• A A A
  • فونٹ منتخب کریں
  • بارایسو سی ایشن نے دونوں دھڑوں کے لیڈروں کو مدعوکیاہے

    سرینگر// کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے آج حریت کے دونوں دھڑوں میں شامل تمام علیحدگی پسند تنظیموں،لبریشن فرنٹ اور دیگر جماعتوں کے عہدیداروں کے نام دعوت نامے روانہ کئے جن میں اُنہیں3فروری کے روز صدر کورٹ کمپلیکس میں منعقد ہونے والے ایک اہم ترین مشترکہ اجلاس میں شامل ہونے کے لئے کہا گیا ہے اجلاس میں نوجوانوں کی حالیہ ہلاکتوں اور اُن کی گرفتاریوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔ یہ 2008کے بعد پہلا موقع ہے جب علیحدگی پسند جماعتیں ایک مشترکہ اجلاس میں شریک ہونگی اوراتفاق رائے سے کوئی لائحہ عمل مرتب کرنے پر تبادلہ خیال کریں گی۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس کا انتظام کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے کہاہے اور اس میں تما علیحدگی پسند جماعتوں کے قائدین کی شرکت متوقع ہے جن میں حریت کانفرنس(ع) کے چیئر مین میر واعظ عمر فاروق اور لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک بھی شامل ہیں تاہم سید علی گیلانی کی سرینگر میں عدم موجودگی کی بنا پر اُن کی نمائندگی کوئی اور کرے گا۔ کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری ایڈو کیٹ جی این شاہین نے بتایا’’ ہم نے تمام علیحدگی پسند لیڈران کے نام دعوت نامے تیار کئے ہیں اور آج شام تک توقع ہے کہ سبھی لیڈران کو دعوت نامے مل جائیں گے‘‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ بار ایسو سی ایشن نے علیحدگی پسند پارٹیوں کے مشترکہ اجلاس کے لئے کیا ایجنڈا تیار کیا ہے؟ ایڈوکیٹ جی این شاہین نے بتایا’’معصوم طالب علموں کی حالیہ ہلاکتوں اور پولیس کے ہاتھوں نوجوانوں کی بے تحاشہ پکڑ دھکڑ سے سنگین صورتحال پیدا ہوئی ہے جس سے نمٹنے کے لئے ایک مشترکہ حکمت عملی اور لائحہ عمل ترتیب دینے کی کوشش کی جائے گی‘‘۔ذرائع کے مطابق کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے زیر اہتمام علیحدگی پسندلیڈران کا ایک مشترکہ اجلاس3فروری بروز سنیچر واردن کے گیارہ بجے صدر کورٹ کے ہال میں منعقد ہوگا جس میں تمام چھوٹی بڑی علیحدگی پسند جماعتوں کے سربراہان شرکت کریں گے۔حریت(گ) کے ذرائع نے اجلاس میں اپنا نمائندہ بھیجنے کی تصدیق کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران حال ہی میں طالب علموں کی ہلاکت اور نوجوانوں کی جاری گرفتاریوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گااور ان اقدامات کے خلاف ایک مشترکہ حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نوجوانوں کی پولیس کے ہاتھوں جاری گرفتاریوں کو سنگین مسئلہ سمجھتی ہے اور اسی لئے اس کے خلاف ایک موثر حکمت عملی وضع کرنے کے بارے میں عملی اقدامات کئے جانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ رواں برس کے دوران اب تک نصف درجن سے زائد نوجوان پولیس کے ہاتھوںجاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ سینکڑوں نوجوانوں کی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیںاور یہ سلسلہ جاری ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار شدہ نوجوان اکثرسنگبازی میں ملوث رہتے ہیں جبکہ والدین کے مطابق پولیس کارروائی کے نتیجے میں اُن کے بیٹوں کا مستقبل تاریکی کی نذر ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ ایام کے دوران شہر سرینگر کے علاوہ وادی کے کئی علاقوں میں کئی روز تک پر تشدد جھڑپوں کا سلسلہ چلتا رہا جس کے دوران ہلاکتیں بھی ہوئیں اور سینکڑوں نوجوان زخمی ہوگئے

    SociBook del.icio.us Digg Facebook Google Yahoo Buzz StumbleUpon
    1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (کوئی ریٹنگ نہیں)
    Loading ... Loading ...
    اس خبر کو پرنٹ کریں اس خبر کو پرنٹ کریں اس صفحہ کو ای میل کریں اس صفحہ کو ای میل کریں

    تبصرہ کریں

    Spam protection by WP Captcha-Free

    مقامی خبریں

    رائے

    آپ کو ہماری نئی سائٹ کیسی لگی ؟

    View Results

    Loading ... Loading ...

    نیوز لیٹر

    Loading...Loading...