• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • بالائی علاقوں میں نقل مکانی ، قومی شاہراہ بدستوربند

    چٹانیں کھسکنے اور برفانی تودے گرنے سے لوگ خوفزدہ
    سرینگر//
    برفانی تودے گرنے اورزمین و چٹانیں کھسکنے کے خدشے کے پیش نظر لائن آف کنٹرول سمیت متعدد بالائی علاقوں کے خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں لوگ گھربار چھوڑکر محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں ۔اس دوران سرینگر جموں شاہراہ اور دور دراز رابطہ سڑکیں گاڑےوں کی آمد و رفت کیلئے مسلسل پانچویں روز بند پڑی رہی جبکہ حالیہ برفباری اور بارشوں کے نتےجے میں ہندوارہ ،کپوارہ ،ڈورو،اننت ناگ اور اوڑی میں 100سے زائد رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا ہے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہروز کی مسلسل برفباری اور بارشوں کے بعد بالائی علاقوں میں برفانی تودے اور زمین کھسکنے کی وارننگ جاری کی گئی ہے جس کے تحت متعدد علاقوں میں رہائش پذےر ہزاروں لوگوں کو محفوظ جگہوں پر منتقل کیا گےا ہے ۔اس سلسلے میں گذشتہ شب جواہر ٹنل کے اوپری علاقہ میں واقع گلاب ٹائور اور ملحقہ دیہات سے وابستہ قرےب00لوگوں کو احتےاط کے بطور نچلے علاقوں کی طرف منتقل کیا گےا جہاں وہ اپنے رشتہ داروں اور دیگر لوگوں کے گھروں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔اسی طرح کی اطلاعات گریز سے موصول ہوئی ہیں جہاں لائن آف کنٹرول کے کئی نزدیکی دیہات کے سینکڑوں لوگوں کو احتےاطی طور پر محفوظ جگہوں پر لے جایا گےا ہے۔اس کے علاوہ شمالی کشمیر کے ہی کیرن ،ٹنگڈار اور اوڑی کے مختلف علاقوں میں کنٹرول لائن کے نزدیک واقع کئی گائوں خالی کرائے گئے ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچاےا گےا ہے۔ گذشتہ چند دنوں کے دوران قصبہ اوڑی اور اسکے مضافات میں بھاری برفباری اور موسلا دھار بارشیں ہوئیں جس کے نتیجے میں دوردراز علاقوں کی تمام رابطہ سڑکیں بند پڑی ہیں جن پر یاتو برف کی بھاری مقدار موجود ہے یا پھر جگہ جگہ چٹانیں اور پسیاں گر آئی ہیں ۔اس حوالے سے سب سے زےادہ تشویشناک صورتحال قصبہ کے ماچھی کرنڈ نامی گائوں میں پیش آئی ہے جہاں 7رہائشی مکان پہاڑی سے کھسکنے والی چٹانوں کی زد میں ہیں ۔چنانچہ اس صورتحال کے باعث 7مکانوں میں رہائش پذےر 55افراد اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ جگہ پر منتقل ہوئے ہیں جن میں خواتےن اور بچے بھی شامل ہیں ۔ان تمام لوگوں نے گھر بار چھوڑ کر اپنے رشتہ داروں کے ہاں پناہ لے رکھی ہے ۔تاہم گائوں سے منتقل ہونے سے قبل انہوں نے اپنے مال مویشی بھی اپنے ساتھ لے لئے البتہ وہ گھروں میں موجود کسی بھی قسم کا سامان بشمول راشن اپنے ساتھ نہیں لے سکے ۔مسلسل زمین کھسکنے اور پتھر گر آنے کے پیش نظر جو لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں ان میں سخی محمد ولد نور ولی کے0،مصدق حسین ولد ولی محمد کے،عبدالعزیز ولد جان محمد کے،گلزار احمد ولد جان محمد کے،سلطان محمد ولد نور ولی کے0،میر اکبر ولد سلیمان کے 8اور محمد امین ولد نور ولی کے 7افراد خانہ شامل ہیں ۔متاثرہ شہریوں نے بتاےا اگر چہ پولیس نے انہیں احتےاط کے بطور اپنے گھروں سے نکلنے کیلئے کہا تاہم وہ اپنے تمام غذائی اجناس اور ضرورےات زندگی کی دیگر چیزیں اپنے گھروں میں ہی چھوڑ گئے ہیں اور پولیس انہیں وہاں کی طرف جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ تحصیلدار اوڑی نے گذشتہ روز علاقہ کا دورہ کر کے متاثرین کی تفاصیل درج کیں تاہم ابھی تک نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے قےام و طعام کے سلسلے میں سرکاری سطح پر کوئی بھی اقدام نہیں کئے گئے ہیں جس کے نتےجے میں وہ اور ان کے اہل خانہ شدید ترےن مشکلات میں مبتلا ہیں ۔ایس ایچ او اوڑی شوکت احمد میر کے مطابق پولیس صرف متاثرین کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے علاقہ میں موجود ہے اور وہ اپنے طور پر کسی قسم کی امداد فراہم نہیں کر سکتی بلکہ یہ کام دیگر محکموں کا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ انسانی جانوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے ۔اس دوران اسی طرح کی صورتحال کی وجہ سے گذشتہ دنوں قصبہ کے نوا رنڈا علاقہ میں ایک پہاڑی سے چٹانیں کھسکنے کے باعث ایک رہائشی مکان دب کر تباہ ہوا اوراس میں موجود مالک مکان کی موقعہ پر ہی موت واقع ہوئی جبکہ دیگرافراد زخمی ہوئے ۔اس علاقہ میں مزید 4رہائشی مکانوں کو زمین کھسکنے کا عمل جاری رہنے سے خطرہ لا حق ہوگےا ہے جس کے نتیجے میں پولیس نے احتےاط کے بطورکالی ٹےالی پتی نامی گائوںکے چار مکانوں میں رہائش پذےر 27افراد کو محفوظ جگہ پر منتقل کیا ہے ۔ گائوں کے جو گھرانے متاثر ہوئے ہیں ان میں عازم دین ولد محمد شفیع کے،فیروز دین ولد نور الدین کے،احمد دین ولد نور الدین کےاور محمد سخی ولد میر محمد کےاہل خانہ شامل ہیں ۔چنانچہ ان کنبوں سے وابستہ خواتےن ،بچے اور دیگر لوگ گائوں سے دو کلو میٹر دور اجگرپتی نامی گائوں میں منتقل ہوئے ہیں اور وہاں اپنے رشتہ داروں کے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں کیونکہ مقامی لوگوں کے مطابق ان لوگوں کی رہائش اور دیگر امداد کے بارے میں بھی سرکاری سطح پر کوئی انتظام نہیں کیا گےا ہے ۔گائوں کے نمبردار محمد اشرف کولی نے بتاےا کہ علاقہ میں قرےبفٹ برفباری ہوئی ہے جس کے نتےجے میں تمام رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں اور علاقہ کے راشن گھاٹ بھی غذائی اجناس سے خالی پڑے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اشےائے خوردنی کی شدید قلت کے باعث 25سے 30افراد آج صبح لال پل کی طرف روانہ ہوئے جہاں تک پہنچنے کیلئے انہیں 8کلو میٹر کا دشوار گذار راستہ پیدل طے کرنا پڑے گا اور تب کہیں جا کر وہ راشن لا سکیں گے۔مقامی لوگوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ متاثرےن کیلئے فوری طور پر رہائش اور سرکاری امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ سخت مشکلات میں مبتلا مرد و زن اور بچوں کو راحت مل سکے۔ان علاقوں میں زمین اور چٹانیں کھسکنے کا عمل جاری رہنے سے خوف و ہراس کا ماحول ہے اور لوگوں کو نقل و حرکت محدود رکھنے کی صلاح دی گئی ہے ۔ادھر قصبہ کے گھر کوٹ علاقہ میں کل رات بھاری برفباری کی وجہ سے جمہ ولد راج ولی نامی شہری کے مکان کی چھت دب گئی جس کے بعد نصف درجن سے زائد افراد خانہ گھر چھوڑ کر رشتہ داروں کے یہاں چلے گئے۔اس دوران این ایس برج کے نزدیک پسےاں گر آنے سے نامبلہ کی طرف جانے والی سڑک بند ہو گئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو ایک نالے سے گذر کر سفر کرنا پڑتا ہے ۔اس جگہ پر آج صبح دو افراد پھسل کر زخمی ہوئے۔اوڑی کے ہی نامبلہ علاقہ میں موسلادھار بارشوں اور برفباری کے بعد اخروٹ کا ایئک درخت محمد اسماعیل منگرال ولد حبےب اللہ کے مکان پر گر گےا جس کے نتےجے میں مکان کو شدید نقصان پہنچا لیکن افراد خانہ بال بال بچ گئے۔مہورہ اوڑی میں دےودار کا ایک درخت عبدالمجید صوفی ولد محمد اسماعیل کے رہائشی مکان پر آ گرا اور مکان کا ایک حصہ تباہ ہو گےا ۔ہندوارہ قصبہ کے درجنوں دیہات میں حالیہ بارشوں اور برفباری سے 50سے زےادہ رہائشی مکا نوں کو نقصان پہنچا ہے ۔قصبہ کے بہنی پورہ راجوار علاقہ میں نقصان زدہ مکانوں کی تعداد ایک درجن سے زےادہ ہے جبکہ دازن نامی گائوں میں مرحوم عبدالمجید میر ولد غلام محمد کے مکان سمےت نصف درجن رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا ہے ۔ویلگام ہندوارہ میں فاروق احمد شیخ ولد عبدالصمد اور پنجوہ کے خالق حسین شیخ ولد یاسین شیخ کے علاوہ مزید 4مکانوں کو نقصان پہنچا ہے ۔تاہم ان واقعات میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ادھر ڈورواننت ناگ کے ترجن گائوں میں 3،ہلسی ڈار میں، کیری میں،کیدان کاپرن ڈورو میں 2جبکہ بکروال چک میں ایک رہائشی مکان کو نقصان پہنچا ہے۔مجموعی طور پر اننت ناگ کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور برفباری سے 30سے زائد مکان نقصان زدہ ہوئے ہیں۔دریں اثناء رام بن اور بانہال کے درمیانی حصے میں ڈگڈول ،پنتھال ،سیری اور شیطانی نالہ سمےت قرےب نصف درجن مقامات پر ہلکی پسےاں اور چٹانیں کھسکنے کا عمل جاری ہے جس کے نتےجے میں شاہراہ پر ہر طرح کی گاڑےوں کی نقل و حرکت آج پانچویں روز بھی مکمل طور پر بند رہی ۔تاہم موسم میں بہتری کے پیش نظر جمعرات تک شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت بحال ہونے کا امکان ہے۔اس دوران کپوارہ ،کرناہ،ٹنگڈا،اوڑی،ہندوارہ اور شمالی کشمیر کے دیگر متعدد علاقوں میں بھاری برفباری کے بعد اندرون رابطہ سڑکیں مسلسل بند پڑی ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کی نقل و حرکت محدود ہوگئی ہے

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...