیا انتظام ہو گا اور اپنے لشکر کا کیا انجام ہوگا اس لئے آپ کو معلوم تھا کہ یہ طرز عمل ایک دن حرکوراحق تک کھینچ کر لے آئیگا اور اس طرح آپ نے یہ درس بھی دیا کہ عظیم ترین نتائج کیلئے ہر مصیبت کا سامنا کیا جا سکتا ہے اور پانی پلانے کے حد تک کسی طرح تفریق مناسب نہیں ہے چاہئے وہ راستہ روکنے والا لشکر ہو یا حکومت پرغاصبانہ قبضہ کرنے والا حاکم ، یا سجدہ پر وردگار میں سر پر تلوار چلانے والا قاتل۔۔<br
/> اے کر بلا تیری درسگاہ ِ شہادت پرسلام !<br
/> تیرے بھوکے پیاسے ان معماروں پر سلام<br
/> جنہوں نے اپنے خون سے تیری تعمیر کی ہے۔ کر بلا کی درسگاہ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ صبر بشریت کا جو ہر ہے ۔ شعار نبوت ہے اسے ہاتھ سے جانے نہ دو اور درحقیقت جہاد بھی صبر ہی کی ایک شاخ ہے ظلم کی انتہا تو ہوتی ہے صبر کی انتہا نہیں ہوتی۔<br
/> /یہ سر زمین کربلا ہے۔ یہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایک درسگاہ ہے ۔ شہر کے اعتبار سے ایسا شہر جو دنیا کے تمام شہروں سے مختلف ہے اور درسگاہ کے اعتبار سے پوری کائنات کی درسگاہوں میں ممتاز ہے۔ تاریخ کے اور اق گواہ ہیں کہ۱۶ھ؁ سے پہلے سر زمین کربلا ایک صحر ا اور جنگل تھی اور کسی قوم و فرقہ نے اسے باقاعدہ طریقہ سے آباد نہیںکیا تھا لیکن ۱۶ھ؁ میں کچھ لوگ اس سر زمین پر جان دینے کیلئے وارد ہوئے اور جان دیکر اس سر زمین کو آباد کر گئے پھر اس کے بعد سے آج تک تقریباً ۰۷۳۱؁ سال گزر گئے اور شاہی حکومتوں کے چاہتے ہوئے بھی یہ زمین غیر آباد نہ ہوسکی۔<br
/> اللہ اللہ کر بلا عبادت کی کیسی درسگاہ ہے جہاد حضرت امام حسین ؑ کا ہر سپاہی صاحب معراج نظر آتا ہے۔ بوقت ظہر ایک بوڈھے مجاہد کا امام سے یہ کہنا کہ مولا یہ نماز ظہر کا اول وقت ہے کیا بہتر ہوتا کہ زندگی کی آخری نماز بھی با جماعت آپ کی پیشوائی میں ادا کر لیتا ۔ اس موقعہ پر امامؑ نے اپنی ذمہ داری محسوس کی۔ جناب زبیر ؑ و سعید ؑ نے اپنا فرض پورا کی اور نماز پوری ہوگئی اس کے ساتھ خود امام کا وہ کر دار کہ جب آپ ؑ چھ ماہ کے بچے کی میت ہاتھوں پر لئے ہوئے بارگاہ الٰہی مین سب کچھ قربان کر دینے کے بعد یہ فرما رہے تھے کہ ہم اللہ کیلئے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں پلٹ کر جانے والے ہیں ۔ ہم اس کے فیصلے پر راضی ہیں اور اسکے سامنے ہمارا سرا طاقت خم ہے۔<br
/> پرھ رخصت آخر کے وقت بہن جناب زینب ؑ سے یہ فرمائش کہ نماز شب کی دعائوں میں ہمیں بھول نہ جانا اور آخر میں خاک کر بلا پردہ آخری سجدہ جس نے عبادت کو چار چاند لگا دیئے ۔ اسی کے ساتھ امام زین العابدین ؑ اور ثانی زہرا ؑ جناب زینب ؑ کا بکھر ی ہوئی لاشوں ، جلتے ہوئے خمیوں ، سہے ہوئے بچوں آئیں بھر تی ہوئی بیوائوں کے درمیان ذوق عباد معراضحاصلکر رہا تھا۔ جب اپنے پورے گھرانے کی بُر بادی و تارجی دیکھتے ہوئے بھی اللہ کے ایک مخلص ترین بندہ نے سجدہ شکر میں پوری رات گزار دی اور شاید اسی موقع کی عبادت نے<br
/> زین العابدین ؑ اور سید ساجدین ؑ بنا دیا۔<br
/> غرض کہ کر بلا اپنی معنویت کے اعتبار سے درسگاہ عبادت ہے اے کاش ! کر بلا سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہم بھی اپنے وجود کو اپنے مالک کے حوالے کرنے کی سعادت حاصل کریں۔<br
/> =<br
/> کربلا ایک ایسا عظیم واقع ہے جس کے دامن میں اخلاق کی تمام عظمتیں کر دار کی تمام بلندیاں انسانیت کی خوبیاںجمع ہوگئی ہیں اور انسانی ہدایت کیلئے تمام درسہائے عظمت و کمالات اکٹھا ہو گئے اگر انسان چاہئے تو اس بحر سے بقدر ظرف اپنی پیاس بجھا سکتا ہے اور اس طرح صحیح منزل پر پہنچ سکتا ہے۔ درسگاہ کر بلا ایک ایک فردوفا کے باب میںاپنی مثا ل آپ جیسا کہ اما م حسین ؑ نے فرمایا کہ مجھے بہتر اور وفادار اصحاب ملے ہیں امام حسینؑ نے شب عاشورہ اپنے فدا کاروں سے کہا کہ تم لوگ آزاد ہو جہاں چاہو چلے جائو مگر پھر بھی اصحاب باوفا جمے رہے اور ایک لمحہ کے لئے امامؑ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ امام ؑکے ساتھ تمام پریشانیوں میں ڈٹے رہے اور جو وعدہ کیاتھا اس کو آخری وقت تک نبھایا۔ حضرت عباسؑ علم دار کر بلا نے ایسی وفا کا مظاہرہ کیا کہ لفظ وفا ان کے نام کا جز بن گیا اور آج ساری دنیا انہیں علمداروفا، تاجدار وفا جیسے ناموں سے یاد کرتی ہے اور اردو، فارسی ، عربی ، اور کشمیری میں وفا کے حوالے سے حضرت عباس ؑ کا اتنا ذکر کر لیا گیا ہے جس کی مثال کسی دوسری شخصیت کے لئے نہیں ملتی ہے یہ وفا صرف ایک بھائی سے بھائی کی وفا داری نہیں تھی بلکہ خداپرست مردمومن کی وفاداری تھی۔ ایک مسلمان جو کلمہ پڑھتا ہے گویا وہ عہد کرتا ہے کہ میں تمام عمر خد کا وفا دار ہوگا۔ نبی ؐ کا وفادارر ہوںگا۔ کربلا میں تمام وفائیں ایک نقطے پر مرکوز ہوگئی تھیں۔ امام حسین ؑ کے ہر وفادار ساتھی نے اپنے مالک سے جو عہد کیا تھا۔ اسے امام ؑوقت پر اپنی جان فدا کر کے پورا کر دیا۔<br
/> واقعہ کر بلا نے یہ درس بھی ملتا ہے کہ انسان بندگی کے امتحان کی منزل میں قدم رکھے تو اسے کسی قسم کی آزمائش سے گھبرانا نہیں چاہئے۔واقعہ کر بلا نے اس حقیقت کو بھی مجسم بنا دیا اور انسان کو جانثاری کا ایک نیا حوصلہ دے دیا کہ اس نے خود اپنی آنکھ سے یہ منظر دیکھ لیا کہ شہید راہ حق کس طرح زندہ ہے۔ اس کی یاد قائم کی جائے ۔ اس کی عثمت کے سامنے سر تسلیم خم کیا جائے۔<br
/> رب کریم ہمیں درس کر بلا سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ذکر حسین ؑ کو اپنے تذکرہ کا سبب قرار دے۔ ایام عزا کو اطاعت و عبادت کا ذریعہ بنا دے۔ حضرت امام حسین ؑ کے سچے دوستوں ، چاہنے والوں اور عزاداروں کی فہرست میں ہمارا نام بھی شامل فرما۔ ( آمین</p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/01/27/karbala-darsgah/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>اور مجھے قیامت یاد آئی</title><link>http://etalaat.com/2010/01/27/muje-jeeney-do/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/01/27/muje-jeeney-do/#comments</comments> <pubDate>Wed, 27 Jan 2010 15:57:31 +0000</pubDate> <dc:creator>admin</dc:creator> <category><![CDATA[مضامین]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=633</guid> <description><![CDATA[ ابو المبشر اوکے کُلگام
قیامت کی ہولنا کیوںکا نقشہ قرآن کریم کی آیات کو پڑھ کر آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے۔ احادیث مبارکہ کو پڑھکر دل پر لرزہ طاری ہو نا ہے۔ انسان کو اپنے کئے کرائے کا جواب دینا ہے۔ ذرہ برابر نیکی ہوتو موجود پائی جائے گی۔ ذرہ برابر بدی ہو تو [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<p><span
style="color: #888888;"><strong> ابو المبشر اوکے کُلگام</strong></span><br
/> قیامت کی ہولنا کیوںکا نقشہ قرآن کریم کی آیات کو پڑھ کر آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے۔ احادیث مبارکہ کو پڑھکر دل پر لرزہ طاری ہو نا ہے۔ انسان کو اپنے کئے کرائے کا جواب دینا ہے۔ ذرہ برابر نیکی ہوتو موجود پائی جائے گی۔ ذرہ برابر بدی ہو تو جوا بد ہی کیلئے سامنے کھڑی ہو گی۔ کوئی شخص دوسرے شخص کا بوجھ اُٹھا نے والا نہ ہوگا۔ آل واولاد ۔ مال و اسباب اور جاہ حشم سب غائب ہوگا۔ دیدے پھاڑ پھاڑ کے لوگ مدد گاروں کو ڈھونڈ یں گے لیکن اپنے اعمال کے سوا کوئی چیز میسر نہ ہوگی۔<br
/> تندرستی اور بیماری زندگی کی ایک حقیقت ہے۔انسان ہمیشہ تندرست ہی نہیں رہتا ہے۔ کبھی کبھی بیماری سے بھی سابقہ پڑتا ہے۔ انسان تندرستی میں خدا کا شکرء بجا لائے تو اس کے لئے خبر ہے۔ بیماری کی حالت میں صبر سے کام لے تو اس کے لئے خبر ہے۔ اس کا الٹا کرے تو گناگار بھی ہوگا اور پریشان حال بھی۔<br
/> اس سال جنوری سے مجھےrologyکی کچھ وقت پیش آئی دوا دار و کیا لین مختلفestsکرنے کے بعد معالجین نے جراحی کی صلاح دی۔ 23نومبر 2009ء کی تاریخperationکیلئے مقرر ہوئی دو دن پہلے ہی صورہ میڈیکل انسٹیچوٹ کے وارڈ نمبرمیں داخلہ ہوا۔ ڈاکٹر عارف حمید صاحب نےperationکرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی سوان ہی کے حسب منشا میں نے بھی اپنے آپ کو ذہنی طور Operationکیلئے تیار کیا۔ کوئی دس بجے صبح وارڈ میں جن لوگوں کا آپریشن ہو نا تھا مطلع کیا گیا ابتدائی تیاریاں تو پہلے ہی کی جا چکی تھیں۔ اس لئے زن مرد جن کا آپریشن ہو نا تھا دیگر مریضوں اور اپنے لواحقین سے رخصت لے لے کر آپریشن تھیٹر کے طرف روانہ ہوئے۔ کچھ ہچکچاتے ہوئے جا رہے تھے۔ کچھ بادل نخواستہ اور کچھ بہ ر ضاو رغبت ۔ لیکن ہر ایک اس امید پر کہ Operationہو گا تو تندرستی حاصل ہو گی۔ دنیا ہ  امید قائم است۔<br
/> ہسپتال میںperationوالے بیماروں کو جو وردی پہنائی جا تی ہے وہ ہم نے پہن رکھی تھی۔ تھیڑ کے باہر لوگوں کی بھیڑ تھی۔شور سرا با بھی کافی تھا کیونکہ بیماروں کے دوست واحباب سراسمیگی کے عالم میں ادھر اُدھر پھررہے تھے۔ دروارہ کُھلا۔ پولیس والے نے ہمیں اندر آنے کا اشارہ کیا۔ ہمارے داخل ہوتے ہی دروازہ بند ہوا۔ سارے دوست۔ رفیق۔ رشتہ دار باہر تھے اور ہم اندر۔ گیلری طے کی تو سامنے ایک بڑا خوبصورت حال تھا۔ جہاں دو Bedلگے تھے۔ انتہائی صاف وشفاف نہ گندگی نہ شور۔ لیکن ایک پُراسرار خاموشی۔ کچھ بیمار پہلے ہی بیڈوں پر بیٹھے تھے۔ ہم بھی خاموشی کے ساتھ مختلف چار پائیوں پر جلواہ افروز ہوئے اور دیدے پھاڑ ے ماحول کاجائزہ لینے لگے۔ کل چو دہedsتھے۔ چند خواتین۔چند مرد اور کچھ بچے موجود پائے۔ ان بیماروں میں چند لوگ جوان تھے اور کچھ بوڑھے ۔ ہر کوئی اجنبی۔البتہ وارڈ کے اندر ایک دو کے ساتھ میری شناسی ہوئی تھی۔ میرے ایک طرف ایک عمر رسیدہ لمبی داڑھی والا بھاری بھر کم آدمی تھا اور دوسری طرف ایک جواں سال آدمی<br
/> ہال کی دوسری طرف بھی ایک گیلری تھی جس کے آگے آپریشن تھیڑ تھا۔ ہربیمار کے سامنے اس کی فائل تھی جس پر بیماری کی تشخٰیش ۔ایکسرے رپورٹ اور دوسرےest کی رپورٹ تھی جو آپریشن سے پہلے کئے جاتے ہیں۔ ہال کے اندر سبزاور نیلی رنگ کی خوبصورت اور صاف و شفاف وردی پہنے ہوئے۔سر پر ایک صاف قسم کی ٹوپی پہنے ۔ مُنہ اور ناک کو ڈھکنے والی ماسک لگائے ملازمین آتے جاتے تھے۔ ان کی آمدورفت سے ہال کے اندر کی پُر اسراریت میں مزید اضافہ ہو جاتا تھا کیونکہ وہ خاموشی کے ساتھ مختلف بیماروں کی فائلیں پڑھتے ۔ بیماروں سے مخصوص پوچھ گچھ کر تے تھے۔ فائلیں اپنے ساتھ لے جاتے تھے اور آپریشن تھیڑ واپس آکر کسی مخصوص بیمار کو بلاتے تھے ۔ ہسپتال کی مخصوص وردی کے علاوہ جس بیمار کے پاس جو کپڑا بھی ہوتا تھا وہ اس کےساتھ آئے لوگوں کو واپس کیا جاتا تھا۔ نتیجتاً ہر بیمار کی نظریں آنے والے ملازم پر ٹک جاتی تھیں کہ نہ جانے اب کی بار کس کا بھلائو آتا ہے اور کس شخص کو تن تنہا آپریشن تھیٹر کی طرف ،ان دیکھے مستقبل کی طرف جانا ہے کوئی امیر ہے یا غریب کوئی  بوڑھا ہے یا جوان کوئی عورت ہے یا مرد کسی کا کوئی وارث ہے یا نہیں۔ آگے کا مرحلہ تن تنہا ہی جھیلنا ہے ۔میں نے خاموشی کو توڑ تے ہوئے اور اپنے آپ کو حوصلہ دیتے ہوئے پاس والے بزرگ سے سرگوشی میں ہی بات شروع کی۔وہ ٹنگمرگ کے رہنے والے تھے۔ میں نے پوچھا کیسا محسوس ہو رہا ہے؟۔ بولا خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا یہ تو قیامت کا سما لگ رہا ہے۔ آپریشن کا یہ ہال قبر کے متراد ف ہے۔سب رشتہ دار دوست احباب ہم سے الگ ہیں۔ امیری اور غریبی چھوٹ چکی ہے۔ ہم اپنی اپنی تکلیف ساتھ لئے ہوئے حیران و پریشان ہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ ہمارے نامہ اعمال یہ ہسپتال کے دار ونحے جانچ کرتے ہوئے اپنے ساتھ لیتے ہیں۔ ہم سے صرف ہمارے ہی متعلق پوچھ گچھ ہورہی ہے۔ کوئی دوسرا ہماری جگہ نہ سوالات کا جواب دینے والاہے اور نہ ہمارے نامہ اعمال کو ادل بدل سکتا ہے۔ دوست احباب سب ہم سے الگ لاچار ہیں کہ نہ ان کو ہماری عافیت کی کوئی خبر ہے کہ وہمارے معاملے میں مداخلت کر سکتے ہیں یہ تو چھوٹی سی قیامت کا نظارہ ہے۔ اصل قیامت کی ہولناکی کیسی ہوگی۔ النفسی النفسی کا کیا عالم ہوگا۔ والدین واو لاد کوئی مدد نہ کرسکیں گے۔ مال و دولت بے کار ہوچکی ہوگی۔ نامہ اعمال سامنے پڑا ہوگا نیکیوں اور بدیوں کی جانچ پڑتال ہو رہی ہوگی۔ پُر اسرار یت اپنے معراج پر ہوگی۔ ۔جنت یا جہنم میں خلود ہوگا لیکن نہ معلوم کون خوش نصیب ہو گا جیسے جنت نصیب ہو گی۔ کاش ہم آج سے ہی اس کیلئے کوشش کرتے</p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/01/27/muje-jeeney-do/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>ہٹ دھرمی اور حقیقت پسندی</title><link>http://etalaat.com/2010/01/27/hatdarmi-haqeeqat/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/01/27/hatdarmi-haqeeqat/#comments</comments> <pubDate>Wed, 27 Jan 2010 15:58:25 +0000</pubDate> <dc:creator>admin</dc:creator> <category><![CDATA[مضامین]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=635</guid> <description><![CDATA[شہباز کلگامی
زندگی کے معاملات میں اعتراف حقیقت انصاف سے قریب تر ہے اور ہٹ دھرمی یعنی حقیقت کا اعتراف نہ کرنا انصاف سے بعید۔ حقائق کو کھلے ذہن سے ماننا زندگی میں کامیابی کا ضامن ہے ۔یہ حقیقت نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ جماعتی۔ ملکی اور بین الا قوامی سطح پر بھی روز روشن [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<p><span
style="color: #888888;"><strong>شہباز کلگامی</strong></span><br
/> زندگی کے معاملات میں اعتراف حقیقت انصاف سے قریب تر ہے اور ہٹ دھرمی یعنی حقیقت کا اعتراف نہ کرنا انصاف سے بعید۔ حقائق کو کھلے ذہن سے ماننا زندگی میں کامیابی کا ضامن ہے ۔یہ حقیقت نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ جماعتی۔ ملکی اور بین الا قوامی سطح پر بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔<br
/> جنگ عظیم اول اور دوم میں سامراجی ذہن کے مالکوںنے دنیا کو غلامی کی زنجریں پہنانا چاہیں لیکن انہیں ہر بار مُنہ کی کھانی پڑی۔ بدلے میں انہیں شکفت وارث کا منہ دیکھنا پڑا۔ مسولنی کو پھانسی کا سامنا کرنا پڑا اور ہٹلرخود کشی کرنے کیلئے مجبور ہوا۔اٹلی اور جرمنی کو عالمی تاج کے بدلے بد حالی اور رسوائی سے سابقہ پڑا۔ امریکہ نے ویٹ نام کی جنگ جتنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگادی لیکن اسے شکست اور رسوائی کے بغیر کچھ حاصل نہ ہوا۔ روس نے افغانستان پر فوج کشی کر کے اپنی عظیم سلطنت کو وسعت دنیا چاہی لیکن بدلے میں مظلوم قوموں کی اراضی سے ہاتھ دھونا پڑا اور اپنی پرانی سرحدوں کے اندر سمٹنا پڑا۔ دنیا امریکہ پر ویٹ نام کی جنگ کے دوران اور روس کے افغانستان پر حملے کے دوران چیختی  چلاتی رہی کہ آزاد قوموں کے اقتدار اعلیٰ سے کھلواڑ کرنے سے باز رہا جائے لیکن تو سعیی مزاج نے حیقت کے اعتراف سے روکے رکھا۔ نتیجے میں شرمندگی کا ہی سامنا کرنا پڑا بلکہ اپنے وسائل اور اپنے وقار سے بھی ہا تھ دھونا پڑا امریکہ نے جیسے ویٹ نام سے کوئی سبق حاصل نہ کیا تھا۔ افغانستان پر فوج کشتی کی۔ خوش فہمیاں ختم ہو گئی ہیں امریکہ کے اصل عزائم سے دنیا بے خبر تھی نہیں ۔ کئی ممالک نے اس حملہ سے اتفاق نہیں کیا۔ لیکن ہٹ دھرمی نے اعتراف حقیقت سے باز رکھا۔<br
/> دہشت گردی کو ختم کرانے کے بہانے امریکہ اور نیٹو ممالک تاریخ بدترین دہشتگردی کے خود مرتکب ہو رہے ہیں۔ بہت کچھ ہورہا ہے لیکن امریکہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔<br
/> یہی قاتلانہ کھیل امریکہ اور اس کے اتحادی عراق میں بھی کھیل رہے ہیں۔ عراق کے اقتدار اعلیٰ پر کھٹ پتلی حکمراانوں کو مسلط کر کے امریکہ اس علاقے کے وسائل پر ہاتھ صاف کرنے  میںبھی لگا ہوا ہے لیکن اب جو کہ امریکہ بھی اپنی غلطی اور ناعا قبت اندیشی کا اعتراف کررہا ہے۔لیکن ہٹ دھرمی کو تھامے ہوئے اپنی احمقانہ جنگبازی سے باز بھی نہیں اتا ہے ۔ پچھلے باسٹھ سال سے جموں وکشمیر کی ریاست بھی ظلم و ستم کی بدترین چکی میں پسی جا رہی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان اس تنازعے کے سلسلے میں کئی جنگیں بھی لڑچکے ہیں ا۔ کتنی ہی بار بات چیت کا سلسلہ شروع کیا گیا لیکن ہر بار ہٹ دھرمی آڑے آئی اور مسئلہ کشمیر الجھتا ہی رہا۔ لاکھوں لوگ اس تنازعے کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ بستیوں کی بستیاں تباہ و برباد ہوئی۔ آگ وآہن کا سلسلہ جاری ہے۔ برصغیر کے کل عوام اس تنازعے کے نتیجے میں غریت اجلاس جہالت بکمری۔ بیماری اور بے کاری کا سامنا کر رہے ہیں لیکن ہٹ دھرمی اعتراف حقیقت کے راہ میںرکاوٹ ہے۔<br
/> پچھلے چند سال سے ایسا لگتا تھا کہ ہندو پاک ایک دو سُرے کے نزدیک آرہے ہیں۔تلخیاں ختم ہو رہی ہیں۔ محبت وروادری کا جذبہ پنپ رہا ہے۔ اعتماد سازی کے اقدمات کئے جا رہے تھے۔ راستے کھل رہے تھے تجارت کی باتیں ہو رہی تھیں لیکن بعد میں حالات وہیں پر آ ٹپکے جہاں پہلے تھے ۔<br
/> امریکہ ویٹ نام سے دم دبا کر بھاگ گیا افغانستان اور عراق سے بھی نکلنے کیلئے مجبور رہے ۔ روس افغانستان سے اپنا سا منہ لے کر بھاگ گیا۔ برزنیف نے عالمی رائے عامہ کو پایہ حقارت سے ٹھکر اکر فوج کو افغانستان سے نہیں نکالا لیکن چند ہی سال بعد گور با چو ف نے فوج نکالنے میں ہی عافیت سمجھی۔ چاند نکہ اس وقت اس پر کوئی زیادہ عالمی دبائو بھی نہیں تھاہندوستان نے سری لنکا اپنی فوج بھیج تھی تاکہ حکومت کو نسلی جنگ سے نجات دلانے میں مدد کرے لیکن چند سال بعد اپنی فوج واپس بلالی۔<br
/> جب بھی کشمیر کے مسلے کے سلسلے میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے اور دنیا امید کر تی ہے کہ جموں وکشمیر کا تازعہ سلجھتے کے قریب ہے تونامعلوم ہاتھ کوئی نہ کوئی انسانیت سوز حرکت کرتے ہیں اور ہندوستان بات چیت کے باب کو سمیٹ رکر رکھ دیتا ہے۔ چھٹی سنگھ پورہ کا واقعہ ناڈی مرگ کا قتل عام اور  پتھری بل کا گھناو ناجرم استعمال صرف چند مثالیں ہیں۔<br
/> ممبئی کے قتل عامپر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے یہ انسانت کا قتل عام ہے ۔ لیکن گناونے جرم کے چہر نے کو ننگا کرنے کیلئے سنجیدگی ۔ خلوص انصاف پسندی اور عقل و شعور کو کام میں لانے کی ضرورت ہے۔ غیر ضروری شور شرابہ سے اس مجرم ننگے نہیں ہو سکتے اور نہ امن کو تقویت مل سکتی ہے۔ جو کام باہمی صلح و صفائی سے حل ہو سکتے ہیں وہ جنگ و جدل اور مخالفت سے حل ہوئے کے بجائےاور زیادہ پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ مسائل کو حل کر نے کے سلسلے میں بنیادی باتوں کو زیر نظر لانا ضروری ہے جب تک بیماری کی صحیح جانچ نہیں ہوتی صحیح علاج کی امید ہی نہیں کی جاسکتی ۔ الیکشن سلیکشن۔ پرو پگنڈہ مہم سیاسی تگڑمبازی۔ سفارتی پنجہ آزامائی وغیرہ سے مسائل حل نہیں ہوتے۔حقیقت پسندانہ رویہ انصاف پر مبنی موقف ۔باہم اصلح جوئی اور پرخلوص جذبہ ہی کسی پیچیدہ؎ہ سے پیچدہ مسلے کو حل کر سکتے ہیں۔</p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/01/27/hatdarmi-haqeeqat/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>زلیخاہ</title><link>http://etalaat.com/2010/01/27/%d8%b2%d9%84%db%8c%d8%ae%d8%a7%db%81/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/01/27/%d8%b2%d9%84%db%8c%d8%ae%d8%a7%db%81/#comments</comments> <pubDate>Wed, 27 Jan 2010 16:00:12 +0000</pubDate> <dc:creator>admin</dc:creator> <category><![CDATA[مضامین]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=637</guid> <description><![CDATA[ پروفیسر حکیم ریاض حسین
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں ایس ۔ پی کالج میں فسٹ ایر کا طالب علم تھا۔ چالیں چلنا۔ شیطانیت ہماری رگوں میں بس چکی تھی۔ ہمارے کلاس میں کم سے کم چار پانچ غنڈے تھے۔ اس لاین میں مجھے بھی کھڑا رکھا جا تاتھا۔ کلاس ڈسڑب کرنا، [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<p><span
style="color: #888888;"><strong> پروفیسر حکیم ریاض حسین </strong></span></p><p>یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں ایس ۔ پی کالج میں فسٹ ایر کا طالب علم تھا۔ چالیں چلنا۔ شیطانیت ہماری رگوں میں بس چکی تھی۔ ہمارے کلاس میں کم سے کم چار پانچ غنڈے تھے۔ اس لاین میں مجھے بھی کھڑا رکھا جا تاتھا۔ کلاس ڈسڑب کرنا، دھمال چو کڑی کرنا ہمارے معمول میں داخل ہو چکا تھا۔ اُن دنوں ہمارے پرنسپل سیف الدین صاحب تھے ۔  گول مٹول لیکن وہ ایڈ منسٹریشن کے معاملہ میں وہ بھی کم خطر ناک نہ تھے۔ کالج کی زندگی جیسے تیسے گذر رہی تھی۔ ہم لڑکوں کیلئے دو کام ضروری ہوتے تھے۔ پہلا یہ تھا۔ کہ سنیما گھروںپلیڈیم، ریگل  خیام وغیرہ میں کسی نہ کسی طرح فلم کے لئے ٹکٹ حاصل کرنا ۔ کیونکہ ان دنو ں امیر گھرانوں کی لڑکیاںبھی سینیما دیکھنا پسند کرتی تھیں ۔  تو سنیچر کے روز انکو آدھے دن کی چھٹی ملتی تھی ۔ وہ سفید یونیفارم میں خوبصورت بھی لگتی تھیں۔ صبح سویرے یاتین بجے کچھ ایسا ہی نظارہ ہو تا  تھا۔ جو لڑکیاں بر قعے پہن کر آتی تھیں۔ ہم انکو  ’’کتجہ کلہ‘‘ کہتے تھے۔ دو منز کالج کی پرنسپل طاہرہ عبداللہ بھی بڑی سٹرکٹ تھیں۔ لڑکیوں کو مٹر گشتی کی اجازت نہ تھی۔ شام کے وقت لڑکیوں کو ٹولیوں میں گھر جاتے دیکھتے رہتے تھے ۔ اور کبھی کبھی تھوڑا فاصلہ رکھ کر ساتھ ساتھ چلتے تھے۔ یہ سب ہم اس امید پر کرتے کہ شاید کسی لڑکی کو ہماری ادا بائے اور ہم بھی رانجھا کہلائیں۔ ان دنوں کسی لڑکی کو پٹاناپہاڑسے دودھ کی نہر نکالنے کے بر ا بر تھا لڑکیاں بھی چاہتی تھیں کہ لڑکے انکے پیچھے پیچھے چلیں ۔ لیکن یہ کام ہو شیاری سے ہوتاتھا اور کوئی حدودں کو پار نہیں کر سکتا تھا۔ ان دنوںسارے عاشقوں کے مخصوص اڈے تھے۔ان دنوں فنڈ بیلس کی۔ سکول کی لڑکیاں ( جسکو آجکل کوٹھی باغ سکول کہا جا تا ہے اور یہ دو متنر کالج کے آخری سرے پر اسکے ساتھ منسلک تھا۔ اسکا گیٹ ایجوکیشن دفتر کے نزدیک تھا۔) اس سکول کی یونیفارم گلابی اور شلوار سفید تھا۔ اس میں بڑے کلاس کی لڑکیاں با حیا اور خوبصورت لگتی تھیں۔ میں بھی روز سرپیر مارتا کہ کوئی گھاس ڈالے تو لڑکے مجھے بھی ہیرو سمجھےں۔<br
/> پہلی بات میں نے بتادی ۔ دوسری بات یہ تھی کہ ہم راہ چلتی لڑکیوں پر فقرے کس کر جلدی سے گذر جا تے کہ کہیں پکڑے نہ جائیں یا اگر لڑکی بُرامانا تو مصیبت کھڑی ہو سکتی تھی۔ عزت کو دائو پر لگا کر اسکو بچانا بھی چاہتے تھے۔ سنیماہالوں میں لڑکیاں ایک سایڈ پربیٹھ جاتی  اور لڑکے دوسرے طرف، فلم کے دوران کوئی لڑکا اندھیرے ہال میں کوئی ریمارک پاس کرتا ۔ تو حال میں ہنسی کے فوارے پھوٹ جاتے ۔ جب شو ختم ہو جاتا تھا تو ہم جلدی سے باہر نکل کر گیٹ کے نزدیک کھڑے ہو کر لڑکیوں کو باہر نکلتے دیکھ لطف اندوز ہوتے۔ زیا دہ سے زیادہ ریمارکس پاس کرتے ۔ یہ ہماری محبت کی دنیا تھی۔زہنوںپر فلموں کا اثر تھا۔ دلیپ کمارراجکپور راجندر کمار دیوانند ، دھرمندر،ہمارے زہنوں پرقبضہ کئے ہوئے تھے۔ اس لئے انکا اثر لیکر کو شش رہتی تھی کہ کسی نہ کسی طرح لڑکی کو پھساکر ان سے پیچھے نہ رہیں۔ لیکن یہ کام پر خطرتھا۔ روز کوشش ہو تی اور روز ناکامی ہو تی تھی۔ کوئی کوئی خوش قسمت مشکل سے کا میاب ہو جا تا تھا۔ لیکن ایسا راز سال بھر کے بعد معلوم ہو تا۔ لڑکی کو ساتھ لیکر چلنے میں خطرہ ہی خطرہ تھا۔ پولیس پیچھے ، دوست پیچھے گھر والے پیچھے، محلے والے پیچھے سب پیچھے پڑجاتے تھے ان خطرات کے باجود ہر عاشق مزاج لڑکا تاک میں رہتا تھاکہ کوئی مچھلی اس کے جال میں پھنس جائے۔ میرے دو مخصوص ذاتی اڈے تھے۔ ایک بربر شاہ کر اسنگ اور دوسر ی وہ جگہ جو بسکو سکول کے مین گیٹ کے نزدیک ہے۔جہاںآ ج یورینل ہے۔ لیکن وہاں چھوٹا گورنمنٹ کا قائم کر دہ بس سٹاپ ہوا کرتا تھا۔ ہم کبھی لڑکیوں کا پیچھا ٹولیوں میں پھر بھی ڈر ڈر کر تے تھے۔لیکن میں ہمیشہ اکیلئے بازی کھیلنے کا عادی تھا ۔ یا تقدیر مجھے ایسا کرا رہی تھی ۔میں ایک دن بسکو سکول کے نزدیک بس سٹاپ پر کھڑے ہو کر لڑکیوں کے خوبصورت چہرے دیکھ کر ہی بس کرتا تھا۔ میرے سامنے سے انتہائی خوبصورت لڑکی گذری۔ ہماری نظریں ٹکرائیں۔ اپنی خوبصورتی  سے بے خبر وہ بے خوف چل رہی تھی۔چال ڈھال سے لگ رہا تھا کہ وہ کسی پہنچے ہوئے گھرانے کی لڑکی تھی ۔ جیسے ہی میرے نزدیک سے گذری کہ میرے ہونٹوں سے خود بخود نکل گیا ’’ جس ملک کی سرحد کی نگاہ بان ہوں آنکھیں اُس ملک کی سرحد کی کوئی چھو نہیں سکتا ۔ اُس نے میری طرف دیکھا اور تھوڑے  انتظار کر نے کے بعدگاڑی میں سوار ہو کر چلی گئی ۔ یہ کوئی مسلہ ہی نہ تھا یہ چھپا چھپی کا کھیل یا اس طرح کے کھیل روز کا معمول تھا۔ دوسرے دن میں مقرر جگہ پر کھڑا ہو گیا  اسی اثنا میں وہ کل والی لڑکی دور سے نمودار ہوتی نظر آگئی۔ میرے نزدیک سے گذری تو جس ملک کی سر حد کی نگہبان ہوں۔۔ اس ملک کی سرحد کو کوئی۔۔۔۔ ہونٹوں سے نکل گیا لیکن اس نے کوئی توجہ نہ دی۔ آہستہ یہ روز کا معمول بن گیا۔ وہ کسی قسم کاایکسپرشن ہی نہیں دے رہی تھی۔ نہ اقرا رکی نہ انکار کی۔ میرا ڈائلاگ ہوائوں میںغائب ہو جاتا ہے ۔۔ انسان کے بارے میں کچھ کہنا بہت مشکل ہے۔۔ ابھی تو مجھے کچھ پتہ نہیں تھا۔ اُسکی آنکھیں بڑی  اور بادامی تھیں۔ جن میں سرمہ اپنی جکہ فٹ بیٹھ کر لوگوں کی دلوں دھڑ کنوں کو تیز کرتاتھا چہرہ اُسکا تھوڑا لمبا تھا جس پر خدانے ایک عجیب قسم کشش دی تھی۔ ۔<br
/> رو ز روز گھر جا کر شیخ چلی کے تلہ مٹھ بناتا تھا کہ کل یہ وہ کروں گا۔ محبت کا اظہار کر و نگا۔ لیکن دوسرے دن جب ملتی تھی۔ تو میری زبان کی ڈائریکشن تبدیل ہو جا تی تھی۔ میرگھگی بند ہو جاتی ۔ کیونکہ گھر کا ڈر محلے کاڈر پولیس کاڈر بدنامی کا ڈر لڑکی کار ولٹ ڈرا ہا تھا۔<br
/> uدن گذرتے گئے میں روز بغیر کسی سے کچھ کہے مخض ریمارک پاس کرتا تھا۔ لیکن اسکی طرف سے کوئی ریسپانس نہیں آرہا تھا۔ وقت کسی کا غلام نہیں ۔ برف شروع ہو گئی سکولوں اور کالجوں میں چھٹیاں ہو گئیں۔ اب میں تھا اور میری تنہائی  جسکو میں شدت سے محسوس کر رہا تھا۔ لڑکی کا گھر معلوم تھا۔ نہ اتہ پتا۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ مایوس ہوا اور رنجیندہ بھی رہنے لگا۔ وقت گذر تا گیا اور لڑکی میرے زہن سے اتر کر واپس سوار ہو تی ۔ کالج اور سکول دوبارہ کھلے ۔ لیکن میں اُس لڑکی کو دو بارہ  دیکھ نہ پایا ۔ لیکن اب زندگی کا بھی سوال تھا۔ امتحان وغیرہ کا کام بھی تھا۔ میں فائنل میں تھا۔  میرے قریبی دوستوں میں فیروز رشید اور قمر الدین تھے۔ فیروز امیر ترین گھرانے کا لڑکا تھا۔ رشید درمیانی طبقے کا لڑکا تھا۔ قمر الدین بانہال کا ۔۔۔ میں بھی اچھے تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتا تھا ہماری آپس میں کا فی بنتی تھی ۔ فیروز مجھ سے تھوڑا بہت ڈرتا تھا ۔ کیونکہ حکم چلانا اور اس پر عمل کرانا اسکی عادت تھی جو میرے لئے قابل قبول نہ تھا ۔ وہ ہر کام میں پیش پیش رہتا تھا۔ لیکن آگے کسی کو پڑنے نہیں دیتا تھا۔وہ سنوار میں رہتا تھا۔ میرے ساتھ اسکی کافی دوستی تھی۔ نہ جانے اُسے مجھ میں کیا نظر آیا۔ وہ مجھے اپنی گاڑی میں کافی گھما تا پھراتا تھا ساتھ میں رشید اور قمرالدین بھی ہوتے تھے۔ ایک دن فیروز مجھے اپنے گھر سنوار لے گیا ۔ گھر بڑا عالیشان تھا۔ مکان کے ساتھ ایک بہت خوبصورت باغ تھا۔ جسمیں ایک حصے میں کرسیاں اور ٹیبل لگے ہوئے تھے۔ خوبصورت پھول باغ کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہے تھے۔ پھر یہ بار بار ہوا۔ ایک دن اسکے باغ میں کرسیوں پر بیٹھ کر دھو پ کی کرنوں کو اپنے جسموں میں جذب کر رہے تھے۔ اچانک میری نظر مکان کے دروازے پر پڑی ۔ ایک آسمان سے اُتریا پسرا ہاتھ میں ٹرے لیکر ہماری طرف بڑھ رہی تھی۔ فیروز کھڑا ہو گیا اورا پسرا سے کہنے لگا، کیا  علیا گھر میںنہیں ہے۔ بہنا بہنا مجھے بلانا تھا میں خود مہمانوں کیلئے چائے۔۔ اُس لڑکی نے ٹرے بھائی کے ہاتھ پررکھی اور اندر چلی گئی  ۔ میرے پیر وں تلے سے زمین کھسک چکی تھی۔ کیونکہ یہ وہی لڑکی تھی جسکو میں کہتا تھا کہ’’ جس ملک کی سرد کی نگہبان ہوں آنکھیں اُس ملک کی سرد کی کوئی چھو نہیں ۔۔۔  یہ میرے دوست کی بہن تھی  ۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ کہ میں کیا کروں اور کیا نہ کروں ۔ بھاگنے سے شکوک ابھر سکتے تھے۔ بھوک  مرچکی تھی۔ لیکن دوستوں کا ساتھ دیکر چائے کے زہر یلے گھونٹ  نیچے اُٹار رہا تھا ۔ دماغ میں پریشانیاں اور الجھنیں تلا طم پیدا کر رہی تھیں۔ دماغ اڑان کی کوشش میں لگا تھا۔ دوست بھی پریشان ہوئے کہ دیکھتے دیکھتے مجھے کیا ہوا۔ دماغ سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔  فیروز مجھے اپنی گاڑی میں ڈال کر کے مجھے گھر لے آیا۔ گھر آکر بستر پکڑ لیا عجیب قسم کا کھیل شروع ہو چکا تھا۔ بے قصور ہو کر بھی میں خود کو قصور وار ٹھہرا رہا تھا۔ کچھ ڈر کچھ خوف اور کچھ احساس گناہ کی وجہ سے کالج نہ گیا۔کہ شاید بہن نے اپنے بھائی فیروز کو میری کمینہ حرکتوں کی جانکاری دی ہو گی۔ تیسرے دن فیروز اچانک گھر آگیا اور مجھے اپنی گاڑی میں کالج لے گیا۔ مجھے راحت ملی۔ کہ کوئی گڑ بڑ والی بات نہیں ہے۔ فیروز کے گھر میں دوبارہ آنا جانا اپنے ذہن کو صاف رکھتے ہوئے شروع کیا۔ نام زلیخاہ تھا۔ میرے سامنے کئی بار باغ میں آتی تھی۔میرے اور میرے دوستوں کے ساتھ بڑے صاف طریقہ سے کبھی کبھی گپ شپ بھی کرتی تھی۔ لیکن میں ہمیشہ اُسکے سامنے اپنی غلطی کی وجہ سے بجھا بجھا  سار ہتا تھا۔ مجھے اپنا ضمیر جھکائے ہوئے تھا۔ لیکن  وہ ایسے اظہار کر رہی تھی کہ جیسے کچھ ہو ہی ا نہیں تھا ایک بات میرے زہن  میںکھٹک رہی تھی کے فیروز کے گھر والے کچھ منفرد قسم کے لوگ تھے شاید ان کے پاس دولت تھی۔ اسی لئے گھمنڈی بنے ہوئے تھے اس قسم کے اثرات فیروز میں بھی نمایاں  تھے۔ کبھی کبھی وہ نوکروں سے بہت ہی بر ابرتاو کرتا ۔ اور ہمارے سامنے بے عزت کرتا ۔ ایک دن کی بات ہے کہ فیروز نے مجھے بلا کر کہا تمارا میتھامیٹکس بہت سڑانگ ہے۔ میری بہن2th میں پڑھتی ہے  میتھ میں کمزوری ہے۔ اسکی تھوڑی بہت ہلپ کر دے جسکی میں نے اسلئے جلدی حامی بھرلی کہ میرے احسان کرنے سے شاید میری غلطیاں دھل جائینگی ۔ میں ایمانداری سے اپنی غلطی  پر شرمساری کا مظاہرہ کرنا چاہتا تھا۔لیکن میری قسمت میں اور ہی قسم کے الفاظ درج ہو چکے تھے۔ مجھے لگنے لگا کہ زلیخاہ پڑھائی میں کم اورمجھ میں زیادلچسپی لے رہی ہے دماغی طور وہ پڑھنے کے دوران غیر حاضر رہتی تھی۔ لیکن میں اُس سے نظریں ملانے سے گریز کر رہا تھا۔ مجھے لگاکہ میں اُسکی سرمہ سے بھری ہوئی جھیل جیتی آنکھوں میں ڈوب نہ جائوں تو وہاں سے میرا نکلتا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہو گا۔ جو میری دوستی کیلئے بھی ایک دھبہ ہو گا ۔ ایک دن موقع قیمت جان کر کہنے لگی کہ سر تاج صاحب (یہ نام اسی کا دیا ہوا تھا) آپکی دی ہوئی کاپی پر آپ کے لکھے ہوئے نام کے اردگرد میں نے قلم سے ایک حصار بنا دیا ہے۔ آپ کو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔  تو وہ ایک ہی بات ہوتی ہے۔ سر تاج صاحب جس ملک کی سرحد کی نگہبان ہوں آنکھیں۔ اُس ملک کی سرحد کو آپ ہی چھونے کی جرت کر سکتے ہیں ۔ مجھے اُسکا مطلب صاف سمجھ آرہا تھا وہ مجھ سے محبت کا اظہار کر رہی تھی پھر بھی ڈرتے ڈرتے میں نے پوچھ ہی لیاکہ کیا زلیخاہ یہ سچ ہے کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔ اُسنے دھبے دھبے لفظوں میں کہا ۔ اس دن سے جس دن سے آپ امیرا  کدل کے بس سٹینڈ کے پاس ریمارس پاس کرتے تھے۔نصاب کی کتابیں بند ہوچکی تھیں اور محبت کی ڈکشنری کھل چکی تھی۔ میںدل کی گہرائیوں میں ڈھوب چکا تھا خوشی بھی ہورہی تھی۔ محبت کے لفظوں کا کھیل شروع ہو چکا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اُسکا مجھ سے سچا اظہار محبت ، محبت کی آخری سر حدوں تک پہنچ چکا تھا۔ میرے پیچھے مڑنے کے راستے مٹ ہو چکے تھے۔ اُسکا اظہار محبت مجھے اس لڑکی کی محبت میں انتہائی سمندر کی گہرائیوں میں اُتار چکا تھا۔ مجھے محسوس ہونے لگا کہ اس لڑکی کے بغیر زندہ رہنا محال ہے۔ محبت ہماری پر دان چڑھ رہی تھی۔چٹھیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔<br
/> آدب میرے سرتاج<br
/> آپکا تو صر ف لقب زخمی ہے۔ لیکن جسم تو میرا چکنا چور ہے۔ کافی تلاش کیا کہ اظہار محبت کے الفاظ کس بازار میں بکتے ہیں۔ لیکن کیا کریں اظہار کے وقت انسان گھونگی دنیا میں جاتا ہے میرے قلب و نفس پر ایک عجیب سی بے خودی طاری ہے اور میں نہیں جانتی ہیں کیا کررہی ہوں لیکن اتنا تو ضرورجانتی ہوں کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے۔ یہ محبت دبے پائوں میرے دل میں داخل ہوئی۔ مجھے اپنی محبت کا انجام صاف دکھائی دے رہا ہے۔ مجھے آغاز سے نہ گلہ ہے اور نہ انجام سے میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ میرا دل تمہارے ساتھ ہے اور زندگی کی آخری سانسوں تک تمارے ساتھ ہی دھڑ کے گا۔ صرف وعدہ کروکہ ہمارے مزار الگ الگ نہ ہوں ۔ ساتھ ساتھ ہوں۔<br
/> آپکی محبت کی داسی<br
/> ایک دن زلیخانے مجھے میرے دوست قمر الدین کے گھر  بلایا وہ میرے دوستوں کو پوری طرح جانتی تھی وہ میرے لئے محبت کی دوسری جنگ عظیم کی خطر ناک سرحد تک جانے کیلئے تیار تھیں ۔ اُس نے مجھ سے کہا سرتاج قریب قریب ۰۳ لاکھ کا سوتا ہے۔ ہم یہ سونا لیکر ہندوستان کے کسی شہر میں کسی کورٹ میں شادی کر کے زندگی گذاریں گے جس زندگی میں صرف میں اور صرف تم ہی تم ہو میرے لئے۔ معلوم ہے کہ تم ایک اچھے اور شریف گھرانے کے ہو۔ لیکن دولت کے ریل پیل کے سامنے یہ کچھ بھی نہیں یہ بکواس لگتا ہے میرے گھروالے دولت کے نشے میں چورہیں۔ تم انکی دولت کے سامنے بہہ جائوگے تمارا وجود بھی نظرنہ آئیگا۔ انکی دولت تم کو ٹے ڈوبے گی۔ وہ تماری غریبی کی وجہ سے تم کو میرے ساتھ جڑنے نہیں دیںگے ۔ یہاں لوگ دولت کے پجاری ہیں ۔عبادت گاہوںمیں دھوکہ دینے کےلئے جاتے ہےں۔ میرے ماں باپ میری شادی انگلینڈ میں  جانے مانے کر ڈو پتی عاشق حسین سے کرنے جا رہے ہیں۔میں نے اپنے ماں باپ کو صاف اور صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ میں یہ شادی کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں ایک ہفتے سے میرے گھر میں یہ چل رہا ہے۔ لیکن میں انکاری ہوں۔ اس لئے بہتر ہے کہ ہم دونوں اس شہر سے بھاگ جائیں۔ وہ کہتی جا ری تھی آنکھیں آنسو کی لڑیاں بہا رہی تھیں۔ کیونکہ میں ایک غریب گھر کی اولاد تھا ۔ کیا شادیوں کیلئے کر ڈوپتی ہو نا ضروری ہے۔ یہ کیسی دنیا ہے۔ یہاںمساوات نام کی کوئی چیزی نہیں۔ لوگ تو مساوات کے بارے میں بھاشن دیتے ہیں لیکن عملی طور پر نام کام ہیں۔ یہ کلاس وار ہر جگہ اور ہر چیز میں ہے ۔ اگر چہ میں غریب تھا لیکن تھا ضمیرنام کی چیز موجود تھی۔ میرا ضمیر نہ میرے دوست کی دھوکہ دینا چاہتا تھا نہ اسکے ماں باپ کا دل دکھانا چاہتا تھا نہ اپنے ماں باپ کیلئے کسی قسم کی پریشانی پیدا کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ میں زلیخاہ سے محبت کر تا تھا۔ ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ جتنا وہ مجھ سے پیار کرتی تھی۔ میں اسے دوگنا اسکو چاہتا تھا۔ میری راتوں کی نیند اسکے لئے حرام ہو چکی تھیں دنیا کی کوئی طاقت اسے مجھے سے چھین نہیں سکتی تھی۔ میں زلیخاہ کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ میں نے اُسے بہت سمجھایا کہ ہم دونوںکا بھاگ جانا اچھی بات نہیں ہے۔ یہ کوئی اچھا طریقہ نہیں ہے۔ کل پولیس ہمارے پیچھے پڑے گی۔ سارے پریشان ہو جائینگے اس لئے صبر کرو سب ٹھیک ہو جائیگا، مجھ پر بھر وسہ رکھو میں سب کچھ سنبھال لو نگا۔ وہ بضد تھی۔ شاید آنے والی مصیبتوں اور خطرات سے گھبرا رہی تھی۔ میں نے اُسے پورا بھروسہ دیا وہ سونا بیگ میں ڈال کر میرے لفظوں سے مطمن ہو کر گاڑی میں گھر واپس چلی گئی۔ اس سارے واقع میں قمرالدین اور اسکے گھروالے خاموش رہے ۔ صرف قمر الدین کے الفاظ تھے۔ کہ تم غلطی کر رہے ہو۔ جو وہ بول رہی تھی ٹھیک بول رہی تھی۔<br
/> ۔ مجھے اپنے دوستوں پر کافی بھروسہ تھا۔  میں نے رشید کو بھی اعتماد میں لیا۔ وہ بہت حیران ہوا۔ اُسنے مجھے مدد کرنے کی یقین دہانی کی۔  مجھے زہنی اطمینان ہوا۔ فیروز کے باپ کے دو مکان تھے۔ اایک مکان کے ایک کمرے میں میری محبت پروان چڑی۔ ایک دن باتوں با توں میں فیروز رشید اور میں اسی مکان کے اندر جیسے ہم چلے جاتے تھے چلے گئے ۔ لیکن مذاق مذاق میں مجھے ان لوگوں نے کھمبے کے ساتھ رسیوں سے باندھ لیا ۔ میں پہلے اسی سے صرف مذاق سمجھا۔ لیکن اچانک فیروز کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ اُسنے مجھے ہاتھوں ، لاتوں اور مکوں سے بے دریغ مارنا شروع کیا۔ جس میں اُسکا ساتھ رشید بھی دے رہا تھا۔ میر ی مرمت کے ساتھ وہ مجھے گالیوں سے نواز رہا تھا۔ حرامی ۔ سالہ دو غلا۔ بدمعاش۔د۔ تم میری بہن کوورغلا رہا تھا۔ اب مجھے بات سمجھ میں آئی کہ وہ کیوں مجھے اتنا ما رہا تھا۔ دوستی کا ناجائزفایدہ اُٹھا کر تم ایک بڑے گھر کی لڑکی کو ورغلانا چاہتے ہو۔ تم بڑے کمینے نکلے ۔ وہ دونوں مجھے بے دریغ مار رہے تھے۔ مجھے کچھ کہنے ہی نہیں دیتے تھے۔ میرے کانوں اور ناک سے خون بہہ رہا تھا۔ اُس نے میری ناک توڑ کے رکھدی تھی وہ غنڈہ بھی تھا۔ میں نے اُسے کہا کہ تم میری بات سن لو۔ وہ میری ایک بات بھی سننے کیلئے تیار نہیں تھا۔اچھوت کی اولاد ۔۔۔ شاید اُس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ مجھے قتل کرے گا۔بچنے کی کوئی اُمید تھی ۔ نہ جانے کس طرح قمرالدین اور اُسکی بہن زلیخاہ کمرے میں داخل ہوئے جب اُسکی بہن نے دیکھا کہ اُسکے مجازی خدا کے ناک اور کانوں سے بے دریغ خون اُسکی وجہ سے بہہ رہا ہے تو وہ شیرنی کی طرح بپھر گئی۔ باہر جاکرتھوڈی دیر کے بعد ایک چھری لیکر کمرے میں نمودار ہو گئی۔ بھائی کو دھمکی دی کہ اگر اُس نے اگر مجھے آزانہ کیا تو وہ اپنی پیٹ میں چھرا گھوپنے گی۔ آدمی چھری تو پیٹ میں اتا رہی تھی فیروز پرواس کی دھمکی کا اثر ہوا اور رشید نے میری رسیاں کھول کر مجھے آزاد کیا۔ سر تاج بھاگ جائو یہ زلیخاہ کی آواز تھی۔ ۔ خون بہہ رہا تھا۔ لنگڑاتے لنگڑاتے اُنکے باہر کے گیسٹ تک خون کسی نہ کسی طرح پہنچ گیا۔ گیٹ سے باہر آکر سنوار کی کھلی سڑک پر آگیا ۔ ٹیکسی میں گھر پہنچ گیا۔ شام کا وقت تھا۔ اس لئے میری طرف اندھیرے کی وجہ سے کسی نے توجہ نہ دی۔ تھوڑی دیر کے بعد قمر الدین آگیا ۔ اُس نے طریقہ سے گھر والوں کو شک کئے بغیر میرے کمرے میں با زار سے دوائیاں لا کر میرے زخم دھولئے۔ فاروق نامی کمپاونڈرکو لایا جس نے میری مرہم پٹی اچھی طرح کی ۔ وہ تجربہ کار تھا ۔ اسلئے دوائیاں بھی دیدیں۔ تین دن لگاتار میری ناک سے وقفے وقفے کے بعد خون بہتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ فاروق صاحب کی وجہ سے آہستہ آہستہ خون رک گیا۔ لیکن زندگی پھر میری ناک تھوڑی ٹیٹری  ہوکے رہ گئی۔ آہستہ آہستہ زخم بھر گئے۔ لیکن بعد میں مجھے اپنی جان سے پیاری محبوبہ کے بارے میں کوئی خبر نہ ملی۔ کیونکہ مجھے دھکمی دی گئی تھی اگر میں نے اُسکی تلاش کی۔ تو مجھے قتل کرنے کے بعد اُسے بھی قتل کر دیا جائیگا۔ اُس کا کالج جانابند کر دیا گیا تھا۔ یہ تو باتیں تھیں۔ محبت کرنے والے دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ۔ میں ہنگامہ نہیں چاہتا تھا اورزلیخاہ کے لئے کسی قسم کی پر ابلم پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا  بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ راز سارا رشید کی وجہ سے پھوٹ پڑا تھا ۔کیونکہ بڑے لوگوں کے سب ٌٌٌٌٌؓژٌ سب $$$$بنتے ہیں۔ کلاس میں روز جایا کرتا تھا ۔  فیروز مجھے کلاس میں گھورتا رہتا تھا۔ لیکن میں اپنی زلیخاہ لئے کا فی برداشت کر رہا تھا۔ فیروز کا خیال تھا کہ وہ مجھے پیٹ کر شیر بن چکا ہے۔ لیکن وہ میری نظر میں لومڑی تھا۔ اپنی محبوبہ کیلئے میں اب زخمی شیر بن چکا تھا۔<br
/> ایک دن کی بات ہے کہ ایک شام کو امرش ٹاکیز میں ( جسکو آج ریگل کہتے ہیں) میں ایک فلم ( نام یاد نہیں آرہا ہے۔ چل رہی تھی ۔ جسمیں فیروز خان ( سنجے کے بغیر) کا چھوٹا بھائی سمیر خان ہیرو تھا۔ میں ایک موہن نامی لڑکے کے ساتھ تیسرے شوکو ( نو بجے رات کو شروع ہو تا تھا) دیکھنے حال کے اندر چلا گیا اور سٹال میں دوست کے ساتھ کرسی پر بیٹھ گیا۔ اسی اثنا میں فیروز اپنے غنڈوں کے ساتھ میری طرف آگیا فلم ابھی شروع نہیں ہو ئی تھی۔ فیروز نے مجھے کھڑے ہونے کیلئے کہا جیسے ہی میں کھڑا ہوا۔ اُس نے  حرا پہنے میرے چہرے کے بائیں طرف ایک ذور دار مکہ مارا ۔ حرے کے پانچوں لو ہے کے کانٹے میرے چہرے کے اندر گھس کر سوراخ بنا کر واپس نکل گئے۔ خون کو نکلنا ہی ہی تھا۔  مجھے تارے نظر آگئے اور میں چکر اکر زمین پر بیٹھ گیا۔ خون کی دھاریں بہہ رہی تھیں۔ میرا دوست موہن کمار مجھے بھاگ جا نے کے لئے کہہ رہا تھا اب پانی حد سے گذر چکا تھا۔ میں نے شرٹ کے اندر سے لو ہے کی سائیکل والی چین ( جو میرے پیٹ اور کمر کے اردگرد ندھی رہتی تھی) کھولی۔ فیروز نے اُس دن اُسکی بد قسمتی سے صفید کورٹ پہن رکھا تھا۔ مجھے سیدھا نظر آرہا تھا کہ مجھے مارنے کے بعد وہ سٹال میں کس سٹیٹ پر بیٹھ گیا۔ میں نے اُسی کا انداز اپنایا ۔ پاس جا کر اُسے کھڑا کیا اور۔ لو ہے کی سائیکل چین کے اُسکے چہرے پر مار اکہ اُسکے چہرے پر کراس نشان بن گیا اور خون نے اپنا راستہ کھو ل دیا۔ اُس سے پورا یقین ہوا کہ میں خطر ناک بن چکا ہوں وہ تھیڑ کلاس کے گیٹ سے نکل کر بھاگ گیا اور میں اُسکے پیچھے بھاگ رہا تھا ۔ اُسے امریش ٹاکیزنر کی دیوارپھلانگ لی اور پمپوش بلڈنگ کے راستے بھاگ گیا لیکن میں ہال میں واپس آگیا ۔ اس دوران خبر پھیلی چکی تھی کہ امریش ٹاکیزن میںچھراچلا  ہے۔ پولیس جلدی نمودار ہوئی حرا رکھنے والے کو بغیر پوچھے مہینے کی سزا ہوتی تھی۔ جُرا والا بھاگ چکا تھا میں نے اپنا ہتھیار بال کونی کی طرح پھینکا تھا۔پولیس مجھے پکڑ کر لئے گئی پولیس بدتمیزی سے پیش آنے لگی جیسے ہی میں نے انکو بتایا کہ میں ایس۔ پی ۔ کالج کا طالب علم ہوں کل سٹرابیک ہو جائیگی۔اُن دنوں پولیس سیاست کی وجہ سے ایس پی کالج کے لڑکوں سے کافی ڈرتی تھی۔ مزید میں نے انکو بتایا کہ ایس۔ پی سید علی مجھے جانتا ہے۔ وہ گھبرائے آزاد کر دیا۔ اسکے بعد اب فیروز کو کھل کر دھمکی دی کہ اب آسمان سر پر گرے میں اُسکی بہن سے شادی کرو نگا۔<br
/> ایک مہینہ کے بعد مجھے دوست قمر الدین کے بولا کہ تمارے ساتھ فراڈا تمارے دوست رشید نے کی تھی۔ زلیخاہ نے گھر پر کافی ہنگامہ کیا تھا کہ وہ تمہارے بغیر کسی سے شادی نہیں کرے گی لیکن اُسکے گھر والے شادی کے لئے تیار نہیں تھے ۔ زلیخاہ نے انکو سونا لیکر بھا گنے کا واقع بتا کر تمارے بلند کر یکٹر کی اہمیت بتادی تھی۔ اور دھکمی دی تھی کہ وہ پولیس میں جا کر شکایت درج کرائے گی کہ اُسکو ایک نامنظور آدمی سے  شادی کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ چاہئے تم مجھے دنیا کے کسی کونے میں لے جائو۔ صرف اپنے سر تاج سے شادی کر ونگی ۔ مجھے اس لڑکے سے کافی محبت ہے ۔ میں نے خدا سے وعدہ کیا ہے کہ میں اس لڑکے میرے سر تاج کے بغیر کسی سے شادی ہیں کرونگی۔ میں اس کا انتظار زندگی بھر<br
/> کرونگی ۔ یہ صاف باتیں سن کر اُسکے رشتے وار ماں باپ اور بھائی گھبرا گئے اُن کے لئے زلیخاہ کے محبت کا مرض لاعلاج بن چکا تھا۔اُسکے گھر والے اُسے دھوکہ سے انگلینڈ لے گئے شاید بےخودی کے انجکشن کر کے وہ اُس میں کامیاب ہوئے۔ رو تے رو تے یہ پیغام رکھا کہ میں تمارا انتظار زندگی بھر کر ونگی۔ یہ ساری باتیں مجھے قمر الدین سے معلوم ہوئیں۔<br
/> میں ایک غریب گھرانے کا خاندانی لڑ کا تھا ۔ لیکندولت میں طاقت ہے۔ جب پیسہ بولتا ہے تو سچائی بھی خموش ہو جاتی ہے۔ خون کے آنسوں بہائے۔<br
/> میں فلم مشعل کا دلیپ کمار بن چکا تھا۔ جسکی مدد کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں تھا ۔ میں رونے دوھونے کے سوا کیا کر سکتا تھا۔ میرے پاس اڑان کے لئے پیسے نہ تھے کہ محبوبہ کے پاس پہنچ جا تا۔ ۷ سال قسمت پر روتا بھی رہا اور کوستا بھی رہا ۔ میرے اصول مجھے لے ڈوبے ۔کیا آدمی ا میری یاغریبی ساتھ لیکر پیدا ہو تا ہے۔ یہ کلاس وار جگہ ہر گھ ر میں قایم دائم ہے۔ لو گ اس کے بارے میں بہت بولتے ہیں لیکن کہنے اور کرنے میں آسمان وزمین کا فرق ہوتا ہے۔ جب بزنس میں مکاری کرتا ہے تو وہ دولت مند بن جاتا ہے۔ اور بعد میں خود کو بہت بڑا خاندانی جتلاتا ہے۔ یہ خاندانی لوگ ایک وقت کے چور ڈاکٹر اور آچکے ہوتے ہیں۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنا چولا بدلتے ہیں۔ پیغمبروں کا بزنس کچھ اور تھا۔ اولیوں ، رشٹیوں اور میوں کا بزنس کچھ اور تھا ۔ خاندانی لوگ ایک وقت کے ڈاکوغنڈے بد معاش اور چالاک ہوتے ہیں۔ جو آہستہ آہستہ اپنے اوپر ۔ اونچے درجے کی لیبل چشپاں کر تے ہیں۔ میں کیا کرووں کس سے کہوں شیشہ گر کا کام شیشہ توڑ نا ہوتا ہے۔<br
/> یہاں قدرکیا ہو دلوں کی<br
/> یہ دنیا ہے شیشہ گروں کی<br
/> مجھے میری زندگی ، میری محبوبہ ، میری زلیخاہ سے دور کیا گیا ۔ نہ جانے کہاں ہو گی کس حال میں ہوگی میں ناکام ہو چکا تھا۔ اور ناکامی کا دوسرا نام صبر ہے انسان کی مجبوریاں، کمزوریاں اُسکا راستہ روکتی ہیں۔<br
/> لوگ بھاگ رہے تھے۔ زمانہ دوڑ رہا تھا۔ ٹھہر نا ناممکن تھا۔ میں ٹوٹ چکا تھا۔ میں نے  زلیخاہ کے بارے میں جانکاری حاصل کر نے کی کوشش کی۔ لیکن کچھ معلوم نہ ہوا۔ اُسے زمین نگھل گئی یا آسمان کھا گیا۔<br
/> ۔ چالیس سال کے بعد مجھے قمرالدین بانہال ملا ۔ گلے ملے اور گلے شکوے ہو ئے۔ میرے دل میں ایک پھانس تھی ایک چھبن تھی۔ میں نے پوچھ ہی لیا کہ کیا کبھی تونے زلیخاہ کے بارے میں کبھی کچھ سنا۔ وہ میری طرف ایسے دیکھتا رہا جیسے یاوہ پا گل ہے یا میں۔ پاگل ہوں اُسنے اُلٹا مجھ سے سوال کیا کہ کیا تجھے نہیں معلوم  ؟میرے انکار پر کہنے لگا کہ انگلینڈلے جاکر اُسے شادی کے لئے دلہن کی طرح سجا یا گیا۔ لیکن مہندی رات اُس نے تیسری منزل چھلانگ لگا کر صرف تمارا  نام لیا<br
/> ۔ ’میرے سر تاج میں آپکا انتظار کرونگی وہ چالیس سال انگلستان میں ڈاور کے نزدیک کے ایک قبرستان میں تیرے انتظار میں سوٹی پڑی ہے ’غریب ہونا ایک گناہ ہے‘ ۔ میری غریبی نے  مجھے چالیس سال تک بے خبر رکھا۔ یہ سن ک ردل کی دھڑکن رک سی گئی خون کے کا آنسو بہائے<br
/> میرے احساس کی زندگی کاایک دور رختم ہو گیا ۔ دل ادا س ہوا۔ کچھ چیزیں لوٹ کر نہیں آتی ۔ سب کچھ ختم ہو چکا تھا ۔ میرے ہرے بھرے کھیت کب کے اجڑ چکے تھے۔ میرے رنگوں کا برش رُک چکا تھا۔ زندگی گذر جاتی ہے اور گذر ا وقت لوٹ کے نہیں آتا ہے۔ آنکھیںکھلی تو خود کو ہسپتال کے بیڈ پر پایا۔  خیالوں میں ڈوبا رہاکہ اچا نک میرے دماغ میں ترنگ سی اٹھی۔ میںچوکنا ہو گیا۔ میں قارون نہیں تھا۔ لیکن اب میرے پاس پیسوں کی کمی نہیں تھی۔ سب سے پیاری بیٹی کو آواز دی کہ میں انگلستان آرہا ہوں ۔ انگلستان پہنچ کر اپنی جان سے پیاری بیٹی  جو وہاں ڈاکٹر ی کے پیشے سے منسلک تھی زندگی کی ساری کہانی سنا ڈالی وہ پھوٹ پھوٹ کی روٹی۔ اُسے داستان سنا نے کی ایک خاص وجہ تھی۔ جو وہ بعد میں کسی دن نامے گی۔ اُسے مجھے زلیخاہ کی قبر دکھانے میں میری کافی مدد کی۔ اور اندھیرے میں نکل کر دوڑ قبرستان پہنچا میری شرین<br
/> وہاں چالیس سال سے مٹی کے نیچے میرا انتظار کررہی تھی۔ساتھ رکھی  ذہر کی ٹکیا نگھل لی اور زلیخاہ کی قبر کے ساتھ لپٹ گیا۔بیٹی نے آنسو بہائے مجھے زلیخاہ کی قبر کے برابر دفن کردیا گیا۔ جب بیٹی واپس سری نگر پہنچی تو اس سے پوچھا گیا کہ والد کہاں ہے؟ اس نے کہا’ اس نے انگلستان میں انگلستان کی مٹی کے ساتھ شادی کرلی ہے</p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/01/27/%d8%b2%d9%84%db%8c%d8%ae%d8%a7%db%81/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>معرفت رب اور کربلا</title><link>http://etalaat.com/2010/01/27/murifat-karbala/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/01/27/murifat-karbala/#comments</comments> <pubDate>Wed, 27 Jan 2010 16:02:18 +0000</pubDate> <dc:creator>admin</dc:creator> <category><![CDATA[مضامین]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=639</guid> <description><![CDATA[سید حمید الحسن زید
کربلا۔۔۔ تاریخ بشریت کا ایک انوکھا باب ہے جہاں پر ہرچیز عام انداز فکرسے ہٹتی ہوئی نظر آتی ہے پیکر انسانی میں نظر آنے والی دو متضاد تصوریں جو ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں۔ لیکن دونوں کو حقیقی انسانیت کامصداق قرار نہیں دیا جا سکتا  اسلئے کہ ان میں سے [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<p><span
style="color: #888888;"><strong>سید حمید الحسن زید </strong></span><br
/> کربلا۔۔۔ تاریخ بشریت کا ایک انوکھا باب ہے جہاں پر ہرچیز عام انداز فکرسے ہٹتی ہوئی نظر آتی ہے پیکر انسانی میں نظر آنے والی دو متضاد تصوریں جو ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں۔ لیکن دونوں کو حقیقی انسانیت کامصداق قرار نہیں دیا جا سکتا  اسلئے کہ ان میں سے ایک طرف انسانیت اپنے ظاہری نقوش کی صورت میں تودکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہیںاور اگر انسانیت کی ادنی معیار کے مطابق بھی پر کھ کردیکھا جائے تو زمین و آسمان کی دوری بھی کچھ نہ محسوس ہو گی۔ لیکن ہاں دوسری طرف انسانیت ہی نہیں بلکہ معراج انسانیت اپنی اعلیٰ ترین منزل پر ہے کہ جس کے اوپر طائر فکر بھی پرواز کی جسارت نہیںکر سکتا اور اس کی صحیح شناخت اگر کسی کو ہوسکتی ہے تو وہ علم مطلق کو جس کا علم علیٰ کل شی محیط ہے۔<br
/> البتہ عام انسان اخلاقیات کے وہ نمونہ جو اسلامی تعلیمات میں موجود ہیں ان کی بنیاد پر کسی حد تک اپنی اوقات بھر کمال انسانیت کی ہلکی سی جھلک دیکھ سکتا ہے جو ساحل سمندر سے بہت دور رہنے والے کیلئے سمندر کی گہرائی کا اندازہ لگانے کے مترادف ہے۔ لیکن اس حد تک بھی اگر کوئی زندہ دل انصاف پسند اس واقعہ کے کرداروں پر نظر ڈال لے تو دو نوں جہان میں اس کی ابدی سعادت کی ضمانت ہے اور ایسا شخص اگر ان اخلاقیات کی ہلکی سی جھلک بھی اپنے اندر پیدا کرلے تو وہ آج کی دنیا میں انسانیت کی معراج پر نظر آئے گا چنانچہ ہمارے سامنے ایسی مثالیں ہیں جنہوں نے کر بلا کو سامنے رکھ کر جینے کا راستہ اپنا یا اور اس انداز سے زندگی گذاری ہے کہ ساری دنیا پر چھا گئے’‘ اور زندگی ہی نہیں بلکہ اپنی موت سے بھی زندگی کا پیغام دئے گئے۔ یہ ہماری بدنصیبی ہے جو صرف سطحی نظر سے کر بلا کے اور اورق پلٹتے ہیں اپنے قلب دماغ کو ان نورانی اور اق کی چمک سے منور نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہماری ظاہری حیات تو باقی ہے لیکن حیات میں وہ آثار دور دور تک نظر نہیں آتے جو کربلاوالوں کی موت کا صدقہ ہیں گویا ہماری حیات ان کی شہادت کی یاد کی مرہون منت ہونے کے باوجود علمی طور پر اس کی برکات سے محروم<br
/> ہے۔چنانچہ کر بلاکے عظیم سورمائوں میں اگر اخلاق کریمہ کا جائزہ لیا جائے تو مکارم اخلاق کی ایسی مثال نظر آئے گی کہ گو یا خلق عظیم کو بہتر حصوں میں بانٹ دیا گیا ہو۔ بلکہ اہل حرم کا ہر فرد بھی اپنے عظیم کار ناموں کی بنیاد پر اخلاق رسول ؐ کی ایسی جیتی جاگتی تصور نظر آئے گی جیسے آیہ انک لعلیٰ خُلق عظیمان ہی کی شان میں نازل ہوئی ہو۔<br
/> خلق لغت میں عادت کو کہتے ہیں اور اخلاق خلق کی جمع ہے لہذا اخلاق اچھا بھی ہو سکتا ہے اور بُرا بھی چنانچہ جیساکہ اوپر ذکر کیا گیا کربلا برے اخلاق کا بھی ایک ناقابل فراموش نمونہ ہے کہ جس کی بنیاد پر انسان اپنا کردار سنوار سکتا ہے۔ جناب لقمان ؑ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ سے پوچھا گیا کہ آپ نے ادب خلق کہاں سے سیکھا ۔کہا بے ادبوں سے یعنی ان کی بری عادتوں کو چھوڑ تا گیا اور اور باادب بن گیا۔ لہذا اس بنیاد پر کر بلا کا دوسرا رخ بھی انسانیت کی اخلاق سازی کا ایک اہم مدرسہ سے، اور اخلاقیات کے اس رخ پر نظرڈالنے کے بعد خلق عظیم کی صورت میں موجود عملی اور اخلاقی نمونوں کی عظمت کا احساس کئی گنابڑھ جاتا ہے۔<br
/> اسلام نے تمام انسانی خوبیوں کو اخلاقیات کی فہرست میں شامل کیا ہے چنانچہ معرفت رب اور اطاعت مولا سے لیکر شجاعت، سخاوت عدالت حمایت حق، آزادی خیر جرات اظہار۔۔۔۔۔۔۔<br
/> غرض کہ ہر اخلاقی فضلیت، عظمت و سر بلندی کے مالک کر بلا کے ان جانباز سپاہیوں کے یہاں بدرجہ اتم موجود ہے اگر تمام اخلاقیات پر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے تو ہزاروں صفحات پر مشتمل متعدد جلدیں بھی نا کافی نظر آئیں۔ اور اس کے باوجود ایسا محسوس ہو کہ شاید آفتاب کو ایک معمولی چراغ کے ذریعہ تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے حقیقت میں ان عظیم المر تب ذوات مقدسہ کے اخلاق و کر دار تک نہ پہنچ سکنے کااعتراف ہی ان کی عظمت کا سب سے اعتراف ہوسکتا ہے جس طرح معبود برحق کے شکر سے عاجزی ہی اس کی سب سے بڑی شکر گزاری ہے ۔ اخلاقیات کی دنیا میںسب سے پہلی بات جو سر فہرست ہے  وہ صاحب حق اور اس کے حق کو پہچانناہے چنانچہ انسان پر سب سے بڑا حق خدا کا ہے۔ لہذا سب سے بڑا صاحب اخلاق وہ ہے جو خدا کو سب سے زیادہ پہچانتاہو۔<br
/> اور خدا شناسی یا معرفت پروردگار کی جو کیفیت کر بلا والوں میں نظر آتی ہے کہیں اور اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔مدینہ چھوڑنے کے وقت سے لیکر عصر عاشور تک اور اسکے بعد شام ٖغریباں سے قید خانہ شام تک معرفت رب کی جو مثالیں ملتی ہیں وہ انسانی تصورات کی سرحدوں سے بہت بلند ہیں جہاں عبدو معبود کے درمیان تمام پردہ اٹھ جاتے ہیں اور بند ایک سچے عاشق کی صورت میں اپنے معشوق کا جلوہ دیکھتا ہے اور اس میں اس انداز سے محو ہو تا ہے کہ دنیاوی مصائب آلام کا ذرہ برا بر احساس نہیں ہوتا ۔<br
/> جیسا کہ کربلاء کے عظیم  قافلہ سالارسرکار سید الشہداء اپنء مشہور د عاعرفہ میں ارشاد فرماتے ہیں۔ عمیت عین التراک علیا رقیاً یعنی وہ آنکھ اندھی ہے جو تجھے نہ دیکھے جبکہ تو اس پر ناظر اور نگہبان ہے۔ اپنے آقا اور سید و سردار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کربلا کا ہر جانباز اس طرح جلوہ الٰہی کے مشاہدہ میں محو نظرآتا ہے کہ دنیاوی مصائب وآلام کاذرہ برا بر احساس نہیں ہوتا اور گو یا اپنے مولا امیر المومنین ؑ کے کردار کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔ جہاں عبادت کی حالت میں تیر بھی نکال لیا جائے تو خبر نہیں ہوتیء۔ کربل والوں نے اپنا کردارآلِ محمد ؐ کے کردار سے اتنا قریب کر دیا تھا کہ بندہ اور آقا کا فرق مٹ گیا اور ان کی حیات وحمات محمد ؐ وآل محمد ؐ کی حیات وحمات سے متصل ہو گئی۔<br
/> جس کی عملی تعلیم آج بھی زیارت عاشورہ کی صورت موجود ہے اور ہم کوبھی اس بات کی دعوت دی گئی ہے۔ کہ بار گاہ الٰہی میں دعاکریںپروردگار ہماری موت و حیات کو محمد ؐ وآل محمد ؐ کی موت و حیات قرار دے یعنی ہمارا شمار بھی کر بلا والوں میں فرما کر ہمیں بھی ابدی سعادت سے سرفراز فرما</p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/01/27/murifat-karbala/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>توکل اور کربلا</title><link>http://etalaat.com/2010/01/27/%d8%aa%d9%88%da%a9%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d8%a8%d9%84%d8%a7/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/01/27/%d8%aa%d9%88%da%a9%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d8%a8%d9%84%d8%a7/#comments</comments> <pubDate>Wed, 27 Jan 2010 16:03:25 +0000</pubDate> <dc:creator>admin</dc:creator> <category><![CDATA[مضامین]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=641</guid> <description><![CDATA[ محمد رضا اکبر پوری
تو کل کے معنی ہیں کسی پر بھروسہ اعتماد کر لینا جس کی ضد بے اعتمادی ہے اور علماء اخلاق کے بیان کے مطابق تو کل کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے تمام امور کو خدا کو سونپ دے اور ہر کام میں اسی پر اعتماد کرے اور صرف [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<p><span
style="color: #888888;"><strong> محمد رضا اکبر پوری </strong></span><br
/> تو کل کے معنی ہیں کسی پر بھروسہ اعتماد کر لینا جس کی ضد بے اعتمادی ہے اور علماء اخلاق کے بیان کے مطابق تو کل کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے تمام امور کو خدا کو سونپ دے اور ہر کام میں اسی پر اعتماد کرے اور صرف اللہ کی طاقت و قوت پر بھروسہ کرے۔ اور یہ کام اسی وقت ممکن ہے جب انسان کو یقین کامل ہو کہ دنیا میں کوئی بھی کام ارادہ واذن الٰہی کے بغیر انجام نہیں پاسکتا ہے ۔ اور اسکے علاوہ کوئی بھی کسی کام کی انجام دہی پر قدرت نہیں رکھتا بلکہ اگر کسی میں کچھ کرنے کی صلاحیت ولیاقت ہے تو اسی کی عطا فرمودہ قوت وقدرت کی وجہ سے۔ اور اللہ کی اجازت اورا سکے ارادہ کے بغیر کائنات کا کوئی ذرہ اپنی جگہ سے حرکت نہیں کر سکتا ہے۔اسی یقین کا نام علم کلام میں توحید درتا ثیر رکھا گیا ہے اور اسی کو عرفان کی زبان میں توحید افعال کہا جاتا ہے۔<br
/> انسان اعتماد اسی پر کرتا ہے جو اسے نقصانات ومضرات سے بچاسکے اور اسکے منافع کو فوت نہ ہونے دے۔ اسی لئے بچہ ماں باپ پر بھروسہ کرتا ہے اور آگے بڑھ کر اپنے خیر خواہ دوست پر اعتماد کرتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ جتنا زیادہ اللہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور انہیں ضرور ہلاکت سے بچا کر ابدی سعادت و کمال تک پہنچانا چاہتا ہے اتنا کوئی اور نہیںکرتا، کیونکہ وہ اپنے بندوں کا سب سے بڑا خیر خواہ ہے۔ انسانوں کی خلقت ، ان کو حقیقی سعادت تک پہنچانے کیلئے مادی ومعنوی ضروریات کی فراہمی سلسلہ ہدایت وار شادیہ سب اسی خیر خواہی کے نمونے ہیں۔ لہذا انسان کیلئے سب سے زیادہ لائق اعتماد اور بھروسہ مند ذات الٰہی ہے کہ انسان اللہ پر جتنا توکل کرتا جائے گا اتنا دُینا اور اہل دُنیا سے بے نیاز ہو تا جائے گا اور ذات الٰہی کو اپنے لئے کافی سمجھنے لگے گا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جو اللہ پر تو کل کرتا ہے خدا اس کیلئے کافی ہے۔<br
/> لیکن اس بات کی طرف متوجہ رہنا چاہئے کہ  توکل کے معنی یہ ہر گز نہیں ہیں کہ انسان اسباب دعلل کر منکر ہو جائے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اور سعی و کوشش کر ترک کردے ، کہ یہ بدترین طرز فکر ہے جو انسان کو سعادت تک پہنچانے کے بجائے اسے ہلاکت تک پہنچا دے گا ۔ توکل کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ انسان اسباب وعلل اور وسائل کو ہی سب کچھ نہ سمجھ لے اور صرف انہیں پر صد فیصد بھروسہ کر لے بلکہ اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے وسائل واسباب کے ذریعہ مطلوب ومسّبب تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ مشہور ہے کہ ایک اعرابی پیغمبر اسلام ؐ کی خدمت میں آیا اور اپنے اونٹ کوبغیر باندھے یوں ہی چھوڑ دیا۔ اور پیغمبر اسلام ؐ نے اس سے سوال کیا کہ تونے یہ کیا کیا؟ اپنے اونٹ کو یوں ہی کیوں چھوڑ دیا تو اس نے جواب دیا ’’میں نے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا ہے تو پیغمبر اکرم ؐ نے فرمایا کہ پہلے اسے کسی جگہ باندھ دے پھر اللہ پر توکل کر۔۔۔۔ اس کا<br
/> مطلب یہ ہے کہ بے حس و حرکت ہو کر اسباب وسعی کو چھوڑ کر بیٹھے رہنا تو کل نہیں بلکہ حقیقی تو کل یہ ہے کہ انسان اللہ پر اعتماد کر کے اس سے امید لگا کر سعی و کوشش میں مصروف ہو جائے۔<br
/> مگر یہ توکل کا دہ مرحلہ ہے جو عام افراد کیلئے ہے لیکن تو کل کا اعلیٰ ترین مرتبہ وہ ہے جو اللہ کے خاص بندوں اور اولیا، کو حاصل ہے جس مرحلہ پر پہنچ کر بندہ خلیل خُدا بن جاتا ہے اور اللہ سے اتنا قریب ہو جا تا ہے کہ اپنے اور معبود کے درمیان کسی شے کو وسیلہ اور حائل قرار دینے پر راضی نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کاارادہ وہی ہوتا ہے جو خدا کا ارادہ ہوا اور اسکی رضا وہی ہوتی ہے جو معبود کی رضا ہواور اس مرحلہ پر پہنچ کر بندہ اس اعتماد یقین پر خدا امیرے نفع و نقصان سے زیادہ آگاہ و واقف ہے کسی خاص چیز کے لئے دعا کو بھی ترک کر دیتا ہے اور اس کا نعرہ ہو تا ہے کہ معبود مجھے ویسا بنا دے جیسا تو چاہتا ہے چنانچہ ابراہم خلیل اللہ کو جب نار نمرود میں پھنکا گیا تو جبر ائیل نے آکر کہا کہ کیا کوئی حاجت ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہے مگر تم سے نہیں ۔ تو جبرئیل نے کہا کہ جس سے حاجت ہے اسی سے طلب کر لو۔ تو جناب ابراہیم نے فریا’’میرے سوال سے پہلے پہ اسے میرے حالات کا علم ہے اور یہی میرے لئے کافی ہے‘‘۔<br
/> Uاخلاق و کر دار کی علمی درسگاہ کربلا جہاں تمام اخلاق محاسن کے اعلیٰ نمونے موجود ہیںوہیں کر بلا والوں کا توکل اور اللہ پر اعتماد بھی اس مرحلہ پر تھا کہ  انسان کے لئے اس کی حقیقت تک پہنچنا بہت مشکل مرحلہ ہے جہاں نہ صرف امام حسین ؑ اور خاندان رسالت وامامت کے پروردہ افرادہی توکل کے آخری مرحلہ پر فائز تھے بلکہ امام حسین ؑ سے وابستہ ہر شخص کا توکل ایسا تھا کہ مسلسل بھوک وپیاس اور شدائدو مشکلات کے باوجود اور اس یقین کے باوجود کہ عاشورہ کو قتل ہو جانا ہے۔ بے سروسامانی کے احساس کے باوجود ہر ایک مطمئن تھا  اوراللہ پر توکل کا عالم یہ تھا کہ دشمن کے کثیر لشکر کے باوجود ہر ایک کو یقین تھا کہ شکست باطل ہی کی ہوگی اور فتح سندی حق ہی کو نصیب ہوگی۔ صرف بوڑھے اور جوان نہیں بلکہ کم سن بچے بھی انتہائی اعتماد و اطمینان کے ساتھ دشمن کے کثیر لشکرپر اس طرح حملہ آور ہوتے کہ جیسے غیب سے کوئی آواز دے رہا ہوں۔ ۔۔ کہ جو اللہ پر اعتماد کرتا ہے اس کیلئے اللہ کافی ہے بیشک جو اللہ پر اعتماد کرتا ہے وہ نہ فوج و لشکر سے گھبراتا ہے نہ دشمن کی کیثر تعداد اور اس کے اسلح سے ۔کربلا والوں نے اللہ پر توکل کر کے بے سروسامانی اور مظلو مانہ شہادت کے باجود کربلاء کی جنگ جیت لی۔ اور عاشورہ کے بعد حضرت سید سجادؑ اور جناب زینب ؑ کے توکل علی اللہ کا عالم یہ تھا کہ بظاہر اس وقت کوئی ہمدرد ومونس نہ تھا پھر بھی ظالم کے دربار میں اس کے سامنے شہزادی زینب ؑنے توکل علی اللہ ترین نمونہ پیش فرمایا کہ اے ظالم تونے یہ سو چا تھا کہ میرے بھائی اور گھر والوں کو قتل کر کے ہمارے ذکرکو مٹادے گا، یاد رکھ تو ایسا ہر گز نہیں کر سکتا  ہمارا ذکر باقی ہے اور اللہ ا سے باقی رکھے گا۔ سچ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔</p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/01/27/%d8%aa%d9%88%da%a9%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d8%a8%d9%84%d8%a7/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> <item><title>ذکر خدا اور کربلا</title><link>http://etalaat.com/2010/01/27/zikr-khud-karbala/</link> <comments>http://etalaat.com/2010/01/27/zikr-khud-karbala/#comments</comments> <pubDate>Wed, 27 Jan 2010 16:04:28 +0000</pubDate> <dc:creator>admin</dc:creator> <category><![CDATA[مضامین]]></category><guid
isPermaLink="false">http://etalaat.com/?p=643</guid> <description><![CDATA[سید علی اختر  رضوی گوپال پوری
ذکر خد انسان کے لئے مایہ شرف ہے باعث و قار ہے شخصیت و کردار کا عطر ہے یہ الطاف الٰہی کو اپنی طرف موڑے کا ذریعہ ہے کیونکہ خدا نے خود فرمایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کرو گا کیوں یہ اس بات کا ثبوت [...]]]></description> <content:encoded><![CDATA[<p><span
style="color: #888888;"><strong>سید علی اختر  رضوی گوپال پوری</strong></span><br
/> ذکر خد انسان کے لئے مایہ شرف ہے باعث و قار ہے شخصیت و کردار کا عطر ہے یہ الطاف الٰہی کو اپنی طرف موڑے کا ذریعہ ہے کیونکہ خدا نے خود فرمایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کرو گا کیوں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کے اندر احساس فرائض زندہ ہے اور جب جمہوریت احساس فرائض کے ساتھ زندہ تو انار ہے گی تو وعدہ الٰہی کے مطابق لامحالہ نعمتوں سے نواز جائے گا۔<br
/> حدیث قدسی میں ارشاد ہے۔<br
/> جو شخص کسی بزم میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس سے بہتر مواقع پر اس کا ذکر کرتا ہوں جو خفیہ اور پوشیدہ طریقے پر میراذ کر کرتا ہے تو میں اس کا ذکر اعلانیہ کرتا ہوں۔<br
/> ذکر اگر قلب و دماغ میں ہے تو یاد ہے زبان پر جاری ہو تو ذکر ہے لیکن اگر قلب و ماغ اور زبان میں پوری طرح رچ بس جائے تو اعضا وجود روح سے اس کا مظاہر ہ ہونے لگتا ہے اس طرح عبودیت مرتبہ کمال حاسل کر لیتی ہے۔<br
/> علمائے اخلاق نے ذکر کے چار مرتبے قرار دئے ہیں۔<br
/> پہلا مرتبہ زبان کا ہے کہ اللہ کا ذکر زبان سے کیا جائے۔ تسبیح و تحمید صرف زبان سے ہو آیات وا حادیث میں اس کے بے شمار فضا ئل بیان کئے گئے ہیں۔دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ زبان کے ساتھ دل بھی آہنگ ہو لیکن بعض حالات میں محسوسات اس کے دل کو اپنی طرف متوجہ کرلیں۔ اس طرح دل کی ہم آہنگی وقتی اور عارضی بن کے وہ جائے کبھی کبھی اس کا نتیجہ پریشان خیال کی صورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ شخصیت غیر متوازن ہو کے رہ جاتی ہے۔<br
/> تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ زبان کے ساتھ دل بھی ہم آہنگ ہو زبان داغ قلب باہم معاون رہیں ذکر کے علاوہ چیزیں اسے اپنی طرف متوجہ نہ کر سکیں اور نہ رکاوٹ بنیں یہ رسوخ کی منزل ہے۔<br
/> ذکر کا چوتھا مرتبہ یہ ہے کہ ذکر دل ودماغ میں اسطرح رچ بس بجائے کہ خون کی طرح رگوں میں دوڑ نے لگے۔ یاد اور ذکر ہی اس کی شخصیت بن جائے غیر خدا اس کے فکر و خیال میں بھی نہ آئے۔ انتہائے مصائب اس کے ذکر کو انگیز کرنے کا ذریعہ بن جائیں اس کا مظاہرہ ذکر سنگدلوں کو تڑپا دے ظلم و ستم دیکھ کر لرز جائے۔ عاشور ہ کے دن کر بلا میں اس کے بے شمار مظاہرات ملتے ہیں۔<br
/> امام حسین ؑ علیہ اسلام کی اخری جنگ کا تذکرہ مقاتل میں ہے۔<br
/> آپ جنگ کرتے کر تے ذردیر کیلئے ٹھہر گئے اچانک ایک پتھر آپ کی پیشانی پر لگا اور خون جاری ہو گیا آپ نے اسے دامن سے صاف کرنا چا ہا کہ ایک شعبہ تیر آپ کے سینے پر لگا آپ نے فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد آسمان کی طرف نگاہ کی اور فرمایا خدا تو جانتا ہے کہ یہ اشقاء سے قتل کر رہے ہیں کہ رو ئے زمین پر اسکے سوادو سراکوئی فرزند رسول ؐ نہیں۔آپ نے وہ تیر پشت سینہ سے باہر نکالا کہ پر نالے کی طرح خون جا ری ہو گیا۔<br
/> جس وقت امام حسین ؑ اپنے خون میں نہائے ہوئے گھوڑے سے زمین پر آئے آپ کی مناجات کے فقرے یہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیرے فیصلے پر صبرکرتا ہوں اے میرے رب تیرے سوا کوئی معبود نہیں اے فریادیوں کے فریاد رس تیرے سوا امیر کوئی  پروردگار نہیں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیرے حکم پر صبر کرتا ہوں اے پناہ جس کی کوئی پناہ نہ ہو متقل الحسین المقرم۵۴۳ء  اسرار الشہادۃ دربندی ۳۲۴ء<br
/> امام حسین ؑ کے ساتھ جو لوگ بھی کر بلا میں موجود تھے بوڑھے جوان بچے خواتین سبھی کے سینے میں حسین کا دل دھڑک رہا تھا۔ وہ ذکر کر کے اعلیٰ ترین مدار پر اس طرح فائز ہوئے کہ امام حسین ؑ سے خراج تحسین و صول کیا کمیت کے اعتبار سے مختصر ترینھ فوج کیفیت کے اعتبار سے تاریخ آدم و عالم کا عظیم لشکر اور معرفت و عشق الٰہی کا اعلیٰ ترین نمونہ تھا انہوں نے توحید کو تمام شرائط۔۔۔۔س۔۔۔۔۔ کے ساتھ اپنے عقیدہ و کردار کا سرمایہ  بنا لیا تھا۔<br
/> روز عاشورہ ظہر کا وقت آیا تو ابو شمامہ الصائدی جن کا نام زیاد بن عمر وبن غریب بن منظلہ بن دارم الصائدی تھا انہوں نےس سورج کی طرف دیکھا اور بارگاہ حسینی میں عرض کیا۔<br
/> چاہتا ہوں کی آپ پر فدا ہونے سے پہلے یہ نماز جس کا وقت آگیا ہے آپ کی اقتدار میں پڑھ لوں۔<br
/> امام حسین ؑ نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔تمنے نماز زیادہ دلائی خدا تمیں مصلیوں اور ذاکروں میں شمار کرے۔<br
/> امام نے اس دعا میں ذکر کا وہ آخری مرتبہ مراد لیا ہے جب عشق الٰہی رگوں میں خون بن کے دوڑتا ہے لیکن مصلی کا ترجمہ عام طور سے نماز گزار کیا جاتا ہے جو عاشور کے دن ظہر کے ہنگام سے قطع نظرصرف نظر کے مترادف ہے عام حالات میں نماز پڑھنے والا بھی مصلی کہا جاتا ہے کر بلا میں طہر کی نماز در اصل ذکر خدا کی وہ آخری منزل تھی جسے صرف سابقین ہی یا رکھ سکتے ہیں۔ حضرت امیر المومنین ؑ جنگ میں مشغور تھے اچانک وقت نماز آگیا ۔ آپ چمکتی تلواروں کے درمیان نماز میں مشغول  ہو گئے ابن عباس نے حیرت سے عرض کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے امیر المومنین یئہ کیا کر رہے ہیں انہوں نے عام نماز گزاروں کی طرح مطالبہ کیا کہ ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں ۔ نماز دوسرے وقت کیلئے اٹھا رکھنی چاہئے۔<br
/> حضرت امیر المومنین ؐ نے فرمایا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم ان سے اس نماز کیلئے جنگ کر رہے ہیں۔( وسائل حراست۷۴۲)<br
/> ایسے ماحول میں جب تلواریں چمکہ رہی ہوں، تیروں کی بارش ہو رہی ہو نیز ے کیجول سے بٖل گیر ہو رہے ہوں۔ ایسے میں صرف سابقین ہی کو نماز یاد رہ سکتی  ہے جرامت اور امیر المومنین کا شاگرد رشید بھی فراموش کر سکتا ہے۔ لیکن ایسے میں بلکہ اس سے بھیانک اور لرزہ خیز موقع پر نماز یاد رکھنا ابو شمامہ الصائدی اور دوسرے الضار حسین ؑ کا قلب تھا۔<br
/> امام نے لفظ مصلین میں اسی حقیقت کی نشاندہی کی ہے مصلی ایک تو صلوٰہ کا مشتق ہے لیکن ایک دوسرا مصلی سابق کے مقابل ہے گھوڑ دوڑ میں جو تیز رفتار گھوڑا اول آتا ہے اسے سابق کہتے ہیں اور دوسرا وہ گھوڑا جو دوسرے نمبر پ آئے اس طرح کی دوڑ میں سابق کے کانوں کے پاس اس کا منھ ہو۔ مصلی کہتے ہیں حدیث معصوم ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br
/> کلام عرب میں اس کے بہت سے شواہد ہیں المرقش الا کبر بطور افتخار کہتا ہے۔<br
/> ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر کسی دن شرافت ونبرر گی کے نشانے( مقصد ) تک پہنچنے میں پہل کرنے کا موقع آئے تو ہم ہی میں سابق سب سے پہلے پہنچنے والے پائو گے یعنی اورل اور دوم ہمارئے ہی آدمی ہوں گے۔<br
/> اس طرح امام ؑ نے ابو شامہ کو دعائیں جو فقرہ مصلین فرمایا ہے اس کا ترجمہ نماز گزار نہیں کیا جانا چاہئے۔<br
/> امام حسین ؑ اپنے وفادار صحابی سے فرما رہے تھے کہ تم نے ایسے موقع پر نماز یاد دلائی ہے؟ ایسے موقع پر تو ہم سابقین کو نماز زیاد رہتی ہے ذخدا وند عالم تمہیں ہم سابقین کا مصلی قرا ر دے۔<br
/> امام نے فرمایا کہ ان دشمنوں سے نماز پڑھنے کی مہلت طلب کرو جب مہلت طلب کی گئی تو حصین بن نمر نے کہا ۔ تمہاری نماز قبول نہیں ۔<br
/> رجل فیقہ حضرت جیب ابن مظاہر نے یہ سن کر فرمایا۔ اے شرابی ! کیا تیری نماز قبول ہو گی اور فرزند رسول ؐ کی نماز قبول نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔<br
/> امام حسین ؑ نے اسی عالم میں نماز ظہر پڑھی۔ زہیرین اور سعیدبن عبداللہ بچائو کے طور پر نمازیوں کے آگے گھڑے ہوئے۔ روایت میں ہے کہ سعید کے بدن پر اس قدر تیر لگے کہ آپ زمین پر گر پڑے اور امام ؐ سے عرض کی کیا میں نے اپنا عہد کو پورا کیا ؟ امام نے فرمایا۔<br
/> ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہام تم مجھ سے پہلے جنت میں جا رہے ہو سعید کے بدن پر تیرہ پیوست تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔( مقتل المقرم۷۹۲)<br
/> جرات اظہار اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بقیہ ۳۸ کا ۔۔۔۔۔۔<br
/> آج کی دنیا میں چاہے وہ کسی ملک کا ر رہنے والا اس کا مسلک کچھ بھی اس کی زبان اور تہذیب جدا جدا ہو وہ خدا کو مانے یا نہ مانھے لیکن جب اذادی انسان اور آزادی ضمیر اورجرات اظہار کا سوال آتا ہے تو بے ساختہ حضرت امام حسین ؑ کا مقدس نام اس کی زبان پر آجاتا ہے اور مجبور ہو تا ہے کہ کر ملاوالوں کو کراج عقیدت پیش کرے۔ے</p> ]]></content:encoded> <wfw:commentRss>http://etalaat.com/2010/01/27/zikr-khud-karbala/feed/</wfw:commentRss> <slash:comments>0</slash:comments> </item> </channel> </rss>
<!-- This site's performance optimized by W3 Total Cache. Dramatically improve the speed and reliability of your blog!

Learn more about our WordPress Plugins: http://www.w3-edge.com/wordpress-plugins/

Minified using disk
Page Caching using disk (user agent is rejected)
Database Caching 17/27 queries in 0.022 seconds using disk

Served from: gravity.syedi.com @ 2010-09-10 16:27:43 -->