• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • حریت تشکیل نو کامعاملہ تعطل کاشکار

    تحریک کو موثر بنانے کے لئے رابطہ مہم تیز کی جائے :میرواعظ
    سرینگر//
    حریت کانفرنس(ع) کے چیئر مین میر واعظ عمر فاروق نے حریت کی تشکیل نو کافیصلہ ایک بار پھر اپنے پاس محفوظ رکھتے ہوئے تمام اکائیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ عوامی رابطہ مہم میں تیزی لائیں۔ اس دوران حریت نے رہائشی علاقوں سے فورسز کے انخلاء اور سخت قوانین کی واپسی کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت کو حریت کانفرنس کی تجاویزپر عمل کرنی چاہئے۔ ذرائع کے مطابق آج حریت(ع) کے صدر دفتر پرایگزیکٹیو کونسل کا ایک اجلاس ساڑھے گیا رہ بجے شروع ہوا جس کے آدھے گھنٹے بعد اس میں جنرل کونسل کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا۔اجلاس چیئر مین میر واعظ عمر فاروق کی صدارت میں منعقد ہوا اور اس میں پروفیسر عبد الغنی بٹ کے بیٹے جہانگیر غنی،مولوی عباس انصاری کے بیٹے مسرور عباس،مصدق عادل،مختار احمدوازہ،آغاسید حسن،مولانا محمد عبداللہ طاری اور بلال غنی لون نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ اجلاس میں سید سلیم گیلانی،حکیم عبد الرشید، محمد یوسف نقاش،سید بشیر اندرابی اور جنرل کونسل کی باقی ماندہ اکائیوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ حریت(ع) کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ آج کے اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کے علاوہ حال ہی میں معصوم طلبہ کے جاں بحق ہونے کے نتیجے میں پید اصورتحال پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ دوران اجلاس میر واعظ عمر فاروق نے شرکاء کو یقین دلایا کہ حریت کانفرنس کی تشکیل نو کا فیصلہ عنقریب لیا جائے گا اور اس ضمن وہ فیصلے کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ میر واعظ عمر فاروق نے تاہم اپنے فیصلے کو ایک بار محفوظ رکھتے ہوئے تمام اکائیوں کو ہدایت دی کہ وہ عوامی رابطہ مہم میں تیزی لائیں تاکہ لوگوں کو اس بات کا احساس نہ ہو کہ وہ اکیلے پڑ گئے ہیں۔ ذرائع نے حریت چیئر مین میر واعظ عمر فاروق کے حوالے سے بتایا’’ عوام کے ساتھ قریبی رابطہ بنائے رکھنے کی اس لئے بھی ضرورت ہے تاکہ تحریک آزادی کو بنیادی سطح پر اور زیادہ موثر بنایا جاسکے‘‘۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران میر واعظ نے شرکاء کو یقین دلایا کہ حریت کانفرنس کی تشکیل نو تکمیلی مرحلے میں ہے اور اس سلسلے میں عنقریب ایک ایسا فیصلہ لیا جائے گا جس سے سبھی لوگوں کو اطمینان حاصل ہوگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل حریت کی ایگزیکٹیو میٹنگ میں مجوزہ دورہ پاکستان کے بارے میں بھی تبادلہ خیال ہوا اور اس ضمن میں کوئی حتمی دن مقرر کرنے سے قبل مزید صلاح مشورے پر اتفاق کیا گیا۔واضح رہے کہ حریت کانفرنس(ع) کے چیئر مین میر واعظ عمر فاروق نے گذشتہ برس کے ماہ نومبرسے اختلاف رائے کے بعد حریت کے تمام عہدوں کو معطل کرکے تمام اختیارات اپنے پاس رکھے ہیںاور تب سے علیحدگی پسندوں کے مذکورہ فورم کی تشکیل نو کا فیصلہ برابر التواء میں پڑا ہوا ہے۔اس دوران حریت کانفرنس (ع) کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ آج حریت ایگزیکٹیو کونسل کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں فورسز کے ہاتھوں ایک ماہ کی مدت میں آٹھ بے گناہ نہتے کشمیریوں کا قتل، جن میں دو کمسن اور معصوم طالب علم وامق فاروق اور زاہد فاروق شامل ہیں، کے بعد پیدا صورتحال پر غور کیا گیا۔بیان کے مطابق ’’ جرم بے گناہی کی پاداش میں ہماری نئی نسل خاص طور پر طلباء کو نشانہ بنایا جارہا ہے جوبے حد تشویشناک ،انتہائی قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہے‘‘ ۔ بیان کے مطابق آج کے اجلاس میں کہا گیا کہ زاہد فاروق کے قتل میں فورسز کی جن ایجنسیوں کا ہاتھ ہے وہ اب طشت از با م ہو چکا ہے اور اس بہیمانہ قتل سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ عام کشمیری غیر محفوظ اور عدم تحفظ کا شکار ہے اور فورسز کبھی بھی ،کسی کو بھی اور کہیں بھی بلا اشتعال موت کے گھاٹ اتار سکتی ہیں جن سے کوئی بھی پوچھنے والا یا گرفت کرنے والا نہیں ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ حریت کانفرنس چاہتی ہے کہ رہائشی علاقوں اور عام پبلک مقامات سے فورسز کے کیمپوں اور بنکروں کو فوری طور پر ہٹا کر عام اور نہتے کشمیریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور اس کے علاوہ حکومت ہندجموںوکشمیر میں کالے قوانین کا خاتمہ، فورسز کو دئے گئے بے پناہ اختیارات واپس لینے اور فوجی انخلاء کے حریت کانفرنس کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز پر فوری طور پر عمل کرے۔اجلاس میں شبیر احمد شاہ ، نعیم احمد خان اور دیگرعلیحدگی پسند کارکنوں اور جوانوں کی اندھا دھند گرفتاری اور مختلف تھانوں میں نظر بند رکھنے کی کارروائیوں کو دھونس اور دبائو سے تعبیر کرتے ہوئے کہا گیا ’’ یہ سب حربے حریت کانفرنس اور آزادی پسند عوام کو طاقت کے بل پر خوفزدہ اور ہراساںکرنے کی مذموم کارروائیاں ہیں جن سے نہ تو، حریت کانفرنس کے عزم اور نظم کو کمزور کیا جاسکتا ہے اور نا ہی مظلوم کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبایا جاسکتا ہے‘‘۔اجلاس میںمرحوم محمد مقبول بٹ کی بےباکانہ اورجراتمندانہ قربانی کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اُن کی برسی پر 11 فروری کے قومی اہمیت کی حامل اجتماعی ہڑتال کی حمایت کی گئی اور کہا گیا کہ مرحوم محمدمقبول بٹ اور رواں تحریک کے تئیںان کے پورے خاندان کی قربانی بے مثال اور ناقابل فراموش  ہے اور اس مرحلہ پرپوری قوم انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...