• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • قاتل اہلکار کی نشاندہی حکومت کی بڑی کامیابی

    سنگبازوں کے چہروں سے عنقریب نقاب اتاریںگے:عمرعبداللہ

    • سرکار خفیہ مذاکرات میں ثالث کارول نبھائے گی
    • تحقیقات میں تعاون کے لئے عوام کے شکرگذار ہیں
    • صرف دس فیصد لوگ ماردھاڑ کے متمنی ہیں
    • فورسز دومحاذوں پر لڑ ائی کاچلینج

    سرینگر// وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے برین نشاط کے معصوم طالب علم زاہد فاروق کی ہلاکت میں ملوث بی ایس ایف اہلکار کی نشاندہی کو بڑی کامیابی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت انسانی حقوق پامالیوں کو قطعی طور برداشت نہیں کرے گی چاہے اس میں کوئی بھی ملوث کیوں نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ حریت مرکز خفیہ مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کےلئے ریاستی سرکار ثالثی کا رول ادا کرے گی جبکہ سنگبازوں کےخلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈائون شروع کیا گیا ہے اور ان کے چہروں سے نقاب جلد ہی اٹھایا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ تباہی کا ایک ذریعہ ہے ، احتجاج کرنا اگرچہ لوگوں کا جمہوری حق ہے تاہم امن و امان میں بگاڑ پیدانے کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ذرائع کے مطابق اپنی رہائش گاہ واقع وزارت روڑ جموں میں آج ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ زاہد فاروق کی ہلاکت میں ملوث اہلکار کی شناخت کر لی گئی ہے اور اس کا تعلق 68 بٹالین بارڈر سیکورٹی فورس ( بی ایس ایف ) سے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ہلاکت کے سلسلے میں پہلے ہی نشاط پولیس تھانے میں کیس درج کر لیا گیا ہے جبکہ بی ایس ایف نے مذکورہ قاتل اہلکار سے متعلق معطلی کے آرڈر حکومت کو سونپ دی ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت معصوم طالب علم کی ہلاکت میں ملوث اہلکار کےخلاف ضابطے کے تحت مضبوط کیس تیار کرے گی تاکہ اسے کیفر کردار تک پہنچاکر لوگوں کے اعتماد کو بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کے علاوہ دیگر مرکزی لیڈران کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اس قاتل کا پتہ لگانے میں ریاستی سرکار کی مدد کی جبکہ انہوں نے ڈویژنل کمشنر کشمیر اور پولیس کی کارکردگی کو بھی تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کم عرصے میں زاہد فاروق کی ہلاکت میں ملوث اہلکار کی نشاندہی کر لی۔ اس موقعہ پر انہوں نے لوگوں کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ اور حکومت کےساتھ مکمل تعاون کرکے تحقیقاتی عمل میں رخنہ نہیں ڈالا۔ پی ڈی پی کا نام لئے بغیر عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ شور شرابے میں یقین نہیں رکھتے بلکہ چاہتے ہیں کہ عملی اقدامات اٹھاکر لوگوں کے اعتماد کو بحال کیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ ایسے عناصر کو اپنے انجام تک پہنچایا جائے جو معصوم نوجوانوں کی ہلاکتوں میں ملوث ہوں۔حریت مرکز خفیہ مذاکرات کی وکالت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کےلئے ریاستی سرکار ثالثی کا رول ادا کرے گی اور ریاستی سرکار اس بات کے حق میں ہے کہ بات چیت کا سلسلہ جلد ازجلد شروع ہو کیونکہ بات چیت ہی ایک ایسا ذریعہ ہے کہ جس سے تمام مسائل کا پُر امن حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ سنگبازوں کےخلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کا اعلان کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پتھرائو کرنے والے نوجوانوں کی فہرست تیار کرلی گئی ہے اور جلد ان کےخلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈائون شروع کیا جائےگا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ احتجاج کرنا اگر چہ لوگوں کا جمہوری حق ہے تاہم امن و امان میں بگاڑ پیدا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائےگی اور نہ ہی ایسے عناصر کو بخشا جائے گا جو امن و قانون کی صورتحال برپا کرکے لوگوں کو مصائب و مشکلات میں مبتلا کردیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وادی کی 90 فیصد آبادی نارمیلسی پر یقین رکھتے ہیں جبکہ 10 فیصد آبادی وزیر اعلیٰ کے بقول تشدد اور مار دھاڑ کے متمنی ہیں ۔انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ سنگبازوں کو پتھرائو کرنے کےلئے باضابطہ رقومات فراہم کی جارہی ہےں اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز سنگباز شہر کے مختلف علاقوں میں نمودار ہوکر امن و امان کو درہم برہم کرکے رکھدیتے ہیں جسکے نتیجے میں نہ صرف دکانداروں اور سڑک پر چل رہی گاڑیوں کو بھاری نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے بلکہ طالب علموں کیساتھ ساتھ مریضوں کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے۔ حریت لیڈران کی طرف سے بار بار ہڑتالی کال دینے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جمہوری نظام میں ہر کسی شہری کو اپنی بات کہنے کا پورا پورا حق حاصل ہے تاہم انہوں نے کہا کہ حریت لیڈران کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہےے کہ ہڑتال سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ اس سے لوگوں کو ہی زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے علیحدگی پسندلیڈران کےخلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جو امن و امان میں رخنہ ڈالکر حالات کو بگاڑدیتے ہیں۔ فورسز کو حاصل خصوصی اختیارات کی واپسی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ ملی ٹینسی اور لا ء اینڈ آرڈر دو الگ الگ مسئلے ہیں اور دونوں محازوںپر فورسزا اہلکار دو الگ الگ طریقوں سے مقابلہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن و قانون کی صورتحال سے نمٹنے کےلئے ریاستی سرکار کے پاس اپنا ایک طریقہ کار واضح ہے جبکہ جنگجویانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کےلئے فورسز اہلکار افسپا کا استعمال کرتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرحد پار مقیم نوجوانوں کی محفوظ راہ داری اور ان کی باز آباد کاری کےلئے پالیسی مرتب کی جارہی ہے جبکہ حالیہ دنوں میں نئی دہلی میں وزراء اعلیٰ کانفرنس کے دوران بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا اور اس پر کافی گفت و شنید کی گئی ۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران اس بات کا بھی انکشاف کیا جعلی دستاویزات کے ذریعے کئی نوجوان سرحد پار سے وادی داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ سرکار کے پاس ایسے نوجوانوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے جو غیر قانونی طریقے پر وادی داخل ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کسی بھی صورت میں انسانی حقوق پامالیاں برداشت نہیں کرے گی بلکہ حکومت اپنے زیرو ٹالنرنس کے وعدے پر مکمل کار بند ہے ۔پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعلیٰ کے ہمراہ وزیر مملکت برائے سیاحت ناصر اسلم وانی اور سیاسی مشیر دیوندر سنگھ رانا بھی موجود تھے۔

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...